Behaviors & Attitudes, Islam, Social, اخلاقیات

Watch, then Wash

گھر کی دہلیز ایسے اوقات میں دھوئیے جن اوقات میں گلی میں لوگوں کی آمدورفت کم ہوتی ہو۔۔۔

اور اگر آپ کا گھر مسجد کے راستے یا اطراف میں ہے تو پھر دھلائی سے پہلے یہ دیکھ لیجئے کہ نماز کا وقت تو قریب نہیں۔۔۔

گلی میں کیچڑ پانی کے باعث نمازیوں کو مسجد جاتے آتے دشواری ہوتی ہے۔

#خودکلامی

Advertisements
Behaviors & Attitudes, Social, پاکستان, اخلاقیات, سیاست

Bara Hosla Chahiye

بڑا حوصلہ چاہئے

بڑا حوصلہ چاہئے۔۔۔
بڑا جگرا چاہئے۔۔۔
قصور کی بے قصور زینب کے اغوا کی سی سی ٹی وی ویڈیو دیکھنے کے لئے۔۔۔
ایک معصوم سی جیتی جاگتی گڑیا۔۔۔
اور ایک بھیڑیا۔۔۔
بھیڑیے کے ہاتھ میں۔۔۔
گڑیا کی انگلی۔۔۔
گڑیا کی بے فکری کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے بھیڑیا اس کا کوئی واقف ہے۔۔۔
سی سی ٹی وی نے بس اتنا ہی دکھایا۔۔۔

اس کے بعد ایک تصویر ہے۔۔۔
جسے دیکھنے کے لئے بھی۔۔۔
بڑا حوصلہ چاہئے۔۔۔
بڑا جگرا چاہئے۔۔۔۔
کچرے کے ڈھیر پر پڑی معصوم سی گڑیا کی روندی ہوئی لاش۔۔۔

اور اس سب کے بیچ۔۔۔۔
بڑا حوصلہ چاہئے۔۔۔
اس سب کے بیچ گزرے۔۔۔۔
ان دیکھے مناظر کو چشم تصور سے دیکھنے کے لئے۔۔۔

گڑیا بھیڑیے کے ساتھ بڑے اطمینان سے چلی گئی۔۔۔
اور پھر بھیڑیے نے گڑیا کے ساتھ بڑے اطمینان سے۔۔۔۔

پورے چار دن گڑیا لاپتہ رہی۔۔۔
بھیڑیا چار دن تک بھنبھوڑتا رہا ہو گا۔۔۔

بڑا حوصلہ چاہئے۔۔۔۔
وہ آوازیں سننے کے لئے۔۔۔
جو کسی سی سی ٹی وی فوٹیج میں نہ ریکارڈ ہو سکیں۔۔۔
ویسے بھی سی سی ٹی وی کی ریکارڈنگ میں آواز کہاں ہوتی ہے۔۔۔
کتنا چیخی ہو گی۔۔۔
کتنا تڑپی ہو گی۔۔۔۔
کتنا مچلی ہو گی۔۔۔۔
کتنا روئی ہو گی۔۔۔۔
کتنا سسکی ہو گی۔۔۔۔
کتنا چلائی ہو گی۔۔۔۔
امی ی ی ی ی ی ی۔۔۔۔
ابوووووووووووووو۔۔۔۔
کتنا درد۔۔۔۔
کتنا کرب۔۔۔
سہا ہو گا۔۔۔
کرب اور درد جیسے الفاظ اس قابل کہاں۔۔۔
کہ وہ بوجھ اٹھا سکیں۔۔۔
جو گڑیا نے سہا ہو گا۔۔۔
پورے چار دن۔۔۔۔

جن کی اولاد نہیں، وہ بھی لرز گئے۔۔۔
اور جو صاحب اولاد ہیں۔۔۔۔
خاص کر جو بیٹیوں والے ہیں۔۔۔
ان کی حالت نہ پوچھئے۔۔۔

