Eid, Islam, moon sighting, Ramadhan, Roza, اسلام, رمضان المبارک, رویت ہلال, روزہ, عید

سوال ہونا چاہئے

سوال ہونا چاہئے۔۔۔

*مفتی پوپلزئی سے*
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ جب حکومت نے رویت ہلال کمیٹی کا پورا ادارہ بنایا ہوا ہے جس کی صوبائی اور ذیلی کمیٹیاں بھی ہیں، جس میں ہر مکتبہ فکر کے علماء شامل ہیں، اور جس پر کسی مکتبہ فکر کے علماء کو اعتراض ہے نہ اس سے اختلاف، پھر آپ کیوں اس ادارے کی رویت سے انحراف کرتے ہیں؟ آپ کیوں حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہیں؟ آپ کس حیثیت میں رویت ہلال کا اعلان کرتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ اگر آپ سعودی عرب کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں تو وضاحت کر دیجئے ہم اس کو قبول کر لیں گے۔۔۔ لیکن آپ جھوٹی رویت کا اعلان کیوں کرتے ہیں؟کیوں کذب بیانی کرتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ ماہرین فلکیات کی تحقیقات بتا رہی ہوتی ہیں کہ چاند افق پر موجود ہی نہ ہو گا، یا غروب آفتاب سے قبل یا ساتھ یا فوری بعد غروب ہو جائے گا، پھر یہ چاند آپ کو کہاں اور کیسے نظر آ جاتا ہے؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ قرآن کہتا ہے کہ الفتنۃ اشد من القتل۔۔۔ پھر آپ کیوں مسلمانوں میں تفرقہ ڈالتے ہیں؟ کیوں قومی و ملی یکجہتی کو پارہ پارہ کرتے ہیں؟ کیوں امت میں انتشار پیدا کر رہے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ قرآن کہتا ہے کہ و اذا قیل لھم لا تفسدوا فی الارض قالو انما نحن مصلحون۔۔۔ الا انھم ھم المفسدون ولٰکن لا یشعرون ۔۔۔ کیا آپ کا یہ طرز عمل آپ کو اس فہرست میں لاکھڑا نہیں کر رہا؟ آپ کو اللہ سے ڈر نہیں لگتا؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ اگر آپ کو سعودی عرب بھیج دیا جائے یا آپ وہاں کے شہری ہوتے یا آپ کو آج وہاں کی شہریت عطا کر دی جائے تو کیا آپ وہاں ایسی کسی جرات کا تصور بھی کر پائیں گے؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ آپ کس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں؟ کہ آپ کے عزائم کیا ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ آپ سال میں صرف دو چاند کی رویت پر کیوں اس قدر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہیں؟ اور باقی دس ماہ کہاں غائب ہوجاتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ محرم الحرام کی رویت کے وقت آپ کا احساس ذمہ داری کہاں سو جاتا ہے؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ کیا آپ محرم الحرام کا چاند ادھر ادھر کرنے کی جرات ہمت کر سکتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے مفتی پوپلزئی سے ۔۔۔کہ آپ کے صرف دو چاند میں مسئلہ آتا ہے ، اختلاف آتا ہے ۔۔۔ باقی دس ماہ سیدھے کیسے ہو جاتے ہیں؟ باقی دس ماہ کی قمری تاریخیں کیوں بقیہ ملک سے آگے پیچھے نہیں ہوتیں؟ اور اگر ہوتی ہیں تو اب تک تو دس بارہ پندرہ دن کا فرق کیوں نہیں آ گیا آپ کے اور حکومت کے چاندوں کی رویت میں؟ کیا آپ بقیہ دس ماہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے مطابق ہی چلتے ہیں؟

*مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے*
سوال ہونا چاہئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے۔۔۔کہ ایک شخص آپ کے خلاف برس ہا برس سے مسلسل علم بغاوت بلند کئے ہوئے ہے، آپ نے اب تک اس فتنے کی سرکوبی کے لئے کیا اقدامات اٹھائے؟
سوال ہونا چاہئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے۔۔۔ کہ اس فتنے کی سرکوبی کے لئے آپ کے پاس کیا کوئی اختیارات ہیں؟ اور اگر اختیارات نہیں ہیں تو اب تک اختیارات حاصل کرنے کی کیا کوئی کوشش کی گئی؟ اور اگر نہیں کی گئی تو کیوں نہیں کی جاتی؟
سوال ہونا چاہئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی سے۔۔۔کہ آپ نے اب تک اس فتنے کے خلاف عدالت کا دروازہ کیوں نہیں کھٹکھٹایا؟

*حکومت سے*
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔ کہ جس وقت مسجد قاسم خان کا مفتی کار سرکار میں مداخلت کر رہا ہوتا ہے اس وقت حکومت کی رٹ کہاں ہوتی ہے؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔ کہ ایک شخص برس ہا برس سے ریاست کے اندر ریاست بنائے بیٹھا ہے، حکومت کب جاگے گی ؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔ کہ حکومت کیوں مسجد قاسم خان کے مفتی کے خلاف قانونی کاروائی نہیں کرتی؟ کیوں ایکشن نہیں لیتی؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔ کہ ایسے مواقع پر کیوں اس فتنے کو ڈھیل دی جاتی ہے؟ کیوں اس فتنے سے آنکھ چرائی جاتی ہے؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔کہ اگر قانونی کاروائی ممکن نہیں تو کم از کم ایسے مواقع پر اس فتنے کو دو تین دن کے لئے نظربند کیوں نہیں کر دیا جاتا؟ کیوں اس کا موبائل نہیں چھین لیا جاتا؟ کیوں اس کو ملک سے باہر نہیں بھیج دیا جاتا؟
سوال ہونا چاہئے حکومت سے ۔۔۔کہ کیوں ایسے مواقع پر دفعہ ۱۴۴ کا استعمال نہیں کیا جاتا؟ کیوں اس کے گرد جمع ہونے والے جمگھٹے کو منتشر نہیں کر دیا جاتا؟

*میڈیا صحافیوں اور ٹی وی چینلز سے*
سوال ہونا چاہئے میڈیا صحافیوں اور ٹی وی چینلز سے ۔۔۔ کہ آپ ایک غیر اہم شخص کو کیوں اتنی اہمیت دیتے ہیں؟ کیوں اتنی کوریج دیتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے میڈیا صحافیوں اور ٹی وی چینلز سے ۔۔۔ کہ آپ باقی دس چاند کی رویت کے وقت مسجد قاسم خان کے مفتی کو کیوں بھول جاتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے میڈیا صحافیوں اور ٹی وی چینلز سے ۔۔۔ کہ آپ باقی دس چاند کی رویت کے وقت مسجد قاسم خان کے مفتی کو کیوں نہیں پکڑتے کہ آؤ ناں مفتی صاب اب چاند دکھاؤ ۔ محرم کا چاند دکھاؤ۔ ربیع الاول کا چاند دکھاؤ۔ ذی الحج کا چاند دکھاؤ؟

*پیمرا سے*
سوال ہونا چاہئے پیمرا سے۔۔۔ کہ ایک شخص کار سرکار میں مداخلت کر رہا ہوتا ہے، تو اس کے گرد جمع ہونے والے ٹی وی چینلز اور رپورٹرز کے لئے پیمرا کی پالیسی کیا ہے؟
سوال ہونا چاہئے پیمرا سے۔۔۔ ایسے فتنے کو خواہ مخواہ اہمیت دینے والے ٹی وی چینلز اور رپورٹرز کے لئے پیمرا کے قوانین کیا کہتے ہیں؟
سوال ہونا چاہئے پیمرا سے۔۔۔ اس بارے میں پیمرا کا ضابطہ اخلاق کیا ہے؟ اور اگر کوئی نہیں ہے تو ضابطہ اخلاق کیوں نہیں تیار کر لیا جاتا؟
سوال ہونا چاہئے پیمرا سے۔۔۔ کہ جس طرح گزشتہ برسوں میں رمضان المبارک میں فضول گیم شوز پر پابندی کا حکم جاری کیا، ، کیوں اس فتنے کی رپورٹنگ پر پابندی کا حکم جاری نہیں کیا جاتا؟

