Just 3 seconds

فقط تین سیکنڈ

خبروں کے مطابق سرحدوں کی صورتحال سخت کشیدہ ہے۔۔۔ بھارت پاکستان پر ایک اور جنگ مسلط کرنے کے درپے ہے۔۔۔ اگر جنگ ہوئی تو کیا ہو گا؟ کیا یہ جنگ روایتی ہتھیاروں سے لڑی جائے گی؟ یا ایٹمی ہتھیار استعمال ہوں گے؟ یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے! اللہ تعالیٰ وطن اور اہل وطن کو جنگ سے محفوظ ہی رکھے۔

آج ایٹمی حملے کی تباہ کاریوں سے متعلق ایک رپورٹ دیکھی جس کے مطابق ایٹمی دھماکے کی جگہ کے ڈیڑھ میل کے اندر موجود فرد کا جسم صرف تین سیکنڈ میں بھاپ بن کر تحلیل ہو جاتا ہے۔

چونکہ ابھی جنگ شروع نہیں ہوئی، اس لئے ابھی ہمارے پاس کافی وقت ہے۔ بہتر ہے کہ اس وقت کو غنیمت جانتے ہوئے کہ اللہ سے صلح کر لی جائے، ان تمام امور و افعال سے اجتناب کیا جائے جو کہ اس کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں۔۔۔ اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لی جائے۔۔۔ اس کو راضی کر لیا جائے۔۔۔

کیونکہ خدانخواستہ ایٹمی حملے کی صورت میں ہمارے پاس فقط تین سیکنڈ ہوں گے۔۔۔

توبہ کا خیال آتے آتے جسم تحلیل ہو چکا ہو گا۔۔۔!

اللھم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنا یا کریم

 

Reminder

ریمائنڈر

السلام علیکم ناظرین! کیسے ہیں آپ؟

ناظرین! قربانی کے ایام گزر چکے ہیں۔ گھر گھر میں جانور کٹ چکا اور گوشت بٹ چکا۔ بقیہ فریزرز میں پہنچ چکا تاکہ سند ۔۔۔ سوری محفوظ رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔

ناظرین! شہر میں اس وقت ہر سو بار بی کیو پارٹیز کا دور دورہ ہے۔ قربانی کا گوشت مزے لے لے کے کھایا کھلایا جا رہا ہے۔ گلی گلی دھوئیں کے مرغولے ہیں اور گوشت کے بھننے کی اشتہا انگیز مہک۔ ہر سو انجوائمنٹ۔۔۔ تفریح۔۔۔ موج مستی۔۔۔ ہلہ گلہ ہے اور لطیفوں قہقہوں کی گونج ہے۔  اس موقع پر ہم نے کچھ شہریوں سے ان کے تاثرات جاننے کی کوشش کی ہے۔ آئیے آپ کو دکھاتے ہیں کہ اس وقت شہریوں کی کیا فیلنگز ہیں؟

سوال: ہاں بھئی کیا بنا رہے ہیں آپ؟

جواب: بہاری بوٹی۔۔۔

سیخ کباب۔۔۔

گولہ کباب۔۔۔

تکے۔۔۔

 سوال: کیا آپ نے اس سال قربانی کی؟

جواب: جی ہاں۔۔۔

جی الحمد للہ۔۔۔

جی اللہ کا شکر ہے ۔۔۔

جی ہر سال کرتے ہیں۔

سوال:کس جانور کی قربانی کی آپ نے؟

جواب: گائے۔۔۔

بکرا۔۔۔

اونٹ۔۔۔

دنبہ۔۔۔

بچھیا۔۔۔

سوال: اچھا یہ بتائیے آپ قربانی کیوں کرتے ہیں؟

جواب: جی اللہ کا حکم پورا کرنے کے لئے۔۔۔

جی سنت ابراہیمیؑ کی پیروی کے لئے۔۔۔

جی سنت ابراہیمیؑ کے اعادہ کے لئے۔۔۔

جی شریعت کا حکم ہے۔۔۔

سوال: اچھا قربانی کا کوئی فائدہ معلوم  ہے آپ کو؟

جواب: جی قربانی کے جانور کے خون کا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔۔۔

