Emaan, Ramadhan, Roza, Taraweeh, Uncategorized, اسلام, تراویح, رمضان المبارک, روزہ

Garmi kay Rozay

اگر آپ موسم کی سختیوں کے باوجود محض اللہ کی رضا کی خاطر روزے رکھ رہے ہیں۔۔۔
اس حال میں کہ
ان روزوں سے آپ کی طبیعت ہلکان ہوئی جا رہی ہے۔۔۔

اگر گرمی اور لوڈ شیڈنگ کے باعث آپ مکمل آرام حاصل نہیں کر پا رہے۔۔۔
پھر بھی آپ رات کو تراویح کی لمبی لمبی رکعتوں میں محض اللہ کی رضا کی خاطر قیام کر رہے ہیں۔۔۔
اس حال میں کہ
تھکن سے آپ کا جسم نڈھال ہے۔۔۔
اور نیند سے آنکھیں بوجھل ۔۔۔
تو پھر یہ حدیث مبارکہ آپ ہی کے لئے ہے:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ :
” الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ لِلْعَبْدِ ,
يَقُولُ الصِّيَامُ : أَيْ رَبِّ , إِنِّي مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهَوَاتِ بِالنَّهَارِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ ,
وَيَقُولُ الْقُرْآنُ : رَبِّ , إِنِّي مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ ,
فَيُشَفَّعَانِ ” .

 

Advertisements
Aitakaaf, Eid, Islam, Ramadhan, لیلۃ القدر, اسلام, رمضان المبارک, عید

Indicator

انڈیکیٹر

عید الفطر کے فوراً بعد (اکثر اگلے ہی روز سے) شادیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
رمضان المبارک کے بعد ہم گناہوں کی طرف کس قدر بے تابی سے  لپکتے ہیں ، اس کا اندازہ لگانا ہو تو یہ شادیوں کی تقریبات بہترین انڈیکیٹر ہیں۔
غیر شرعی رسومات، مخلوط محافل،
بے پردگی، بے ہودگی،
چھچھور پن، فحش گانے ، بے ہنگم موسیقی،
ان گانوں پر تھرکتی ناچتی اپنی ہی بہنیں بیٹیاں بییویاں بھانجیاں بھتیجیاں،
اس “مجرے “کو دیکھ کر انجوائے کرنے والے اپنے ہی باپ بھائی شوہر چچا تایا ماموں کی بے غیرتیاں،
دولہا دلہن کا شادی ولیمہ کے پنڈال میں پیش کیا جانے والا “آئٹم نمبر “،
اور جانے کیا کیا۔۔۔

ایسے میں کسی کو شاید احساس تک نہیں رہتا کہ ۔۔۔
ابھی چند دن پہلے ہی رمضان المبارک کا مقدس مہینہ رخصت ہوا ہے۔۔۔
ابھی چند دن پہلے ہی عشرہ رحمت، عشرہ مغفرت اور عشرہ نجات گزرا ہے۔۔۔
ابھی چند دن پہلے ہی رب کو راضی کرنے کے لئے روزے رکھے تھے۔۔۔
ابھی چند دن پہلے ہی رب کو راضی کرنے کے لئے راتوں کو قیام کیا تھا۔۔۔
ابھی چند دن پہلے ہی جہنم سے آزادی کے لئے اعتکاف کیا تھا۔۔۔
ابھی چند دن پہلے ہی لیلۃ القدر میں مغفرت کی دعائیں مانگی تھیں۔۔۔
ابھی ایک دو دن قبل ہی لیلۃ الجائزہ میں رمضان المبارک کی عبادات کی قبولیت کے لئے آہ و زاری کی تھی۔۔۔
اور ابھی کل یا پرسوں ہی عید الفطر کی نماز پڑھنے کے بعد رب العزت کی بارگاہ سے مغفرت کے پروانے حاصل کر کے عید گاہ سے نکلے تھے۔۔۔
انا للہ و انا الیہ راجعون

یاد کیجئے کس لئے عطا کیا گیا تھا یہ مہینہ؟
لعلکم تتقون
(تاکہ تم متقی بن جاؤ)

Emaan, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Ramadhan, یوم آخرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حساب کتاب, رمضان المبارک, علم دین

Apni Fikar Karo

اپنی فکر کرو

(رمضان المبارک میں ایک قوال کے قتل پر لکھی جانے والی تحریر)

اللہ کے بندو!
اللہ سے ڈرو!
اپنی زبانوں کو لگام دو۔
خدارا۔۔۔ شر نہ پھیلاؤ!
دیکھتے نہیں ہو۔۔۔
رمضان شھر الغفران چل رہا ہے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
جہنم کے دروازے بند کئے جا چکے۔۔۔۔

جانتے نہیں ہو۔۔۔
جنت کے دروازے وا کئے جا چکے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
ہر شب میں ایک کثیر خلقت کے لئے جہنم سے آزادی کے پروانے جاری کئے جا رہے ہیں۔۔۔!

