Behaviors & Attitudes, Emaan, معاشرت, اخلاقیات, اسلام

کرنل رانی

کرنل رانی

کرنل رانی کی غرور و تکبر اور نخوت و رعونت سے بھرہور، ریاستی رٹ کو چیلنج کرتی ویڈیو آپ نے دیکھ ہی لی ہو گی۔ دیکھئے متعلقہ حکام اس پر کیا ایکشن لیتے ہیں۔۔۔ لیتے بھی ہیں کہ نہیں۔

خیر! ویڈیو تو وائرل ہو ہی گئی۔ محفوظ بھی ہو گئی۔  جانے کب تک کے لئے۔۔۔ شاید ہمیشہ کے لیے۔ بار بار دیکھی گئی۔ بار بار دیکھی جا رہی ہے۔ جانے کب تک بار بار دیکھی جائے گی۔ صرف یوٹیوب پر کئی لنکس پر موجود ہے۔ کسی لنک پر ویو کاؤنٹ 86 ہزار کہیں 35 ہزار کہیں 8 ہزار کہیں 12 ہزار۔ باقی فیس بک ٹوئیٹر کا ویو کاؤنٹ علیحدہ۔ واٹس ایپ پر شیئرنگ کی تو کوئی گنتی ہی نہیں۔ لطیفے چٹکلے الگ بن رہے ہیں تھوک کے حساب سے اور تنقید و تبرا الگ۔ کیا کمائی کی ہے بیگم صاب نے، وہ بھی ماہ مبارک میں۔

کاش کرنل رانی کو احساس ہو کہ اس وقت وہ سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن چکی ہیں۔ گوگل فیس بک یو ٹیوب پر فقط لفظ “کرنل” ٹائپ کریں تو آگے آٹومیٹیکلی “کرنل کی بیوی” لکھا ہوا آ جاتا ہے۔ یوٹیوب فیس بک ٹوئیٹر انسٹا گرام کی وساطت سے ان کی برہنگیٔ فکر اور آوارگیٔ لسان کے ڈنکے چہار دانگ عالم میں بج رہے ہیں۔ ایک جم غفیر کو وہ خود پر گواہ بنا چکی ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

خوش نصیبی اس امت کی کہ اس کے گناہوں پر ستاری کی چادر ڈالی گئی۔ یہاں تک کہ حساب کتاب بھی چھپا کر لیا جائے گا۔ بد بختی ان کی جن کے اوپر سے یہ چادر کھینچ لی جائے۔۔۔  جن کے گناہ ایک خلقت پہ آشکار ہو جائیں۔ جن کے خبث باطن سے اپنے پرائے سب آگاہ ہو جائیں۔ جن کی عزت کا فالودہ بن جائے۔ جو کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں۔ الامان الحفیظ۔ تکبر تو ویسے ہی بدترین گناہ ہے۔۔۔ وہ کہ جس کے سبب شیطان راندہ درگاہ ہوا۔

یہ واقعہ بڑا سبق آموز ہے۔ پناہ مانگنی چاہئے اللہ تبارک و تعالی سے کہ وہ اپنی ستاری کی چادر ہمارے اوپر سے کھینچ لے۔ اس ستاری کی چادر میں دبکے رہنے ہی میں عافیت ہے چہ جائیکہ اسے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے اوپر سے نوچ لیا جائے۔ آج انٹرنیٹ اور موبائل کیمرے کے دور میں ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنے کی ضرورت ہے کہ ذرا سی لغزش سارے عالم میں رسوائی کا سبب بن جاتی ہے یا بن سکتی ہے۔ جیسا کہ اے ٹی ایم مشینوں کے پاس لگائے گئے ہینڈ سینیٹائزرز کے چرانے والوں والیوں کی ویڈیوز، جیسا کہ جیب کاٹنے والی خاتون کی ویڈیو، جیسا کہ کپڑے زیور چرانے والی خواتین کی ویڈیوز۔۔۔ جیسا کہ حالیہ واقعہ۔ لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا۔
اللھم استر عیوبنا۔
اللھم انا نسئلک العفو و العافیة فی الدنیا و الآخرة۔

