Behaviors & Attitudes, Ramadhan

Good-Bye Ramadhan

گڈ بائے رمضان

ابو شہیر

اللہ اللہ کر کے رمضان ختم ہوا۔

صاحب یہ بھی کیا مہینہ ہے ! مسلمان گویا باؤلے ہی ہو گئے۔ بتاؤ جھنڈ کے جھنڈ مسجدوں کو آنے لگے۔ ہر نماز جمعہ کی نماز کا منظر پیش کر رہی تھی۔ بلکہ سچ پوچھو تو آدمی پہ آدمی گر رہا تھا۔ خدا جھوٹ نہ بلوائے تو وہ وہ لوگ نمازوں کے لئے بھاگے چلے آ رہے تھے جو کہ سال بھر جمعہ میں بھی شاذ ہی دکھائی دیتے ہیں ۔ اف اتنی گرمی ، اس قدر حبس ہو جایا کرتا مسجد میں کہ مانو سانس لینا تک دشوار۔ اور تو اور فجر کی نماز تک بندہ سکون سے نہیں پڑھ سکتا تھا ۔ حد ہی ہو گئی ! ایک صاحب کی سنئے ! بتانے لگے کہ رمضان المبارک کی اولین رات کو ان کی مسجد عشاء کی اذان کے ساتھ ہی بھر گئی ۔ یہ پہنچے تو جگہ ندارد۔ دل ہی دل میں چیخے چلائے کہ “کم بختو میں تو روز آتا ہوں ، مجھے تو اندر آنے دو “… لیکن “کم بختوں “نے ایک نہ سنی ۔ زیادہ تگ و دو کی اندر گھسنے کی تو لوگو ں نے یوں گھورا گویا کہہ رہے ہوں کہ ” ابے تم سارا سال مسجد پہ قبضہ کئے رہے ہم نے کبھی کچھ کہا ؟ ہم تو فقط ایک ماہ کے لئے آئے ہیں ، اور آج پہلے دن ہی تمہارا منہ بن گیا۔ یہ صبر کا مہینہ ہے نا ؟تو اب ذرا تیس دن صبر کرو بلکہ دعا کرو کہ چاند انتیس کا ہو جائے۔ عید کی نماز کے بعد سارا سال مسجد میں منہ بھی دکھایا تو جو چور کی سزا وہ ہماری۔ “

اور جمعہ کو تو مساجد یوں ابل پڑتیں گویا دودھ ابل جائے ۔ نیچے تہہ خانے میں نمازی ، اندر کے ہال میں نمازی ۔ منزل در منزل … یہاں تک کہ اوپر چھت تک نمازی لگا دیئے ۔ پھر بھی باہر شامیانے لگانے پڑتے اور صفیں بچھانی پڑتیں۔ گزرگاہیں اور راستے مسدود کر دیئے جاتے ۔ آنے جانے والوں کو خون کے گھونٹ پینا پڑتے ۔ اللہ اللہ کر کے جان چھوٹی رمضان سے اور جان چھوٹی اس سارے جھنجھٹ سے ۔

اللہ اللہ کر کے بجلی کا بل بھی قابو میں آیا ۔ مسجد کے پنکھوں کی جان میں جان آئی اور قمقموں نے بھی سکھ  کا سانس لیا ۔ بتائیے فجر میں  بھی جمعہ کے برابر پنکھے چل رہے ہوتے تھے ۔ حد ہوتی ہے کسی بات کی !

اللہ اللہ کرکے پھلوں کے نرخ نیچے آئے اور کوالٹی بھی بہتر ہوئی ۔ ورنہ تو خربوزہ ایسا مل رہا تھا کہ بکری کو ڈالو تو وہ بھی منہ پھیر لے ۔ کسی من چلے نے کیا خوب کہا ہے کہ “زندگی میں دو چیزیں قسمت والوں کو ہی نصیب ہوتی ہیں ۔ اچھی بیوی … اور … رمضان میں میٹھا خربوزہ ۔ ” بھئی ہمیں تو آج تک یہی چکر سمجھ نہیں آیا کہ رمضان سال کے جس بھی موسم میں آئے …  آتا خربوزے کے سیزن میں ہی ہے۔ اور کیلا …. قسم لے لو لیلیٰ کی انگلی … بلکہ “مجنوں کی پسلی ” جیسا کیلا بھی سونے کے بھاؤ بک رہا تھا ۔ اوپر سے  پھل والے کی آوازیں … ” اوئے ہوئے … او کیلا ملائی … کیلا ملائی … کیلا ملائی … ” جلتی پہ یوں تیل کا کام کر رہی ہوتیں کہ سننے والا تلملا کر پکار اٹھے:”خبیث!”

