Islam, Lailatul Qadr, Ramadhan, لیلۃ القدر, یوم آخرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, حساب کتاب, رمضان المبارک, علم دین

Lailatul-Qadr

لیلۃ القدر

ابو شہیر

رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہو چکا تھا ۔ عشرہ نجات ۔۔۔ جہنم سے آزادی کا عشرہ۔ صلوٰۃ التراویح میں قرآن پاک کے چھبیسویں پارے کی تلاوت جاری تھی۔ سورۃ محمد کی آیت نے اسے جھنجھوڑا۔

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلیٰ قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا

بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے )دلوں پر قفل لگ گئے ہیں؟

آگے پھر سورۃ الحجرات شروع ہوئی ، یہاں تک کہ قاری صاحب نے اس سورۃ مبارکہ کی آخری آیت تلاوت فرمائی۔۔۔

اِنَّ اللہَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْض۔۔۔

بے شک اللہ تعالیٰ زمین آسمان کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔

گزشتہ شب اعتکاف میں بیٹھے ساتھیوں کے درمیان یہ مذاکرہ چل نکلا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا مطلب کیا ہے؟ سب ساتھیوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ خلاصہ یہ تھا کہ اللہ علیم ہے ، حکیم ہے، عظیم ہے … سب سے زیادہ علم والا ، حکمت والا، قدرت والا، طاقت والا، بصارت و بصیرت والا… کوئی بھی چیز اس کی قدرت اور اس کے علم سے باہر نہیں۔ بڑی نافع گفتگو رہی تھی۔ ایمان تازہ ہو گیا ۔ تو اس پس منظر میں مذکورہ بالا آیت سن کر اس کے دل میں اپنے رب کی عظمت مزید قوی ہوئی کہ کیسا زبردست ہے وہ رب کہ سب کچھ جانتا ہے! وہ بھی …. جو ہمیں نظر آرہا ہے یا جو ہمارے علم میں ہے ، اور وہ بھی… جو ہماری نگاہوں سے ہی نہیں ، ہمارے وہم و گمان سے بھی اوجھل ہے۔ یا اللہ ! تجھ سا نہ کوئی ہے نہ ہو سکتاہے ۔ اشھد ان لا الٰہ الا اللہ ۔

دفعتاً اسے ایک جھرجھری سی آئی! اللہ تعالیٰ تو اس کے بارے میں بھی سب کچھ جانتا ہے ۔ اس کا اگلا پچھلا سب اس رب کے علم میں ہے۔ اس کی نافرمانیاں ! اس کی سرکشیاں! اس کے جرائم ! اس کی بغاوتیں! کچھ بھی تو پوشیدہ نہیں۔ اور اس کا انجام … وہ علام الغیوب تو اس کا بھی علم رکھتا ہے۔ “اے اللہ! اے میرے رب! بے شک تو جانتا ہے کہ تیرے اس بندے کا انجام کیا ہونے والا ہے؟ تو جانتا ہے کہ آخرت میں میرے لئے کیا ہے ؟ خدانخواستہ جہنم ؟ ہلاکت؟ تباہی و بربادی؟ انگارے؟ تیرا غیظ و غضب؟ ” بس اس خیال کا آنا تھا کہ اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ آگے کیا پڑھا گیا ، اسے کچھ یاد نہیں ۔ بس اتنا اسے یاد ہے کہ اس کی گھگھی بندھی ہوئی تھی ۔۔۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔۔۔ اور دل ہی دل میں

اللھم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنا ۔۔۔

اللھم اغفر لنا و ارحمنا و اعتق رقابنا من النار ۔۔۔

کی گردان چل رہی تھی ۔ اے اللہ ! تو معاف کرنے والا ہے ، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ، ہمیں معاف فرما دے۔ اے اللہ ! ہماری مغفرت فرما! ہم پر رحم فرما! اور ہمیں جہنم کی آگ سے آزادی عطا فرما۔ آمین۔

روزانہ صبح فجر کی نماز کے بعد مسجد کے پیش امام صاحب ایک مختصر سی حدیث مبارکہ اور اس کا ترجمہ و تشریح بیان فرماتے ۔ حسب معمول اس روز بھی ایک حدیث مبارکہ بیان فرمائی۔ بشارت نہ کہئے تو اور کیا کہئے ؟ زبان تو بے شک امام صاحب کی تھی لیکن کلام کس کا تھا؟ الصادق و المصدق ﷺ کا! البشیر ﷺ کا! یقیناً آپ ﷺ کُلُّ نفسٍ ذآئقَۃُ المَوت کے اٹل قانون کے تحت دار لفنا سے دار البقا کو ہجرت فرما گئے لیکن ۔۔۔ لاریب کہ آپ ﷺ کا کلام آج بھی زندہ ہے اور قیامت تک کے لئے زندہ رہے گا۔ بشارت نہ کہئے تو اور کیا کہئے ؟ کہ حالات و واقعات کی ترتیب اور ٹائمنگ ہی کچھ ایسی تھی ۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ۔۔۔ جہنم سے نجات کا عشرہ ۔۔۔ رحمت الٰہی جوش میں ہے ۔ مغفرت کے فیصلے ہو رہے ہیں۔ بخشش کے بہانے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ ایک ایک رات میں ہزاروں کو جہنم سے آزادی کے پروانے عطا ہو رہے ہیں۔ اعلانات ہو رہے ہیں ۔۔۔

اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃ ۔۔۔

بے شک تمہارا رب بڑی بخشش والا ہے۔

ہے کوئی طلبگار؟

اعلانات ہو رہے ہیں۔۔۔

ھل مِن تائِبٍ فَاَتوبَ عَلیہ ؟

ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ اس کی توبہ قبول کروں؟

ھل مِن مُستَغفِراٍ فَاَغفِرَ لَہ’ ؟

ہے کوئی مغفرت کا طلبگار کہ اسے بخش دوں؟

رات کی تاریکی میں ایک بندہ اپنے رب کی بارگاہ میں لبوں کو جنبش دیئے بغیر سرگوشیاں کرتا ہے ، دل ہی دل میں راز و نیاز کرتا ہے ، اور وہ ذات جو

یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْر

ہے ۔۔۔ یعنی آنکھوں کی خیانت اور سینوں میں پوشیدہ رازوں سے بھی واقف ہے، سب سن لیتی ہے اور صبح کو یہ مژدہ سنائی دے جاتا ہے ۔ امام صاحب نے حدیث مبارکہ پڑھی ۔ اس کے چشم تصور میں ایک منظر ابھرا۔ خدا کرے کہ اس جسارت کو گستاخی و بے ادبی پر محمول نہ کیا جائے ۔۔۔اس کے چشم تصور میں ایک منظر ابھرا۔۔۔ کہ جیسے اس رحیم و کریم ذات نے اپنے ایک گناہگار بندے کی آہ و بکا کو سند قبولیت عطا فرماتے ہوئے اپنے نبی ﷺ سے کہا ہو کہ اے میرے محبوب! میرے بندوں کو اپنی زبان مبارک سے خوشخبری سنا دیجئے کہ ۔۔۔

اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہ’

یعنی گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے گویا اس نے گناہ کا ارتکاب ہی نہیں کیا۔

بھلا کیا نام دیا جائے اس شب کو جس میں ایک بندۂ عاصی کی ایسی قدر افزائی ہوئی ۔۔۔

قدر کی رات؟

لیلۃ القدر؟

Eid, Ramadhan, رمضان المبارک, عید

Eid-e-Saeed

عید سعید

ابو شہیر

عید کیا ہے ؟

عید مسلمانوں کا مذہبی تہوار ہے ۔ اس دن مسلمان خوشی مناتے ہیں۔

مسلمان یہ خوشی کیوں مناتے ہیں ؟

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب عید کا دن ہوتا ہے تو حق تعالیٰ شانہ اپنے فرشتوں کے سامنے بندوں کی عبادت پر فخر فرماتے ہیں ( اس لئے کہ انہوں نے آدمیوں پر طعن کیا تھا ) اور ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ اے فرشتو! کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنی خدمت پوری پوری ادا کر دے ؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ یا رب! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی اجرت پوری دے دی جائے۔ تو ارشاد ہوتاہے کہ فرشتو! میرے غلاموں اور باندیوں نے میرے فریضہ کو پورا کر دیا ، پھر دعا کے ساتھ چلاتے ہوئے ( عیدگاہ کی طرف ) نکلے ہیں۔ میری عزت کی قسم! میرے جلال کی قسم ! میرے علو شان کی قسم ! میرے بلندیٔ مرتبہ کی قسم ! میں ان لوگوں کی دعا ضرور قبول کروں گا ۔ پھر ان لوگوں کو خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جاؤ! تمہارے گناہ معاف کر دیئے ہیں اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا ہے ۔ پس یہ لوگ عید گاہ سے ایسے حال میں لوٹتے ہیں کہ ان کے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں۔ ( رواہ البیہقی فی شعب الایمان کذا فی المشکوٰۃ)

