ہم کیا اور ہمارا اعتکاف کیا

ہم کیا اور ہمارا اعتکاف کیا!

اعتکاف کا مقصد یہ بتایا جاتا ہے کہ بندہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اللہ سے اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرنے کے لئے اس کے گھر کی چوکھٹ پکڑ کر بیٹھ جائے ۔ اعتکاف کی اصل روح یہ بتائی گئی ہے کہ اتنے دنوں کو خاص انقطاع الی اللہ میں گزاریں اور حتی الوسع تمام دنیاوی مشاغل بند کردئیے جائیں۔ اعتکاف کی حکمت یہ بتائی جاتی ہے کہ اس کے ذریعے بندہ دنیا سے کنارہ کش ہو جاتا ہے، دنیا اور اہل دنیا کے ساتھ مشغولیت سے بچ جاتا ہے اور اللہ کی عباد ت کے لئے فارغ ہو جاتا ہے ۔ پس اعتکاف کرنے والے کو چاہئے کہ وہ اپنے دل کو بھی اللہ کی عبادت کے لئے فارغ کر دے ۔مہربان آقا کے در پر سوالی بن کر بیٹھ جانا بہت عظیم سعادت کی بات ہے۔معتکف کو چاہئے کہ اعتکاف کے دوران قرآن مجید کی تلاوت،درود شریف، ذکر و تسبیح، دینی علم سیکھنا اور سکھانا اور انبیائے کرام علیہم السلام، صحابہ کرام اور بزرگانِ دین کے حالات پڑھنا سننا اپنا معمول رکھے، بلا ضرورت بات کرنے سے احتراز کرے۔

لیکن صاحب ہم کیا اور ہمارا اعتکاف کیا! گھر چھوڑنے کا وقت آیا تو حالت یہ تھی کہ دل بیٹھا جا رہا تھا ۔ چار و نا چار دل پر پتھر رکھ کر گھر سے نکلے اور مسجد میں ڈیرہ ڈال دیا ۔ سوچا کہ چلو اب جانے کا ارادہ کر ہی لیا ہے تو پھر یہ عبادت کریں گے، وہ عبادت کریں گے۔ لیکن صاحب عبادت تو ہم سے زیادہ ہوتی ہی نہیں۔ اسلاف کے بارے میں سنا پڑھا تھا کہ اتنے اتنے قرآن پاک کی تلاوت کر لیا کرتے تھے اور اتنے اتنے نوافل ادا کر لیا کرتے تھے ۔ آج بھی یقیناً ایسے لوگ ہوتے ہوں گے لیکن ہم … کم از کم ہمیں تو ایسے لوگوں کی فہرست میں ہرگز شمار نہ کیجئے گا۔ یقین جانئے بس تھوڑی بہت عبادت کر لی ۔ کچھ تلاوت کر لی ۔ ذرا سی شب بیداری کر لی ۔ مگرمچھ کی مانند کچھ آنسو بہا لئے ۔ بس کچھ وقت کارآمد کر لیا (اسے بھی ہماری خام خیالی ہی سمجھئے گا )، بقیہ زیادہ تر وقت تو بیکار ہی گزارا ۔

اعتکاف میں بیٹھنے والا دنیا والوں کی نگاہ میں بڑا نیک پاک عبادت گزار متقی و پرہیزگار تصور کیا جاتا ہے لیکن یہاں یہ حال کہ دن گن گن کے گزارے۔ کبھی اس کا خیال کبھی اس کا خیال۔ کبھی اس کی فکر کبھی اس کی فکر ۔ بس یہی دھن کہ جلدی سے وقت پورا ہو تو یہ پابندیاں ختم ہوں۔ یہی خیال کہ کب وہ وقت آئے گا کہ گھر جا کر بیگم سے ملیں گے، بچوں سے ملاقات کریں گے۔ اور ادھر وہ بھی شدت سے منتظر کہ کب صاحب بہادر گھر واپس لوٹیں گے ۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو تو ہماری عبادت کی ہرگز ہرگز کوئی ضرورت نہیں، تو پھر کیوں اپنے گھر میں آنے کی سعادت بخشی گئی ؟ اور یہ بھی سمجھ نہیں آتا تھا کہ بھئی جب عبادت میں جی ہی نہیں لگ رہا تو کیوں یہاں خود کو مقید کیا ہوا ہے؟

پھر شاید قبولیت کا ہی کوئی لمحہ ہو گا کہ جب یہ عقدہ کھلا۔ کہ جنت کی حوریں بھی تو خوب سج سنور کر اپنے خاوندوں کے انتظار میں بیٹھی ہیں۔ سو جتنی شدت سے اِس گھر واپسی کا انتظار ہے ، اُس گھر واپسی کا بھی کچھ تو شوق ہونا چاہئے ۔ کتنے بکھیڑے جھمیلے خواہ مخواہ ہی بڑھا رکھے ہیں اور ان میں الجھ کر خود کو ہلکان کر رکھا ہے ورنہ بنیادی ضروریات تو بس گنتی ہی کی ہیں۔ جس طرح مسجد میں خود کو محبوس کر لیا ہے، اسی طرح دنیا میں بھی خود کو محبوس کر لیا جائے۔ جس طرح مسجد کے احترام میں فضولیات و خرافات، غیبت و یاوہ گوئی سے بچنے کا اہتمام کیا ، جس طرح مسجد میں نظر کی حفاظت کی (جی ہاں مسجد کے بھی دروازے کھڑکیاں ہوتے ہیں جن سے باہر کے مناظر نظر آ رہے ہوتے ہیں) ، جس طرح دل میں اٹھنے والے فضول خیالات اور دماغ میں برپا ہونے والی فضول سوچوں کو مسلسل جھٹک جھٹک کر دل و دماغ کو طیب و مطہر رکھنے کی شعوری کوشش کی، اسی طرح دنیا میں بھی خود کو بچانے کی کچھ کوشش کر لی جائے ۔ جس طرح بیگم سے ملاقات کے انتظار میں مسجد میں دن گن گن کر گزارے، اسی طرح جنت کی بیویوں کے انتظار میں بھی دن گن گن کے گزار لئے جائیں۔ وقت تو بہرحال گزر ہی جانا ہے اور موت برحق ہے، اور اس کے بعد کے مراحل بھی برحق ہیں۔

تو بھئی ہم تو اعتکاف میں بس یہی کچھ حاصل کر پائے ورنہ … ہم کیا اور ہمارا اعتکاف کیا!

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s