 

Behaviors & Attitudes, Emaan, Islam, Social, معاشرت, اسلام

طوفان آتا کیسے ہے

طوفان آتا کیسے ہے

ان دنوں ‘کیار’ نامی سمندری طوفان نے بحیرہ عرب کو اتھل پتھل کر کے رکھ دیا ہے۔ ماہرین موسمیات کے مطابق ‘کیار’ بحیرہ عرب کی معلوم تاریخ کا سب سے بڑا اور سال 2019 میں دنیا بھر میں آنے والا سب سے شدید سمندری طوفان ہے۔

گزشتہ شب ایک ٹی وی رپورٹ میں کراچی کے ساحلی علاقے ہاکس بے کا منظر دکھایا گیا کہ کیسے سمندر کا پانی سڑک تک آ رہا ہے۔ دوسری طرف بہت سے منچلے بھی وہاں موجود تھے۔ رپورٹر نے پوچھا آپ لوگ یہاں کیوں جمع ہیں؟ جواب آیا: ہم یہ دیکھنے آئے ہیں کہ طوفان آتا کیسے ہے۔۔۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔

سیرت النبی ﷺ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں تو ہوا بھی تیز چلتی تو آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر ڈر محسوس ہوتا تھا۔ اس حدیث کی تشریح یہ بیان کی جاتی ہے کہ قوم عاد پرآندھی کا عذاب آیا تھا۔ اس لیے آندھی آنے پر آپ ﷺ عذاب الٰہی کا تصور فرما کر گھبرا جاتے۔

ایک اور واقعہ حجة الوداع کا ہے۔ رسول اللہ ﷺ مزدلفہ میں رات بسر کرنے کے بعد 10 ذی الحجة کی صبح واپس منیٰ کو روانہ ہوئے۔ منٰی کی راہ میں جب وادی محسر کے دامن میں پہنچے تو اپنی سواری کی رفتار تیز کر دی۔ واضح رہے کہ وادی محسر وہ مقام ہے جہاں رب کعبہ نے ابرہہ اور اس کے لشکر کو ابابیلوں کے ذریعہ کنکریاں برسا کر نیست و نابود کر دیا۔

ایسے ہی قرآن پاک میں سورة الاحقاف آیت 22 تا 25 میں حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کا قصہ بیان ہوا۔ قوم عاد نے ہود علیہ السلام کی نصیحتوں پر کان دھرنے کی بجائے الٹا اپنے نبی کو چیلنج کر دیا۔۔۔

(اے ہودؑ) اگر تم سچے ہو تو جس عذاب کا تم وعده کرتے ہو اسے ہم پر لے آؤ(22) (حضرت ہود نے) کہا (اس کا) علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، میں تو جو پیغام دے کر بھیجا گیا تھا وه تمہیں پہنچا رہا ہوں لیکن میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ نادانی کر رہے ہو (23) پھر جب انہوں (قوم عاد) نے عذاب کو بصورت بادل دیکھا اپنی وادیوں کی طرف آتے ہوئے تو کہنے لگے، یہ ابر ہم پر برسنے واﻻ ہے، (ہود علیہ السلام نے کہا: نہیں) بلکہ دراصل یہ ابر وه (عذاب) ہے جس کی تم جلدی کر رہے تھے، ہوا ہے جس میں دردناک عذاب ہے (24) جو اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو ہلاک کر دے گی، پس وه ایسے ہوگئے کہ بجز ان کے مکانات کے اور کچھ دکھائی نہ دیتا تھا۔

زلزلے سیلاب آندھی طوفان یہ سب قدرتی آفات کی مختلف شکلیں ہیں جن سے بعض قوموں کو ہلاک کر دیا گیا۔ اللہ سے ڈرنا چاہئے۔ 2004 میں انڈونیشیاء میں سونامی آیا تھا۔ بحر ہند میں 80 تا 100 فٹ بلند لہریں بنیں۔ یعنی 8 تا 10 منزلہ عمارت جتنی بلند لہریں۔ جو لہر بند آچے نامی شہر کے ساحل سے ٹکرائی وہ تیس فٹ بلند بتائی جاتی ہے۔ یہ ایسے ہی تھا گویا سمندر ساحل پر امڈ آیا۔ سوا دو لاکھ انسان لقمہ اجل بنے۔ بعض منچلے اس وقت بھی تصویر کشی میں مشغول تھے۔