سبحان اللہ! کیا منظر ہو گا کہ آسمانوں میں اللہ رب العزت کا دربار لگا ہوا ہے ۔ اللہ رب العزت اپنے عرش پر جلوہ افروز ہیں ۔ فرشتے دست بستہ کھڑے ہوئے ہیں۔ اور سوال جواب کا ایک سیشن session منعقد ہو رہا ہے ۔ کیا منظر ہو گا کہ اللہ رب العزت میری آپ کی طرف اشارہ کر کے ، میرا آپ کا نام لے کر کہے : ارے فرشتو! تم تو کہتے تھے یہ زمین میں فساد کرے گا۔ آؤ دیکھو۔ یہ میرا فلاں بندہ ہے ۔۔۔یہ میرا فلاں بندہ ہے ۔۔۔ یہ میرا فلاں بندہ ہے ۔ دیکھو اس نے اپنی ذمہ داری پوری ادا کر دی ۔ اس نے مجھے دیکھا بھی نہیں لیکن پھر بھی میں نے اس سے جو کہا ، اس نے کر کے دکھا دیا ۔ یہ میری محبت میں ، میری اطاعت میں کھانا پینا چھوڑ بیٹھا تھا۔ نماز ، تلاوت ، صدقہ سے مجھے خوش اور راضی کرنے کی کوشش میں لگا رہا ۔ اس دھن میں مگن رہا کہ مجھے ۔۔۔ اپنے رب کو دوسروں سے زیادہ نیکیوں میں بڑھ کر دکھا دے ۔ میری جنت کو نہیں دیکھا لیکن مجھ سے جنت طلب کرتا رہا ۔ میری جہنم کو نہیں دیکھا لیکن اس کے پناہ مانگتا رہا ۔ بتاؤ اب میں اس کو کیا بدلہ دوں؟ فرشتوں کا جواب ہو گا کہ الٰہی طریقہ تو یہی ہے کہ مزدور جب اپنی خدمت پوری کر دے تو اس کی مزدوری عطا کر دی جائے ۔

کیا منظر ہوتا ہو گا اس وقت کہ جب اللہ رب العزت ۔۔۔ میرے لئے ۔۔۔ آپ کے لئے ۔۔۔ اپنی عزت کی ، اپنے جاہ و جلال کی ، اپنی رفعت شان کی ، اپنے بلند و بالا مرتبہ کی قسمیں کھا کر ۔۔۔ چار قسمیں کھا کر کہہ رہے ہوں گے : میرے بندے ! میں تمہاری دعا ضرور قبول کروں گا ۔ اے میرے بندے فلاں ! اے میرے بندے فلاں ! اے فلاں بن فلاں! آج عید کا دن ہے ۔ آج خوشیوں کا دن ہے ۔ آج تو خوش ہو جا ۔۔۔ آج میں تیری مغفرت کا اعلان کرتا ہوں ۔ جا تیرے تمام گناہ معاف کر دئیے ۔۔۔ یہی نہیں بلکہ تیرے گناہوں کی جگہ بھی نیکیاں لکھ دیں۔ کیسی زبردست ہوتی ہو گی آسمانوں میں منعقد ہونے والی عید کی تقریب۔۔۔

کاش ہم دیکھ سکتے!

کاش ہم سن سکتے !

کاش ہم محسوس کر سکتے!

کاش ہم جان سکتے کہ عید کیا ہے؟

Behaviors & Attitudes, Ramadhan, رمضان المبارک, رویت ہلال

Anay walay dino ka aik khaka…

آنے والے دنوں کا ایک خاکہ

از۔۔۔ ابو شہیر

ایک بار پھررمضان المبارک کی آمد آمد ہے ۔

ایک بار پھر شہر میں تراویح کے شارٹ پیکیجز کے بینرز جا بجا سجا دیئے جائیں گے ۔

ایک بار پھر رویت ہلال پر فضیحتہ ہو گا ۔ پھر ملک کے ایک مخصوص گوشے کے باشندے باقیماندہ ملک سے ہٹ کر ایک دن قبل ہی روزوں کا آغاز کر کے قومی و ملی یک جہتی کو پارہ پارہ کر دیں گے۔

ایک بار پھر ٹی وی چینلز پر رویت ہلال کے حوالے سے طویل و لا حاصل مباحثے دیکھنے کو ملیں گے۔

ایک بار پھر رویت ہلال کے اعلان کے ساتھ ہی سارا شہر فائرنگ کی آوازوں سے گونج اٹھے گا۔

ایک بار پھر بہت سے اولو العزم افراد تین روزہ اور چھ روزہ تراویح پڑھ کر باقی مہینے کے لئے فارغ ہو جائیں گے ۔

ایک بار پھر اوقات سحر میں بعض مساجد سے اعلانات بلند ہوں گے کہ حضرات اس وقت اتنے بج کر اتنے منٹ ہو رہے ہیں۔ آپ حضرات جلد از جلد سحری کھا کر فارغ ہو جائیں۔ سحری کا انتہائی وقت اتنے بج کر اتنے منٹ ہے ۔

ایک بار پھر روزہ خوری انجوائے کرنے والے بصد اہتمام روزی خوری انجوائے کریں گے ۔ دفاتر اور جائے کاروبار میں اس مقصد کے لئے الیکٹرک کیٹل ، ٹی بیگز اور خشک دودھ کا اسٹاک کر لیا جائے گا۔ چھوٹے کو حلوائی کی دوکان پر بھیج کر سموسے منگوا لئے جائیں گے جہاں صبح گیارہ بجے سے ہی سموسے تلنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہو گا ۔ یہ نہ بھی ہوا تو بیکریاں زندہ باد۔ سگریٹ پان بھی خاطر خواہ مقدار میں رات کو ہی جمع کر لئے جائیں گے تاکہ دن کے اوقات میں پریشانی نہ ہو ۔

ایک بار پھر پھلوں اور سبزیوں کے نرخ بڑھا دیئے جائیں گے ۔ بد تر سے بد تر کوالٹی کے پھل کی قیمت بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہو گی ، لیکن خریدار پھر بھی خرید رہے ہوں گے ۔ تاہم ساتھ ساتھ ریڑھی والے کو بے بھاؤ کی بھی سنا رہے ہوں گے ۔

ایک بار پھر بے صبری کے مناظر اپنے عروج پر ہوں گے ۔ بالخصوص شام کے اوقات میں دفتر اور کاروبار سے لوٹنے والوں کی کیفیت وہی ہو گی کہ بس میں نکل جاؤں، دنیا جائے بھاڑ میں۔ اس طرز عمل کے نتیجے میں پھر ٹریفک جام کے مناظر نظر آئیں گے ۔پھر سڑکوں پر ٹریفک درہم برہم نظر آئے گا ۔

ایک بار پھر سڑکوں پر لوگ لڑائی جھگڑا ، ہاتھا پائی اور گالی گلوچ کرتے نظر آئیں گے ۔

ایک بار پھر موسیقی کے دلدادہ لوگ جو سارا سال ہندوستانی فلمی گانوں سے  لطف اندوز ہوتے رہے ، رمضان کے احترام میں قوالیوں سے اپنے ذوق موسیقی کی تسکین کرتے نظر آئیں گے۔

ایک بار پھر رمضان عمرہ سیزن کے نام پر ٹریول ایجنٹ عازمین عمرہ کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرتے نظر آئیں گے۔

ایک بار پھر گلی محلوں میں رمضان ٹیپ بال کرکٹ ٹورنامنٹ اور نائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کرائے جائیں گے۔

ایک بار پھر خواتین پورا پورا دن ٹی وی چینلز کے  کوکنگ پروگرامز  دیکھتی، ان میں بتائی جانے والی نت نئے پکوانوں کی تراکیب ذہن نشین کرتی اور شام کو کچن میں ان پر عملدرآمد کرتی نظر آئیں گی۔

ایک بار پھر افطاری میں خوش خوراکی کے مناظر نظر آئیں گے ۔ لذت کام و دہن کی اشیاء حلق تک بھر لینے کے بعد لوگ تراویح میں ڈکاریں مارتے نظر آئیں گے۔ اسی طرح بہت سے نمازی دوران نماز جھولے جھولتے نظر آئیں گے ۔