کیا خبر!
کون کون اپنے حصہ کا پروانہ آزادی حاصل کر چکا ہو۔۔۔!
کیا خبر!
کس کس کے لئے جنت کا فیصلہ ہو چکا ہو۔۔۔!

کیوں  مرنے والے کے لئے جہنم کے فتوے جاری کر رہے ہو؟
صرف اس لئے کہ وہ بظاہر گناہ گار تھا؟
ارے تم جہاں والوں سے چھپ چھپ کر۔۔۔
تنہائی میں جو کچھ کرتے ہو۔۔۔
کیا تم گناہ گار نہیں ہو؟
پھر تم میں اور اس میں کیا فرق ہے؟

ذرا یہ تو بتاؤ۔۔۔
اگر کسی کو جنت میں ڈال دیا جائے ۔۔۔
تو تمہاری جیب سے  کیا جاتا ہے۔۔۔؟
بتاؤ تو سہی۔۔۔
اگر کسی کو جنت میں ڈال دیا جائے۔۔۔
تو کیا کسی میں اتنی جرات ہے کہ وہ سوال کر سکے اللہ سے۔۔۔۔
کہ آپ نے اسے جنت میں کیوں ڈال دیا۔۔۔؟
ارے پوچھو گے اللہ سے؟
ارے پوچھ سکتے ہو اللہ سے؟

چھوڑو مرنے والے کو۔۔۔۔
وہ اپنی منزل کو پہنچ گیا۔۔۔

اس کی سانسیں پوری ہوئیں۔۔۔
اس کے عمل کی مہلت ختم ہوئی۔۔۔
اب اس کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
اس اللہ کے ہاتھ میں۔۔۔
جس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔۔۔
اس اللہ کے ہاتھ میں۔۔۔
جس نے اپنی ذات پاک پر رحمت کو لازم کر لیا ہے۔۔۔

اسے چھوڑو۔۔۔
اپنی فکر کرو۔۔۔
کہ ابھی سانسوں کا سلسلہ جاری ہے۔۔۔
ابھی عمل کے لئے مہلت باقی ہے۔۔۔!

دیکھتے نہیں ہو۔۔۔ رمضان شھر الغفران چل رہا ہے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
جہنم کے دروازے بند کئے جا چکے۔۔۔۔

جانتے نہیں ہو۔۔۔
جنت کے دروازے وا کئے جا چکے۔۔۔!
جانتے نہیں ہو۔۔۔
ہر شب میں ایک کثیر خلقت کے لئے جہنم سے آزادی کے پروانے جاری کئے جا رہے ہیں۔۔۔!

اللہ کے بندو!
اللہ سے ڈرو!
اپنی فکر کرو!ً

Islam, Ramadhan, Taraweeh, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, تراویح, رمضان المبارک, علم دین

Pasina aur Mazdoori

پسینہ اور مزدوری

 (  رمضان المبارک کا مہینہ تھا اور شدید گرمی کا موسم۔۔۔۔ اس پوسٹ کو اسی تناظر میں پڑھا جائے۔)

صاحب! گرمی ایسی  ہے کہ دن کیا اور رات کیا۔۔۔

پسینہ ہے کہ بہے چلا جا رہا ہے۔۔۔

پہلے تو صرف ظہر کی نماز میں ہی پسینہ بہتا تھا۔۔۔

لیکن آج کل تو فجر سے لے کر عشاء تک یہی کیفیت ہے۔۔۔

اور تراویح تو اس قدر عرق ریزی کے ساتھ ادا ہو رہی ہے کہ نہ پوچھئے۔۔۔

تو پسینے میں شرابور مسلمان یہ حدیث مبارکہ ذہن میں تازہ کر لیں۔۔۔

ajir

مزدور کو اس کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کر دو۔

اور یہ ارشاد ربانی بھی دہرا لیں

ajir

 یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے پاس اپنے اجر کے مستحق ہیں۔ بے شک اللہ جلد حساب چکانے والا ہے۔