اللہ اللہ کر کے ٹریفک کا نظام قدرے بہتر ہوا ۔ بھلا عام دنوں میں ہی ٹریفک کے اصولوں اور سگنل کی بتیوں کی کون پرواہ کرتا ہے … یہ تو پھر رمضان کے دن تھے ۔ ان میں افرا تفری اور بے صبری عروج پہ نہ دکھاتے  تو لعنت ایسی مسلمانیت پر! اور صاحب اس مہینے میں لڑائی جھگڑے اور گالی گلوچ کا تو قسم خدا کی اپنا ہی مزہ ہے ۔ ” ٹھیک ہے کہ ہم نے فلاں کی صحیح سے دھنائی کر دی لیکن اپنی ایمان سے بتائیے کہ کیا اس کی افطار کا مزہ دوبالا نہ ہو گیا ہو گا ؟ ہم نے تو کھجور شربت کی یکسانیت کے مارے کو افطار میں ایک چینج کرا دی اور آپ ہیں کہ ہمی کو کوس رہے ہیں! بھلا کتنے ہوں گے جو ہلدی والے دودھ سے روزہ افطار کرتے ہیں ۔ “

حلوائیوں کی بھی بے زاری ختم ہوئی ۔ کیا یکسانیت بھرے ایام تھے کہ دن بھر سموسے بنانا اور شام میں کڑاہی کے آگے کھڑے ہو کر سموسے تلنا۔ زندگی میں کوئی تیسرا کام ہی نہیں تھا گویا۔

روزہ خوروں نے بھی سکھ کا سانس لیا ۔ کیا فضول مہینہ ہے کہ بندہ روزہ  “نہ ” رکھنے کے باوجود بھی نہ تو کھلے عام کھا پی سکتا ہے ، اور نہ ہی سگریٹ پھونک سکتا یا پان گٹکا چبا سکتا ہے ۔ بندہ پانی کی بوتل بھی منہ سے لگائے  تو لوگ ایسے گھورنے لگتے گویا وہ وہسکی کی چسکیاں لگا رہا ہو!

رویت ہلال کمیٹی والوں کی بھی جان چھوٹی ۔ سال کے یہ دو چاند دکھانے کے لئے ان کی جان پہ بنی ہوئی ہوتی ہے ۔ ایک رمضان المبارک کا اور دوسرا عید الفطر کا ۔ بِزتی خراب ہونے کا شکوہ اپنی جگہ لیکن اپنی ایمان سے بتائیے کہ ان دو مواقع کے علاوہ باقی سارا سال کوئی آپ کو منہ لگاتا ہے بھلا؟

موسیقی کے رسیا بھی عجیب ٹینشن میں تھے کہ بندہ نہ ہندوستانی فلمی گانے سن سکتا ہے نہ عاطف اسلم اور علی ظفر کے ، لے دے کے وہی عزیز میاں اور غلام فرید صابری کی قوالیوں پر گزارا کرنا پڑتا ۔

اور ہندوستانی فلموں کے شوقین بھی اس انتظار میں تھے کہ کب رمضان ختم ہو اور کب اس ماہ کے دوران ریلیز ہونے والی فلموں کی “قضا “کی جائے ۔

تو بھائی رمضان !

چلو اپنی راہ لو ۔

اور ہاں چلتے چلتے یہ شعر ذرا سی ترمیم کے بعد تمہاری نذر …

دو ہی گھڑیاں زندگی میں ہم پہ گزری ہیں کٹھن

اک ترے “جانے “سے پہلے اک ترے “آنے “کے بعد

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s