Behaviors & Attitudes, Emaan, Hajj Umrah, Social, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

حج کی حفاظت۔3

*اپنے حج کی حفاظت کیجیے* 3

کھجور آب زم زم اور شاپنگ کے باعث حج سے واپسی پر اکثر حاجیوں کا بیگیج (سوٹ کیس) کا وزن مقررہ حد سے تجاوز کر جاتا ہے۔ چنانچہ جدہ ایئر پورٹ پر کسی حاجی کے سامان کا وزن 5 کلو کسی کا 10 کلو اور کسی کا 20 کلو زائد ہو جاتا ہے۔ بعضوں کا اس سے بھی زیادہ۔

اضافی وزن کے چارجز اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ سن کے حاجیوں کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔ یہیں سے شیطان حملہ آور ہوتا ہے۔ حاجی کو شارٹ کٹ کی سجھاتا ہے۔ دو نمبری پر اکساتا ہے۔

حاجی ایئرلائن افسر سے مک مکا کی کوشش کرتے ہیں۔ شیطان تو افسر پر بھی محنت کر رہا ہوتا ہے۔ سو کہیں نہ کہیں معاملہ “طے” ہو جاتا ہے۔ تھوڑے سے پیسوں میں۔۔۔

یاد رکھئے۔۔۔

یہ رشوت ہے۔ رشوت کے اس لین دین سے بچئے۔

کئی طریقے ہیں۔۔۔

اول: اپنا سامان مقررہ حد کے اندر رکھئے۔ زیادہ شاپنگ نہ کیجیے۔ پانچ سات کلو کھجور بہت کافی ہو جاتی ہے تقسیم کرنے کے لیے۔ اور اب تو پاکستان میں بھی ملنے لگی ہے۔ کھجور مدینہ منورہ ہی سے خریدیں۔۔۔ اس نیت سے کہ وہاں بسنے والوں کا کاروبار چلتا رہے۔ انہیں نفع ہو۔ یہ نیت بھی باعث اجر و ثواب ہے۔ کم پڑ جائے تو یہیں پاکستان سے خرید لیجیے۔ امتیاز سپر مارکیٹ پہ بھی سارا سال وافر مقدار میں دستیاب ہوتی ہے۔ عجوہ۔ عنبر۔ خضری۔ سکری۔ صقعی۔ صفاوی۔ مبروم۔ سب مل جاتی ہیں۔

دوم: سامان زیادہ ہو جانے کی صورت میں اپنے گروپ کے حاجیوں میں جن کے سامان کا وزن مقررہ حد سے کم ہو ان کے ساتھ اپنے سامان کا اجتماعی وزن کرا لیجیے۔ اگر آپ کا سامان دس کلو زیادہ ہے اور آپ کے ساتھیوں میں سے کسی ایک دو ساتھی کا سامان مقررہ حد سے دس کلو کم ہے تو آپ کا کام بن گیا۔ آپ ان کے ساتھ اپنے سامان کا مشترکہ وزن کرائیے۔ بغیر کسی اضافی رقم کے آپ کا سامان نکل جائے گا۔

سوم: اگر یہ بھی ممکن نہ ہو سکے تو پھر بلا چوں چرا اضافی چارجز ادا کر دیجیے۔

یاد رکھئے۔۔۔

رشوت حرام ہے۔ گناہ کبیرہ ہے۔ حدیث کے مطابق رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔

یاد رکھئے۔۔۔

آپ ابھی حج کر کے آ رہے ہیں۔ سارے گناہ معاف کرا کے آ رہے ہیں۔ شیطان کو کنکریاں مار کر آ رہے ہیں۔ لاکھوں روپے داؤ پر لگائے تھے آپ نے اس مغفرت و بخشش کے حصول کے لیے۔ کیا ابھی سے سب برباد کر دیں گے۔ ابھی تو سر پہ بال بھی واپس نہیں آئے۔

محتاط رہیے۔۔۔

اپنے حج کی خوب حفاظت کیجیے۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Uncategorized, معاشرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, حج, حسن معاشرت, علم دین, عمرہ

حج کی حفاظت۔2

*اپنے حج کی خوب حفاظت کیجیے* 2

بعض حاجیوں کو دیکھا کہ اگر حرم شریف میں چپل گم ہو گئی تو باہر پڑی کوئی بھی چپل پہن کر چل دیئے۔ صرف اسی پر بس نہیں بلکہ بعضے تو دوسروں کو بھی ایسا کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