اللہ نہ کرے کہ یہ طوفان عذاب الہی ہو۔۔۔ قدرتی آفت بہرحال ہے۔ یہ وقت اٹھکھیلیاں کرنے کا نہیں اللہ کی طرف رجوع کرنے کا ہے۔ اللہ سے پناہ مانگنی چاہئے۔ ہر چیز مذاق نہیں ہوتی۔ خاص کر سمندری طوفان تو بالکل بھی مذاق نہیں۔

#Kyaar

Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, معاشرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, اسلام, حج, حسن معاشرت, حسن سلوک

صبر یا حاجی” حج کی حفاظت۔4″

 اپنے حج کی خوب حفاظت کیجئے۔4

صبر یا حاجی

حج عمرہ کا ایک اہم سبق صبر ہے۔ حاجی کو واش روم سے لے کر بس کے چلنے تک اور طواف کے ہجوم میں پھنس پھنس کر چلنے سے لے کر ایئر پورٹ پر فلائٹ کی روانگی تک کہاں کہاں انتظار اور صبر کرنا پڑتا ہے۔

لیکن حج عمرہ سے وطن واپسی پر حاجی یہ سبق بھول جاتے ہیں۔ بیلٹ پر سامان جمع کرنے کے بعد زم زم کا انتظار ان کے لیے سوہان روح بن جاتا ہے۔ ایسے میں بعض حاجی کسی دوسرے حاجی کی زم زم کی بوتل لے کر چلتے بنتے ہیں۔ اس خیال سے کہ کوئی بات نہیں وہ ہماری بوتل لے جائے گا۔

ایسا نہ کیجیے۔

یہ چوری ہے۔ گناہ کبیرہ! اتنا بڑا گناہ کہ جس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا ہے۔

پھر آپ کی ذرا سی جلد بازی اور بد نظمی سے وہ حاجی سخت مشکل میں آ جائے گا جس کا زم زم آپ لے جا رہے ہیں۔ اسے کیا پتہ کہ حاجی عبد الرحمان صاحب اس کی بوتل اٹھا لے گئے ہیں سو بدلے میں وہ بھی حاجی عبد الرحمان کی بوتل اٹھا لے جا سکتا ہے۔

ممکن ہے حاجی عمر رسیدہ ہو۔

ممکن ہے حاجی بیمار ہو۔

عین ممکن ہے اسے آخر تک انتظار کرنا پڑے۔ اس سارے عمل میں اس کا کتنا وقت خراب ہو گا اور ساتھ ساتھ باہر منتظر اس کے گھر والوں کا وقت بھی نیز ان کو بھی انتظار کی شدید اذیت سے گزرنا ہو گا۔

عین ممکن ہے حاجی کو اپنے زم زم کی تلاش میں ایئر پورٹ پہ دھکے کھانے پڑیں۔

ایئر پورٹ عملے کی منت خوشامد کرنی پڑے۔

زم زم گمشدگی کی شکایت درج کرانے کے لیے بھاگ دوڑ کرنی پڑے۔ جو کہ اسے کبھی نہیں ملنے والا کیونکہ اس کا زم زم کھویا نہیں کوئی دوسرا حاجی لے جا چکا ہے۔

ممکن ہے اس حاجی کی تربیت یا حج عمرہ کے بعد کی ایمانی کیفیت اسے کسی اور کا سامان اٹھانے کی اجازت ہی نہ دے۔ اور وہ اپنی بوتل پر صبر کر کے ایسے ہی خالی ہاتھ چلا جائے۔

اس ساری تکلیف و دل آزاری کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔

غور کیجیے ایک بوتل اٹھانے کے پیچھے کیا کیا گناہ کما لیا۔

ممکن ہے آپ کا سارا حج عمرہ یہیں برباد ہو جائے۔

اللہ سے ڈرتے رہیے۔