Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Pakistan, اسلام

B L E S S E D – F R I D A Y

بلیسڈ فرائیڈے

وجہ چاہے عالمگیریت ہو یا مرعوبیت ، روشن خیالی ہو یا میڈیا کی ڈھٹائی، غیر اسلامی معاشروں کا گند غلاظت رفتہ رفتہ اسلامی معاشرت کو آلودہ کرتا جا رہا ہے۔ صحیح غلط کی پہچان مٹتی جا رہی ہے۔ کفار ہم سے کچھ سیکھیں نہ سیکھیں، ہم ان سے بہت کچھ امپورٹ کر رہے ہیں۔
پہلے ویلنٹائن ڈے جیسا فحش اور قبیح تہوار مسلم ممالک میں داخل ہوا اور اب بلیک فرائیڈے کا ڈنکا بج رہا ہےیا بجایا جا رہا ہے۔ مختلف اداروں کی جانب سے بھرپور رعایتی سیل کے اعلانات ہو رہے ہیں۔ ویب سائٹس ، ایس ایم اسی مارکیٹنگ اور سوشل میڈیا کے ذریعے خوب تشہیر کی جا رہی ہے۔ معروف پاکستانی آن لائن اسٹور دراز ڈاٹ پی کے نے اس موقع پر قیمتوں میں ۸۶ فیصد تک رعایت کا اعلان کیا ہے۔ اس رعایتی سیل کی تشہیر کے لئے لگائے گئے بینرز پوسٹرز شہر میں مختلف مقامات پر دیکھے جا سکتے ہیں ۔ اسی طرح معروف کورئیر سروس ٹی سی ایس کے آن لائن اسٹور یہ وہ ڈاٹ کام نے بھی اس موقع پر ۸۰ فیصد تک رعایت کا اعلان کیا ہے۔

جمعہ شعائر اسلام میں سے ہے۔ مسلمانوں کے لئے یہ بڑا اہم اور فضیلت والا دن ہے ۔ اس کی شان میں رسول اللہ ﷺ کی متعدد احادیث مبارکہ بھی روایت ہوئی ہیں۔ سید الانبیاء ﷺ نے جمعہ کو سید الایام کہا یعنی ہفتہ کے دنوں کا سردار ۔ اسی طرح ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ سورج کے طلوع و غروب والے دنوں میں کوئی بھی دن جمعہ کے دن سے افضل نہیں۔ اسلام کے متوالوں کے لئے یہ رحمتوں اور برکتوں والا دن ہے، ایک روشن اور منور دن ہے۔

لیکن ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت اس دن کوسیاہ دن کا نام دیا جا رہا ہے اور اب اس کی اس قدر منظم انداز میں تشہیر کی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کی زبانوں پر بھی یہی الفاظ چڑھتے جا رہے ہیں۔ عالم اسلام کو اس قسم کی چالبازیوں سے ہوشیار اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ ہم کفار کو تو نہیں روک سکتے البتہ ان کی تقلید سے بچنا بہرحال ضروری ہے۔

ہم ان سطور کے ذریعے پاکستان کے تمام اسٹورز اور برانڈز کو متنبہ کرتے ہیں کہ خدارا اسلامی شعائر کی اہانت سے باز رہئے۔ کیا ضروری ہے کہ مسلمان بھی اسی دن سیل کے اعلانات کرتے پھریں ؟ اسلام نے عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دو تہوار دے رکھے ہیں۔ اگر سیل لگانی ہے تو ان مواقع پر لگائیے تاکہ آپ کے دینی بھائیوں کو فائدہ ہو۔ اور آخری بات یہ کہ اگر آپ نے اسی دن سیل لگانی ہے تو کم از کم اس مکروہ نام سے تو نہ لگائیے ، کیوں نہ ایک نیا نام متعارف کرا دیا جائے۔۔۔ بلیسڈ فرائیڈے یا برائٹ فرائیڈے۔۔۔
#Blessed_Friday
#Bright_Friday

Advertisements
Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Islam, Namaz, Seerat-un-Nabi, Social, اسلام, علم دین

Wazifa

وظیفہ

ہم میں سے اکثر لوگ پریشان ہیں۔ کوئی روزگار کے سلسلے میں پریشان ہے تو کوئی رشتوں کے سلسلے میں ۔ کوئی صحت کو ترس رہا ہے تو کوئی اولاد کو۔ کہیں میاں بیوی میں نہیں بن رہی تو کہیں اولاد نافرمان ہے۔ کسی کو رزق کی تنگی کی پریشانی ہے تو کوئی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے۔ الغرض ہم ہر طرف سے مسائل میں گھرے ہوئے ہیں۔