اٰل عمران۔۱۹۹

آگے کیا کہوں۔۔۔

آپ خود ہی سمجھ لیجئے۔۔۔

اورصیام و قیام کے محاذ پر  ڈٹے رہئے۔۔۔

Islam, Lailatul Qadr, Ramadhan, لیلۃ القدر, یوم آخرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, حساب کتاب, رمضان المبارک, علم دین

Lailatul-Qadr

لیلۃ القدر

ابو شہیر

رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہو چکا تھا ۔ عشرہ نجات ۔۔۔ جہنم سے آزادی کا عشرہ۔ صلوٰۃ التراویح میں قرآن پاک کے چھبیسویں پارے کی تلاوت جاری تھی۔ سورۃ محمد کی آیت نے اسے جھنجھوڑا۔

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْآنَ اَمْ عَلیٰ قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا

بھلا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا (ان کے )دلوں پر قفل لگ گئے ہیں؟

آگے پھر سورۃ الحجرات شروع ہوئی ، یہاں تک کہ قاری صاحب نے اس سورۃ مبارکہ کی آخری آیت تلاوت فرمائی۔۔۔

اِنَّ اللہَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْض۔۔۔

بے شک اللہ تعالیٰ زمین آسمان کی پوشیدہ باتوں کو جانتا ہے۔

گزشتہ شب اعتکاف میں بیٹھے ساتھیوں کے درمیان یہ مذاکرہ چل نکلا کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان کا مطلب کیا ہے؟ سب ساتھیوں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ خلاصہ یہ تھا کہ اللہ علیم ہے ، حکیم ہے، عظیم ہے … سب سے زیادہ علم والا ، حکمت والا، قدرت والا، طاقت والا، بصارت و بصیرت والا… کوئی بھی چیز اس کی قدرت اور اس کے علم سے باہر نہیں۔ بڑی نافع گفتگو رہی تھی۔ ایمان تازہ ہو گیا ۔ تو اس پس منظر میں مذکورہ بالا آیت سن کر اس کے دل میں اپنے رب کی عظمت مزید قوی ہوئی کہ کیسا زبردست ہے وہ رب کہ سب کچھ جانتا ہے! وہ بھی …. جو ہمیں نظر آرہا ہے یا جو ہمارے علم میں ہے ، اور وہ بھی… جو ہماری نگاہوں سے ہی نہیں ، ہمارے وہم و گمان سے بھی اوجھل ہے۔ یا اللہ ! تجھ سا نہ کوئی ہے نہ ہو سکتاہے ۔ اشھد ان لا الٰہ الا اللہ ۔

دفعتاً اسے ایک جھرجھری سی آئی! اللہ تعالیٰ تو اس کے بارے میں بھی سب کچھ جانتا ہے ۔ اس کا اگلا پچھلا سب اس رب کے علم میں ہے۔ اس کی نافرمانیاں ! اس کی سرکشیاں! اس کے جرائم ! اس کی بغاوتیں! کچھ بھی تو پوشیدہ نہیں۔ اور اس کا انجام … وہ علام الغیوب تو اس کا بھی علم رکھتا ہے۔ “اے اللہ! اے میرے رب! بے شک تو جانتا ہے کہ تیرے اس بندے کا انجام کیا ہونے والا ہے؟ تو جانتا ہے کہ آخرت میں میرے لئے کیا ہے ؟ خدانخواستہ جہنم ؟ ہلاکت؟ تباہی و بربادی؟ انگارے؟ تیرا غیظ و غضب؟ ” بس اس خیال کا آنا تھا کہ اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ آگے کیا پڑھا گیا ، اسے کچھ یاد نہیں ۔ بس اتنا اسے یاد ہے کہ اس کی گھگھی بندھی ہوئی تھی ۔۔۔ آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے ۔۔۔ اور دل ہی دل میں

اللھم انک عفو کریم تحب العفو فاعف عنا ۔۔۔

اللھم اغفر لنا و ارحمنا و اعتق رقابنا من النار ۔۔۔

کی گردان چل رہی تھی ۔ اے اللہ ! تو معاف کرنے والا ہے ، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے ، ہمیں معاف فرما دے۔ اے اللہ ! ہماری مغفرت فرما! ہم پر رحم فرما! اور ہمیں جہنم کی آگ سے آزادی عطا فرما۔ آمین۔

