Behaviors & Attitudes, Social, اخلاقیات, حسن سلوک

NAQSH

نقش

دفتری زندگی کے بھی عجب مشاہدات و تجربات ہوتے ہیں۔ باہر کی تو بات چھوڑئیے ، محض دفتر کے اندر ہی ان گنت افراد سے واسطہ پڑتا  رہتا ہے۔ کئی لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں۔ کوئی فوت ہو گیا۔کسی کا تبادلہ ہو گیا۔کوئی از خود چھوڑ گیا توکوئی ریٹائر ہو گیا ۔

پھر ان میں افسر و ماتحت  کی قید بھی ضروری نہیں کہ رویے تو سب ہی ایک دوسرے کے محسوس کر رہے ہوتے ہیں ۔  افسر کا ماتحت کے ساتھ رویہ کیسا ہے یا ماتحت کا اپنے افسر کے ساتھ، یا افسران بالا کا ماتحت افسران کے ساتھ  ۔۔۔ غرض ہر ایک کا دوسرے کے ساتھ برتاؤ دلوں پر نقش ہو رہا ہوتا ہے اور یہی برتاؤ پھر آگے چل کر تعلق کی بنیاد بنتا ہے ۔ اسی رویہ پر منحصر ہوتا ہے کہ منظر سے ہٹ جانے یا ریٹائر ، ٹرانسفر یا فوت ہو جانے کے بعد پیچھے رہ جانے والے افراد مذکورہ فرد کو کس طرح یاد کرتے ہیں۔ اور یہی برتاؤ اس بات کا بھی فیصلہ کرتا ہے کہ جانے والے سے مزید تعلق رکھنا ہے یا نہیں۔

  مجھے اپنے ادارے سے وابستہ ہوئے دو عشرے سے زائد ہو چلے ہیں۔ اس دوران بے شمار لوگ آئے اور گئے ۔  اکثر لوگ اپنے پیچھے خوشگوار یادیں چھوڑ گئے۔ چنانچہ جب کبھی انہوں نے دفتر کا چکر لگایا تو ان کی آمد پرآنکھیں چمک اٹھیں،  چہرے کھل اٹھے اور بازو وا ہو گئے۔ ان کی خوب آؤ بھگت کی گئی۔سر راہ کہیں مل گئے تو لوگوں کو ان کے ساتھ عزت و تکریم کے ساتھ پیش آتے دیکھا۔ یہ تو ان کی آمد پر معاملہ دیکھا۔ اور ان کے پیچھے کبھی ان کا ذکر چھڑ گیا تو معلوم ہوا فضا معطر ہو گئی۔ گویا یاد کرنے والوں کے لبوں سے پھول جھڑ رہے ہوں۔

اس کے برعکس چند ایسے افراد سے بھی واسطہ پڑا جو اپنے ساتھیوں کے لئے باعث آزار بنے۔ یہ بدنصیب اپنے پیچھے تلخ یادیں چھوڑ گئے۔ چنانچہ ان میں سے کبھی کوئی پلٹ کے دفتر آیا تو لوگوں کے منہ بن گئے اور ماتھے پر شکنیں ابھر آئیں۔ کچھ کو منہ چھپاتے دیکھا تو کچھ کو بحالت مجبوری ہاتھ ملاتے اور اپنی راہ لیتے دیکھا۔ کچھ کو تو بعد ازاں ہاتھ دھوتے بھی دیکھا گویا نجاست لگ گئی ہو۔ استغفراللہ۔اور اگر کبھی بھولے سے ان کا ذکر چھڑ گیا تو ایسے ایسے ملفوظات و القابات سننے کو ملے ان کی شان میں کہ الامان الحفیظ۔

حاصل کلام یہ ہے کہ آپ جس بھی شعبے سے وابستہ ہیں، اپنا جائزہ لیجئے۔ اگر اللہ رب العزت نے  آپ کو کوئی بلند مقام مرتبہ یا منصب عطا کیا ہے تو اسے محض اللہ کا فضل جانئے۔ اپنی گردن میں سریا نہ آنے دیجئے۔ اپنے ساتھیوں خاص کر ماتحتوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیجئے۔ ان کی پریشانیوں میں کمی نہ کر سکتے ہوں تو ان میں اضافے کا باعث تو ہرگز نہ بنئے۔

یاد رکھئے

آپ جہاں بھی جا رہے ہیں۔۔۔

جس سے بھی مل رہے ہیں ۔۔۔

آپ کا ایک امیج ایک تاثر سامنے والے کے ذہن و دل پر نقش ہو رہا ہے۔

کوشش کیجئے کہ بھلا تاثر قائم ہو۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد ازاں کبھی آپ کا ذکر بھی آئے۔۔۔

تو لوگ ناک پر رومال رکھتے پھریں۔

دل دکھانا چھوڑیئے اور دلربا بن جائیے

آپ پتھر کیوں بنے ہیں آئینہ بن جائیے

 بادشاہی چاہئے؟ قرب الٰہی چاہئے؟

دل میں رہئے اور ہونٹوں کی دعا بن جائیے

پیاس دھرتی کی بجھے، خود سے تعلق بھی رہے

جب بلندی پر پہنچئےتو گھٹا بن جائیے

پھول بھی کھلتے رہیں غنچے گلے ملتے رہیں

باغ ہستی کے لئے موج صبا بن جائیے

Advertisements