اب ان مسائل کے حل کے لئے ہم کیا کرتے ہیں۔ کہیں پیروں فقیروں سے تعویذ مانگے جا رہے ہیں تو کہیں علمائے کرام سے وظیفہ۔ علمائے کرام مسائل  کی نوعیت کے حساب سے ہر ایک کو وظیفہ بتا دیا کرتے ہیں کہ ہر نماز کے بعد فلاں وظیفہ اتنی مرتبہ پڑھ لیجئےاور اتنے اتنے دن یہ عمل کر لیجئے۔ لیکن مدت پوری ہونے کے بعد اکثر یہ شکایت سننے کو ملتی ہے کہ حضرت کام نہیں بنا کوئی اور وظیفہ بتائیے۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم نے نماز کے بجائے وظائف کو اصل سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ چنانچہ عام مشاہدہ ہے کہ لوگ نماز پڑھنے آئے، جلدی جلدی نماز ادا کی اور پھر نہایت اہتمام کے ساتھ وظائف و تسبیحات میں مشغول ہو گئے۔ بھول گئے کہ اصل گیان دھیان تو نمازوں میں درکار تھا ۔ لیکن وہاں تو نہ فرائض کا خیال رکھا جا رہا ہے نہ واجبات کا۔ تو جب نماز ہی آداب کی رعایت کے ساتھ ادا نہ کی تو پھر وظیفہ کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہونے پر حیرت کیسی؟ شکایت کیسی؟

اللہ رب العزت  نے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا  جس کا مفہوم ہے۔۔۔

اے ایمان والو صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔

اور سیرت نبوی ﷺ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو جب بھی کوئی دشوار امر پیش آتا تو آپ ﷺ فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوتے۔ آندھی چلتی تو نماز ، سورج چاند گرہن ہوتا تو نماز، جنگ ہوئی تو نماز، بارش نہ ہوئی تو نماز۔ اور جب آپ ﷺدار الفنا سے دار البقا کی جانب رحلت فرما رہے تھے توآخری سانسوں میں بھی امت کو نماز کی تلقین فرمائی۔

چلئے  فقط یہی یاد کر لیجئے کہ نماز کہاں عطا کی گئی؟ معراج پر۔ آسمانوں سے اوپر بلا کر رسول اللہ ﷺ کو یہ تحفہ عنایت کیا گیا۔ اللہ اکبر۔۔۔ کیا شان ہے ، کیا عالی مقام ہے نماز کا ۔۔۔ کہیں اسے آنکھوں کی ٹھنڈک سے تعبیر کیا جا رہا ہے تو کہیں اسے ایمان و کفر کے درمیان فرق  کرنے والا عمل بتایا جا رہا ہے۔ کہیں بتایا جا رہا ہے کہ بندہ اپنے رب سے سب سے زیادہ قریب سجدے کی حالت میں ہوتا ہے، اس لئے سجدہ میں زیادہ دعا کیا کرو۔

 خلاصہ  یہ کہ مومن کا اصل وظیفہ نماز ہی ہے۔

بہت ہلکا لے لیا ہے ہم نے ان نمازوں کو۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Social, نماز, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, اسلام, علم دین

Ujlat

عجلت

ہم من حیث القوم ایک عجیب افراتفری کا شکار ہیں۔۔۔ جلد بازی ہماری فطرت بنتی جا رہی ہے۔۔۔ ٹریفک سگنل ہو یا ریلوے کراسنگ۔۔۔ رکنا ٹھہرنا انتظار کرنا ہمارے لئے سخت محال ہوا کرتا ہے۔۔۔ سڑک بلاک ہو گئی ٹریفک جام ہو گیا تو ڈھٹائی کے ساتھ رانگ سائیڈ پہ چل دیئے۔۔۔ بلکہ فٹ پاتھوں پہ گاڑیاں دوڑا دیں۔۔۔اور جانے کیا کیا۔۔۔

ہماری یہ عجلت پسندی مسجدوں میں بھی چلی آئی ہے۔۔۔ چنانچہ با جماعت نمازوں میں بھی ہم سے صبر و قرار سے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔۔۔ ایک شدید اضطرابی کیفیت ہوتی ہے۔۔۔ اور اس کے باعث نمازوں کے دوران ایک عجیب ناگوار صورت حال نظر آتی ہے۔۔۔