ایک بار پھر دوران تراویح  بہت سے نمازی امام صاحب کے رکوع میں جانے کے انتظار میں بیٹھے نظر آئیں گے اور جونہی امام صاحب رکوع میں جائیں گے یہ جلدی سے نیت باندھ کر رکوع میں شامل ہو جائیں گے ۔ اور یوں ایک ٹکٹ میں دو مزے ہو جائیں گے یعنی تراویح کی تراویح  اور آرام کا آرام۔

ایک بار پھر ایام کے گزرنے کے ساتھ ساتھ تراویح میں نمازیوں کی تعداد کم ہوتی چلی جائے گی ۔ لیکن ختم قرآن والی شب ایک بار پھر نمازیوں کی ایک بھرپور تعداد نظر آئے گی۔

ایک بار پھر اعتکاف میں معتکفین اپنا پورا پورا بیڈروم اٹھا کر مسجد میں ڈیرہ ڈال لیں گے ۔

ایک بار پھر معتکفین مسجد کے واش روم میں جا جا کر سگریٹ نوشی سے لطف اندوز ہوا کریں گے ۔

ایک بار پھر عید کے چاند کی رویت پر فضیحتہ ہو گا ۔ اور پھر ملک کے اسی مخصوص گوشے کے باشندے باقیماندہ ملک سے ہٹ کر ایک دن قبل ہی عید منا کر ایک بار پھر قومی و ملی یکجہتی کو پرزے پرزے کر دیں گے ۔

ایک بار پھر میڈیا پر رویت ہلال کے مسئلے پر طویل و لا حاصل مباحثے گرم ہو جائیں گے۔

ایک بار پھر مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے ساتھ ہی سارا شہر فائرنگ کی آوازوں سے گونج اٹھے گا۔

ایک بار پھر لیلۃ الجائزہ یعنی انعام کی رات المعروف “چاند رات ” کو نوجوان لڑکے بازاروں میں اپنی نظروں کی تسکین کا سامان کرنے پہنچ جائیں گے ۔

ایک بار پھر اسی انعام کی رات میں خواتین ہاتھوں پر مہندی لگوانے کے لئے یا چوڑیاں پہننے کے لئے غیر مردوں کے ہاتھوں میں ہاتھ دیئے بیٹھی ہوں گی ۔

ایک بار پھر مساجد ویران ہو جائیں گی۔

اور ایک بار پھر سال بھر کے دوران نمازوں میں نمازیوں کی وہی گنی چنی تعداد نظر آیا کرے گی جو کہ جمعۃ المبارک کے علاوہ نظر آیا کرتی ہے۔

قارئین کرام!

غیب کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ۔ تاہم گزشتہ برسوں میں ہم نے وطن عزیز میں رمضان المبارک کے دوران جس قسم کے مناظر دیکھے ہیں ، ان کی روشنی میں ہم نے آئندہ رمضان المبارک کا ایک خاکہ آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔

اللہ سے دعا ہے کہ ماہ مبارک میں یہ سب کچھ یا ایسا بہت کچھ نہ ہو۔

Ramadhan, رمضان المبارک

Inaam ki raat

انعام کی رات

ابو شہیر

آج رمضان المبارک کا آخری روزہ تھا ۔ افطار کر لینے اور نماز مغرب کی ادائیگی کے فوراً بعد ہر طرف مبارک سلامت کا شور مچ گیا ۔ بالآخر وہ ساعتِ سعید آن پہنچی تھی کہ جس کا اک عالَم کو انتظار تھا ، یعنی چاند رات۔۔۔ معتکفین اپنا بوریا بستر لپیٹنے میں مشغول ہو گئے۔ عشاء کی نماز کے بعد آن کی آن میں مسجد سونی ہو گئی۔ آخر کو سب کو اپنے گھروں کو جانے کی جلدی تھی کہ عید الفطر کے استقبال کی تیاریاں بھی تو مکمل کرنی تھیں۔

لیکن مسجد کے ایک نسبتاً اندھیرے گوشے میں ایک بندہ اب بھی اپنے رب سے سرگوشیوں میں مشغول تھا:

یا اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں رمضان المبارک عطا کیا ۔ یا اللہ ! تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں آج عید کا چاند بھی دکھا دیا۔ یا اللہ ! میں نے تیرے قرآن میں تیرے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی ایک دعا پڑھی:

اے ہمارے پروردگار ! میں نے اپنی کچھ اولاد کو آپ کے حرمت والے گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں لا بسایا ہے جس میں کوئی کھیتی نہیں ہوتی ۔ ہمارے پروردگار ! ( یہ میں نے اس لئے کیا) تاکہ یہ نماز قائم کریں ، لہٰذا لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے کشش پیدا کر دیجئے ، اور ان کو پھلوں کا رزق عطا کر دیجئے ، تاکہ وہ شکر گزار بنیں ۔ (سورۃ ابراہیم ۔۔۔ 37 )

یا اللہ ! تیرے حبیب ﷺ کی ایک حدیث مجھ تک پہنچی ہے جس کا مفہوم ہے کہ “جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام آسمانوں پر لیلۃ الجائزہ یعنی انعام کی رات سے لیا جاتا ہے۔ “اے ہمارے پروردگار ! آج وہی عیدکی رات ہے ۔ آج وہی لیلۃ الجائزہ ہے ۔ آج وہی انعام کی رات ہے ۔ آج تیرا یہ بندہ تجھ سے تیرے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے انداز میں کچھ مانگنا چاہتا ہے ۔۔۔

پروردگار ! تو جانتا ہے کہ ماہ رجب کے آغاز سے ہی میں رمضان المبارک کے انتظار میں بے قرار ہو گیا تھا بلکہ اس کے لئے دعائیں کرنے لگ گیا تھا ۔ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی رَجَبَ وَ شَعْبَان ، وَ بَلِّغْنَا رَمَضَان۔۔۔ کہ یا اللہ ! ہمیں رجب اور شعبان میں برکت عطا کر اور ہمیں رمضان تک پہنچا دے ۔ اے پروردگار ! یہ میں نے اس لئے کیا کہ ایک روایت مجھ تک پہنچی کہ تیرے حبیب ﷺ کا یہی طریقہ تھا ۔

پروردگار ! تو جانتا ہے کہ ماہ صیام کے آغاز سے پہلے ہی سے میں نے عزم کیا تھا  کہ میں پورے روزے رکھوں گا ، میں نے عزم کیا تھا کہ پوری تراویح پڑھوں گا، میں نے عزم کیا تھا کہ متعدد بار قرآن پاک کی تکمیل کروں گا ، میں نے عزم کیا تھا کہ حفظ قرآن پر بھی توجہ دوں گا ، جو یا د ہے اس کو دوہرا کر پختہ کروں گا ، اور جو یاد نہیں ہے اس کو یاد کرنے کی کوشش کروں گا ۔ میں نے عزم کیا تھا کہ آخری عشرے کا سنت اعتکاف کروں گا ۔ پروردگار! یہ میں نے اس لئے کیا کہ مجھ تک تیرے نبی ﷺ کا فرمان پہنچا تھا کہ “اللہ کو اپنی نیکی دکھلاؤ ۔ اللہ اس ماہ مبارک میں تمہاری طرف متوجہ ہوتا ہے اور اپنی رحمت خاصہ نازل فرماتا ہے۔ خطاؤں کو معاف کرتا ہے اور دعاؤں کو قبول کرتا ہے ۔ تمہاری نیکیوں کی حرص کو دیکھتا ہے اور ملائکہ سے فخر فرماتا ہے ۔ “

میرے رب ! تو جانتا ہے کہ روزے رکھنا میرے لئے کس قدر دشوار تھا ۔ میرے رب ! تیرے حکم پر تیری حلال نعمتوں کو چھوڑ دیا ۔ بھوک لگی لیکن کھانا نہ کھایا ۔ میرے اللہ ! تو جانتا ہے کہ موسم کس قدر گرم تھا ۔ پیاس لگی لیکن پانی نہ پیا ۔ پروردگار! تو جانتا ہے کہ میں بیمار بھی تھا ۔ پروردگار! تو جانتا ہے کہ خالی پیٹ رہنا میرے لئے کس قدر مشکل تھا۔ اے میرے رب ! تو جانتا ہے کہ پورا دن میں کس قدر تکلیف میں مبتلا رہا کرتا تھا ۔ لیکن میں صبر کرتا رہا ۔ پروردگار ! یہ سب میں نے اس لئے کیا کہ مجھ تک تیرے نبی صادق ﷺ کا فرمان پہنچا تھا کہ “تو کہتا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا ۔ “

یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں اپنے روزے کی کس قدر حفاظت کیا کرتا تھا ۔ یا اللہ ! حتی المقدور کوشش کیا کرتا تھا کہ کوئی ایسا عمل سرزد نہ ہو نے پائے کہ جس سے روزے کی صحت یا روحانیت متاثر ہو ۔ پروردگار ! تو جانتا ہے کہ میں زبان کی ، کانوں کی ، نظروں کی حفاظت کرتا رہا ۔ پروردگار! یہ سب میں نے اس لئے کیا کہ مجھ تک تیرے حبیب ﷺ کا یہ فرمان پہنچا تھا کہ “جو شخص روزہ رکھنے کے بعد بھی بد اعمالیاں نہ چھوڑے تو تجھے اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں ۔ “

یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ افطار کے وقت تیرے ہی فضل سے انواع و اقسام کی نعمتیں میرے دستر خوان پر موجود ہوا کرتی تھیں ۔ لیکن جب افطار کا وقت ہوتا تھا تو میں پوری طرح ان نعمتوں سے لطف اندوز نہیں ہو پاتا تھا ۔ بس جلدی جلدی تھوڑا بہت کھا پی کر مسجد کو بھاگا کرتا تھا کہ مغرب کی نماز با جماعت ادا کر سکوں۔ پروردگار ! تو جانتا ہے کہ ان نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کا بہترین وقت اگر کوئی ہو سکتا ہے تو وہ افطار کا ہی وقت ہے لیکن میں نے اس لذت پر نماز کو فوقیت دی ۔ پروردگار! یہ میں نے اس لئے کیا کہ تیری رضا حاصل کر سکوں ۔

اے میرے رب ! پھر کچھ ہی دیر میں نماز عشاء اور تراویح کا وقت ہو جاتا تھا ۔ یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ افطار کے بعد میرا جسم نڈھال ہوا پڑا ہوتا تھا ۔ لیکن میں اپنے اس شکستہ وجود کو گھسیٹ کر مسجد تک لے جایا کرتا تھا اور نماز میں کھڑا ہو جایا کرتا تھا ۔ یا اللہ ! تو جانتا ہے ۔۔۔ تو جانتا ہے کہ تراویح میں میری کیا حالت ہوا کرتی تھی ؟ طویل قیام سے میری ٹانگیں شل ہو جایا کرتی تھیں ۔ کمر چٹخنے لگ جایا کرتی تھی ۔ پیر دکھنے لگ جایا کرتے تھے ۔ تلوے جلنے لگ جایا کرتے تھے ۔ میں تھک جایا کرتا تھا ۔ یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ بسا اوقات نیند کا بھی اس قدر شدید غلبہ ہوتا تھا کہ آنکھیں کھولنا محال ہو جایا کرتا تھا ۔ دل کرتا تھا کہ گھر جا کر بستر پر لیٹ جاؤں لیکن ایسے میں ، میں اگلی صفوں میں کھڑے سفید ریش بزرگ دکھا کر اپنے دل کو ، اپنے نفس کو غیرت دلایا کرتا تھا ۔  یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں حتی المقدور کان لگا کر تراویح میں پڑھا جانے والا تیرا قرآن سنا کرتا تھا ۔ تیرے قرآن کی آیات میں غور و تدبر کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا ۔ پروردگار ! یہ سب میں نے اس لئے کیا کہ مجھ تک تیرے حبیب ﷺ کی حدیث پہنچی کہ “جو شخص رمضان المبارک میں ایمان و احتساب کے ساتھ قیام کرتا ہے ، اللہ اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیتا ہے ۔ “

یا اللہ ! تو یہ بھی جانتا ہے کہ میں نے تلاوت کلام پاک کو بھی اپنا معمول بنائے رکھا ۔ یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں نے کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے اور راہ چلتے قرآن پڑھا۔ یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں حتی المقدور اس بات کی کوشش کرتا تھا کہ تجوید و ترتیل و ترنم کے ساتھ قرآن کی تلاوت کروں ۔ یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں نے حتی الوسع تیرے قرآن کو حفظ کرنے کی بھی کوشش جاری رکھی ۔ یا اللہ! تو جانتا ہے کہ قرآن پڑھتے پڑھتے بسا اوقات میری زبان لڑکھڑانے لگ جاتی تھی ۔ میرے حلق میں خراش ہو جانے لگتی تھی۔ گلا دکھنے لگ جاتا تھا۔ پروردگار! یہ میں نے اس لئے کیا کہ مجھ تک تیرے حبیب ﷺ کی یہ حدیث پہنچی کہ “قیامت کے دن روزہ اور قرآن دونوں بندے کے لئے شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا : اے میرے رب! میں نے اس شخص کو دن کے وقت کھانے (پینے) اور (دوسری) نفسانی خواہشات سے روکے رکھا پس تو اس شخص کے متعلق میری شفاعت قبول فرما۔ قرآن کہے گا : اے میرے رب! میں نے اس شخص کو رات کے وقت جگائے رکھا پس اس کے متعلق میری شفاعت قبول فرما۔ تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔”

یا اللہ ! پھر رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوا تو میں اک آس ، اک امید لے کر تیری چوکھٹ پر بیٹھ گیا۔ گھر بار ، ملازمت کاروبار چھوڑ کر ، بیوی بچوں سے ناتا توڑ کر اعتکاف کی نیت سے مسجد میں آن بیٹھا ۔ لیلۃ القدر کے حصول میں لگا رہا ۔ پروردگار ! یہ میں نے اس لئے کیا کہ مجھ تک تیرے حبیب ﷺ کی یہ حدیث پہنچی کہ “جو شخص ایک دن کا اعتکا ف بھی اللہ کے واسطے کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں آڑ فرما دیتے ہیں جن کی مسافت آسمان و زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے ۔”

میرے رب ! تو نے کرم کیا اور ہمیں ایک بار پھر ماہ رمضان المبارک عطا کیا ۔ میرے رب ! پھر تو نے ہی توفیق دی تو میں نے روزے رکھے ۔ تیری ہی عطا کردہ توفیق سے میں نے تراویح پڑھی۔ تو نے توفیق دی تو میں نے اعتکاف کیا۔ غرض جو بھی کوئی نیک عمل میں نے کیا ، تیری ہی توفیق اور تیرے ہی فضل سے ممکن ہوا۔

اے اللہ! اے میرے رب! اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کی مغفرت فرما ۔ ۔۔اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت پر رحم فرما ۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کی نصرت و مدد فرما ۔۔۔ اے محمدﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کو غالب فرما اور عالم کفر کو مغلوب فرما ۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کے مظلوموں کی داد رسی فرما۔۔۔اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کے بیماروں کو شفا عطا فرما ۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب! محمد ﷺ کی امت کے پریشان حالوں کی پریشانی کو دور فرما ۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کے بے اولادوں کو نیک فرمانبردار اولاد عطا فرما ۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کے جوان بچوں اور بچیوں کے لئے اچھے رشتے عطا فرما۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کے مرحومین کو ، بالخصوص ہمارے والدین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرما۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کے مجاہدین کی ، مبلغین کی مدداور رہنمائی فرما۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ سے وابستہ شہروں یعنی بلاد حرمین شریفین کی حفاظت فرما۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ نے جو خیر اپنے لئے اپنی امت کے لئے مانگی وہ ہمیں بھی عطا فرما اور جن شرور سے پناہ مانگی ان سے پناہ عطا فرما۔

اے محمد ﷺ کے رب ! آج لیلۃ الجائزہ ہے ۔ آج انعام کی رات ہے ۔ میرے رب ! تو جانتا ہے کہ تیرے بندوں کی ایک بہت بڑی تعداد بازاروں میں پہنچ چکی ہے۔ ایک افراتفری کا عالم ہے ۔ ہر طرف ایک ہاؤ ہو ہے ۔ ایک شور ہنگامہ ہے ۔ گانوں باجوں کی گونج ہے ۔ بازاروں میں خوب رونق ہے ۔ مرد اپنی نظروں کی پیاس بجھانے کے لئے بازاروں میں گھوم رہے ہیں اور ان کی تسکین طبع کا سامان بھی وافر مقدار میں بازاروں میں پہنچ چکا ہے ۔ عورتیں اور لڑکیاں خوب بن ٹھن کر بازاروں میں پہنچی ہوئی ہیں ۔۔۔ اور ساری شرم و حیا کو بالائے طاق ر رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ چوڑیاں پہنانے کے لئے ، مہندی لگوانے کے لئے غیر مردوں کے ہاتھوں میں دئیے بیٹھی ہیں۔ اور ان کے ساتھ موجود مردوں کو بھی کوئی ہوش نہیں ہے، کوئی احساس نہیں ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ یا اللہ ! لوگ آج کی رات کی اہمیت سے بے خبر اپنے اشغال میں مصروف ہیں۔ان کو احساس ہی نہیں ہے کہ پورے مہینے نیکیوں کے جس پودے کو شب و روز محنت سے سینچا، اب جب اس کے ثمربار ہونے کا وقت آیا ہے تو اپنے ہی ہاتھوں میں کلہاڑا لے کر اس کو کاٹنے کے درپے ہیں ۔ پروردگار! تو سب کو ہدایت و شعورعطا فرما۔

