Hajj Umrah, Islam, Uncategorized, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

پھیرے کتھے لینے ہیں؟

مناسک حج و عمرہ سیکھنے کی اہمیت

ایک صاحب بتاتے ہیں کہ۔۔۔

اللہ رب العزت نے 2011 میں ایک مرتبہ پھر عمرہ کی سعادت عطا فرمائی۔ یہ واقعہ اس سفر کے دوران پیش آیا۔

ایک روز مسفلہ مکہ مکرمہ میں اپنی رہائش گاہ کے باہر کھڑا تھا کہ ایک بابا جی پاس آئے اور پوچھنے لگے۔۔۔
پتر! پھیرے کتھے لینے ہیں؟

پہلے تو میں نے انہیں ہاتھ کے اشارہ سے سمجھایا کہ بابا جی اسی گلی میں سیدھے چلے جائیے۔ مسجد الحرام باب عبد العزیز پہنچ جائیں گے۔ وہاں مزید کسی سے پوچھ لیجیے گا۔

وہ آگے بڑھے اور تھوڑا آگے جا کے پھر ایک اور شخص سے پوچھنے لگے۔ ادھر مجھے خیال ہوا کہ میاں اللہ موقع دے رہا ہے “دیہاڑی لگانے کا” اور تم ایسے ہی جانے دے رہے ہو۔ لپکا بابا جی کی طرف اور ان کو اطمینان دلایا کہ آئیے آپ کے ساتھ چل کے عمرہ کرا دیتا ہوں۔

راستے میں تھوڑا انٹرویو کیا بابا جی کا۔

پوچھا: بابا جی کیا کرتے ہو؟

بولے: زمینداری

پوچھا: بابا جی عمرہ کے لیے کتنا خرچہ کیا؟

بولے: لاکھ روپئیے۔

پوچھا: بابا جی کسی سے تربیت لی تھی؟

بولے: ہاں کسی نے بتایا تھا ادھر جا کے پھیرے لینے ہیں۔

مزید سوالات سے پتہ چلا بابا جی بغیر کسی خاص تربیت کے ہی چلے آئے ہیں۔

ادب سے عرض کی: بابا جی سیکھ کے آنا چاہیے تھا ناں۔ زمینداری کرتے ہیں تو اس کا تو سب علم ہے آپ کو۔ بیج کب ڈالنا ہے۔ پانی کب لگانا ہے۔ اسپرے کب کرنا ہے۔ وغیرہ۔

بے چارے اتنا ہی کہہ سکے: بس پتر ۔۔۔

خیر۔۔۔
میری خوش بختی کہ اللہ نے مجھے استعمال کر لیا۔ بیت اللہ لے جا کے انہیں عمرہ ادا کرایا۔ اللہ نے ان پر بھی کرم کیا کہ ان کے عمرہ کی درست طریقے سے ادائیگی کا انتظام فرما دیا۔ بغیر سیکھے پہنچ گئے تھے۔ اکیلے جانے کی صورت میں غلطی اور دم کا قوی امکان تھا۔

اس واقعہ میں عازمین حج و عمرہ کے لیے بڑا سبق ہے۔ آپ اتنی بڑی عبادت کرنے جا رہے ہیں۔۔۔ لاکھوں روپے خرچ کر رہے ہیں۔۔۔ ہزاروں میل سفر کی مشقت اٹھا رہے ہیں۔۔۔ بیوی بچوں سے ہفتوں کی دوری برداشت کر رہے ہیں۔۔۔ اور جانے کیا کیا قربانی دے رہے ہیں۔۔۔ مناسک حج و عمرہ کو سیکھنے کی طرف بھی خوب توجہ دیجئے۔

حج عمرہ کے لیے دو طرح کا علم درکار ہے۔ ایک عبادات کا دوسرا معاملات کا۔ دونوں کا خوب علم حاصل کیجیے۔

اتنی بڑی عبادت۔۔۔

اتنا بڑا اجر۔۔۔

بغیر سیکھے جانے کی صورت میں کہیں ایسا نہ ہو کہ خدانخواستہ تھکن مشقت اور سفر کے گرد و غبار کے علاوہ کچھ ہاتھ نہ آئے۔

طالبعلم بن کر سیکھئے، اور اتنا اعتماد حاصل کیجئے کہ بعد میں معلم بن کے دوسروں کو بھی سکھا سکیں۔ اپنے ہم سفروں میں ایسے لوگ تلاش کیجئے جو سیکھ سمجھ نہ پائے ہوں۔۔۔ انہیں محبت اور احترام سے سکھائیے۔۔۔ ڈھیروں ڈھیر اجر و ثواب کمائیے۔

اللہ کے مہمانوں کی اس سے بڑی خدمت اور کیا ہو سکتی ہے کہ ان کو درست طریقہ سے حج عمرہ کرا دیا جائے۔ اور اس کے لیے فقط فرائض، واجبات اور سنن کا علم ہونا کافی ہے۔ فقہی مسائل تو ظاہر ہے علماء و مفتیان سے ہی دریافت کئے جائیں گے۔

Hajj Umrah, حج, حسن معاشرت, حسن سلوک, عمرہ

نیکی کے ثمرات

نیکی کے ثمرات کس قدر دور رس ہو سکتے ہیں۔۔۔ یہ جاننے کے لئے ایک صاحب کا قصہ سنئے۔

بتاتے ہیں۔۔۔

ہم نے اپنے والد محترم، اللہ ان کی مغفرت فرمائے، کو ایک عمل کرتے دیکھا۔ خاندان میں سے جب کوئی حج عمرہ پر جانے لگتا تو والد محترم حسب استطاعت سو پچاس سعودی ریال جانے والے کو ہدیہ کر دیتے اور کہتے: یہ رقم وہاں خرچ کر لینا۔