روزانہ صبح فجر کی نماز کے بعد مسجد کے پیش امام صاحب ایک مختصر سی حدیث مبارکہ اور اس کا ترجمہ و تشریح بیان فرماتے ۔ حسب معمول اس روز بھی ایک حدیث مبارکہ بیان فرمائی۔ بشارت نہ کہئے تو اور کیا کہئے ؟ زبان تو بے شک امام صاحب کی تھی لیکن کلام کس کا تھا؟ الصادق و المصدق ﷺ کا! البشیر ﷺ کا! یقیناً آپ ﷺ کُلُّ نفسٍ ذآئقَۃُ المَوت کے اٹل قانون کے تحت دار لفنا سے دار البقا کو ہجرت فرما گئے لیکن ۔۔۔ لاریب کہ آپ ﷺ کا کلام آج بھی زندہ ہے اور قیامت تک کے لئے زندہ رہے گا۔ بشارت نہ کہئے تو اور کیا کہئے ؟ کہ حالات و واقعات کی ترتیب اور ٹائمنگ ہی کچھ ایسی تھی ۔ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ۔۔۔ جہنم سے نجات کا عشرہ ۔۔۔ رحمت الٰہی جوش میں ہے ۔ مغفرت کے فیصلے ہو رہے ہیں۔ بخشش کے بہانے ڈھونڈے جا رہے ہیں۔ ایک ایک رات میں ہزاروں کو جہنم سے آزادی کے پروانے عطا ہو رہے ہیں۔ اعلانات ہو رہے ہیں ۔۔۔

اِنَّ رَبَّکَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَۃ ۔۔۔

بے شک تمہارا رب بڑی بخشش والا ہے۔

ہے کوئی طلبگار؟

اعلانات ہو رہے ہیں۔۔۔

ھل مِن تائِبٍ فَاَتوبَ عَلیہ ؟

ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ اس کی توبہ قبول کروں؟

ھل مِن مُستَغفِراٍ فَاَغفِرَ لَہ’ ؟

ہے کوئی مغفرت کا طلبگار کہ اسے بخش دوں؟

رات کی تاریکی میں ایک بندہ اپنے رب کی بارگاہ میں لبوں کو جنبش دیئے بغیر سرگوشیاں کرتا ہے ، دل ہی دل میں راز و نیاز کرتا ہے ، اور وہ ذات جو

یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْر

ہے ۔۔۔ یعنی آنکھوں کی خیانت اور سینوں میں پوشیدہ رازوں سے بھی واقف ہے، سب سن لیتی ہے اور صبح کو یہ مژدہ سنائی دے جاتا ہے ۔ امام صاحب نے حدیث مبارکہ پڑھی ۔ اس کے چشم تصور میں ایک منظر ابھرا۔ خدا کرے کہ اس جسارت کو گستاخی و بے ادبی پر محمول نہ کیا جائے ۔۔۔اس کے چشم تصور میں ایک منظر ابھرا۔۔۔ کہ جیسے اس رحیم و کریم ذات نے اپنے ایک گناہگار بندے کی آہ و بکا کو سند قبولیت عطا فرماتے ہوئے اپنے نبی ﷺ سے کہا ہو کہ اے میرے محبوب! میرے بندوں کو اپنی زبان مبارک سے خوشخبری سنا دیجئے کہ ۔۔۔

اَلتَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہ’

یعنی گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے گویا اس نے گناہ کا ارتکاب ہی نہیں کیا۔