ہمارے خیال میں تو ایسا کرنا کسی طور بھی مناسب نہیں۔ ایک تو یہ چپل چوری میں شمار ہو گا، دوم کسی مسلمان کی دل آزاری کا سبب ہو گا۔ اور بھی کئی قباحتیں ہیں۔

چپل غائب ہونے پر یقیناً رنج تو بہت ہوتا ہے لیکن ایک تو چپل اٹھانے والے کو اللہ کی رضا کے لیے فوراً معاف کر دینا چاہیے ۔ دوسرا یہ کہ باہر کا فرش بہت زیادہ گرم نہ ہو تو ننگے پیر جا کے ورنہ بصورت دیگر کسی ساتھی سے چپل مستعار لے کے یا ساتھی کو بھیج کے قریبی دوکان سے چپل خرید لینی چاہیے۔

یقیناً یہ بھی خاصا تکلیف دہ مرحلہ ہے۔ پانچ دس ریال بھی خرچ ہو سکتے ہیں لیکن بہرحال کسی اور کی چپل اٹھانے کی صورت میں خدانخواستہ  آخرت میں پھنسنے سے کہیں بہتر ہے۔حج الگ خراب ہو گا۔

محتاط رہئے۔ اپنے حج کی خوب حفاظت کیجئے۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Social, Uncategorized, معاشرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حج, حسن معاشرت, علم دین, عمرہ

حج کی حفاظت۔1

*اپنے حج کی حفاظت کیجیے*

  اللہ رب العزت نے ۲۰۰۲ میں حج کی سعادت عطا فرمائی۔

 اس وقت دو حج اسکیمز ہوتی تھیں۔ گورنمنٹ اور اسپانسر شپ۔

ہم نے اسپانسرشپ اسکیم کے تحت نیشنل بینک میں درخواست جمع کرائی۔ بینک کے ایک ملازم نے عبد الغنی نامی ایک صاحب  کا پتہ دیا جو حجاج کے لیے رہائش کا انتظام کرتے تھے۔

ان سے ملے۔ وہ مکہ کی رہائش کے 1600 ریال مانگ رہے تھے۔ ہماری خواہش تھی کہ 1500 ریال میں معاملہ نمٹ جائے۔ ( بینک اکاؤنٹ بالکل خالی ہو چکا تھا)۔ خاصی بحث و تکرار کے بعد طے پایا کہ 1500 ریال ابھی جمع کرا دیں۔۔۔ بقیہ 100 ریال مکہ مکرمہ پہنچ کر ادا کر دیجیے گا۔ ہم نے 1500 ریال ادا کر دیئے۔

مکہ مکرمہ پہنچنے کے بعد عبد الغنی صاحب ہاتھ ہی نہ آئے۔ یہاں تک کہ حج بھی گزر گیا۔ حج کے بعد عبد الغنی صاحب نے حجاج کرام کی ضیافت کی۔ اس دن وہ موجود تھے۔ میں نے اپنے ایک ساتھی کو یاد دلایا کہ بھائی ان کے 100 ریال ادا کر دیتے ہیں۔ اس نے میرا ہاتھ دبایا کہ چھوڑو کیا ضرورت ہے یاد دلانے کی۔ میں نے کہا: بھائی ہمیں 100 ریال کے پیچھے اپنا حج برباد نہیں کرنا چاہیے۔ بات اس کے بھی دل کو لگی۔

جا کے عبد الغنی صاحب سے ملے اور یاد دلایا کہ آپ کے 100 ریال باقی تھے۔

اللہ نے ان کا دل نرم کر دیا۔

بولے: ارے چھوڑیئے۔۔۔ خیر ہے۔۔۔ کوئی بات نہیں۔ بس۔۔۔ ہو گیا سب۔
اللہ اکبر۔۔۔

اللہ رب العزت نے ہمارا حج بھی خراب نہیں ہونے دیا اور ہمارے 100 ریال بھی بچا لیے۔ فللہ الحمد۔

سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس کی عطا کردہ توفیق سے یہ ممکن ہوا۔ ہمارا کوئی کمال نہیں۔