*معاصر علمائے کرام سے*
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔کہ آپ حضرات مسجد قاسم خان کے مفتی کو کیوں نہیں سمجھاتے کہ وہ امت میں تفرقہ و انتشار کا سبب بن رہا ہے؟
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔کہ آپ حضرات اس فتنے کے خلاف کیوں آواز بلند نہیں کرتے؟
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔ کہ آپ حضرات نے اب تک اس فتنے کی سرکوبی کے لئے کیا اقدامات کئے؟
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔کہ آپ حضرات نے اب تک مسجد قاسم خان کے مفتی کا گریبان کیوں نہیں پکڑا؟
سوال ہونا چاہئے معاصر علمائے کرام سے۔۔۔کہ آپ حضرات کیوں اس فتنے کی مذمت نہیں کرتے؟ کیوں اس کے خلاف واشگاف الفاظ میں ہم آواز ہو کر برات کا اعلان نہیں کرتے؟

*عدلیہ سے*
سوال ہونا چاہئے عدلیہ سے۔۔۔ کہ ایک شخص برس ہا برس سے پورے ملک میں تفرقہ و انتشار کا سبب بن رہا ہے۔۔۔ برس ہا برس سے مسلسل حکومت اور اداروں کے خلاف چل رہا ہے ۔۔۔ برس ہا برس سے عوام الناس کو حکومتی اداروں کے خلاف بلا وجہ بھڑکا رہا ہے۔۔۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مسلمانوں کے روزے اور عیدیں برس ہا برس سے خراب کرا رہا ہے ۔۔۔ معزز عدالت کیوں اس فتنے کے خلاف سوموٹو ایکشن نہیں لیتی؟
سوال ہونا چاہئے کہ معزز عدالت کیوں مسجد قاسم خان کے مفتی کو عدالت میں طلب نہیں کرتی؟

سوال ہونا چاہئے کہ معزز عدالت کیوں اس کے خلاف احکامات جاری نہیں کرتی؟

سوال ہونا چاہئے کہ معزز عدالت کیوں اس کو پابند سلاسل نہیں کرتی؟

سوال ہونا چاہئے کہ معزز عدالت کیوں اس کو پھانسی کی سزا نہیں سناتی؟

*عوام الناس سے*
سوال ہونا چاہئے عوام الناس سے۔۔۔ کہ اے مسلمانو! تم کیوں اس شخص کی پیروی کرتے ہو جس نے امت کو تفرقہ میں ڈال رکھا ہے؟

سوال ہونا چاہئے عوام الناس سے۔۔۔ کہ جب حکومت نے ایک ادارہ بنایا ہوا ہے جو درست کام کر رہا ہے ، اور جس پر بڑے بڑے علمائے وقت کو اعتماد ہے ، مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی ایسے اکابرین وقت جس کی رویت کے مطابق روزے عید کرتے ہیں ، اے پاکستان کے ایک خطہ کی عوام! تم کیوں اس ادارے سے انحراف کرتے ہو؟ کیوں اپنے روزے عید برباد کرتے ہو؟
سوال ہونا چاہئے عوام الناس سے۔۔۔کہ کیا تمہیں نہیں پتہ کہ سعودی عرب میں بھی رویت ہلال میں خطا یا غلطی ہو جاتی ہے، یا ہو چکی ہے، ذی الحج کی رویت میں خطا ہو چکی ہے، تو ایسا ہو جانے کے باوجودوہاں کے علمائے کرام نے کبھی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند نہیں کیا۔۔۔ بلکہ حج بھی درست قرار پایا اور روزے کی قضا بھی کر لی۔۔۔ اے پاکستان کے ایک خطہ کی عوام ! حکومت نے ادارہ بنایا ہوا ہے ۔۔۔ اگر وہ کوئی غفلت کرتے ہیں تو گناہ ثواب ان کے ذمہ ۔۔۔ اور اللہ کے فضل سے آج تک کوئی غفلت ثابت بھی نہیں ہوئی ، پھر کیوں اس ادارے پر اعتماد نہیں کرتے؟