جی قربانی کے جانور کے جسم پر موجود ہر بال کے بدلے ایک نیکی۔۔۔

جی قربانی سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔۔۔

جی قربانی کی برکت سے غریب غرباء کو بھی گوشت کھانے کو مل جاتا ہے۔۔۔

سوال:تو  کیا آپ سمجھتے ہیں کہ قربانی کے بعد آپ کے گناہ معاف ہو گئے اور اللہ کا قرب حاصل ہو گیا؟

جواب: جی ان شاء اللہ۔۔۔۔

جی رب کی رحمت سے امید تو یہی ہے۔۔۔

جی یقیناً۔۔۔

جی ڈیفینٹلی۔۔۔

جی آف کورس۔۔۔

سوال: یہ بتائیے کہ یہ میوزک کیوں لگایا ہوا ہے؟

جواب: جی بس ایسے ہی۔۔۔۔

جی پارٹی ٹائم ہے۔۔۔

انجوائمنٹ کے لئے۔۔۔

تفریح کی غرض سے۔۔۔

ذرا رونق میلہ بھی تو نظر آئے۔۔۔

سوال: لیکن ابھی کل ہی تو آپ نے قربانی کی تھی ، اللہ کا قرب حاصل کرنے کے لئے۔۔۔ گناہوں کی معافی کے لئے۔۔۔۔ پھر یہ میوزک یہ گانا بجانا ۔۔۔؟

جواب: سناٹا۔۔۔

خاموشی۔۔۔

خجالت۔۔۔

(جی بدن کے ساتھ روح کو بھی تو غذا چاہئے (ایک منچلے کا جواب

ناظرین! آپ نے دیکھا کہ قربانی کے ایام گزر چکے۔ قربانی بھی ہو چکی اور شہریوں کواپنے تئیں اللہ کا قرب بھی حاصل ہو چکا۔ خلاص!  شہری اب اپنے روٹین پر واپس آ چکے ہیں۔ ساتھ ہی شادیوں کا سیزن بھی اسٹارٹ ہو چکا ہے۔۔۔ اور شادی کی تقریبات میں جو کچھ ہوتا ہے وہ ہم اور آپ جانتے ۔۔۔

ٹوں ٹوں۔۔۔  ٹوں ٹوں۔۔۔

 ناظرین! ابھی ابھی آسمانوں سے بریکنگ نیوز آئی ہے

لَن يَنَالَ اللَّـهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَـٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ

(ترجمہ: اللہ تک نہ ان (جانوروں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ (سورۃ الحج۔ 37

کیمرہ مین کراماً  کاتبین کے ساتھ۔۔۔

ہدایت اللہ۔۔۔

ریمائنڈر نیوز۔۔۔

کراچی۔

 

Youm e Arafa

یوم عرفہ

یوم عرفہ

الیوم اکملت لکم دینکم ۔۔۔

دین کی تکمیل کا دن۔۔۔

و اتممت علیکم نعمتی ۔۔۔

بندوں پر نعمت کے اتمام کا دن۔۔۔

و رضیت لکم الاسلام دینا۔۔۔

اسلام کو بندوں کے لئے دین کی حیثیت سے پسند کئے جانے کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

خطبہ حجۃ الوداع کا دن

یوم عرفہ

خواب کی تعبیر کا دن۔۔۔

آرزو کی تکمیل کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

پراگندہ حالوں کا دن ۔۔۔

بکھرے بالوں کا دن ۔۔۔

سفید پوشوں کا دن ۔۔۔

عرق آلود نفوس کا دن ۔۔۔

غبار آلود ملبوس کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

حج کا دن ۔۔۔

وقوف عرفات کا دن ۔۔۔

  خانہ بدوشوں کی ماننداک میدان میں ڈیرہ جمانے کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

لبیک اللھم لبیک کی پکار کا دن۔۔۔

دعاؤں کی تکرار کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

تکبیر کا دن ۔۔۔

تہلیل کا دن ۔۔۔

تحمید کا دن ۔۔۔

تسبیح کا دن۔۔۔

درود و سلام کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

اعتراف جرم کا دن ۔۔۔

گناہوں پر ندامت کا دن ۔۔۔

سچی توبہ کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

بدن سے نکلتے پسینے کی دھاروں کا دن۔۔۔

آنکھوں سے بہتی آبشاروں کا دن ۔۔۔

یوم عرفہ

بلکنے کا دن ۔۔۔

گڑگڑانے کا دن ۔۔۔

یوم عرفہ

دلوں کے اضطراب کا دن۔۔۔

سسکیوں اور مناجات کا دن۔۔۔

کپکپاتے لبوں پر مچلتی التجاؤں کا دن۔۔۔

دل کی گہرائیوں سے نکلی آہوں کا دن ۔۔۔

رحمت الٰہی کی متلاشی نگاہوں کا دن۔۔۔

بخشش کے حصول کے لئے پھیلائے گئے ہاتھوں کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