معزز عازمین حج

ذکر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ حج پہ شیطان بہت چوکس ہوتا ہے۔ مقابلے میں حاجی کو بھی بہت چوکس اور محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ چند برس قبل ایک صاحب گورنمنٹ پیکج پہ گئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کھانے میں ہر حاجی کے لیے دہی کا ایک پیکٹ یا ایک کیلا یا ایک سیب مختص ہوتا ہے۔ بعض حاجی ایک کے بجائے دو دو اٹھا لیتے۔۔۔ پیچھے کئی حاجی محروم رہ جاتے۔

ایسے ہی بند کمروں میں سگریٹ پینا ساتھی حاجیوں کے لیے سخت آزار کا باعث ہوتا ہے۔ محتاط رہیے! اپنے حج کی خوب حفاظت کیجیے۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

Hajj kay baad

حج کے بعد

حج کرنا آسان ہے۔۔۔ لیکن اس کو صحیح سلامت اپنی قبر تک لے کر جانا کہیں مشکل!

حج کے بعد اپنی بقیہ زندگی شریعت اسلامیہ کے مطابق گزارنے کی کوشش کیجیے۔ علماء کے مطابق بعض امور ایسے ہیں کہ بندہ چاہے سو رہا ہو یا جاگ رہا ہو حتی کہ نماز ہی کیوں نہ پڑھ رہا ہو یا بیت اللہ کا طواف ہی کیوں نہ کر رہا ہو۔۔۔ بندہ حالت گناہ میں ہے۔۔۔ چوبیس گھنٹے۔۔۔ دن رات۔

یہ گناہ کون سے ہیں۔

مردوں کے لیے داڑھی مونڈھنا یا ازار یعنی شلوار پاجامہ وغیرہ سے ٹخنوں کو ڈھانپنا۔

خواتین کا پردہ نہ کرنا۔۔۔ یا غیر ساتر یعنی باریک و مختصر یا نامکمل لباس۔۔۔ آدھی یا بغیر آستین کا لباس۔۔۔ ایسی ساڑھی جس میں پیٹ ننگا ہو۔۔۔ چست لباس جس میں بدن کے نشیب و فراز نمایاں ہوتے ہوں مثلا ٹائٹس پہننا۔۔۔ اس طرح کے لباس میں ملبوس خواتین مسلسل حالت گناہ میں کہلائیں گی۔ اب تو مرد بھی چڈے نیکر میں باہر گھومتے نظر آتے ہیں۔ یا خالی پاجامہ پہن کے باہر آ گئے جو ناف سے نیچے گر رہا ہے۔ آجکل جو پتلونیں آ رہی ہیں ان میں بندہ اکڑوں بیٹھے یا سجدے میں جائے تو آدھی آدھی تشریف عریاں ہوتی ہے۔ مرد کا ستر ناف سے لے کر گھٹنوں تک ہے۔ ستر پوشی کا خیال نہ کرنا محض خواتین ہی کے لیے نہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی خلاف شرم و حیا اور باعث گناہ ہے۔

اچھا یہ تو حالت گناہ کا بیان ہو گیا۔

اس سے اگلی حالت معاذ اللہ ثم معاذ اللہ حالت کفر ہے۔

*دین کے کسی حکم پر عمل نہ کرنا باعث گناہ ہے لیکن دین کے کسی حکم کا انکار یا شعائر اسلام کا مذاق اڑانا کفر ہے۔*

نماز نہ پڑھنا روزہ نہ رکھنا داڑھی صاف کرنا یا پردہ کا اہتمام نہ کرنا یہ سب گناہ میں شمار ہو گا۔۔۔

لیکن

ان میں سے کسی کے انکار یا مذاق اڑانے یا کسی اور کلمہ کفر کی ادائیگی کے باعث بندہ دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔

*خدانخواستہ ایسے کسی عمل کے ارتکاب سے ایمان ختم۔*

*شادی شدہ ہے تو نکاح بھی ختم۔*

*اور اگر حج کر چکا تھا تو وہ بھی باطل ہو گیا۔*

اب درج ذیل امور لازم ہوں گے۔

سچی توبہ

تجدید ایمان

اگر شادی شدہ ہے تو تجدید نکاح بھی لازم ہے۔

*اگر صاحب استطاعت ہے تو حج بھی دوبارہ فرض ہے۔*

حج کے بعد گناہوں سے بچیں۔ خاص کر چوبیس گھنٹے کے گناہ!