*اللہ رب العزت کی بارگاہ میں۔۔۔*
اے اللہ! مفتی پوپلزئی نے تیری امت میں تفرقہ ڈال رکھا ہے۔ ۔۔تیری امت میں اختلاف و انتشار کا سبب بنا ہوا ہے ۔۔۔ تیرے مسلمان بندوں کے روزے عیدیں خراب کرا رہا ہے۔۔۔ حکومت وقت کے خلاف خروج کئے ہوئے ہے۔۔۔ حکومت وقت کے خلاف علم بغاوت بلند کئے ہوئے ہے۔۔۔
اے اللہ ! تو قرآن میں کہتا ہے الفتنۃ اشد من القتل۔۔۔ کہ فتنہ و فساد قتل و غارت گری سے بھی زیادہ برا ہے۔۔۔
اے اللہ! تو قرآن میں کہتا ہے کہ و اذا قیل لھم لا تفسدوا فی الارض قالو انما نحن مصلحون۔۔۔ الا انھم ھم المفسدون ولٰکن لا یشعرون ۔۔۔
اے اللہ! یہ شخص خود کو مفتی کہلواتا ہے۔۔۔ لیکن یہ بھی اصلاح کے نام پر فتنہ فساد کا سبب بنا ہوا ہے۔۔۔
اے اللہ ! اس کو ہدایت عطا فرما۔۔۔ اور اگر اس کے مقدر میں ہدایت نہیں ہے تو پھر پاکستان کے مسلمانوں کو اس فتنے سے ہمیشہ کے لئے محفوظ فرمادے۔۔۔
اے اللہ ! تو اس کو مفسدین میں شمار کرتے ہوئے اس کے انجام تک پہنچا دے۔
آمین

Advertisements
Behaviors & Attitudes, Eid, Emaan, Eman, Islam, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, علم دین, عید

Reminder

ریمائنڈر

السلام علیکم ناظرین!  عید مبارک! کیسے ہیں آپ؟

ناظرین! قربانی کے ایام گزر چکے ہیں۔ گھر گھر میں جانور کٹ چکا اور گوشت بٹ چکا۔ بقیہ فریزرز میں پہنچ چکا تاکہ سند ۔۔۔ سوری محفوظ رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔

ناظرین! شہر میں اس وقت ہر سو بار بی کیو پارٹیز کا دور دورہ ہے۔ قربانی کا گوشت مزے لے لے کے کھایا کھلایا جا رہا ہے۔ گلی گلی دھوئیں کے مرغولے ہیں اور گوشت کے بھننے کی اشتہا انگیز مہک۔ ہر سو انجوائمنٹ۔۔۔ تفریح۔۔۔ موج مستی۔۔۔ ہلہ گلہ ہے اور لطیفوں قہقہوں کی گونج ہے۔  اس موقع پر ہم نے کچھ شہریوں سے ان کے تاثرات جاننے کی کوشش کی ہے۔ آئیے آپ کو دکھاتے ہیں کہ اس وقت شہریوں کی کیا فیلنگز ہیں؟

سوال: ہاں بھئی کیا بنا رہے ہیں آپ؟

“جواب: “بہاری بوٹی۔۔۔

“سیخ کباب۔۔۔”