کہ بیٹیاں تو سانجھی ہوتی ہیں۔۔۔

اور۔۔۔
بڑا حوصلہ چاہئے۔۔۔
اس طرح کے بیانات جاری کرنے کے لئے۔۔۔
جو ارباب اختیار نے جاری کئے۔۔۔
کسی کو مسلے ہوئے پھول سے بد بو آ رہی ہے۔۔۔
تو کوئی مشورہ دے رہا ہے کہ بچوں کو گھروں میں رکھنا چاہئے۔۔۔
اور کوئی کہہ رہا ہے کہ لاش پر سیاست نہ کیجئے۔۔۔

لیکن اے صاحبان اقتدار!
جان لیجئے۔۔۔
عوام کا حوصلہ اب جواب دیتا جا رہا ہے۔۔۔
عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔۔۔

زبانی جمع خرچ کے بجائے عملاً کچھ کر دکھائیے۔۔۔
اور بہت جلد کر دکھائیے۔۔۔
بھیڑئیے کو پکڑ کے دکھائیے۔۔۔
انصاف کے تقاضے فی الفور پورے کیجئے۔۔۔
اور سر عام کسی چوک پہ ٹانگ دیجئے۔۔۔

لیکن۔۔۔
اس کو یکدم پھانسی نہ دے دیجئے گا۔۔۔
پھانسی سے پہلے۔۔۔
اس کی چیخیں سنوا دیجئے۔۔۔
اس کا تڑپنا دکھا دیجئے۔۔۔۔
اس کا مچلنا دکھا دیجئے۔۔۔۔
اس کی سسکیاں سنوا دیجئے۔۔۔
اس کا چلانا دکھا دیجئے۔۔۔
اس کو اسی درد سے گزار دیجئے۔۔۔
اس کو اسی کرب سے گزار دیجئے۔۔۔۔

پلیز۔۔۔
جلدی سے وہ وقت وہ گھڑی وہ لمحہ لے آئیے۔۔۔
یقین جانئے۔۔۔
اس وقت کا انتظار کرنے کے لئے بھی۔۔۔
بڑا حوصلہ چاہئے۔۔۔۔

Behaviors & Attitudes, Emaan, Eman, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, Social, نماز, امر بالمعروف و نہی عن المنکر, اخلاقیات, اسلام, علم دین

Ujlat

عجلت

ہم من حیث القوم ایک عجیب افراتفری کا شکار ہیں۔۔۔ جلد بازی ہماری فطرت بنتی جا رہی ہے۔۔۔ ٹریفک سگنل ہو یا ریلوے کراسنگ۔۔۔ رکنا ٹھہرنا انتظار کرنا ہمارے لئے سخت محال ہوا کرتا ہے۔۔۔ سڑک بلاک ہو گئی ٹریفک جام ہو گیا تو ڈھٹائی کے ساتھ رانگ سائیڈ پہ چل دیئے۔۔۔ بلکہ فٹ پاتھوں پہ گاڑیاں دوڑا دیں۔۔۔اور جانے کیا کیا۔۔۔

ہماری یہ عجلت پسندی مسجدوں میں بھی چلی آئی ہے۔۔۔ چنانچہ با جماعت نمازوں میں بھی ہم سے صبر و قرار سے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔۔۔ ایک شدید اضطرابی کیفیت ہوتی ہے۔۔۔ اور اس کے باعث نمازوں کے دوران ایک عجیب ناگوار صورت حال نظر آتی ہے۔۔۔

امام صاحب نے جہری قرات میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت پڑھی اور رکوع میں جانے سے قبل آخری آیت ذرا زیادہ کھینچ دی۔۔۔ اب سورت یاد نہیں تو آیت کی کھینچ سے پہلے ہی الرٹ ہو گئے کہ امام صاحب رکوع میں جانے والے ہیں، اور اگر سورت یاد ہے پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔۔۔ امام صاحب کی تکبیر سے قبل ہی ہاتھ چھوڑ دیئے۔۔۔ حتیٰ کہ بعضوں نے رکوع کے لئے جھکنے کا بھی آغاز کر دیا۔۔۔

