Behaviors & Attitudes, Social, معاشرت, اخلاقیات

Encroachment

و ما الحیاۃ الدنیا الا متاع الغرور

سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر ان دنوں شہر کراچی میں ناجائز تجاوزات کے خلاف مہم زور و شور سے جاری ہے۔ ناجائز تجاوزات کے خلاف حالیہ مہم کا آغاز شہر کے قلب صدر ایمپریس مارکیٹ کے اطراف موجود ناجائز دوکانوں کے انہدام سے ہوا۔ اس کے ساتھ ہی شہر بھر میں دوکانوں کے باہر نکلے شیڈز اور فٹ پاتھوں پر بڑھائے گئے دوکانوں کے حصوں کو مسمار کر دیا گیا ، یا کیا جا رہا ہے۔ جامع کلاتھ مارکیٹ اور آرام باغ ایسے مرکزی علاقوں میں بھی آپریشن جاری ہے۔ اس مہم پر جہاں شہریوں کی اکثریت نے سکون کا سانس لیا  ہے وہیں جن لوگوں کا کاروبار تباہ ہوا ہے وہ اس مہم کے خلاف مبغوض و مغموم نظر آ رہے ہیں۔  ہماری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب متاثرین کا نقصان پورا کرے اور ان کی روزی کا پہلے سے بہتر انتظام فرما دے۔

واقعہ یہ ہے کہ ماضی میں  کئی مرتبہ  ان پتھاروں اور قبضہ گروپوں کے خلاف آپریشن بھی ہوئے لیکن بات نمائشی اقدامات سے آگے نہ بڑھی ۔ دو چار دن بعد سب پہلے جیسا ہو جاتا۔ بارہا ایسا ہوا کہ ان قابضین کو حکومت اور انتطامیہ کی جانب سے مختلف جگہوں اور دوکانوں کی پیشکش کی گئی کہ اپنا کاروبار وہاں سیٹ کر لیں۔ اسی طرح کی پیشکشیں کچی آبادیوں میں مقیم  افراد کی بھی کی گئیں۔ زمینیں بھی الا ٹ کی گئیں اور پیسے بھی دیئے گئے۔ لیکن  انہوں نے ان دوکانوں زمینوں ہی کو بیچ ڈالا ، یا کرائے پر چڑھا دیا اور خود واپس وہیں آن موجود ہوئے۔ اس طرح کے “کامیاب تجربات “کے بعد شاید ان لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اتنا سخت ایکشن ہو جائے گا اور ایک روز وہ فی الواقعی فٹ پاتھ پر آ جائیں گے۔

دیکھا جائے تو اس میں سب سے بڑا قصور خود ان ہی متاثرین کا ہے۔ انہوں نے مفت کی جگہوں پر بیٹھ کے خوب پیسے بنائے۔ جم کے کاروبار کیا۔ کیا اتنا نہ کما لیا تھا کہ چاہتے تو کسی مناسب جگہ دوکان لے کر کاروبار سیٹ کر لیتے ؟ بھلے سے پتھارہ بھی ساتھ ساتھ چلاتے رہتے۔  لیکن لاکھوں کمانے کے باوجوداپنا طرز عمل بدلا نہ ٹھکانہ۔ اب چیخ رہے ہیں، چلا رہے ہیں، رو رہے ہیں، دہائیاں دے رہے ہیں، جھولیاں پھیلا پھیلا کر بد دعائیں دے رہے ہیں، احتجاج کر رہے ہیں ۔۔۔ ارے! نادانی  بھلا کس نے دکھائی ۔ عارضی ٹھکانے پر بیٹھے کاروبار کرتے رہے۔ سو وہ ٹھکانہ عارضی ہی ثابت ہوا۔ایسے جو دوکاندار ابھی بچ رہے ہیں، وہ اس سب سے سبق سیکھیں     ؎ جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ، ناپائیدار ہو گا۔

یہ مہم ہمیں ایک اور امر کی جانب بھی متوجہ کرتی ہے اور وہ یہ کہ دنیا کی زندگی بھی عارضی ہے۔ یہ عارضی ٹھکانہ ایک دن چھننے والا ہے۔ سب کاروبار جائیدادیں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ عقل کا تقاضہ یہ ہے کہ اس عارضی پتھارے کے بجائے آخرت کی پکی دوکان کو سیٹ کیا جائے۔ دنیا کی اس کچی آبادی کے بجائے آخرت کے پکے گھر کی تعمیر پر محنت کی جائے۔ نماز روزے حج عمرے کی فکر کر لی جائے، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی فکر کر لی جائے۔ نیکیوں  کے قمقموں سے اس گھر کو مزین کر لیا جائے۔ کوئی دن جاتا ہے کہ مالک الملک کے حکم پر یہ عارضی ٹھکانہ مسمار کر دیا جائے گا۔ پھر تہی دامانی کے پچھتاووں کے سوا کچھ نہ رہ جائے گا۔

اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ﴿الحديد: ٢٠﴾

خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا زینت اور آپس میں فخر (و غرور) اور مال و اولاد  میں ایک کا دوسرے سے اپنے آپ کو زیاده بتلانا ہے، جیسے بارش اور اس کی پیداوار کسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر جب وه خشک ہو جاتی ہے تو زرد رنگ میں اس کو تم دیکھتے ہو پھر وه بالکل چورا چورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) سخت عذاب اور (مومنوں کے لئے) اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے اور دنیا کی زندگی بجز دھوکے کے سامان کے اور کچھ بھی تو نہیں۔

 

Advertisements