“گولہ کباب۔۔۔”

“تکے۔۔۔”

 سوال: کیا آپ نے اس سال قربانی کی؟

“جواب: “جی ہاں۔۔۔

“جی الحمد للہ۔۔۔”

“جی اللہ کا شکر ہے ۔۔۔”

“جی ہر سال کرتے ہیں۔”

سوال:کس جانور کی قربانی کی آپ نے؟

“جواب: “گائے۔۔۔

“بکرا۔۔۔”

“اونٹ۔۔۔”

“دنبہ۔۔۔”

“بچھیا۔۔۔”

سوال: اچھا یہ بتائیے آپ قربانی کیوں کرتے ہیں؟

“جواب: “جی اللہ کا حکم پورا کرنے کے لئے۔۔۔

“جی سنت ابراہیمیؑ کی پیروی کے لئے۔۔۔”

“جی سنت ابراہیمیؑ کے اعادہ کے لئے۔۔۔”

“جی شریعت کا حکم ہے۔۔۔”

سوال: اچھا قربانی کا کوئی فائدہ معلوم  ہے آپ کو؟

“جواب: “جی قربانی کے جانور کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔۔۔

“جی قربانی کے جانور کے جسم پر موجود ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔۔۔”

“جی قربانی سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔۔۔”

“جی قربانی کی برکت سے غریب غرباء کو بھی گوشت کھانے کو مل جاتا ہے۔۔۔”

سوال:تو  کیا آپ سمجھتے ہیں کہ قربانی کے بعد آپ کے گناہ معاف ہو گئے اور اللہ کا قرب حاصل ہو گیا؟

“جواب: “جی ان شاء اللہ۔۔۔۔

“جی رب کی رحمت سے امید تو یہی ہے۔۔۔”

“جی یقیناً۔۔۔”

“جی ڈیفینٹلی۔۔۔”

“جی آف کورس۔۔۔”

سوال: یہ بتائیے کہ یہ میوزک کیوں لگایا ہوا ہے؟

“جواب: “جی بس ایسے ہی۔۔۔۔

“جی پارٹی ٹائم ہے۔۔۔”

“انجوائمنٹ کے لئے۔۔۔”

“تفریح کی غرض سے۔۔۔”

“ذرا رونق میلہ بھی تو نظر آئے۔۔۔”

سوال:” لیکن ابھی کل ہی تو آپ نے قربانی کی تھی ، اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لئے۔۔۔ گناہوں کی معافی کے لئے۔۔۔۔ پھر یہ “میوزک یہ گانا بجانا ۔۔۔؟

جواب: سناٹا۔۔۔

خاموشی۔۔۔

خجالت۔۔۔

“(جی بدن کے ساتھ روح کو بھی تو غذا چاہئے (ایک منچلے کا جواب”

ناظرین! آپ نے دیکھا کہ قربانی کے ایام گزر چکے۔ قربانی بھی ہو چکی اور شہریوں کواپنے تئیں اللہ کا قرب بھی حاصل ہو چکا۔ خلاص!  شہری اب اپنے  روٹین پر واپس آ چکے ہیں۔ ساتھ ہی شادیوں کا سیزن بھی اسٹارٹ ہو چکا ہے۔۔۔ اور شادی کی تقریبات میں جو کچھ ہوتا ہے وہ ہم اور آپ جانتے ۔۔۔

ٹوں ٹوں۔۔۔  ٹوں ٹوں۔۔۔

 ناظرین! ابھی ابھی آسمانوں کی  بریکنگ نیوز موصول ہوئی ہے

لَن يَنَالَ اللَّـهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ

(ترجمہ: اللہ تک نہ ان (جانوروں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ (سورۃ الحج۔ 37

کیمرہ مین کراماً  کاتبین کے ساتھ۔۔۔

ہدایت اللہ۔۔۔

ریمائنڈر نیوز۔۔۔

کراچی۔

 