شیطان کی ذلت و رسوائی کا دن ۔۔۔

شیطان کی محنت کی بربادی کا دن ۔۔۔

شیطان کا اپنے سر میں خاک ڈالنے کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

باری تعالیٰ کے آسمان دنیا پر نزول فرمانے کا دن ۔۔۔

فرشتوں کے سامنے بندوں پر فخر فرمانے کا دن ۔۔۔

فرشتوں کو گواہ بنا کر بندوں کو معاف کرنے کا دن ۔۔۔

یوم عرفہ

بندوں پر انعام و اکرام کا دن۔۔۔

مغفرت کا دن ۔۔۔

بخشش کا دن ۔۔۔

جہنم سے نجات کا دن ۔۔۔

باغیوں کے لئے عام معافی کے اعلان کا دن ۔۔۔

یوم عرفہ

گناہوں سے پاک صاف ہو جانے کا دن۔۔۔

از سر نو پیدائش کا دن۔۔۔

ایک نئے جنم کے آغاز کا دن ۔۔۔

آئندہ کے لئے گناہوں سے بچنے کے عزم کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

حج مبرور کی صورت میں

جنت کنفرم ہو جانے کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

رب کو منانے کا دن ۔۔۔

رب کے مان جانے کا دن۔۔۔

یوم عرفہ

پیچھے رہ جانے والوں کے لئے۔۔۔

حسرت و یاس کا دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Logic

لاجک

اگرچہ ہم مسلمان ہیں۔۔۔ پھر بھی ہمارا یہ مزاج ہو چلا ہے کہ احکام شریعت کی لاجک مانگتے ہیں۔ مثلاً مغرب کی تین رکعات کی کیا لاجک ہے؟ یا طلوع و غروب آفتاب کے وقت سجدہ کی ممانعت کی کیا لاجک ہے؟ یا پانی تین سانس میں پینے کی کیا لاجک ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
ہمارے لئے یہ امر ناکافی ہے کہ بھئی فلاں حکم اللہ جل جلالہ کا حکم ہے یا۔۔۔۔ یہ کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح عمل کر کے دکھایا ہے! ہمیں ہر حکم کے پس پردہ لاجک درکار ہوتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم دور نبوی ﷺ سے جس قدر دور ہیں ، اس میں ہمارا اس درجہ کرپٹ ہو جانا کوئی اچنبھے کی بات بھی نہیں ہے۔ ایک اور وجہ شاید یہ بھی ہے کہ ہماری سہل پسندی یا یوں کہئے کہ غفلت ہمیں علماء و صلحاء کی محافل میں شرکت کی طرف بھی راغب نہیں ہونے دیتی جہاں تالیف قلب ہوتی رہتی ہے اور ایمان کی بیٹری چارج ہوتی رہتی ہے۔

خیر تو لاجک مانگنے والوں کی خدمت میں بصد ادب ایک تمثیل پیش کی جارہی ہے۔
غور فرمائیے۔

“رات کے نو بجے ہیں۔
آپ نے اولاد سے کہا: چلو جا کر سو جاؤ۔
جواب آیا : وائے ڈیڈ!
ادھر یہ سوال آیا ، ادھر آپ کو غصہ : بی کاز دیٹس مائی آرڈر!
ادھر سے حجت: بٹ ڈیڈ! اٹس جسٹ نائن او کلاک۔ اور کل تو ویسے بھی ویک اینڈ ہے۔
اب آپ غصے سے گرجتے ہیں: نو آرگومنٹس۔ جسٹ گو ٹو بیڈ اینڈ سلیپ۔
اولاد بادل نخواستہ اٹھ کر بیڈروم کی جانب چل دیتی ہے۔ “

