Sarkar ka jalwa hy, tamasha nahi koi

سرکار کا جلوہ ہے تماشہ نہیں کوئی

زیارت حرمین شریفین ہر دور میں ہی مسلمانوں  کی سب سے بڑی آرزو رہی ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ لوگ حج عمرہ کو جاتے تھے تو اس حال میں کہ گناہوں پر شرمسار اور نادم ہوا کرتے تھے ۔ قدم قدم پر آنسو بہا رہے ہوتے تھے ۔ اللہ کے گھر جاتے تو سجدوں سے وہاں کے چپے چپے کو سجا دیتے ۔ ان کا گریہ آسمان کو رلا دیتا ۔ ان کی پکار عرش کو ہلا دیتی۔ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضری کو جاتے ہوئے دربار نبوی ﷺ کے آداب کے تصور سے ہی ان پر لرزہ طاری ہو جاتا ۔ یہ بارگاہِ نبوی ﷺ میں جاتے تو اس خیال سے کہ پیارےآقا ﷺ کو کیا منہ دکھاؤں گا، چہرہ کپڑے سے چھپا کر جاتے۔آواز بلند ہونا تو دور کی بات ، نگاہ تک بلند نہ ہوا کرتی ۔ حد درجہ مؤوب و محتاط۔ نتیجتاً ان کی مرادیں فوری بر آتیں۔ ان کو قبولیت کی سند نقد عطا ہو جایا کرتی ۔اور پھر یہ حرمین شریفین کے روح پرور مناظر کی تصاویر اپنے ذہن و دل میں محفوظ کئے گھروں کو واپس لوٹ آتے۔ جانے والوں کو دیکھ کر رہ جانے والے ان کے مقدر پر رشک کرتے  …اور جانے والے جب لوٹ کر آتے تو ان کے منتظر احباب ان کے گرد پروانہ وار جمع ہو کر ان سے وہاں کے قصے سنتے اور اپنی آنکھیں بھگوتے!

پھر وقت نے کروٹ بدلی اور تصور کی جگہ تصویر نے لے لی۔ ہاتھوں میں تسبیح کی جگہ موبائل فون اور کیمرے آ گئے۔اور حرمین شریفین سریلی گھنٹیوں ، حتیٰ کہ رومان پرور نغموں … جی ہاں رومان پرور نغموں سے گونجنے لگے ۔کیمرے کی آنکھ انسانی آنکھ سے زیادہ پیاسی ہو گئی ۔ الا ما شاء اللہ ہر فرد “پاپا رازی ” بننے پر کمربستہ ہو گیا۔ بس ہر منظر کیمرے میں محفوظ کر لیا جائے “تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے “۔ سارا وقت اسی فکر میں مبتلا کہ اس جگہ کی تصویر بنا لی جائے، اس مقام کی ویڈیو بنا لی جائے۔ حد تو یہ کہ طواف کر رہے تو منظر کشی میں مصروف …اور بارگاہ نبوی ﷺ میں سلام عرض کرنے کو جا رہے تو ویڈیو بنانے میں مصروف ۔ طواف بیت اللہ کے وقت جسمانی حالت و قلبی کیفیت کیا ہونی چاہئے تھی؟ توجہ کہاں ہونی چاہئے تھی؟ سب ایک طرف رکھ دیا۔ چلئے جناب آپ جانئے اور رب کعبہ! لیکن …وہ دربار رسالت ﷺ جس کے آداب کی بابت رب کعبہ نے قرآن اتار دیا اور کوتاہی پر سب نیک اعمال (اگر کچھ ہیں تو وہ بھی ) برباد ہونے کی وعید سنا دی ، اس دربار میں کس قدر محتاط رہنا چاہئے!

اللہ تبارک وتعالیٰ نے سورۃ الحجرات آیت نمبر دو میں فرمایا:

voice

اے اہل ایمان! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) ان کے روبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو۔

اس آیت میں بظاہر تو صرف آواز پست کرنے کا حکم ہے ، تاہم اگر اس آیت کی تفسیر کا جائزہ لیا جائے تو بات کی گئی ہے حضور ﷺ سے محبت کی ،آپ ﷺ کی تعظیم و احترام کی ، آپ ﷺ کی اطاعت و اتباع  کی ، آپ ﷺ کی ذات مبارک سے مکمل قلبی و جذباتی وابستگی کی ۔ خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبر ﷺ کے روبرو مؤدب ہو جاؤ۔ اگر خدانخواستہ حضور ﷺ کی تعظیم اور احترام میں کسی بھی پہلو سے کوئی فرو گذاشت ہو گئی اگرچہ لا علمی میں ہی ہوئی ہو (اور ظاہر ہے کہ جانتے بوجھتے تو کوئی مسلمان سے ایسے کسی عمل کا تصور بھی نہیں کر سکتا ) تو سب کیا کرایا برباد ہو جانے کی وعید ہے ۔