Aitakaaf, Eid, Islam, Ramadhan, لیلۃ القدر, اسلام, رمضان المبارک, عید

Indicator

انڈیکیٹر

عید الفطر کے فوراً بعد (اکثر اگلے ہی روز سے) شادیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
رمضان المبارک کے بعد ہم گناہوں کی طرف کس قدر بے تابی سے  لپکتے ہیں ، اس کا اندازہ لگانا ہو تو یہ شادیوں کی تقریبات بہترین انڈیکیٹر ہیں۔
غیر شرعی رسومات، مخلوط محافل،
بے پردگی، بے ہودگی،
چھچھور پن، فحش گانے ، بے ہنگم موسیقی،
ان گانوں پر تھرکتی ناچتی اپنی ہی بہنیں بیٹیاں بییویاں بھانجیاں بھتیجیاں،
اس “مجرے “کو دیکھ کر انجوائے کرنے والے اپنے ہی باپ بھائی شوہر چچا تایا ماموں کی بے غیرتیاں،
دولہا دلہن کا شادی ولیمہ کے پنڈال میں پیش کیا جانے والا “آئٹم نمبر “،
اور جانے کیا کیا۔۔۔

ایسے میں کسی کو شاید احساس تک نہیں رہتا کہ ۔۔۔
ابھی چند دن پہلے ہی رمضان المبارک کا مقدس مہینہ رخصت ہوا ہے۔۔۔
ابھی چند دن پہلے ہی عشرہ رحمت، عشرہ مغفرت اور عشرہ نجات گزرا ہے۔۔۔
ابھی چند دن پہلے ہی رب کو راضی کرنے کے لئے روزے رکھے تھے۔۔۔
ابھی چند دن پہلے ہی رب کو راضی کرنے کے لئے راتوں کو قیام کیا تھا۔۔۔
ابھی چند دن پہلے ہی جہنم سے آزادی کے لئے اعتکاف کیا تھا۔۔۔
ابھی چند دن پہلے ہی لیلۃ القدر میں مغفرت کی دعائیں مانگی تھیں۔۔۔
ابھی ایک دو دن قبل ہی لیلۃ الجائزہ میں رمضان المبارک کی عبادات کی قبولیت کے لئے آہ و زاری کی تھی۔۔۔
اور ابھی کل یا پرسوں ہی عید الفطر کی نماز پڑھنے کے بعد رب العزت کی بارگاہ سے مغفرت کے پروانے حاصل کر کے عید گاہ سے نکلے تھے۔۔۔
انا للہ و انا الیہ راجعون

یاد کیجئے کس لئے عطا کیا گیا تھا یہ مہینہ؟
لعلکم تتقون
(تاکہ تم متقی بن جاؤ)

Eid, Ramadhan, رمضان المبارک, عید

Eid-e-Saeed

عید سعید

ابو شہیر

عید کیا ہے ؟

عید مسلمانوں کا مذہبی تہوار ہے ۔ اس دن مسلمان خوشی مناتے ہیں۔

مسلمان یہ خوشی کیوں مناتے ہیں ؟

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب عید کا دن ہوتا ہے تو حق تعالیٰ شانہ اپنے فرشتوں کے سامنے بندوں کی عبادت پر فخر فرماتے ہیں ( اس لئے کہ انہوں نے آدمیوں پر طعن کیا تھا ) اور ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ اے فرشتو! کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنی خدمت پوری پوری ادا کر دے ؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ یا رب! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی اجرت پوری دے دی جائے۔ تو ارشاد ہوتاہے کہ فرشتو! میرے غلاموں اور باندیوں نے میرے فریضہ کو پورا کر دیا ، پھر دعا کے ساتھ چلاتے ہوئے ( عیدگاہ کی طرف ) نکلے ہیں۔ میری عزت کی قسم! میرے جلال کی قسم ! میرے علو شان کی قسم ! میرے بلندیٔ مرتبہ کی قسم ! میں ان لوگوں کی دعا ضرور قبول کروں گا ۔ پھر ان لوگوں کو خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جاؤ! تمہارے گناہ معاف کر دیئے ہیں اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا ہے ۔ پس یہ لوگ عید گاہ سے ایسے حال میں لوٹتے ہیں کہ ان کے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں۔ ( رواہ البیہقی فی شعب الایمان کذا فی المشکوٰۃ)