کیوں بھئی؟ بچے نے بھی تو لاجک مانگی تھی۔
پھر کیوں غصہ آ گیا آپ کو؟
کیوں ناگوار گزرا؟
کیوں لہجہ درشت ہوا؟
کیونکہ بچے نے حکم دینے والے کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔
کیونکہ بچے نے آگے سے سوال داغ دیا۔
کیونکہ آپ کے خیال میں بچے کے لئے یہ بات کافی ہو جانی چاہئے تھی کہ مما بابا بڑے ہیں، اور یہ مما بابا کا حکم ہے ، لیکن بچے نے اس کو کافی نہ جانا۔

تو جناب! ہمارے لئے بھی مناسب نہیں کہ ہر حکم کی لاجک مانگتے تلاش کرتے پھریں۔ ہمارے لئے یہی بات کافی ہو جانی چاہئے کہ بھئی اللہ کا حکم ہے، یا اس کے رسول ﷺ کا حکم ہے ۔۔۔ یہی بات کافی ہو جانی چاہئے کہ اللہ بہت بڑا ہے، اور اس نے اپنے رسول ﷺ کو بھی ہمارا بڑا بنایا ہے۔ خلاص۔
اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ سعادت مند اولاد وہی ہے جو والدین کے احکامات فوری بجا لاتی ہے۔۔۔
اور وہ بھی خوشی خوشی!

صلائے عام ہے یاران نکتہ داں کے لئے!

Apni Fikar Karo

اپنی فکر کرو

(رمضان المبارک میں ایک قوال کے قتل پر لکھی جانے والی تحریر)

اللہ کے بندو!
اللہ سے ڈرو!
اپنی زبانوں کو لگام دو۔
خدارا۔۔۔ شر نہ پھیلاؤ!
دیکھتے نہیں ہو۔۔۔
رمضان شھر الغفران چل رہا ہے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
جہنم کے دروازے بند کئے جا چکے۔۔۔۔

جانتے نہیں ہو۔۔۔
جنت کے دروازے وا کئے جا چکے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
ہر شب میں ایک کثیر خلقت کے لئے جہنم سے آزادی کے پروانے جاری کئے جا رہے ہیں۔۔۔!

کیا خبر!
کون کون اپنے حصہ کا پروانہ آزادی حاصل کر چکا ہو۔۔۔!
کیا خبر!
کس کس کے لئے جنت کا فیصلہ ہو چکا ہو۔۔۔!

کیوں  مرنے والے کے لئے جہنم کے فتوے جاری کر رہے ہو؟
صرف اس لئے کہ وہ بظاہر گناہ گار تھا؟
ارے تم جہاں والوں سے چھپ چھپ کر۔۔۔
تنہائی میں جو کچھ کرتے ہو۔۔۔
کیا تم گناہ گار نہیں ہو؟
پھر تم میں اور اس میں کیا فرق ہے؟

ذرا یہ تو بتاؤ۔۔۔
اگر کسی کو جنت میں ڈال دیا جائے ۔۔۔
تو تمہاری جیب سے  کیا جاتا ہے۔۔۔؟
بتاؤ تو سہی۔۔۔
اگر کسی کو جنت میں ڈال دیا جائے۔۔۔
تو کیا کسی میں اتنی جرات ہے کہ وہ سوال کر سکے اللہ سے۔۔۔۔
کہ آپ نے اسے جنت میں کیوں ڈال دیا۔۔۔؟
ارے پوچھو گے اللہ سے؟
ارے پوچھ سکتے ہو اللہ سے؟

چھوڑو مرنے والے کو۔۔۔۔
وہ اپنی منزل کو پہنچ گیا۔۔۔

اس کی سانسیں پوری ہوئیں۔۔۔
اس کے عمل کی مہلت ختم ہوئی۔۔۔
اب اس کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
اس اللہ کے ہاتھ میں۔۔۔
جس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔۔۔
اس اللہ کے ہاتھ میں۔۔۔
جس نے اپنی ذات پاک پر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔۔۔

اسے چھوڑو۔۔۔
اپنی فکر کرو۔۔۔
کہ ابھی سانسوں کا سلسلہ جاری ہے۔۔۔
ابھی عمل کے لئے مہلت باقی ہے۔۔۔!

دیکھتے نہیں ہو۔۔۔ رمضان شھر الغفران چل رہا ہے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
جہنم کے دروازے بند کئے جا چکے۔۔۔۔

جانتے نہیں ہو۔۔۔
جنت کے دروازے وا کئے جا چکے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
ہر شب میں ایک کثیر خلقت کے لئے جہنم سے آزادی کے پروانے جاری کئے جا رہے ہیں۔۔۔!