مرد داڑھی اور ٹخنے کھلے رکھنے کا اہتمام کریں۔ خواتین پردہ اور ستر پوشی کا اہتمام کریں۔ کم از کم درجہ میں روڈ کا پردہ تو لازم کر ہی لیں یعنی گھر سے باہر نکلیں تو اس وقت پردہ لازمی کریں۔ بازار یا دفتر جانا ہو یا کسی تقریب میں یا کسی رشتہ دار کے گھر یا بچہ کو اسکول سے لینے کے لیے۔۔۔ جب تک راستہ میں ہیں کم از کم اتنی دیر ہی عبایا نقاب کا اہتمام کر لیں۔ کیا ضرورت ہے سب کو سب کچھ دکھانے کی!

مرد گھر کا سربراہ ہے اور بیوی بچے اس کے ماتحت۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تم میں ہر کوئی حاکم ہے اور اس سے اس کی رعایا کے متعلق سوال ہو گا۔
چنانچہ مرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بیوی یا بچیوں کے لباس کا خیال رکھے۔ انہیں بے پردہ یا غیر ساتر لباس میں گھر سے باہر جانے سے روکے۔ ورنہ آخرت میں اللہ رب العزت کے حضور جوابدہ ہو گا۔

گناہوں سے بچنے کے ساتھ ساتھ فرائض و واجبات کی ادائیگی کا بھی خوب اہتمام کریں۔ بعض لوگوں کو دیکھا کہ حج سے آنے کے بعد نمازیں بھی چھوڑ دیں۔ حدیث مبارکہ کے مطابق جان بوجھ کر ایک نماز بھی چھوڑ دینے کو کفر کہا گیا ہے۔

پنج وقتہ نمازوں کی ادائیگی کا بھرپور اہتمام کریں۔

 رمضان المبارک کے روزے رکھیں۔

دیگر فرض عبادات کا بھی خوب اہتمام کریں۔

اللہ سے لو لگائے رکھیں۔

اپنے ایمان کے حوالے سے حد درجہ چوکنا اور محتاط رہیں۔ شعائر اسلام کا مذاق اڑانے یا  فرائض دینیہ کے انکار سے گریز کریں۔ اللہ سے خوب ڈرتے رہیں۔ پناہ مانگتے رہیں۔

اللہ رب العزت ہم سب کو ہدایت عقل سمجھ شعور عطا فرمائے اور شریعت مطہرہ کو مکمل طور پر اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ حج عمرہ کی سعادت بار بار عطا فرمائے۔

آمین

وما علینا الا البلاغ

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Islam, Social, معاشرت, اخلاقیات, اسلام, علم دین

سرفراز کی جماہی

قرآنی آیات احادیث مبارکہ اور اسلامی تعلیمات کی خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے معانی و مفاہیم اپنے اندر نہایت وسعت لیے ہوئے ہیں۔ مختلف اوقات اور حالات کے حساب سے ان کی نت نئی حکمتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔

مثلاً جماہی لینے کے بارے میں اسلامی تعلیمات یہ بتاتی ہیں کہ جماہی آئے تو اس کو حتی الامکان روکنا چاہیے، یا منہ پر ہاتھ رکھنا چاہیے۔

قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے گزشتہ روز بھارت کے خلاف میچ کے دوران جماہی لی جو گراؤنڈ میں لگے ٹی وی کیمروں نے براہ راست پوری دنیا میں نشر کر دی۔ میچ میں شکست کے بعد سرفراز احمد کی اس جماہی پر سوشل میڈیا صارفین نے خوب ہاتھ صاف کیا۔۔۔ بعضوں نے جماہی کی تصویر کے ساتھ بڑے ذو معنی جملے تحریر کئے اور بعضوں نے سرفراز کو خوب تمسخر کا نشانہ بنایا۔

کہا جا سکتا ہےاگر سرفراز احمد جماہی روک لیتے یا کم از کم منہ پہ ہاتھ رکھ لیتے تو شاید مسئلہ نہ ہوتا۔ لیکن ان کے منہ پھاڑ کے جماہی لینے کا منظر ساری دنیا نے دیکھا۔ بہر حال سرفراز احمد نے جو کیا سو کیا۔۔۔ اسلامی تعلیمات کی خوبصورتی کا ایک اور پہلو عیاں ہوا۔ ایک اور حکمت سامنے آئی۔ کہ دینی ہدایات نظر انداز کرنے پر نقصانات کا سلسلہ کہاں تک دراز ہو سکتا ہے۔