سبحان اللہ! کیا منظر ہو گا کہ آسمانوں میں اللہ رب العزت کا دربار لگا ہوا ہے ۔ اللہ رب العزت اپنے عرش پر جلوہ افروز ہیں ۔ فرشتے دست بستہ کھڑے ہوئے ہیں۔ اور سوال جواب کا ایک سیشن session منعقد ہو رہا ہے ۔ کیا منظر ہو گا کہ اللہ رب العزت میری آپ کی طرف اشارہ کر کے ، میرا آپ کا نام لے کر کہے : ارے فرشتو! تم تو کہتے تھے یہ زمین میں فساد کرے گا۔ آؤ دیکھو۔ یہ میرا فلاں بندہ ہے ۔۔۔یہ میرا فلاں بندہ ہے ۔۔۔ یہ میرا فلاں بندہ ہے ۔ دیکھو اس نے اپنی ذمہ داری پوری ادا کر دی ۔ اس نے مجھے دیکھا بھی نہیں لیکن پھر بھی میں نے اس سے جو کہا ، اس نے کر کے دکھا دیا ۔ یہ میری محبت میں ، میری اطاعت میں کھانا پینا چھوڑ بیٹھا تھا۔ نماز ، تلاوت ، صدقہ سے مجھے خوش اور راضی کرنے کی کوشش میں لگا رہا ۔ اس دھن میں مگن رہا کہ مجھے ۔۔۔ اپنے رب کو دوسروں سے زیادہ نیکیوں میں بڑھ کر دکھا دے ۔ میری جنت کو نہیں دیکھا لیکن مجھ سے جنت طلب کرتا رہا ۔ میری جہنم کو نہیں دیکھا لیکن اس کے پناہ مانگتا رہا ۔ بتاؤ اب میں اس کو کیا بدلہ دوں؟ فرشتوں کا جواب ہو گا کہ الٰہی طریقہ تو یہی ہے کہ مزدور جب اپنی خدمت پوری کر دے تو اس کی مزدوری عطا کر دی جائے ۔

کیا منظر ہوتا ہو گا اس وقت کہ جب اللہ رب العزت ۔۔۔ میرے لئے ۔۔۔ آپ کے لئے ۔۔۔ اپنی عزت کی ، اپنے جاہ و جلال کی ، اپنی رفعت شان کی ، اپنے بلند و بالا مرتبہ کی قسمیں کھا کر ۔۔۔ چار قسمیں کھا کر کہہ رہے ہوں گے : میرے بندے ! میں تمہاری دعا ضرور قبول کروں گا ۔ اے میرے بندے فلاں ! اے میرے بندے فلاں ! اے فلاں بن فلاں! آج عید کا دن ہے ۔ آج خوشیوں کا دن ہے ۔ آج تو خوش ہو جا ۔۔۔ آج میں تیری مغفرت کا اعلان کرتا ہوں ۔ جا تیرے تمام گناہ معاف کر دئیے ۔۔۔ یہی نہیں بلکہ تیرے گناہوں کی جگہ بھی نیکیاں لکھ دیں۔ کیسی زبردست ہوتی ہو گی آسمانوں میں منعقد ہونے والی عید کی تقریب۔۔۔

کاش ہم دیکھ سکتے!

کاش ہم سن سکتے !

کاش ہم محسوس کر سکتے!

کاش ہم جان سکتے کہ عید کیا ہے؟