اللہ کے بندو!
اللہ سے ڈرو!
اپنی فکر کرو!ً

Pasina aur Mazdoori

پسینہ اور مزدوری

 (  رمضان المبارک کا مہینہ تھا اور شدید گرمی کا موسم۔۔۔۔ اس پوسٹ کو اسی تناظر میں پڑھا جائے۔)

صاحب! گرمی ایسی  ہے کہ دن کیا اور رات کیا۔۔۔

پسینہ ہے کہ بہے چلا جا رہا ہے۔۔۔

پہلے تو صرف ظہر کی نماز میں ہی پسینہ بہتا تھا۔۔۔

لیکن آج کل تو فجر سے لے کر عشاء تک یہی کیفیت ہے۔۔۔

اور تراویح تو اس قدر عرق ریزی کے ساتھ ادا ہو رہی ہے کہ نہ پوچھئے۔۔۔

تو پسینے میں شرابور مسلمان یہ حدیث مبارکہ ذہن میں تازہ کر لیں۔۔۔

ajir

مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو۔

اور یہ ارشاد ربانی بھی دہرا لیں

ajir

 یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہیں۔ بے شک اللہ جلد حساب چکانے والا ہے۔

اٰل عمران۔۱۹۹

آگے کیا کہوں۔۔۔

آپ خود ہی سمجھ لیجئے۔۔۔

اورصیام و قیام کے محاذ پر  ڈٹے رہئے۔۔۔

Takheer

 تاخیر

 جیسے کوئی خواب میں اپنے تکیے کے نیچے نوٹوں کی گڈی رکھی دیکھے۔۔۔ اور آنکھ کھلنے پر تکیے کے نیچے سے واقعی نوٹوں کی گڈی بر آمد ہو جائے۔۔۔ کچھ یہی معاملہ ہوا! نومبر کے آخری ہفتے میں ایک خاندان نے قدم بڑھایا اور ۔۔۔۳ دسمبر کو یہ خاندان بیت اللہ کے سامنے تھا

 واقعہ یہ ہے کہ نومبر کے نصف آخر میں دو خاندانوں نے مل کے عمرہ کی ادائیگی کو جانے کا ارادہ کیا۔ لیکن پھر ایک خاندان کو بوجوہ پیچھے ہٹنا پڑا۔ دوسرا خاندان، جسے گروپ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اس میں ایک خاتون اور ان کا بیٹا شامل تھے، بھی ڈانوا ڈول ہونے لگا۔ لیکن !آتش شوق کی چنگاری تو بھڑک چکی تھی ۔۔۔ اب پیچھے ہٹنا کوئی آسان تھا

طے پایا کہ خاتون اور ان کا بیٹا ہی رخت سفر باندھ لیں۔ ادھر خاتون اور ان کے میاں جی کی مشترکہ خالہ نے خاتون کے میاں جی کو “پٹی پڑھانی شروع کی “کہ موقع اچھا ہے تم بھی ہمت کر لو۔۔۔ اور بہر طور راضی کر کے ہی دم لیا۔ چنانچہ قدم بڑھا دیا گیا! شاید رحمت خداوندی انتظار میں تھی۔۔۔ کہ “میاں جی” بھی ارادہ کر لیں تو فائنل اپروول عطا کر کے معاملات آگے بڑھائے جائیں !

 سفری انتظامات کے لئے وقت بہت کم تھا ۔۔۔ پاسپورٹ پہلے سے تیار تھے۔ ایک دوست کی معرفت دسمبر کی ابتدائی تاریخوں میں ہوائی جہاز کی نشستیں فوری بک کرا لی گئیں۔ پھر ایک ٹریول ایجنٹ کے ذریعے ویزہ کے لئے درخواست دی گئی۔ وقت بہت کم تھا۔ ویزے بروقت لگ جانے کے امکانات خاصے کم تھے۔ لیکن ۔۔۔ جب “بلاوا “آ جائے ۔۔۔ تو پھر کون روک سکتا ہے!

