Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Islam, Social, معاشرت, اخلاقیات, اسلام, علم دین

سرفراز کی جماہی

قرآنی آیات احادیث مبارکہ اور اسلامی تعلیمات کی خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے معانی و مفاہیم اپنے اندر نہایت وسعت لیے ہوئے ہیں۔ مختلف اوقات اور حالات کے حساب سے ان کی نت نئی حکمتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔

مثلاً جماہی لینے کے بارے میں اسلامی تعلیمات یہ بتاتی ہیں کہ جماہی آئے تو اس کو حتی الامکان روکنا چاہیے، یا منہ پر ہاتھ رکھنا چاہیے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے گزشتہ روز بھارت کے خلاف میچ کے دوران جماہی لی جو گراؤنڈ میں لگے ٹی وی کیمروں نے براہ راست پوری دنیا میں نشر کر دی۔ میچ میں شکست کے بعد سرفراز احمد کی اس جماہی پر سوشل میڈیا صارفین نے خوب ہاتھ صاف کیا۔۔۔ بعضوں نے جماہی کی تصویر کے ساتھ بڑے ذو معنی جملے تحریر کئے اور بعضوں نے سرفراز کو خوب تمسخر کا نشانہ بنایا۔

کہا جا سکتا ہےاگر سرفراز احمد جماہی روک لیتے یا کم از کم منہ پہ ہاتھ رکھ لیتے تو شاید مسئلہ نہ ہوتا۔ لیکن ان کے منہ پھاڑ کے جماہی لینے کا منظر ساری دنیا نے دیکھا۔ بہر حال سرفراز احمد نے جو کیا سو کیا۔۔۔ اسلامی تعلیمات کی خوبصورتی کا ایک اور پہلو عیاں ہوا۔ ایک اور حکمت سامنے آئی۔ کہ دینی ہدایات نظر انداز کرنے پر نقصانات کا سلسلہ کہاں تک دراز ہو سکتا ہے۔

اگلی بات سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے لیے۔

سرفراز احمد سے قبل ایک پاکستانی سپورٹر کی تصویر وائرل ہوئی تھی جو آسٹریلیا کے خلاف پاکستانی ٹیم کی خراب کارکردگی پر افسردگی و مایوسی کے عالم میں دونوں ہاتھ اپنی کمر پر رکھے کھڑے تھے۔ پھر سرفراز احمد کی جماہی والی تصویر سوشل میڈیا والوں کے ہاتھ لگ گئی۔ دونوں کی تصاویر لے کر جو سلوک کیا گیا اسے تضحیک و تمسخر کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔

ایک لمحہ کو سوچئے کہ یہ خود یا ان کے گھر والے اور رشتہ دار جب ایسی تضحیک آمیز پوسٹس دیکھتے ہوں گے تو ان کے دلوں پر کیا گزرتی ہو گی۔۔۔ قرآن کریم میں سورة الحجرات میں ایمان والوں کو مخاطب کر کے ہدایت کی گئی کہ لا یسخر قوم من قوم کہ ایک دوسرے کا تمسخر مت اڑاؤ۔۔۔ حکم اتنا اہم و تاکیدی ہے کہ مردوں اور عورتوں کو الگ الگ مخاطب کر کے حکم دیا گیا۔۔۔ آگے اسی آیت میں مومن بھائی کو عیب لگانے اور برے نام سے پکارنے سے بھی روکا گیا۔۔۔

عرض اتنی ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں بہت بے احتیاطی و لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔ جانے انجانے میں ہم کبائر کے مرتکب ہو رہے ہیں۔۔۔ اور پھر یہ سلسلہ صرف ایک فرد واحد تک محدود نہیں رہ جاتا بلکہ آگے شیئر در شیئر کا ایک لا متناہی سلسلہ۔۔۔

اس پر ایک اور آیت ذہن میں آ گئی۔۔۔ سورة العنکبوت آیت 13 میں ارشاد ہوا۔۔۔ ولیحملن اثقالھم و اثقالا مع اثقالھم۔۔۔ اور یہ اپنے بوجھ بھی اُٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی۔

ایمان والوں کو مذاق سے قبل یاد رکھنا چاہیے کہ ہر بات مذاق نہیں ہوتی۔۔۔ اور سوشل میڈیا کا استعمال تو ہرگز مذاق نہیں ہے۔ کچھ اندازہ بھی ہے کہ دینی ہدایات نظر انداز کرنے پر نقصانات کا سلسلہ کہاں تک دراز ہو سکتا ہے؟

