Hajj Umrah, حج, حسن معاشرت, حسن سلوک, عمرہ

نیکی کے ثمرات

نیکی کے ثمرات کس قدر دور رس ہو سکتے ہیں۔۔۔ یہ جاننے کے لئے ایک صاحب کا قصہ سنئے۔

بتاتے ہیں۔۔۔

ہم نے اپنے والد محترم، اللہ ان کی مغفرت فرمائے، کو ایک عمل کرتے دیکھا۔ خاندان میں سے جب کوئی حج عمرہ پر جانے لگتا تو والد محترم حسب استطاعت سو پچاس سعودی ریال جانے والے کو ہدیہ کر دیتے اور کہتے: یہ رقم وہاں خرچ کر لینا۔

والد رحمہ اللہ کی وفات کے بعد ہم نے اس عمل کو جاری رکھنے کی کوشش کی۔ ہمارے ہاں عام رجحان یہی ہے کہ حاجی کی واپسی پر اس کو تحفے تحائف دیئے جاتے ہیں، تو سوچا کیوں نہ حاجی کی روانگی کے وقت ایسا کر دیا جائے۔ سو حسب استطاعت سو پچاس ریال ہر حاجی حاجیانی کے ہاتھ پر رکھنے شروع کئے کہ یہ رقم وہاں خرچ کر لینا۔

ایک بار خاندان کی ایک ایسی شخصیت کے عمرے پر جانے کا علم ہوا جن سے ہمیشہ اک خاص شفقت و محبت ملی۔ ان کا عمرہ پر جانے کا پہلا اتفاق تھا۔ روانگی سے ایک دو روز قبل ہم ان سے ملنے گئے تو دو سو ریال لفافہ میں ڈال کے ان کے ہاتھ پر رکھ دیئے، کہ یہ رقم وہاں خرچ کر لیجیے گا، دعاؤں کی درخواست کی اور واپس چلے آئے۔

بعد میں ان کے ہم سفروں میں سے ایک نے بھید کھولا کہ ان حاجی کے جملہ سفری اخراجات کی ادائیگی تو ہو گئی تھی لیکن۔۔۔ زاد راہ کے لیے کچھ پاس نہ تھا۔ چنانچہ بھنے ہوئے چنے ساتھ لے جائے جا رہے تھے کہ چنے کھا کے زم زم پی کے گزارا کر لیں گے۔

اللہ اللہ!

رب کعبہ کے انتظامات دیکھئے۔

اپنے مہمانوں پر انعامات دیکھئے۔

ہمارے دیئے ہوئے دو سو ریال ان کے لیے پندرہ یوم کا مکمل زاد راہ ثابت ہوئے۔

سب تعریف اللہ رب العزت کے لئے ہے کہ جس نے اپنے بندے سے انجانے میں ایک ایسی نیکی کرا دی کہ جس کی وسعت کا کچھ اندازہ نہیں۔

قارئین کرام۔۔۔

نیکی کے ثمرات کس قدر دور رس ہو سکتے ہیں۔۔۔ اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ ایک صاحب کی نیکی اپنی اولاد کے لئے ترغیب کا باعث بنی، جو آگے اللہ کے ایک مہمان کے لئے زاد راہ کا انتظام کرنے کا باعث بنی۔ اور اب اس تحریر کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ نجانے کتنے لوگوں کے لئے ترغیب کا باعث بن جائے۔ تعاونوا علی البر و التقوی۔

Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, معاشرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, اسلام, حج, حسن معاشرت, حسن سلوک

صبر یا حاجی” حج کی حفاظت۔4″

 اپنے حج کی خوب حفاظت کیجئے۔4

صبر یا حاجی

حج عمرہ کا ایک اہم سبق صبر ہے۔ حاجی کو واش روم سے لے کر بس کے چلنے تک اور طواف کے ہجوم میں پھنس پھنس کر چلنے سے لے کر ایئر پورٹ پر فلائٹ کی روانگی تک کہاں کہاں انتظار اور صبر کرنا پڑتا ہے۔

لیکن حج عمرہ سے وطن واپسی پر حاجی یہ سبق بھول جاتے ہیں۔ بیلٹ پر سامان جمع کرنے کے بعد زم زم کا انتظار ان کے لیے سوہان روح بن جاتا ہے۔ ایسے میں بعض حاجی کسی دوسرے حاجی کی زم زم کی بوتل لے کر چلتے بنتے ہیں۔ اس خیال سے کہ کوئی بات نہیں وہ ہماری بوتل لے جائے گا۔