سب انتظام ہو گیا۔۔۔ اور مارکیٹ ریٹ سے کم نرخ پر ہو گیا۔ مذکورہ دوست گھر سے پاسپورٹ تصاویر اور دیگر مطلوب دستاویزات لے گیا اور جب پاسپورٹ پر ویزے لگ گئے تو پاسپورٹ ٹکٹ گھر پہنچا گیا۔ سارے کام گھر بیٹھے ہو تے چلے گئے۔ ہوم سروس ! بارگاہ الٰہی میں یوں تو سارے ہی عازمین حج و عمرہ معزز و مکرم ہوا کرتے ہیں ۔۔۔ لیکن یہ شاید کچھ زیادہ ہی “اسپیشل کیس“تھا۔ سبحان اللہ ! کیسا وی آئی پی ٹریٹمنٹ تھا۔۔۔ کیا سوئفٹ ارینجمنٹ تھا!

 حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ اللہ کہتا ہے کہ جو شخص میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے،میں اس کی طرف ایک گز بڑھتا ہوں اور جو شخص میری جانب ایک گز بڑھتا ہے ، میں اس کی طرف دونوں بازو کے پھیلاؤ کے برابر بڑھتا ہوں اور جو میری جانب چل کر آتا ہے میں اس کی جانب دوڑ کے آتا ہوں۔ (بخاری و مسلم)

 نومبر کے آخری ہفتے میں اس خاندان نے قدم بڑھایا ۔۔۔ اگر اللہ تعالیٰ نے انسانی آنکھ کو اپنی ذات اطہر کے دیدار کی صلاحیت دی ہوتی تو ۔۔۔ قدم بڑھانے والے دیکھ ہی لیتے کہ اللہ تعالیٰ کیسے دوڑتا ہوا آیا۔۔۔ کیسے بھاگم بھاگ سارے انتظامات کئے۔۔۔ جب ہی تو ۔۔۔ ۳ دسمبر کو یہ خاندان بیت اللہ کے سامنے موجود تھا!

اللہ کو نہ دیکھ سکے ہوں گے ۔۔۔ دیکھ ہی کون سکتا ہے ۔۔۔ کہ چہرے پہ جڑی آنکھوں سے دیکھا جا ہی نہیں سکتا۔۔۔ ہاں اگر دل کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی ہو گی ۔۔۔ تو سارا منظر صاف صاف دیکھ ہی لیا ہو گا!۔۔۔ کہ وہی اللہ فرماتا ہے:

(سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ (فصلت۔۵۳)

 ترجمہ: “ہم عنقریب ان کو اطراف (عالم) میں بھی اور خود ان کی ذات میں بھی اپنی نشانیاں دکھائیں گے!”

 اور ۳ دسمبر کو جب یہ خاندان بیت اللہ کے سامنے کھڑا ہوا ہو گا ۔۔۔ تو ممکن ہے کہ ۔۔۔ بیت اللہ کی مقدس اینٹوں۔۔۔ غلاف کعبہ کے متبرک دھاگوں ۔۔۔ مسجد الحرام کے فرش میں جڑی خوش نصیب مرمریں ٹائلوں۔۔۔ حرم مکی کی دیواروں اور ستونوں۔۔۔ برقی قمقموں سے نکلتی روشنی کی کرنوں۔۔۔ آسمان سے جھانکتے چاند ستاروں۔۔۔ سر کے اوپر سے گزرتے بادلوں۔۔۔ پیروں پہ لگی گرد کے ذروں ۔۔۔ دلوں کی بے ترتیب دھڑکنوں ۔۔۔ اور آنکھوں سے بہتے آنسوؤں سے ۔۔۔ اس سوال کی بازگشت سنائی دی ہو ۔۔۔ جو روانگی سے قبل گھر آئے ایک مہمان نے کیا تھاکہ ۔۔۔

 “تاخیر کس کی طرف سے تھی؟”

 ہاں!ساری تاخیر ، ساری ٹال مٹول، سارے بہانے ، ساری تاویلات ہماری ہی طرف سے ہیں۔ وہاں کوئی تاخیر نہیں۔قاعدہ البتہ طے کیا جا چکا ۔۔۔ پہلا قدم بندوں نے بڑھانا ہے۔۔۔ بندوں کو ہی بڑھانا ہو گا۔۔۔ وہاں تو انتظار ہو رہا ہے۔۔۔ اگر کسی کو شک ہے ۔۔۔ تو ایک بار قدم بڑھا کے دیکھ لے ۔۔۔ !