پروردگار! لیکن تیرا یہ بندہ اس وقت بھی تیرا در پکڑے بیٹھا ہے ۔ تیرے آگے جھولی پھیلائے بیٹھا ہے ۔ ہاتھ اٹھائے بیٹھا ہے ۔ بڑی امید لگائے بیٹھا ہے ۔ مزدوری ملنے کی آس لگائے بیٹھا ہے ۔ پروردگار! اس عاجز و عاصی کا ہرگز کوئی استحقاق نہیں ہے ۔۔۔ بس تیرے فضل سے ، تیرے کرم سے ، تیری رحمت سے ، تیری عطا سے بڑی بلند و بالا امیدیں ہیں ، بڑی بلند و بالا توقعات ہیں۔ پروردگار! تو غنی ہے ۔ تو صمد ہے ۔ تجھے میری عبادات کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ میرے صیام و قیام کو قبول فرما لے۔ پروردگار! دیگر تمام عبادات کو قبول فرما لے ۔

پروردگار ! مجھے اعتراف ہے کہ تیری شان کے مطابق کوئی عمل میں کر بھی نہ سکا ۔ رمضان المبارک کی صحیح معنوں میں قدر نہ کر سکا ۔ اس ماہ مبارک کا حق ادا نہ کر سکا ۔ روزے کی صحیح معنوں میں حفاظت نہ کر سکا ۔ بڑی کوتاہیاں ہوئی ہیں ۔ پروردگار! تو معاف کرنے والا ہے ۔ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے  ۔ پس مجھے معاف فرما دے ۔

پروردگار! تیرے جبریل امین کے الفاظ مجھ تک پہنچے جس پر تیرے صادق و امین ﷺ نے آمین کہا تھا کہ “ہلاک ہو جائے وہ شخص جو ماہ رمضان کریم کو پائے اور پھر بھی اپنی مغفرت نہ کرا سکے ۔ “پروردگار! آج اس وعید سے بچا لے ۔ پروردگار! آج بڑی امید سے ہاتھ اٹھائے ہیں۔پروردگار! آج تیرے عفو و کرم سے بڑی آس اور توقع ہے ۔ پروردگار! آج  ان اٹھے ہوئے ہاتھوں کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! ان ٹوٹے پھوٹے الفاظ کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! روزے کی حالت میں برداشت کی جانے والی بھوک پیاس کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! حلال نعمتوں کو اپنے اوپر حرام کر لینے کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! روزے کی حالت میں کھنچنے والے کلیجے کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار!تراویح میں اٹھائی جانے والی مشقت کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! ٹانگوں کے شل ہو جانے کی لاج رکھ لے۔ پروردگار! پیروں کی دکھن کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! تلووں کی جلن کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! کمر کے چٹخنے کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! تو جانتا ہے کہ بارہا ایسا ہوا کہ کوئی آیت سنی اور اس کے مفہوم پر غور کرنے پر آنکھیں نم ہو گئیں۔پروردگار ! ان آنسوؤں کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! تلاوت کی کثرت سے حلق میں پڑنے والی خراشوں کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار!آج کی رات بھی اپنے اس بندے کے اپنے گھر میں موجود ہونے کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار ! کیا میری شامت اعمال کے سبب روزوں کے بدلے میں صرف بھوک پیاس ہی ہاتھ آئے گی؟ کیا راتوں کے قیام کے عیوض صرف بے آرامی ہی ہاتھ آئے گی ؟ نہیں یا اللہ نہیں ! آج تو محروم نہ فرما۔پروردگار ! آج مزدور کو مزدوری عطا فرما دے۔ آج مغفرت کے فیصلے فرما دے ۔

پروردگار! تیرے محبوب ﷺ کی حدیث مجھ تک پہنچی کہ “روزہ دار کے لئے دو فرحتیں ہیں ۔ ایک افطار کے وقت یعنی روزہ کھولنے کی فرحت اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت کی فرحت  ۔ “پروردگار ! ایک فرحت تو نے عطا کی ، بار بار عطا کی ، روزانہ افطار کے وقت عطا کی ۔۔۔ پروردگار! دوسری فرحت کا انتظار ہے ۔۔۔ دوسری فرحت کا انتظار ہے ۔۔۔ دوسری فرحت کا انتطار ہے ۔ ۔۔!

Ramadhan, رمضان المبارک

Mubarak Alaikum Ash-shahr

مبارک علیکم الشھر

ابو شہیر

السلام علیکم

وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ

کیا حال ہیں ساتھیو! سیلز sales کی کیا پروگریس progressہے؟

الحمد للہ باس!کافی بہتر پوزیشن ہے۔اسائنمنٹس کو ڈیلی بیسز پر اچیو achieveکرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ منتھلی اسائنمنٹس monthly assignmentsپر بھی فوکس focusکئے ہوئے ہیں۔ انشاء اللہ ٹارگٹس اچیو achieve  ہو جائیں گے۔

او۔کے۔ اگلے ماہ سیزن اسٹارٹ ہو رہا ہے ۔ اس کے حوالے سے کیا اسٹریٹجی strategyہے، کیا پلاننگ planning ہے؟

ہیں؟ کون سا سیزن باس؟

ہاہاہاہا۔۔۔ گھبراؤ نہیں بھائیو! بھئی رمضان المبارک شروع ہوا چاہتا ہے ۔ اس کی بات کر رہا ہوں۔

اوہ باس! آپ نے تو ہمیں ڈرا ہی دیا تھا ۔ جی ہاں رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ۔ اس بار بھی پورے روزے رکھیں گے انشاء اللہ۔

میرے دوستو! سارا سال ہم لوگ بزنس کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ گروتھ growth کے لئے اسٹریٹیجیز strategies  ڈیویلپ کر رہے ہوتے ہیں۔ ٹارگٹس مارک کرتے ہیں۔ ان ٹارگٹس کو اچیو کرنے کے لئے اسائنمنٹس تیار کرتے ہیں ۔ ڈیلی اور منتھلی بیسز پر ان اسائنٹمنٹس کو ورک آؤٹ کرتے ہیں۔ بالکل لیزر فوکسڈ laser focusedہو کر چلتے ہیں۔ بہت زیادہ اسٹریچ stretch کرتے ہیں۔ تاکہ ٹارگٹس کو اچیو کرسکیں ، منیجمنٹ management کی ڈیمانڈز demands اور ایکسپیکٹیشنز expectations کو میٹ meet کر سکیں ۔ اس پر ہمیں انسینٹوز incentives ملتے ہیں، سیلری incrementsملتی ہے، ہماری اپ گریڈیشن ہوتی ہے۔ یہی سب کچھ کر رہے ہوتے ہیں ناں ہم سارا سال؟

جی باس! لیکن ۔۔۔؟

مجھے اندازہ ہے کہ آپ لوگ یہی سوچ رہے ہوں گے کہ ان تمام باتوں کا بھلا رمضان المبارک سے کیا واسطہ؟ دیکھیں جس طرح ہمارا بزنس کا سیزن ہوتا ہے ، رمضان المبارک بھی ایک بزنس سیزن ہے ۔ اس مہینے میں نیکیوں کی سیلز salesعروج پر ہوتی ہے ۔ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کی پرائس price میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے گویا “پر یونٹ ویلیو”  per unit value انکریز increase ہو جاتی ہے ۔ احادیث مبارکہ کے مطابق اس ماہ مبارک کے آغاز پر جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور آسمان کے ، رحمت کے ، جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ اور سرکش شیاطین قید کر دئیے جاتے ہیں۔

تو اس مختصر جائزے کے بعد اب آپ لوگ یہ بتائیے کہ اس ماہ کے لئے آپ کے ٹارگٹس کیا ہیں؟

باس! انشاء اللہ پورے روزے رکھنے ہیں۔

ماشاء  اللہ دوستو! ماہ مبارک کی اہم ترین عبادت تو روزہ ہی ہے ۔ اور روزہ کی فضیلت کے بارے میں حدیث مبارکہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کا ہر عمل اس کے لئے ہے سوائے روزہ کے کہ وہ صرف میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا ۔” مزید فرمایا کہ “روزہ دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے ۔ “اور فرمایا کہ “روزہ دار کے لئے فرحت کے دو مواقع ہیں ۔ جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو اپنے روزہ افطار کرنے پر فرحت محسوس کرتا ہے، اور جب اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے (کے اجر کو دیکھ کر ) خوش ہو گا ۔” (بخاری، مسلم)اور ایک اور حدیث کا مفہوم ہے کہ “جو شخص بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھتا ہے تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔”(بخاری)

تو دوستو! روزے تو پورے رکھنے ہی ہیں۔ اس سے آگے ؟

اس سے آگے کیا باس؟ اس ماہ کی اصل ڈیمانڈ تو روزہ ہی ہے ۔

اچھا ! دیکھیں ہم اپنی ڈیوٹی کے دوران سارا سال جو بھی ایفرٹس کر رہے ہوتے ہیں تو اس کا فوکس یہ ہوتا ہے کہ ہمارے ٹارگٹس کسی صورت اچیو achieveہو جائیں جن پر ہمیں انسینٹوز incentives کا لالچ بھی ہوتا ہے۔ ایسا ہی ہے ناں؟

جی باس!