امام صاحب نے جہری قرات میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت پڑھی اور رکوع میں جانے سے قبل آخری آیت ذرا زیادہ کھینچ دی۔۔۔ اب سورت یاد نہیں تو آیت کی کھینچ سے پہلے ہی الرٹ ہو گئے کہ امام صاحب رکوع میں جانے والے ہیں، اور اگر سورت یاد ہے پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔۔۔ امام صاحب کی تکبیر سے قبل ہی ہاتھ چھوڑ دیئے۔۔۔ حتیٰ کہ بعضوں نے رکوع کے لئے جھکنے کا بھی آغاز کر دیا۔۔۔

امام صاحب رکوع سے اٹھے اور قومہ میں ذرا توقف کیا تو یہ لمحہ دو لمحہ کا قیام طبع نازک پہ سخت گراں گزرا۔۔۔ ٹھہر بھی گئے تو سخت اضطراب میں۔۔۔ ورنہ امام صاحب سے پہلے ہی سجدے کے لئے جھکنا شروع کر دیا۔۔۔ امام صاحب کی تکبیر میں مزید تاخیر ہوئی تو بعض نمازی جھکتے جھکتے رکوع کی حالت میں پہنچ چکے۔۔۔ اب وہاں رکے رکے امام صاحب کی تکبیر کا انتظار کر رہے۔۔۔ یعنی رکوع کے بعد ایک اور رکوع۔۔۔ سبحان اللہ

اسی طرح امام صاحب سجدے سے اٹھے اور جلسے کی حالت میں ذرا توقف کیا۔۔۔ لیکن اب یہ کوئی سیاسی جلسہ تھوڑی ہے کہ بیٹھا جائے۔۔۔ امام صاحب سے پہلے ہی اگلے سجدے کے لئے جھکنا شروع۔۔۔ یہاں بھی اگر امام صاحب کی تکبیر میں تاخیر ہوئی تو عجیب مضحکہ خیز کیفیت۔۔۔ گویا مرغا بنے بیٹھے ہیں۔۔۔۔

ایسے نمازیوں کے لئے تین حل پیش کئے جا رہے ہیں۔۔۔

۔ یا تو تنہا نماز پڑھ لیجئے۔۔۔

۔ یا پھر تحمل سے امام کے پیچھے پیچھے چلئے۔۔۔

۔ اور اگر امام سے آگے ہی بڑھنا ہے تو پھر امام کو پیچھے کیجئے اور خود مصلیٰ سنبھالئے۔۔۔

وگرنہ کم از کم پتہ تو کر لیجئے کہ اس طرح سے نماز ادا ہو بھی جاتی ہے یا نہیں؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ پھٹی بوری میں نمازیں جمع کی جا رہی ہیں؟

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Seerat-un-Nabi, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

Jannay wala

جاننے والا

کوئی پانچ سات برس قبل کی بات ہے ۔  میرے آفس کے ایک صاحب حج کو جا رہے تھے۔ ساتھ میں کچھ محرم خواتین بھی تھیں۔ روانگی سے قبل اتنے ہی فکرمند و پریشان  تھے جتنا کہ ایک حاجی ہوا کرتا ہے۔

میری ملاقات ہوئی تو کہنے لگے: بھائی مکہ میں تو ایک دوست رہتا ہے ۔اس سے بات ہو گئی ہے۔ اور بھی ایک دو جاننے والے ہیں۔ وہاں کی تو ساری سیٹنگ ہو گئی ہے ۔ بس مدینہ کی ٹینشن ہے۔وہاں اپنا کوئی جاننے والا نہیں ہے۔

میرے منہ سے بے ساختہ نکلا: ہمارا تو ہے اک جاننے والامدینہ میں۔۔۔

آج بھی وہ منظر یاد آتا ہے تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیں۔

 ہاں۔۔۔
ہے تو ایک جاننے والا۔۔۔

جس نے ہماری فکر میں اپنی نیندیں قربان کیں اور رات رات بھر قیام کر کے اپنے پیر سُجائے۔

ہے تو اک جاننے والا۔۔۔

کہ جس کے طائف میں کھائے گئے پتھروں سے لہولہان بدن کا صدقہ محمد بن قاسم ؒ کی صورت میں اس خطے کو ایمان کی روشنی سے منور کر گیا۔

ہے تو اک جاننے والا۔۔۔

کہ جب میں اس پر درود بھیجتا ہوں تو درود پہنچانے پر مامور فرشتہ میرا اور میرے والد کا نام لے کر کہتا ہے کہ یا رسول اللہ! آپ کے امتی فلاں بن فلاں نے آپ کی خدمت میں درود شریف کا نذرانہ بھیجا ہے۔

ہاں! ہم پہچانیں نہ پہچانیں۔ وہ ہمیں خوب پہچانتا ہے۔

ہمارے ماں باپ مال آل اولاد اس پر قربان۔۔۔

صلی اللہ علیہ و آلہٖ و بارک وسلم تسلیما کثیرا کثیرا دائما ابدا ابدا

Behaviors & Attitudes, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حج, علم دین, عمرہ

Ibadat Nahi, Ata’at!