والد رحمہ اللہ کی وفات کے بعد ہم نے اس عمل کو جاری رکھنے کی کوشش کی۔ ہمارے ہاں عام رجحان یہی ہے کہ حاجی کی واپسی پر اس کو تحفے تحائف دیئے جاتے ہیں، تو سوچا کیوں نہ حاجی کی روانگی کے وقت ایسا کر دیا جائے۔ سو حسب استطاعت سو پچاس ریال ہر حاجی حاجیانی کے ہاتھ پر رکھنے شروع کئے کہ یہ رقم وہاں خرچ کر لینا۔

ایک بار خاندان کی ایک ایسی شخصیت کے عمرے پر جانے کا علم ہوا جن سے ہمیشہ اک خاص شفقت و محبت ملی۔ ان کا عمرہ پر جانے کا پہلا اتفاق تھا۔ روانگی سے ایک دو روز قبل ہم ان سے ملنے گئے تو دو سو ریال لفافہ میں ڈال کے ان کے ہاتھ پر رکھ دیئے، کہ یہ رقم وہاں خرچ کر لیجیے گا، دعاؤں کی درخواست کی اور واپس چلے آئے۔

بعد میں ان کے ہم سفروں میں سے ایک نے بھید کھولا کہ ان حاجی کے جملہ سفری اخراجات کی ادائیگی تو ہو گئی تھی لیکن۔۔۔ زاد راہ کے لیے کچھ پاس نہ تھا۔ چنانچہ بھنے ہوئے چنے ساتھ لے جائے جا رہے تھے کہ چنے کھا کے زم زم پی کے گزارا کر لیں گے۔

اللہ اللہ!

رب کعبہ کے انتظامات دیکھئے۔

اپنے مہمانوں پر انعامات دیکھئے۔

ہمارے دیئے ہوئے دو سو ریال ان کے لیے پندرہ یوم کا مکمل زاد راہ ثابت ہوئے۔

سب تعریف اللہ رب العزت کے لئے ہے کہ جس نے اپنے بندے سے انجانے میں ایک ایسی نیکی کرا دی کہ جس کی وسعت کا کچھ اندازہ نہیں۔

قارئین کرام۔۔۔

نیکی کے ثمرات کس قدر دور رس ہو سکتے ہیں۔۔۔ اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔ ایک صاحب کی نیکی اپنی اولاد کے لئے ترغیب کا باعث بنی، جو آگے اللہ کے ایک مہمان کے لئے زاد راہ کا انتظام کرنے کا باعث بنی۔ اور اب اس تحریر کے ذریعے آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ نجانے کتنے لوگوں کے لئے ترغیب کا باعث بن جائے۔ تعاونوا علی البر و التقوی۔

Hajj Umrah, حج, عمرہ

حج عمرہ کی دعاؤں میں یہ دعائیں بھی شامل کر لیجئے

میں نے اپنے والد رحمہ اللہ اور دیگر بزرگوں کو چلتے پھرتے اٹھتے بیٹھتے یہ دعا کرتے سنا کہ یا اللہ اپنا ہی محتاج رکھنا۔ یا اللہ چلتے ہاتھ پیر دنیا سے اٹھا لینا۔

صحت کے بغیر زندگی کا کوئی لطف نہیں۔ یہاں حال یہ ہے کہ ہر گھر میں کوئی نہ کوئی فرد معذور ہے۔ مسجدوں میں دیکھئے تو کرسیوں اور کرسی ہر بیٹھ کر نماز ادا کرنے والوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ تو بھئی ہر قسم کی معذوری سے بچنے کی دعاؤں کا بہت اہتمام کیجیے۔دوران حج اللہ سے خوب دعا کیجیے۔۔۔

یا اللہ شوگر بلڈ پریشر سے حفاظت فرما۔

یا اللہ اپنی حلال نعمتوں کو مجھ پر حرام نہ کرنا۔

یا اللہ گردوں کے ناکارہ ہو جانے سے بچا۔

یا اللہ ڈائلسز سے محفوظ رکھنا۔

یا اللہ کینسر سے حفاظت فرما۔

یا اللہ فالج سے حفاظت فرما۔

یا اللہ گھٹنوں کے ناکارہ ہو جانے سے حفاظت فرما۔

یا اللہ نماز میں رکوع و سجدہ پر مرتے دم تک قادر رکھنا۔

یا اللہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے سے حفاظت فرما۔

یا اللہ مجھے اس حال میں نہ پہنچانا کہ میں آئی سی یو اور وینٹیلیٹر پر بے یار و مددگار پڑا ہوا ہوں۔

یا اللہ میرا آخری وقت میرے اپنوں کے ساتھ گزرے۔۔۔ نہ کہ ایسے حال میں کہ میں ڈاکٹروں نرسوں اور مشینوں کے رحم و کرم پر ہوں۔

یا اللہ چلتے ہاتھ پیر دنیا سے اٹھا لینا۔

یا اللہ اپنا ہی محتاج رکھنا۔

اور قربان جائیے رسول اللہ ﷺ کے کہ ایک جامع دعا سکھلا گئے۔۔۔

اللھم انی اعوذبک من البرص و الجنون و الجذام و من سیئ الاسقام

اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں برص سے اور جنون سے اور جذام سے اور ہر طرح کے موذی امراض سے۔