ٹھیک۔ یعنی یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہماری ساری محنت انسینٹوز incentives کے حصول کے لئے ہوتی ہے ۔ تو ہمیں سب سے پہلے تو اس ماہ مبارک کے انسینٹوز incentives پتہ ہونے چاہئیں ۔ پھر ہم اسی حساب سے ایفرٹ effort  بھی کریں گے۔ تو دوستو! سب سے پہلے تو ایک حدیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں جس میں رمضان المبارک کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے آخری دن وعظ فرمایا کہ :

اے لوگو! تمہارےاوپر ایک مہینہ آ رہا ہے جو بہت بڑا مہینہ ہے ۔ بہت مبارک مہینہ ہے۔ اس میں ایک رات ہے جو ہزاروں مہینوں سے بڑھ کر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزہ کو فرض فرمایا اور اس کے رات کے قیام (تراویح) کو ثواب کی چیز بنایا ۔ جو شخص اس ماہ میں کسی نیکی کے ساتھ اللہ کا قرب حاصل کرے ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض کو ادا کیا اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں ستر فرض ادا کرے ۔ یہ مہینہ صبر  کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے ۔ اور یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غم خواری کرنے کا ہے ۔ اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے ۔ جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لئے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہو گا اور روزہ دار کے ثواب کی مانند اس کو ثواب ہو گا مگر اس روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا ۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! ہم میں سے ہر شخص تو اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ (پیٹ بھر کھلانے پر موقوف نہیں ) یہ ثواب تو اللہ جل شانہ ایک کھجور سے کوئی افطار کرا دے یا ایک گھونٹ پانی پلا دے یا ایک گھونٹ لسی پلا دے اس پر بھی مرحمت فرما دیتے ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت ہے ، اور درمیانی حصہ مغفرت ہے ، اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے ۔ جو شخص اس مہینہ میں ہلکا کر دے اپنے غلام (خادم، ملازم) کے بوجھ کو حق تعالیٰ شانہ اس کی مغفرت فرماتے ہیں اور آگ سے آزادی عطا فرماتے ہیں۔ اور چار چیزوں کی اس ماہ میں کثرت رکھا کرو جن میں سے دو چیزیں اللہ کی رضا کے واسطے ہیں اور دو چیزیں ایسی ہیں کہ جن سے تمہیں چارہ کار نہیں۔ پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ لا الٰہ الا اللہ (کلمہ طیبہ )اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور آگ سے پناہ مانگو ۔ جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے حق تعالیٰ ( روز قیامت) میرے حوض سے اس کو ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی ۔ (البیہقی)

دوستو! غور کیجئے کہ اس حدیث مبارکہ میں کتنے سارے انسینٹوز incentives بیان کئے گئے ہیں۔ رمضان المبارک میں نیکیوں کا بھاؤ بڑھا دیا جاتا ہے ۔ جیسا کہ میں نے ابھی ذکر کیا کہ per unit value میں بہت اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ نفل اعمال کا ثواب فرض اعمال کے برابر کر دیا جاتا ہے ۔ ایک فرض کی ادائیگی پر ستر فرائض کی ادائیگی کے برابر اجر و ثواب  عطا کیا جاتا ہے ۔ یہاں یہ بھی سمجھ لیجئے کہ قرآن و حدیث میں دس، ستر ، ستائیس، سات سو، ہزار، ستر ہزار وغیرہ یہ سب ہندسے تو ہمیں سمجھانے کے لئے علامت کے طور پر ذکر کئے گئے ہیں کہ ہم لوگ کیلکولیٹ calculate  کر کے تھوڑا خوش ہو جائیں، ورنہ ملے گا تو بے حساب ۔

تو میرے دوستو! اتنا بڑا انسینٹو incentive ملنے کی امید ہے جس کا کوئی حساب نہیں۔ اب بتائیے کہ اس کو اچیو achieve کرنے کے لئے اسٹریٹیجی strategy اور ایفرٹس efforts درکار ہیں کہ نہیں؟

جی باس! یقیناً ۔

اچھا چلیں یہ بتائیں کہ بحیثیت مسلمان ہمارے ڈیلی اسائنمنٹس daily assignmentsکیا ہیں؟

باس! پانچ وقت کی نماز ادا کرنا ۔ رزق حلال کی تگ و دو کرنا ۔ نیک کام کرنا ۔ گناہوں سے بچنا ۔

رائٹ ! اچھا یہ تو عام دنوں کی ایکٹیویٹی activity ہو گئی ۔ اگر میں آپ سے پوچھوں کہ اوور لاسٹ منتھ over last month کیا گروتھ دیں گے تو؟

ہم سمجھے نہیں باس؟

دیکھیں ! نماز تو ہم روزانہ ہی پڑھتے ہیں۔ الحمد للہ ! اسی طرح آپ نے بتایا کہ رزق حلال کی فکر اور کوشش کرنا ، گناہوں سے بچنا یہ تو ہماری روزمرہ کی ایکٹیویٹیز activities ہیں۔ اسی میں کچھ گروتھ دینی ہے ۔ مثال کے طور پر تراویح اس ماہ کی منفرد اور اضافی عبادت ہے جس کا بے پناہ اجر و ثواب ہے ۔ تو تراویح کا اہتمام کریں ۔ تراویح کے بارے میں ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جس نے رمضان میں بحالتِ ایمان ثواب کی نیت سے قیام کیا تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔ (بخاری) مزید یہ کہ نفل نمازوں کا اہتمام کریں۔ کوشش کریں کہ کم از کم اس ماہ مبارک میں تہجد ، اشراق ، چاشت اور اوابین کا خوب اہتمام کریں ۔ یہ نماز کی گروتھ ہو گئی ۔

اسی طرح قرآن پاک کی تلاوت کے روٹین routine میں گروتھ growth دیں گے یعنی اگر عام دنوں میں چوتھائی پارہ تلاوت کرتے ہیں تو رمضان میں روزانہ دو پارے تلاوت کریں ۔ بہت آسان ہے ۔ فجر کی نماز کے بعد کافی وقت ہوتا ہے تو اس وقت ایک مکمل پارہ تلاوت کر لیا باقی چار نمازوں میں چوتھائی چوتھائی پارہ۔ اسی طرح  چلتے پھرتے کلمہ طیبہ ، استغفار اور درود شریف کی کثرت رکھی جائے۔ جنت طلب کی جائے اور جہنم سے پناہ مانگی جائے ۔ ایک بہت آسان سی دعا ہے جس میں یہ تمام اذکار شامل ہو جائیں گے۔

لَا اِلٰہ الا اللہُ اَسْتغْفِرُ اللہ ۔ اَسْئَلُکَ الجَنَّۃَ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ النَّار۔

اسی طرح روزہ دار کو افطار کرانا کس قدر آسان کر دیا شریعت نے کہ ایک کھجور کھلا دو، سمجھو روزہ افطار کرا دیا ۔ اس ٹارگٹ کو اچیو achieve  کرنے کا نہایت آسان طریقہ یہ ہے کہ کھجور خرید کر رشتہ داروں، دوستوں، پڑوسیوں کو ہدیہ کر دیں ۔ بھئی وہ بھی تو مسلمان ہیں، وہ بھی تو روزے رکھتے ہیں۔ تو جب وہ آپ کی ہدیہ کی ہوئی کھجور سے روزہ افطار کریں گے، آپ کو اس کا بینیفٹ ملے گا۔

رمضان المبارک کے تین عشرے ہیں ۔ پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت، تیسرا جہنم سے آزادی کا عشرہ ہے۔ رمضان کے آخری عشرہ کی ایک بہت بڑی عبادت اعتکاف ہے ۔ اعتکاف کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ “جو شخص ایک دن کا اعتکاف بھی اللہ کے واسطے کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں آڑ فرما دیتے ہیں جن کی مسافت آسمان و زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے ۔ “