امام صاحب رکوع سے اٹھے اور قومہ میں ذرا توقف کیا تو یہ لمحہ دو لمحہ کا قیام طبع نازک پہ سخت گراں گزرا۔۔۔ ٹھہر بھی گئے تو سخت اضطراب میں۔۔۔ ورنہ امام صاحب سے پہلے ہی سجدے کے لئے جھکنا شروع کر دیا۔۔۔ امام صاحب کی تکبیر میں مزید تاخیر ہوئی تو بعض نمازی جھکتے جھکتے رکوع کی حالت میں پہنچ چکے۔۔۔ اب وہاں رکے رکے امام صاحب کی تکبیر کا انتظار کر رہے۔۔۔ یعنی رکوع کے بعد ایک اور رکوع۔۔۔ سبحان اللہ

اسی طرح امام صاحب سجدے سے اٹھے اور جلسے کی حالت میں ذرا توقف کیا۔۔۔ لیکن اب یہ کوئی سیاسی جلسہ تھوڑی ہے کہ بیٹھا جائے۔۔۔ امام صاحب سے پہلے ہی اگلے سجدے کے لئے جھکنا شروع۔۔۔ یہاں بھی اگر امام صاحب کی تکبیر میں تاخیر ہوئی تو عجیب مضحکہ خیز کیفیت۔۔۔ گویا مرغا بنے بیٹھے ہیں۔۔۔۔

ایسے نمازیوں کے لئے تین حل پیش کئے جا رہے ہیں۔۔۔

۔ یا تو تنہا نماز پڑھ لیجئے۔۔۔

۔ یا پھر تحمل سے امام کے پیچھے پیچھے چلئے۔۔۔

۔ اور اگر امام سے آگے ہی بڑھنا ہے تو پھر امام کو پیچھے کیجئے اور خود مصلیٰ سنبھالئے۔۔۔

وگرنہ کم از کم پتہ تو کر لیجئے کہ اس طرح سے نماز ادا ہو بھی جاتی ہے یا نہیں؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ پھٹی بوری میں نمازیں جمع کی جا رہی ہیں؟

Behaviors & Attitudes, Social, اخلاقیات, حسن سلوک

NAQSH

نقش

دفتری زندگی کے بھی عجب مشاہدات و تجربات ہوتے ہیں۔ باہر کی تو بات چھوڑئیے ، محض دفتر کے اندر ہی ان گنت افراد سے واسطہ پڑتا  رہتا ہے۔ کئی لوگ آتے ہیں چلے جاتے ہیں۔ کوئی فوت ہو گیا۔کسی کا تبادلہ ہو گیا۔کوئی از خود چھوڑ گیا توکوئی ریٹائر ہو گیا ۔

پھر ان میں افسر و ماتحت  کی قید بھی ضروری نہیں کہ رویے تو سب ہی ایک دوسرے کے محسوس کر رہے ہوتے ہیں ۔  افسر کا ماتحت کے ساتھ رویہ کیسا ہے یا ماتحت کا اپنے افسر کے ساتھ، یا افسران بالا کا ماتحت افسران کے ساتھ  ۔۔۔ غرض ہر ایک کا دوسرے کے ساتھ برتاؤ دلوں پر نقش ہو رہا ہوتا ہے اور یہی برتاؤ پھر آگے چل کر تعلق کی بنیاد بنتا ہے ۔ اسی رویہ پر منحصر ہوتا ہے کہ منظر سے ہٹ جانے یا ریٹائر ، ٹرانسفر یا فوت ہو جانے کے بعد پیچھے رہ جانے والے افراد مذکورہ فرد کو کس طرح یاد کرتے ہیں۔ اور یہی برتاؤ اس بات کا بھی فیصلہ کرتا ہے کہ جانے والے سے مزید تعلق رکھنا ہے یا نہیں۔

