Uncategorized

Why Isolation???

آئسولیشن کا فائدہ؟؟؟

ہم سب کورونا وائرس کے سبب گھروں تک محدود کر دیئے گئے ہیں۔ بظاہر احتیاطی تدبیر ہے وائرس سے بچنے بچانے کی۔ حقیقت اللہ ہی جانے کہ اس آئسولیشن کے پیچھے اس کا کیا پلان ہے ہمارے لیے؟

ابھی چار چھ دن پہلے تک وقت رک ہی نہیں رہا تھا۔ کب رات ہوئی کب دن نکلا کچھ پتہ ہی نہ چلتا تھا۔ نہ کام پورے ہو رہے تھے نہ آرام۔ کھانا بھاگم بھاگ تو نمازیں لپک جھپک۔ ہر وقت ایک افراتفری۔ اب فرصت ہی فرصت ہے تو سمجھ ہی نہیں آ رہا کیا کریں۔ ٹک کے گھروں میں بیٹھنا دوبھر لگ رہا ہے۔

غالب نے کہا تھا
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

تو فرصت کے یہ دن تصور جاناں میں بھی بسر کئے جا سکتے ہیں۔ کیا خیال ہے دن میں کچھ لمحات اپنے رب کے ساتھ نہ گزار لیے جائیں؟ کتنا تھک گئے تھے ناں ہم۔ تو ماں سے ستر گنا زیادہ شفیق و مہربان رب کی گود میں چند منٹ سستا نہ لیا جائے؟ کیوں نہ نمازوں کو سکون سے ادا کر لیا جائے۔ اللہ کا کچھ ذکر کچھ تلاوت قرآن کریم کچھ صبح و شام کی تسبیحات کا اہتمام کر لیا جائے۔ رب کریم سے راز و نیاز کی باتیں کر لی جائیں۔ پیارے نبی ﷺ کی خدمت میں روزانہ سو دو سو درود پاک کا ہدیہ پیش کر دیا جائے۔۔۔ کچھ سیرت مبارکہ کا مطالعہ کر لیا جائے۔ گھر والوں کے ساتھ دو چار منٹ اللہ رسول کی بات کر لی جائے۔

کیا کہا؟
نسخہ طویل ہو گیا۔
اچھا۔۔۔
چلیں مختصر کر لیں۔
فقط اپنی نمازوں کو ہی کچھ طویل کر لیں۔
آج کل بیشتر افراد گھروں پر ہی نماز ادا کر رہے ہیں۔

فجر کی نماز میں طویل سورتوں سے تلاوت مسنون ہے۔ تو جن کو طویل سورتیں یا ان کا کچھ حصہ یاد ہو وہ نماز فجر میں وہی تلاوت کر لیں۔ کم سے کم اتنا قیام ہو جائے جتنا مسجد میں ہوتا ہے۔ چھوٹی سورتیں یاد ہیں تو ایک سے زائد سورتیں ترتیب سے تلاوت کر لیں۔ ظہر میں بھی تلاوت کی مقدار کچھ بڑھا لیں۔ بعض اکابرین کا سنا کہ ظہر کی اول دو رکعات میں سورة یس کی تلاوت کرتے ہیں۔ جن کو سورة یس حفظ ہے وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ یا کوئی اور طویل سورة۔ ورنہ وہی ایک سے زائد چھوٹی سورتوں کی تلاوت کر لیں۔ ایسے ہی عشاء میں کر لیں۔ عشاء کے وتر کی رکعات میں رسول اللہ ﷺ سبح اسم ربک الاعلی اور قل یا ایھا الکافرون اور قل ھو اللہ احد تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ اس سنت پر عمل کر لیں۔

کیا کہا؟

ابھی بھی زیادہ ہے۔

اچھا۔۔۔

چلیں تلاوت کم مقدار میں ہی کر لیں۔ رکوع سجدے کی تسبیحات بڑھا لیں۔ تین کی بجائے پانچ سات مرتبہ پڑھ لیں۔ سنن و نوافل میں قومہ میں سمع اللہ لمن حمدہ ربنا لک الحمد کے بعد حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ کا اضافہ کر لیں۔ سجدے میں تسبیحات کے علاوہ سبحانک اللھم ربنا وبحمدک اللھم اغفر لی یا اور کوئی مسنون دعا کا اضافہ کر لیں۔ دو سجدوں کے درمیان جلسہ میں اللھم اغفر لی و ارحمنی و عافنی و ارزقنی و اھدنی واسترنی و اجبرنی و ارفعنی پڑھ لیں۔ قعدہ آخر میں تشھد اور درود شریف کے بعد ایک دعا کی بجائے زیادہ دعائیں کر لیں۔

جی؟

اس سے بھی کم۔

چلیں پھر نماز کے بعد کچھ اضافی دعا ہی کر لیں۔ آج کل تو ویسے بھی دعاؤں کی بہت ضرورت ہے ناں ہم سب کو۔
سوچ لیجیے۔

جانے یہ فرصت کتنے روز کی ہے۔

ایاما معدودات

کتنے ہی واقعات ہیں آئسولیشن کے۔ یونس علیہ السلام، یوسف علیہ السلام، اصحاب کہف، غار حرا، شعب ابی طالب۔ غور کیجیے ان آئسولیشنز کے بعد کے مدارج پر۔

اللہ ہی جانے کہ اس کا ہمارے لیے اس آئسولیشن کے پیچھے کیا پلان ہے؟ فرمایا: پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو۔ ان میں سے ایک یہ کہ فراغت کو مصروفیت سے پہلے۔

زندگی تم ذرا یہیں رکنا ؏

میں زمانہ بدل کے آتا ہوں

زندگی رکی ہوئی ہے۔

زمانہ بدلنے کی کچھ کوشش نہ کر لی جائے۔

#خودکلامی

1 thought on “Why Isolation???”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s