اگلی بات سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے لیے۔

سرفراز احمد سے قبل ایک پاکستانی سپورٹر کی تصویر وائرل ہوئی تھی جو آسٹریلیا کے خلاف پاکستانی ٹیم کی خراب کارکردگی پر افسردگی و مایوسی کے عالم میں دونوں ہاتھ اپنی کمر پر رکھے کھڑے تھے۔ پھر سرفراز احمد کی جماہی والی تصویر سوشل میڈیا والوں کے ہاتھ لگ گئی۔ دونوں کی تصاویر لے کر جو سلوک کیا گیا اسے تضحیک و تمسخر کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔

ایک لمحہ کو سوچئے کہ یہ خود یا ان کے گھر والے اور رشتہ دار جب ایسی تضحیک آمیز پوسٹس دیکھتے ہوں گے تو ان کے دلوں پر کیا گزرتی ہو گی۔۔۔ قرآن کریم میں سورة الحجرات میں ایمان والوں کو مخاطب کر کے ہدایت کی گئی کہ لا یسخر قوم من قوم کہ ایک دوسرے کا تمسخر مت اڑاؤ۔۔۔ حکم اتنا اہم و تاکیدی ہے کہ مردوں اور عورتوں کو الگ الگ مخاطب کر کے حکم دیا گیا۔۔۔ آگے اسی آیت میں مومن بھائی کو عیب لگانے اور برے نام سے پکارنے سے بھی روکا گیا۔۔۔

عرض اتنی ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں بہت بے احتیاطی و لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔ جانے انجانے میں ہم کبائر کے مرتکب ہو رہے ہیں۔۔۔ اور پھر یہ سلسلہ صرف ایک فرد واحد تک محدود نہیں رہ جاتا بلکہ آگے شیئر در شیئر کا ایک لا متناہی سلسلہ۔۔۔

اس پر ایک اور آیت ذہن میں آ گئی۔۔۔ سورة العنکبوت آیت 13 میں ارشاد ہوا۔۔۔ ولیحملن اثقالھم و اثقالا مع اثقالھم۔۔۔ اور یہ اپنے بوجھ بھی اُٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ اور (لوگوں کے) بوجھ بھی۔

ایمان والوں کو مذاق سے قبل یاد رکھنا چاہیے کہ ہر بات مذاق نہیں ہوتی۔۔۔ اور سوشل میڈیا کا استعمال تو ہرگز مذاق نہیں ہے۔ کچھ اندازہ بھی ہے کہ دینی ہدایات نظر انداز کرنے پر نقصانات کا سلسلہ کہاں تک دراز ہو سکتا ہے؟

Behaviors & Attitudes, Islam, Namaz, نماز, اخلاقیات, اسلام, علم دین

خذوا زینتکم عند کل مسجد

آج کل گرمی اور حبس بہت زیادہ ہے۔ پسینہ بہت آ رہا ہے جس کے باعث جسم سے بو آنے لگتی ہے۔ جو آس پاس کھڑے نمازیوں کے لئے سخت ناگواری کا باعث بنتی ہے۔
مسجد جاتے ہوئے چند باتوں کا اہتمام کر لیجیے:

☜ ممکن ہو تو غسل کر لیجیے۔ ٹھنڈک کی ٹھنڈک۔۔۔ پاکیزگی کی پاکیزگی۔

☜ ممکن ہو تو نماز کے لیے ایک صاف ستھرا جوڑا الگ کر دیجیے۔

☜ کم از کم یہ تو ضرور ہی کیجیے کہ مسجد جانے سے قبل مناسب سا عطر لگا لیجیے۔

☜ جینز پہننے والے بھائیوں کی خاص توجہ درکار ہے۔ جینز کی پتلون عموماً کئی کئی دن پہنی جاتی ہے۔ اس گرمی اور پسینے کے موسم میں جینز پہن کے مسجد (بلکہ کسی بھی مجلس) میں نہ جائیے۔ پسینے کے باعث بعض اوقات جینز سے پیشاب کے مماثل بو آ رہی ہوتی ہے۔۔۔ جو اطراف میں موجود لوگوں کے لیے انتہائی ناگواری کا سبب بنتی ہے۔

یا بنی آدم خذوا زینتکم عند کل مسجد

اے بنی آدم! ہر نماز کے وقت خود کو مزّین کیا کرو۔ (الاعراف)