  مجھے اپنے ادارے سے وابستہ ہوئے دو عشرے سے زائد ہو چلے ہیں۔ اس دوران بے شمار لوگ آئے اور گئے ۔  اکثر لوگ اپنے پیچھے خوشگوار یادیں چھوڑ گئے۔ چنانچہ جب کبھی انہوں نے دفتر کا چکر لگایا تو ان کی آمد پرآنکھیں چمک اٹھیں،  چہرے کھل اٹھے اور بازو وا ہو گئے۔ ان کی خوب آؤ بھگت کی گئی۔سر راہ کہیں مل گئے تو لوگوں کو ان کے ساتھ عزت و تکریم کے ساتھ پیش آتے دیکھا۔ یہ تو ان کی آمد پر معاملہ دیکھا۔ اور ان کے پیچھے کبھی ان کا ذکر چھڑ گیا تو معلوم ہوا فضا معطر ہو گئی۔ گویا یاد کرنے والوں کے لبوں سے پھول جھڑ رہے ہوں۔

اس کے برعکس چند ایسے افراد سے بھی واسطہ پڑا جو اپنے ساتھیوں کے لئے باعث آزار بنے۔ یہ بدنصیب اپنے پیچھے تلخ یادیں چھوڑ گئے۔ چنانچہ ان میں سے کبھی کوئی پلٹ کے دفتر آیا تو لوگوں کے منہ بن گئے اور ماتھے پر شکنیں ابھر آئیں۔ کچھ کو منہ چھپاتے دیکھا تو کچھ کو بحالت مجبوری ہاتھ ملاتے اور اپنی راہ لیتے دیکھا۔ کچھ کو تو بعد ازاں ہاتھ دھوتے بھی دیکھا گویا نجاست لگ گئی ہو۔ استغفراللہ۔اور اگر کبھی بھولے سے ان کا ذکر چھڑ گیا تو ایسے ایسے ملفوظات و القابات سننے کو ملے ان کی شان میں کہ الامان الحفیظ۔

حاصل کلام یہ ہے کہ آپ جس بھی شعبے سے وابستہ ہیں، اپنا جائزہ لیجئے۔ اگر اللہ رب العزت نے  آپ کو کوئی بلند مقام مرتبہ یا منصب عطا کیا ہے تو اسے محض اللہ کا فضل جانئے۔ اپنی گردن میں سریا نہ آنے دیجئے۔ اپنے ساتھیوں خاص کر ماتحتوں کے ساتھ نرم رویہ اختیار کیجئے۔ ان کی پریشانیوں میں کمی نہ کر سکتے ہوں تو ان میں اضافے کا باعث تو ہرگز نہ بنئے۔

یاد رکھئے

آپ جہاں بھی جا رہے ہیں۔۔۔

جس سے بھی مل رہے ہیں ۔۔۔

آپ کا ایک امیج ایک تاثر سامنے والے کے ذہن و دل پر نقش ہو رہا ہے۔

کوشش کیجئے کہ بھلا تاثر قائم ہو۔

کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد ازاں کبھی آپ کا ذکر بھی آئے۔۔۔

تو لوگ ناک پر رومال رکھتے پھریں۔

دل دکھانا چھوڑیئے اور دلربا بن جائیے

آپ پتھر کیوں بنے ہیں آئینہ بن جائیے

 بادشاہی چاہئے؟ قرب الٰہی چاہئے؟

دل میں رہئے اور ہونٹوں کی دعا بن جائیے

پیاس دھرتی کی بجھے، خود سے تعلق بھی رہے

جب بلندی پر پہنچئےتو گھٹا بن جائیے

پھول بھی کھلتے رہیں غنچے گلے ملتے رہیں

باغ ہستی کے لئے موج صبا بن جائیے