عبادت نہیں اطاعت

احکامات تبدیل کئے جاتے ہیں۔
اب کوئی بال ناخن نہ کاٹے۔
اب کوئی خوشبو نہ لگائے۔
اب کوئی بناؤ سنگھار نہ کرے۔
خلاف ورزی کرنے والے کا چالان ہو گا۔

احکامات تبدیل کئے جاتے ہیں۔
طواف زیارت کی ادائیگی تک نکاح معطل رہے گا۔
حکم عدولی کی صورت میں “بھاری” جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

احکامات تبدیل کئے جاتے ہیں۔
نمازوں کےاوقات میں رد و بدل کیا جاتا ہے۔
ایک نماز مقررہ وقت سے پہلے ادا کرنی ہے۔
ایک نماز مقررہ وقت کے نکل جانے کے بعد ادا کرنی ہے۔
کوئی شک؟
کوئی اعتراض؟

حج کے ذریعے فلسفہ دین سمجھایا جا رہا ہے۔۔۔
کہ دین عبادت کا نہیں
اطاعت کا نام ہے۔

ہاں
عبادت نہیں۔۔
اطاعت درکار ہے۔

جو کہا ہے اس کی بلاچوں چرا تعمیل۔۔۔
جس سے روکا ہے اس سے اجتناب۔۔
یہی اطاعت ہے
اور
یہی اصل عبادت ہے۔۔۔

Roman Urdu

IBADAT NAHI, ATA’AT

………………………………..

Ahkamaat Tabdeel kiye jatay hen

Ab koi Baal Nakhun Na KaaTay

Ab koi Khushbu Na lagaey

Ab koi Banao Singhar Na karay

!Khilaf Warzi karnay walay ka “Challan” ho ga

Ahkamaat Tabdeel kiye jatay hen

“Tawaf e Zyarat ki adaegi tk “Nikah Muattal rahay ga

Hukum Adooli ki Soorat May “Bhaari” Jurmana aaid kiya jaega

Ahkamaat Tabdeel kiye jatay hen

Namazon kay Awqaat may Radd o Badal kiya jata hy

Aik Namaz muqarrara waqt say Pehley ada karni hy

Aik Namaz muqarrara waqt nikal janay kay baad adan krni hy

?Koi Shak

?Koi Aitaraz

Hajj kay zariye Falsafa e Deen samjhaya ja raha hy

keh Deen Ibadat ka Nahi,

Ata’at ka naam hy

Haan

Ibadat Nahi

Ata’at darkaar hy

Jo kaha hy Uski Bila Choon Chara Tameel

Jis say Roka hy Us say Ijtanab

Yehi Ata’at Hy

Aur

Yehi Asal Ibadat Hy

Emaan, Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, یوم عرفہ, Yom e Arafa, اسلام, حج

Arif, Arafat, Ma’rfat

عارف، عرفات، معرفت

ایک بزرگ کی مجلس تھی۔

گفتگو کا موضوع تھا معرفت الہٰی۔۔۔

اللہ کی ذات کا عرفان کیسے حاصل ہو؟

بندہ کیسے عارف بن سکتا ہے؟

اس کے لئے کیا کیا جتن کرنے ہوں گے؟

کن کن مراحل سے گزرنا ہو گا؟

کیا کیا قربانیاں دینی ہوں گی؟

وغیرہ وغیرہ

حضرت ایک ایک نکتہ بیان کر رہے تھے۔

مجمع پر ایک سکوت طاری تھا۔۔۔

شرکائے مجلس ہمہ تن گوش بنے حضرت کی گفتگو سن رہے تھے۔۔۔

وہیں سے ایک موچی کا بھی گزر ہوا۔۔۔

بیٹھ کے سننے لگا حضرت کی باتیں۔۔۔

بیان ختم ہوا تو سارا مجمع تو سبحان اللہ ما شآء اللہ کی گردان کرتا ہوا اپنی اپنی راہ چلا۔

حضرت جی نے موچی کو بلا کے شفقت سے پوچھا:

“میاں کچھ سمجھ بھی آیا کیا گفتگو ہو رہی تھی؟”

بولا: “جی معرفت پر وعظ ہو رہا تھا.”

