Behaviors & Attitudes, Social

Elevator

لفٹ

اگلے روز دفتری امور کی انجام دہی کے لئے ایک کثیر المنزلہ عمارت میں جانے کا اتفاق ہوا۔ کوئی بارہ چودہ منزلہ عمارت تھی۔ مرکزی دروازے پر جلی حروف میں ہدایات درج تھیں۔۔۔

مہمان حضرات اپنی گاڑیاں باہر پارک کریں۔

چنانچہ گاڑی باہر ہی کھڑی کرنی پڑی ۔

اندر داخل ہوا تو سیکیورٹی عملے کے استفسار پر بتایا کہ پارکنگ فلور ٹو پر جانا ہے۔

انہوں نے ایک جانب اشارہ کیا۔۔۔

  سر ادھر لفٹ لگی ہوئی ہے اس سے چلے جائیے۔

اتفاق سے لفٹ گراؤنڈ فلور پر ہی موجود تھی۔ چنانچہ تیزی سے اس کی جانب بڑھا۔

لیکن۔۔۔

قسمت کی خوبی دیکھئے چل دی وہ اس لمحے

دو چار ہاتھ جبکہ لب بام رہ گیا

چنانچہ بٹن دبا کے لفٹ کا انتظار شروع کر دیا۔

وہ نیک بخت بھی خیبر میل کی طرح ہر اسٹیشن پر رکتی رکاتی جا رہی تھی۔ ایک دو تین چار۔۔۔ پوری بارہ منزل تک گئی۔ پھر واپسی میں بھی کئی اسٹاپ پر رکتی رکاتی پسنجر اٹھاتی خراماں خراماں گراؤنڈ فلور پر پہنچی۔

مجھے چونکہ ذرا جلدی بھی تھی اس لئے ایک ایک لمحہ گراں گزر رہا تھا۔ سخت کوفت ہو رہی تھی کہ اتنی دیر کا تو کام بھی نہیں تھا جتنا وقت انتظار میں صرف ہو گیا۔

انتظار کے انہی لمحات کے دوران اس تکلیف دہ حقیقت کا ادراک ہوا کہ کثیر المنزلہ عمارات میں رہنے والوں کے جہاں اور بہت سے مسائل ہیں وہیں ایک اضافی مسئلہ لفٹ کا انتظار بھی ہے۔ لفٹ اگرچہ ایک سہولت ہے لیکن اس کا انتظار بہر حال اپنی جگہ ایک اذیت سے کم نہیں۔

بڑا رحم آیا بلند و بالا عمارات کے مکینوں پر۔

بے چاروں کی کتنی زندگی تو لفٹ کے انتظار میں ہی بیت رہی ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s