تو دوستو! جو مسلمان سنت اعتکاف کی نیت سے دس دن مسجد میں جا بیٹھتا ہے ، اس کے لئے کتنا بڑاانعام ہے ۔اور اسی پر بس نہیں بلکہ اس کو یقینی طور پر شب قدر بھی حاصل ہو جاتی ہے جو قرآن کریم کے مطابق ہزار مہینوں سے زیادہ افضل ہے ۔

اچھا دوستو! اب یہ بتاؤ کہ ماہ رمضان المبارک کی باٹم لائن bottom line کیا ہے ؟

باس ! باٹم لائن؟

نہیں سمجھے ! دیکھیں ماہ مبارک کی اولین ڈیمانڈ demand تو یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ کے لئے روزے رکھے جائیں۔ یعنی ایک تو نیت محض یہ ہو کہ ہمارا سپریم باس Supreme Boss یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ خوش ہو جائے۔ پھر روزے کی پابندیوں کا خیال رکھا جائے۔ روزہ کے دوران جھوٹ ، فحش گوئی، غیبت، لڑائی جھگڑے ، غصے سے بچا جائے۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جو شخص روزہ رکھ کر بھی برے کام نہ چھوڑے تو اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ وہ بھوکا پیاسا رہے ۔ اور دوسری حدیث مبارکہ میں فرمایا کہ بہت سے روزے دار ایسے ہیں جن کو سوائے بھوک پیاس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے شب بیدار ایسے ہیں جنہیں رات کے جاگنے (کی مشقت) کے سوا کچھ بھی نہ ملا۔ تو پیٹ کے ساتھ ساتھ جسم کے ہر عضو کا روزہ ہو ۔ آنکھ سے غلط نہ دیکھے ۔ زبان سے غلط نہ بولے ۔ ہاتھ سے غلط نہ کرے ۔ یہ نہیں کہ فلمیں دیکھ کر روزہ گزارا جائے یا روزے کے باوجود موسیقی سے پرہیز نہ کیا جائے۔ غرض یہ کہ اپنے روزے کی حفاظت کرے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اتنی محنت کے بعد بھی صرف بھوک پیاس ہی ہاتھ آئے ۔ نیز یہ کوشش ہونی چاہئے کہ اس ماہ مبارک میں تمام نمازیں مسجد میں با جماعت تکبیر اولیٰ کے ساتھ ادا ہوں ۔ تراویح کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے ۔ صدقہ فطر ادا کیا جائے ۔ یہ اس ماہ مبارک کی باٹم لائن ہے ۔

اچھا دوستو! اب یہ بتائیے کہ OLY (اوور لاسٹ ایئر over last year )گروتھ کیا دیں گے آپ لوگ؟

جی باس ! گروتھ اوور لاسٹ ایئر ؟

بھئی ! مطلب یہ کہ پچھلے رمضان میں آپ لوگوں نے جو ٹارگٹس اچیو کئے تھے نیکیوں اور عبادات کے ، اسی پر بس کرنا ہے یا اس سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنی ہے ؟

باس! انشاء اللہ آگے بڑھنا ہے ۔

ہاں دوستو! دیکھو۔ ہم دنیا میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ عامر کے پاس i-phone ہے تو میری بھی خواہش ہوتی ہے کہ میرے پاس اس سے بہتر موبائل فون ہونا چاہئے ۔ راشد کے پاس cultus کار ہے تو مجھے city کی خواہش ہوتی ہے۔ احمددو سو گز کے مکان میں رہتا ہے تو میری تمنا چار سو گز کے بنگلے کی ہوتی ہے ۔ اسی طرح اپنی جاب میں بھی ہم یہی کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ اپنے ساتھیوں زیادہ ٹارگٹس اچیو کریں، اپنے ساتھیوں سے زیادہ گروتھ دیں ۔ تو رمضان المبارک میں یہی کیفیت  نیکیوں کے حصول کی خاطر اپنے اوپر طاری کر لیں۔ کہ عامر اگر دو قرآن پاک کی تلاوت مکمل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو میں تین کی تلاوت کروں ۔ راشد اگر اعتکاف کا ارادہ رکھتا ہے تو میں بھی پیچھے نہ رہ جاؤں ۔ لاکھوں مسلمان رمضان المبارک میں عمرہ کی ادائیگی کو جاتے ہیں کہ حدیث مبارکہ میں رمضان المبارک میں عمرہ  ادا کرنے کی بڑی فضیلت ہے ۔ مکہ مکرمہ میں کی جانے والی ایک نیکی کا اجر ایک لاکھ کے برابر ہے  جبکہ مدینہ منورہ میں ایک نیکی کا اجر و ثواب ایک قول کے مطابق ایک  ہزار کے برابر ہے ۔ اب کر لو کیلکولیشنز۔۔۔ تو بھائی جو رمضان المبارک میں عمرہ کی ادائیگی کو جا سکتا ہے وہ حرمین شریفین میں جا کر نیکیوں کے خزانے جمع کر لے ۔

دوستو! رسول اکرم ﷺ کے ایک ارشاد کا مفہوم ہے کہ “رمضان کا مہینہ آ گیا ہے جو بڑی برکت والا ہے ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس میں تمہاری طرف متوجہ ہوتے ہیں اور اپنی رحمت خاصہ نازل فرماتے ہیں ۔ خطاؤں کو معاف فرماتے ہیں، دعا کو قبول کرتے ہیں ۔ تمہارے تنافس (ایک دوسرے کی حرص میں اس سے بڑھ چڑھ کر کام کرنا ) کو دیکھتے ہیں ۔ اور ملائکہ سے فخر فرماتے ہیں ۔ پس اللہ کو اپنی نیکی دکھلاؤ ۔ بدنصیب ہے وہ شخص جو اس مہینہ میں بھی اللہ کی رحمت سے محروم رہ جائے۔ “(الطبرانی)

ہاں دوستو! اللہ کو اپنی نیکی دکھلاؤ۔ نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرو ۔ ایک دوسرے سے مسابقت کرو ۔ دیکھو! ہم سب کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ بڑا سا بنگلہ ، لگژری کار ، قیمتی موبائل فون ،وغیرہ خرید سکیں لیکن یہ نیکیاں حاصل کرنے کے لئے تو ہمیں کوئی وسائل درکار نہیں ۔ صرف اپنے اندر فکر اور شوق پیدا کرنے کی اور ذرا سی محنت کی ضرورت ہے۔

باس! آج تو آپ کوئی علامہ معلوم ہو رہے ہیں ۔ کتنا آسان لگ رہا ہے رمضان المبارک کے فضائل اور اس میں کئے جانے والے اعمال کی قدر و قیمت کو سمجھنا !

ارے نہیں یار! میں کوئی علامہ ولامہ نہیں ہوں ۔ بات یہ ہے کہ یہ سب باتیں تو ہم بچپن سے سنتے چلے آ رہے ہیں ۔ کم و بیش تمام مساجد میں علمائے کرام ہر سال رمضان المبارک کے بارے میں یہی ساری باتیں بتا رہے ہوتے ہیں ۔ تو ہم سب یہ تمام باتیں متعدد بار سن چکے ہیں۔ آج آپ کی روزمرہ کی سیلز میٹنگ کے انداز میں ہم نے یہ سب کچھ ڈسکس کیا تو اللہ کے فضل سے آپ کو آسانی سے سمجھ آگیا ۔  نکتے کی بات یہ ہے کہ کون سی بات کس کے کہنے سے یا کس طرح کہنے سے سمجھ میں آ جائے ۔ کہنے سننے کی توفیق بھی اللہ ہی دیتا ہے اور سمجھ بھی اسی کے حکم سے آتی ہے ۔ بحیثیت مسلمان نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنا ہماری ذمہ داری ہے ۔ آج کی مثال آپ کے سامنے ہے کہ میں نے علمائے کرام ہی کی بارہا بتائی ہوئی باتیں آپ کو بتائیں اور آپ کے دل پر اثر کر گئیں۔ الحمد للہ !