اسی ادب و تعظیم کو چند شعراء نے اپنے اشعار میں یوں بیان کیا :

؎ نظروں کو جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاؤ

بےتاب نگاہی بھی یہاں بے ادبی ہے

؎            اے ظرف نظر دیکھ مگر دیکھ ادب سے

سرکار کا جلوہ ہے تماشہ نہیں کوئی

روضہ مبارک پر حاضری کے وقت اسی طرح فوٹوگرافی میں مشغول ایک صاحب کی خدمت میں مذکورہ بالا اشعار پیش کئے تو بولےکہ “شاعر کا قول ہے ، کوئی حدیث تھوڑی ہے “۔ درست فرمایا۔ چلیئے بھائی آپ کوئی حدیث لا دیجئے کہ جس میں دربار رسالت ﷺ میں حاضری کے وقت فوٹوگرافی کی “اس قدر تاکید “آئی ہو؟

ابھی گزشتہ دنوں ایک سعودی ٹی وی چینل، جو کہ مسجد نبوی ﷺ کے مناظر براہ راست نشر کرتا ہے ، پر یہ منظر دیکھا کہ سنہری جالیوں کے روبرو بیشتر افراد موبائل اور ڈیجیٹل کیمروں کے ذریعے تصاویر اور مووی بنانے میں مصروف تھے۔ اور ایک منچلے نے تو  موبائل سے اپنی سیلفی selfie  (سیلف پورٹریٹ) بنانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔خود ہی بتائیے کیا یہی تقاضے ہیں اس دربار عالی میں حاضری کے ؟

ایک حدیث میں آیا ہے کہ کہ قیامت کے قریب میری امت کے امیر لوگ تو حج محض سیرو تفریح کے ارادہ سے کریں گے ۔۔۔ اور میری امت کا متوسط طبقہ تجارت کی غرض سے حج کرے گا۔۔۔ اور علماءریاوشہرت کی وجہ سے حج کریں گے ۔۔۔اور غربا بھیک مانگنے کی غرض سے جائیں گے۔  (کنزالعمال)

غور فرمائیے! حجاج کے جن چار طبقات کا ذکر کیا گیا ہے کیا وہ چاروں ہی آج نظر نہیں آ رہے؟ خاص کر اول الذکر طبقہ … کہ جیسے لندن پیرس کی سیر و تفریح کے دوران فوٹوگرافی میں مصروف ، ایسے ہی حرمین شریفین کی حاضری کے دوران فوٹوگرافی میں مصروف۔ سیر و تفریح کے انداز میں حج و عمرہ ادا کرنے والے گروہ کو قرب قیامت کی نشانی بتایا گیا تو کیا احتیاط لازم نہیں؟ کم سے کم طواف بیت اللہ کے دوران اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری کے وقت تو فوٹو گرافی سے اجتناب کرنا چاہئے ۔ یوں بھی ہر ہر مقام کی بلا مبالغہ ہزارہا تصاویر پہلے ہی موجود ہیں۔

Advertisements

4 thoughts on “Sarkar ka jalwa hy, tamasha nahi koi

    • یہ فوٹویں سے غالباً آّپ کا مطلب تصاویر ہے ۔۔۔۔
      تو جناب جس وقت وہ تصاویر کھینچ رہے تھے ، اس خاکسار کا فوکس اپنے کمپیوٹر کی اسکرین پر تھا۔

  1. مجھے آپ کے خیالات سے صد فیصد اتفاق ہے۔ مگر بقول اقبال
    وائے ناکمی متاع کارواں جاتا رہا
    کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
    جب احساس ہی نہیں رہا ہے تو پھر کیا ماتم کیجیئے۔

    • جزاک اللہ
      پسندیدگی و حوصلہ افزائی کا شکریہ
      آپ کا اظہار مایوسی بجا ہے لیکن بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ لوگ لاعلمی میں دوسروں کو دیکھ کر بھی کچھ غلطیاں کر بیٹھتے ہیں ، تو اگر ان کو آگاہ کر دیا جائے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اپنی اصلاح کر لیں۔۔۔ ثانیاً یہ کہ
      کھولیں وہ یا نہ کھولیں در تیری نہ ہو اس پہ نظر
      تو تو بس اپنا کام کر یعنی صدا لگائے جا

      تو ہمارا کام یہ ہے کہ ایک دوسرے کو آگاہ کرتے رہیں ۔۔۔۔ باقی ہدایت دینا تو اللہ رب العزت کے ہاتھ میں ہے ۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s