پوچھا: “پھر کیا سمجھ آیا؟ کیا ہوتی ہے معرفت؟”

بولا: “جی اور تو کچھ پلے نہیں پڑا۔۔۔ بس اتنا ہی سمجھ آیا کہ ۔۔۔

پہلے جو میرا اللہ کہے، میں کر دوں،

پھر جو میں کہوں، میرا اللہ کر دے!”

 حج پر یہی سب کچھ ہوا کرتا ہے جناب۔

ARIF, ARAFAT, MA’ARFAT

========================

Aik Buzurg ki Majlis thi

Guftugu ka Mouzu tha Ma’arfat e Ilahi

Allah ki Zaat ka Irfan Kesey Hasil Ho?

Banda Kesey Arif ban sakta hy?

 Is kay liye kya kya jatan karnay hon gay?

Kin kin marahil say guzarna ho ga?

Kya kya qurbanian deni hon gi?

Waghera waghera

Hazrat aik aik Nukta bayan ker rahay they.

Majmay per aik sukut tari tha.

Shuraka e Majlis hama tan gosh banay Hazrat ki guftugu sun rahay thay

Wahin say aik Mochi ka guzar hua

Beth k laga sunnay Hazrat ki baten

Bayan khatam hua to sara majma SubhanAllah Ma Shaa Allah ki gardaan karta hua apni rah chala

Hazrat Ji nay Mochi ko bula kay shafqat say poocha: “Miyan! Kuch samajh bhi aya kya guftugu ho rahi thi?”

Bola: “Ji Ma’arfat pay wa’z ho raha tha.”

Poocha: “Phir! Kya samajh aya? Kya hoti hy Ma’arfat?

Bola: “Ji aur to kuch pallay nahi para. Bus Itna he samajh aya kay… Pehley jo Mera Allah Kahay, Main Kar Doon… Phir Jo Main Kahoon, Mera Allah Kar Day!”

HAJJ PER YEHI SUB KUCH HUA KARTA HY JANAB!

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Social, یوم آخرت, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اسلام, حساب کتاب

#TIGHTS_ٹائٹس

۔۔۔۔ ٹائٹس ۔۔۔۔

عام ہوئے ہیں تنگ پجامے

اونچے اور بے ڈھنگ پجامے

اخلاقی اقدار کے باغی

اک اعلان جنگ پجامے

کیسا ہے ملبوس نرالا

برقع بھی، اور تنگ پجامے

سر ڈھانپا اسکارف سے، بہتر

لیکن اس کے سنگ پجامے؟

دیکھو، خود کو بائک پہ، گر

کر دیں تم کو دنگ پجامے

لاکھ چھپاؤ، کر دیتے ہیں

ظاہر اک اک انگ پجامے

چبھتی نظروں کو مت کوسو

دکھلاتے ہیں رنگ پجامے

بتلاتا ہے قول نبیؐ کا

ہیں یہ مثلِ ننگ پجامے

دیکھو! تم کو مروا نہ دیں

روز محشر تنگ پجامے

دینی تعلیمات سے، بہنو

کر لو ہم آہنگ پجامے

مومن کی آنکھوں میں کھٹکیں

مانؔ مثال سنگ پجامے

TIGHTS

AAM HUAY HAIN TANG PAJAMAY

OONCHAY AUR BAY-DHANG PAJAMAY

 

AKHLAQI AQDAAR KAY BAAGHI

EK AILAN E JANG PAJAMAY

 

KESA HY MALBOOS NIRALA

BURQA BHI, AUR TANG PAJAMAY

 

SAR DHAANPA SCARF SAY, BEHTER

LEKIN US KA SANG PAJAMAY?

 

DEKHO KHUD KO BIKE PAY, GAR

KAR DAIN TUM KO DANG PAJAMAY

 

LAAKH CHUPAO, KER DETEY HEN

ZAHIR EK EK ANG PAJAMAY

 

CHUBHTI NAZRON KO MAT KOSO

DIKHLATAY HEN RANG PAJAMAY

 

BATLATA HY QOUL NABI ﷺ KA

HEN YE MISL E NANG PAJAMAY

 

DEKHO! TUM KO MARWA NA DEN

ROZ E MEHSHER TANG PAJAMAY

 

DEENI TALEEMAT SAY BEHNO

KAR LO HUM AAHANG PAJAMAY

 

MOMIN KI ANKHON MAY KHATKEN

MAAN! MISAL E SANG PAJAMAY