Advertisements
Behaviors & Attitudes, Social, معاشرت, اخلاقیات

Encroachment

و ما الحیاۃ الدنیا الا متاع الغرور

سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم پر ان دنوں شہر کراچی میں ناجائز تجاوزات کے خلاف مہم زور و شور سے جاری ہے۔ ناجائز تجاوزات کے خلاف حالیہ مہم کا آغاز شہر کے قلب صدر ایمپریس مارکیٹ کے اطراف موجود ناجائز دوکانوں کے انہدام سے ہوا۔ اس کے ساتھ ہی شہر بھر میں دوکانوں کے باہر نکلے شیڈز اور فٹ پاتھوں پر بڑھائے گئے دوکانوں کے حصوں کو مسمار کر دیا گیا ، یا کیا جا رہا ہے۔ جامع کلاتھ مارکیٹ اور آرام باغ ایسے مرکزی علاقوں میں بھی آپریشن جاری ہے۔ اس مہم پر جہاں شہریوں کی اکثریت نے سکون کا سانس لیا  ہے وہیں جن لوگوں کا کاروبار تباہ ہوا ہے وہ اس مہم کے خلاف مبغوض و مغموم نظر آ رہے ہیں۔  ہماری ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب متاثرین کا نقصان پورا کرے اور ان کی روزی کا پہلے سے بہتر انتظام فرما دے۔

واقعہ یہ ہے کہ ماضی میں  کئی مرتبہ  ان پتھاروں اور قبضہ گروپوں کے خلاف آپریشن بھی ہوئے لیکن بات نمائشی اقدامات سے آگے نہ بڑھی ۔ دو چار دن بعد سب پہلے جیسا ہو جاتا۔ بارہا ایسا ہوا کہ ان قابضین کو حکومت اور انتطامیہ کی جانب سے مختلف جگہوں اور دوکانوں کی پیشکش کی گئی کہ اپنا کاروبار وہاں سیٹ کر لیں۔ اسی طرح کی پیشکشیں کچی آبادیوں میں مقیم  افراد کی بھی کی گئیں۔ زمینیں بھی الا ٹ کی گئیں اور پیسے بھی دیئے گئے۔ لیکن  انہوں نے ان دوکانوں زمینوں ہی کو بیچ ڈالا ، یا کرائے پر چڑھا دیا اور خود واپس وہیں آن موجود ہوئے۔ اس طرح کے “کامیاب تجربات “کے بعد شاید ان لوگوں کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اتنا سخت ایکشن ہو جائے گا اور ایک روز وہ فی الواقعی فٹ پاتھ پر آ جائیں گے۔

دیکھا جائے تو اس میں سب سے بڑا قصور خود ان ہی متاثرین کا ہے۔ انہوں نے مفت کی جگہوں پر بیٹھ کے خوب پیسے بنائے۔ جم کے کاروبار کیا۔ کیا اتنا نہ کما لیا تھا کہ چاہتے تو کسی مناسب جگہ دوکان لے کر کاروبار سیٹ کر لیتے ؟ بھلے سے پتھارہ بھی ساتھ ساتھ چلاتے رہتے۔  لیکن لاکھوں کمانے کے باوجوداپنا طرز عمل بدلا نہ ٹھکانہ۔ اب چیخ رہے ہیں، چلا رہے ہیں، رو رہے ہیں، دہائیاں دے رہے ہیں، جھولیاں پھیلا پھیلا کر بد دعائیں دے رہے ہیں، احتجاج کر رہے ہیں ۔۔۔ ارے! نادانی  بھلا کس نے دکھائی ۔ عارضی ٹھکانے پر بیٹھے کاروبار کرتے رہے۔ سو وہ ٹھکانہ عارضی ہی ثابت ہوا۔ایسے جو دوکاندار ابھی بچ رہے ہیں، وہ اس سب سے سبق سیکھیں     ؎ جو شاخ نازک پہ آشیانہ بنے گا ، ناپائیدار ہو گا۔

یہ مہم ہمیں ایک اور امر کی جانب بھی متوجہ کرتی ہے اور وہ یہ کہ دنیا کی زندگی بھی عارضی ہے۔ یہ عارضی ٹھکانہ ایک دن چھننے والا ہے۔ سب کاروبار جائیدادیں دھری کی دھری رہ جائیں گی۔ عقل کا تقاضہ یہ ہے کہ اس عارضی پتھارے کے بجائے آخرت کی پکی دوکان کو سیٹ کیا جائے۔ دنیا کی اس کچی آبادی کے بجائے آخرت کے پکے گھر کی تعمیر پر محنت کی جائے۔ نماز روزے حج عمرے کی فکر کر لی جائے، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی فکر کر لی جائے۔ نیکیوں  کے قمقموں سے اس گھر کو مزین کر لیا جائے۔ کوئی دن جاتا ہے کہ مالک الملک کے حکم پر یہ عارضی ٹھکانہ مسمار کر دیا جائے گا۔ پھر تہی دامانی کے پچھتاووں کے سوا کچھ نہ رہ جائے گا۔

اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانٌ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ﴿الحديد: ٢٠﴾

خوب جان رکھو کہ دنیا کی زندگی صرف کھیل تماشا زینت اور آپس میں فخر (و غرور) اور مال و اولاد  میں ایک کا دوسرے سے اپنے آپ کو زیاده بتلانا ہے، جیسے بارش اور اس کی پیداوار کسانوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے پھر جب وه خشک ہو جاتی ہے تو زرد رنگ میں اس کو تم دیکھتے ہو پھر وه بالکل چورا چورا ہو جاتی ہے اور آخرت میں (کافروں کے لئے) سخت عذاب اور (مومنوں کے لئے) اللہ کی مغفرت اور رضامندی ہے اور دنیا کی زندگی بجز دھوکے کے سامان کے اور کچھ بھی تو نہیں۔