ساتھیو!اب رمضان المبارک میں چونکہ بہت بڑا بینیفٹ ، بہت بڑا بونس ، بہت بڑا ریٹرن ملنے والا ہے تو پھر ایفرٹ بھی اسی حساب سے ہونی چاہئے ۔ دیکھو اس ماہ مبارک کا کوئی لمحہ ضایع نہ ہونے پائے ۔ بازاروں میں گھوم کر اپنا وقت اور توانائی برباد نہ کرنا۔ عید کی تیاریاں رمضان سے پہلے ہی مکمل کر لو۔ باس ہونے کی حیثیت سے میں آپ کو ماہ رمضان المبارک میں یہ رعایت دیتا ہوں کہ آپ روزانہ دس کے بجائے چھ کلائنٹسclients کو وزٹ visitکریں ۔ اس طرح آپ کا وقت اور انرجی energy بچےگی ۔ اس بچ جانے والے وقت اور توانائی کو اللہ کی عبادت اور نیکیاں جمع کرنے میں صرف کیجئے گا ۔ اگر بالفرض نیکی پر قادر نہ ہوں تو کم از کم اتنا تو ضرور کریں کہ برائی یا گناہ کا کام ہرگز سرزد نہ ہونے پائے ۔ بستر پر پڑ کر سو جانا اس سے کہیں بہتر ہے کہ بندہ روزہ کی حالت میں گناہ کا ارتکاب کرے۔ اس ماہ مبارک کی قدر کیجئے گا۔ آخرت کے لئے نیکیوں کا خوب ذخیرہ جمع کر لیجئے گا ۔ حدیث کے مطابق جبریل علیہ السلام نے فرمایا کہ ہلاک ہو جائے وہ شخص جو رمضان المبارک کو پائے اور اپنی مغفرت نہ کرائے، جس پر رسول اکرم  نے آمین کہا۔ اس وعید سے بچنا میرے دوستو! اپنی مغفرت کروا کے ہی دم لینا۔

جی باس! انشاء اللہ ضرور ۔

اچھا دوستو! عید کیا ہوتی ہے ؟

عید مسلمانوں کا مذہبی تہوار ہے ۔

درست! اس دن مسلمان خوشی مناتے ہیں۔ مسلمان یہ خوشی کیوں مناتے ہیں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب عید کا دن ہوتا ہے تو حق تعالیٰ شانہ اپنے فرشتوں کے سامنے بندوں کی عبادت پر فخر فرماتے ہیں ( اس لئے کہ انہوں نے آدمیوں پر طعن کیا تھا ) اور ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ اے فرشتو! کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنی خدمت پوری پوری ادا کر دے ؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ یا رب! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی اجرت پوری دے دی جائے۔ تو ارشاد ہوتاہے کہ فرشتو! میرے غلاموں اور باندیوں نے میرے فریضہ کو پورا کر دیا ، پھر دعا کے ساتھ چلاتے ہوئے ( عیدگاہ کی طرف ) نکلے ہیں۔ میری عزت کی قسم! میرے جلال کی قسم ! میرے علو شان کی قسم ! میرے بلندیٔ مرتبہ کی قسم ! میں ان لوگوں کی دعا ضرور قبول کروں گا ۔ پھر ان لوگوں کو خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جاؤ! تمہارے گناہ معاف کر دیئے ہیں اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا ہے ۔ پس یہ لوگ عید گاہ سے ایسے حال میں لوٹتے ہیں کہ ان کے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں۔ ( رواہ البیہقی فی شعب الایمان کذا فی المشکوٰۃ)

آہا دوستو! عید گاہ جاؤ تو ذرا تصور کرنا کہ آسمانوں میں اللہ رب العزت کا دربار لگا ہوا ہے ۔ اللہ رب العزت اپنے عرش پر جلوہ افروز ہیں ۔ فرشتے دست بست کھڑے ہوئے ہیں۔ اور سوال جواب کا ایک سیشن session منعقد ہو رہا ہے ۔ تصور کرنا کہ اللہ رب العزت میری تمہاری طرف اشارہ کر کے ، میرا تمہارا نام لے کر کہے : ارے فرشتو! تم تو کہتے تھے یہ زمین میں فساد کرے گا۔ آؤ دیکھو۔ یہ میرا عامر ہے ۔۔۔یہ میرا راشد ہے ۔۔۔ یہ میرا فلاں ہے ۔ دیکھو اس نے اپنی ذمہ داری پوری ادا کر دی ۔ اس نے مجھے دیکھا بھی نہیں لیکن پھر بھی میں نے اس سے جو کہا ، اس نے کر کے دکھا دیا ۔ یہ میری محبت میں ، میری اطاعت میں کھانا پینا چھوڑ بیٹھا تھا۔ نماز ، تلاوت ، صدقہ سے مجھے خوش اور راضی کرنے کی کوشش میں لگا رہا ۔ اس دھن میں مگن رہا کہ مجھے ۔۔۔ اپنے رب کو دوسروں سے زیادہ نیکیوں میں بڑھ کر دکھا دے ۔ میری جنت کو نہیں دیکھا لیکن مجھ سے جنت طلب کرتا رہا ۔ میری جہنم کو نہیں دیکھا لیکن اس کے پناہ مانگتا رہا ۔ بتاؤ اب میں اس کو کیا بدلہ دوں؟ فرشتوں کا جواب ہو گا کہ الٰہی طریقہ تو یہی ہے کہ مزدور جب اپنی خدمت پوری کر دے تو اس کی مزدوری عطا کر دی جائے ۔

اوہو دوستو! ذرا تصور کرنا اس لمحے کا کہ جب اللہ رب العزت ۔۔۔ میرے لئے ۔۔۔ تمہارے لئے ۔۔۔ اپنی عزت کی ، اپنے جاہ و جلال کی ، اپنی رفعت شان کی ، اپنے مرتبہ کی قسمیں کھا کر ۔۔۔ چار قسمیں کھا کر کہہ رہے ہوں گے : میرے بندے ! میں تمہاری دعا ضرور قبول کروں گا ۔ اے میرے بندے عامر ! اے میرے بندے راشد ! اے فلاں بن فلاں! آج عید کا دن ہے ۔ آج خوشیوں کا دن ہے ۔ آج تو خوش ہو جا ۔۔۔ آج میں  تیری مغفرت کا اعلان کرتا ہوں ۔ جا تیرے تمام گناہ معاف کر دئیے ۔۔۔ یہی نہیں بلکہ تیرے گناہوں کی جگہ بھی نیکیاں لکھ دیں۔

ہاں میرے دوستو! ذرا کان لگا کر ان سوال و جواب کو ، اللہ کی کھائی جانے والی قسموں کو ، مغفرت کے اعلانات کو سننے کی کوشش کرنا۔۔۔ سنائی تو ہمیں کچھ نہیں دے گا ۔۔۔ البتہ پرواز تخیل سے ہم یہ سارا منظر اپنے تصور میں تو لا سکتے ہیں ۔۔۔ اس سارے منظر کو اپنے تصور میں لا کر جب تم عیدگاہ سے لوٹو گے تو پھر تمہیں عید کی حقیقت سمجھ آئے گی۔۔۔ پھر تمہیں عید کا مزہ آئے گا۔۔۔ پھر تمہیں عید کی لذت محسوس ہو گی ۔۔۔ پھر تمہیں عید کی سچی خوشی محسوس ہو گی۔ پھر تمہیں سمجھ آئے گا کہ عید کیا ہے ۔

تھینک یو باس! آج رمضان المبارک کی ایکچوئل ورتھ actual worth ہمارے سامنے آ گئی ۔ آج ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ رمضان المبارک میں اس ماہ مبارک کی ڈیمانڈز demands  پورے کرنے کے لئے خوب اسٹریچ stretch کریں گے ۔ اپنے کمفرٹ زون comfort zone سے باہر نکل کر اس ماہ کے انسینٹوز incentives کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے ۔ آج ہم نے  جو ٹارگٹس targets سیٹ کئے ہیں ان کو  اچیو achieve کرنے کے لئے اپنی کمٹمنٹ شو کریں گے ۔

جزاک اللہ دوستو! اللہ تعالیٰ اس ماہ مبارک کی رحمتیں اور برکتیں آپ پر نچھاور فرمائے ۔ ایک آخری بات ! روزے اس لئے فرض کئے گئے تاکہ ایمان والے متقی بن جائیں۔ تو دوستو! جس طرح روزے میں حلال چیزوں کو بھی اللہ کی خاطر چھوڑ دیتے ہو ، اسی طرح روزے کے بعد اگر آپ کا نفس گناہ کی طرف مائل ہو تو اپنے نفس سے کہنا کہ اے نفس ! تو نے تو اپنے رب کی خاطر حلال چیزیں بھی چھوڑ  دی تھیں ، تو پھر آج حرام پر کیوں آمادہ ہے ؟

اللہ تعالیٰ گناہوں سے ہم سب کی حفاظت فرمائے ۔ اپنی رضا عطا فرمائے ۔ اپنی دعاؤں میں مجھے بھی یاد رکھئے گا۔

مبارک علیکم الشہر  ۔۔۔ والسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