ایسا نہ کیجیے۔

یہ چوری ہے۔ گناہ کبیرہ! اتنا بڑا گناہ کہ جس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا ہے۔

پھر آپ کی ذرا سی جلد بازی اور بد نظمی سے وہ حاجی سخت مشکل میں آ جائے گا جس کا زم زم آپ لے جا رہے ہیں۔ اسے کیا پتہ کہ حاجی عبد الرحمان صاحب اس کی بوتل اٹھا لے گئے ہیں سو بدلے میں وہ بھی حاجی عبد الرحمان کی بوتل اٹھا لے جا سکتا ہے۔

ممکن ہے حاجی عمر رسیدہ ہو۔

ممکن ہے حاجی بیمار ہو۔

عین ممکن ہے اسے آخر تک انتظار کرنا پڑے۔ اس سارے عمل میں اس کا کتنا وقت خراب ہو گا اور ساتھ ساتھ باہر منتظر اس کے گھر والوں کا وقت بھی نیز ان کو بھی انتظار کی شدید اذیت سے گزرنا ہو گا۔

عین ممکن ہے حاجی کو اپنے زم زم کی تلاش میں ایئر پورٹ پہ دھکے کھانے پڑیں۔

ایئر پورٹ عملے کی منت خوشامد کرنی پڑے۔

زم زم گمشدگی کی شکایت درج کرانے کے لیے بھاگ دوڑ کرنی پڑے۔ جو کہ اسے کبھی نہیں ملنے والا کیونکہ اس کا زم زم کھویا نہیں کوئی دوسرا حاجی لے جا چکا ہے۔

ممکن ہے اس حاجی کی تربیت یا حج عمرہ کے بعد کی ایمانی کیفیت اسے کسی اور کا سامان اٹھانے کی اجازت ہی نہ دے۔ اور وہ اپنی بوتل پر صبر کر کے ایسے ہی خالی ہاتھ چلا جائے۔

اس ساری تکلیف و دل آزاری کا اندازہ لگانا کچھ مشکل نہیں۔

غور کیجیے ایک بوتل اٹھانے کے پیچھے کیا کیا گناہ کما لیا۔

ممکن ہے آپ کا سارا حج عمرہ یہیں برباد ہو جائے۔

اللہ سے ڈرتے رہیے۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Uncategorized, معاشرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, حج, حسن معاشرت, علم دین, عمرہ

حج کی حفاظت۔2

*اپنے حج کی خوب حفاظت کیجیے* 2

بعض حاجیوں کو دیکھا کہ اگر حرم شریف میں چپل گم ہو گئی تو باہر پڑی کوئی بھی چپل پہن کر چل دیئے۔ صرف اسی پر بس نہیں بلکہ بعضے تو دوسروں کو بھی ایسا کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

ہمارے خیال میں تو ایسا کرنا کسی طور بھی مناسب نہیں۔ ایک تو یہ چپل چوری میں شمار ہو گا، دوم کسی مسلمان کی دل آزاری کا سبب ہو گا۔ اور بھی کئی قباحتیں ہیں۔

چپل غائب ہونے پر یقیناً رنج تو بہت ہوتا ہے لیکن ایک تو چپل اٹھانے والے کو اللہ کی رضا کے لیے فوراً معاف کر دینا چاہیے ۔ دوسرا یہ کہ باہر کا فرش بہت زیادہ گرم نہ ہو تو ننگے پیر جا کے ورنہ بصورت دیگر کسی ساتھی سے چپل مستعار لے کے یا ساتھی کو بھیج کے قریبی دوکان سے چپل خرید لینی چاہیے۔

یقیناً یہ بھی خاصا تکلیف دہ مرحلہ ہے۔ پانچ دس ریال بھی خرچ ہو سکتے ہیں لیکن بہرحال کسی اور کی چپل اٹھانے کی صورت میں خدانخواستہ  آخرت میں پھنسنے سے کہیں بہتر ہے۔حج الگ خراب ہو گا۔

محتاط رہئے۔ اپنے حج کی خوب حفاظت کیجئے۔