بھلا کیا نام دیا جائے اس شب کو جس میں ایک بندۂ عاصی کی ایسی قدر افزائی ہوئی ۔۔۔

قدر کی رات؟

لیلۃ القدر؟

Eid, Ramadhan, رمضان المبارک, عید

Eid-e-Saeed

عید سعید

ابو شہیر

عید کیا ہے ؟

عید مسلمانوں کا مذہبی تہوار ہے ۔ اس دن مسلمان خوشی مناتے ہیں۔

مسلمان یہ خوشی کیوں مناتے ہیں ؟

حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب عید کا دن ہوتا ہے تو حق تعالیٰ شانہ اپنے فرشتوں کے سامنے بندوں کی عبادت پر فخر فرماتے ہیں ( اس لئے کہ انہوں نے آدمیوں پر طعن کیا تھا ) اور ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ اے فرشتو! کیا بدلہ ہے اس مزدور کا جو اپنی خدمت پوری پوری ادا کر دے ؟ وہ عرض کرتے ہیں کہ یا رب! اس کا بدلہ یہی ہے کہ اس کی اجرت پوری دے دی جائے۔ تو ارشاد ہوتاہے کہ فرشتو! میرے غلاموں اور باندیوں نے میرے فریضہ کو پورا کر دیا ، پھر دعا کے ساتھ چلاتے ہوئے ( عیدگاہ کی طرف ) نکلے ہیں۔ میری عزت کی قسم! میرے جلال کی قسم ! میرے علو شان کی قسم ! میرے بلندیٔ مرتبہ کی قسم ! میں ان لوگوں کی دعا ضرور قبول کروں گا ۔ پھر ان لوگوں کو خطاب فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جاؤ! تمہارے گناہ معاف کر دیئے ہیں اور تمہاری برائیوں کو نیکیوں سے بدل دیا ہے ۔ پس یہ لوگ عید گاہ سے ایسے حال میں لوٹتے ہیں کہ ان کے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں۔ ( رواہ البیہقی فی شعب الایمان کذا فی المشکوٰۃ)

سبحان اللہ! کیا منظر ہو گا کہ آسمانوں میں اللہ رب العزت کا دربار لگا ہوا ہے ۔ اللہ رب العزت اپنے عرش پر جلوہ افروز ہیں ۔ فرشتے دست بستہ کھڑے ہوئے ہیں۔ اور سوال جواب کا ایک سیشن session منعقد ہو رہا ہے ۔ کیا منظر ہو گا کہ اللہ رب العزت میری آپ کی طرف اشارہ کر کے ، میرا آپ کا نام لے کر کہے : ارے فرشتو! تم تو کہتے تھے یہ زمین میں فساد کرے گا۔ آؤ دیکھو۔ یہ میرا فلاں بندہ ہے ۔۔۔یہ میرا فلاں بندہ ہے ۔۔۔ یہ میرا فلاں بندہ ہے ۔ دیکھو اس نے اپنی ذمہ داری پوری ادا کر دی ۔ اس نے مجھے دیکھا بھی نہیں لیکن پھر بھی میں نے اس سے جو کہا ، اس نے کر کے دکھا دیا ۔ یہ میری محبت میں ، میری اطاعت میں کھانا پینا چھوڑ بیٹھا تھا۔ نماز ، تلاوت ، صدقہ سے مجھے خوش اور راضی کرنے کی کوشش میں لگا رہا ۔ اس دھن میں مگن رہا کہ مجھے ۔۔۔ اپنے رب کو دوسروں سے زیادہ نیکیوں میں بڑھ کر دکھا دے ۔ میری جنت کو نہیں دیکھا لیکن مجھ سے جنت طلب کرتا رہا ۔ میری جہنم کو نہیں دیکھا لیکن اس کے پناہ مانگتا رہا ۔ بتاؤ اب میں اس کو کیا بدلہ دوں؟ فرشتوں کا جواب ہو گا کہ الٰہی طریقہ تو یہی ہے کہ مزدور جب اپنی خدمت پوری کر دے تو اس کی مزدوری عطا کر دی جائے ۔

کیا منظر ہوتا ہو گا اس وقت کہ جب اللہ رب العزت ۔۔۔ میرے لئے ۔۔۔ آپ کے لئے ۔۔۔ اپنی عزت کی ، اپنے جاہ و جلال کی ، اپنی رفعت شان کی ، اپنے بلند و بالا مرتبہ کی قسمیں کھا کر ۔۔۔ چار قسمیں کھا کر کہہ رہے ہوں گے : میرے بندے ! میں تمہاری دعا ضرور قبول کروں گا ۔ اے میرے بندے فلاں ! اے میرے بندے فلاں ! اے فلاں بن فلاں! آج عید کا دن ہے ۔ آج خوشیوں کا دن ہے ۔ آج تو خوش ہو جا ۔۔۔ آج میں تیری مغفرت کا اعلان کرتا ہوں ۔ جا تیرے تمام گناہ معاف کر دئیے ۔۔۔ یہی نہیں بلکہ تیرے گناہوں کی جگہ بھی نیکیاں لکھ دیں۔ کیسی زبردست ہوتی ہو گی آسمانوں میں منعقد ہونے والی عید کی تقریب۔۔۔

کاش ہم دیکھ سکتے!

کاش ہم سن سکتے !

کاش ہم محسوس کر سکتے!

کاش ہم جان سکتے کہ عید کیا ہے؟