Muqaddar Ka Sikandar

مقدر کا سکندر

وہ 1949 ء میں ایک متمول کشمیری گھرانے میں پیدا ہوا ۔ اس کا باپ ایک تاجر اور صنعتکار تھا ۔ 70 کی دہائی میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت نے صنعتوں کو قومیانے کا فیصلہ کیا تو اس کے باپ کے کارخانے کو بھی قومی تحویل میں لے لیا گیا ۔ جس کے نتیجے میں اس نے سیاست میں کودنے کا فیصلہ کیا اور پاکستان مسلم لیگ کے جھنڈے تلے اپنی سیاست کا آغاز کیا ۔ قسمت اور بڑے صوبے کے اس وقت کے گورنر جنرل غلام جیلانی خان کی مہربانی سے وہ 1980 ء میں اسی صوبے کا وزیر خزانہ بن گیا ۔ جبکہ اگلے پانچ برسوں میں وہ اسی صوبے کا وزیر اعلیٰ بن گیا۔ اسی دوران وہ اپنا خاندانی کارخانہ بھی دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ آج اس کا خاندان فولاد کی ایک عظیم الشان انڈسٹری کا مالک ہے ۔ نیز اس خاندان نے زراعت ، ٹرانسپورٹ اور شوگر ملز میں بھی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔

تاریخ کی کتابوں کو کھنگالا جائے تو شاید ہی کوئی ایسی دوسری مثال ملے کہ قسمت کسی پر اس درجہ مہربان ہوئی ہو جتنی اس پر مہربان ہوئی ۔ اس کے کاروبار پر نظر ڈالیں تو حیرت ہوتی ہے کہ آج اس کی صنعتی ایمپائر دنیا کے کئی ممالک تک پھیل چکی ہے۔ اس کے سیاسی کیریر جائزہ لیں تو تعجب ہوتا ہے کہ وہ محض31 برس کی عمر میں ملک کے سب سے بڑے صوبے کا وزیر خزانہ، پھر 33 برس کی عمر میں اسی صوبے کا وزیر اعلیٰ ، اور پھر صرف 41 برس کی عمر میں ملک کا وزیر اعظم بن چکا تھا۔ اتنی کم عمری میں کسی کو ترقی کی اتنی منازل طے کرتے ہوئے اس زمین آسمان نے کم کم ہی دیکھا ہو گا ۔ اس وقت کے صدر نے اس کی حکومت کو برطرف کی تو عدالتی حکم اس کے حق میں آ گیا ۔ یہ اور بات کہ جلد یا بدیر اسے بہرحال وزیراعظم کا عہدہ چھوڑنا ہی پڑا۔

ایک مختصر وقفے کے بعد قسمت نےپھر انگڑائی لی اور اس شان سے کہ اس کی جماعت نے دو تہائی اکثریت سے کامیابی حاصل کی ۔ اس مرتبہ پارلیمنٹ میں اپنی پارٹی کی سادہ اکثریت کے باعث وہ ایک طاقتور وزیر اعظم تھا۔ وہ چاہتا تو کیا کچھ نہیں کر سکتا تھا! وہ چاہتا تو ملکی تاریخ کا دھارا موڑ سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک کا مقدر سنوار سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک کو حقیقی فلاحی ریاست بنا کر عوام کے دلوں پر حکومت کر سکتا تھا ۔ وہ چاہتا تو ملکی دولت لوٹنے والوں کو عبرت کا نشان بنا سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک میں اسلامی شریعت نافذ کر سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک میں عدل و انصاف کا اسلامی نظام نافذ کر سکتا تھا۔ وہ چاہتا تو ملک سے سودی نظام کا خاتمہ کر سکتا تھا ۔ وہ چاہتا تو یہ سب کر کے اپنا حشر انبیاء علیہم السلام کے ساتھ کروا سکتا تھا۔۔۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!

تاہم اس کی خوش قسمتی کے قصے ابھی ختم نہیں ہوئے۔ مقدر نے اسے ایک اور سنہرا موقع فراہم کیا ۔ ہمسایہ ملک بھارت نے 1998 ء میں ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کی سالمیت کو چیلنج کیا تو مئی 1998 ء کو اس کی حکومت کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ اس کے ہاتھوں پاکستان اسلامی دنیا کی پہلی اور کرہ ارض کی ساتویں جوہری قوت بن گیا۔ قومی تاریخ کا یہ وہ یادگار ترین لمحہ تھا کہ جب نہ صرف یہ کہ پوری پاکستانی قوم ایک سرشاری کے عالم میں اس کی پشت پر کھڑی تھی بلکہ پورا عالم اسلام بھی اس پر فخر کر رہا تھا ۔ لیکن پھر اچانک ایک احمقانہ فیصلے کے ذریعے فارن کرنسی اکاؤنٹس پر پابندی لگا دی گئی جس کے نتیجے میں قومی یک جہتی کی ساری فضا سبو تاژ ہو گئی ۔ اس فیصلے کو ملکی تاریخ کی سب سے بڑی ڈکیتی بھی کہا جاتا ہے۔ صرف عوام کی دولت ہی نہیں بلکہ عوام کے جذبات بھی لوٹ لئے گئے ۔

لیکن وہ اس سب سے بے پروا محض اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی کوششوں میں مصروف نظر آیا۔ اس جد و جہد میں وہ ان آہنی دیواروں سے ٹکرا بیٹھا جن سے ٹکرانے کا انجام سوائے تباہی کے کچھ نہیں ہوتا ۔سو اس کی حکومت کی بساط لپیٹ دی گئی اور ملک ایک بار پھر آمریت کے شکنجے میں پھنس گیا۔ جیل کی کال کوٹھری اس کا مقدر بنی ۔ وہ عر ش سے گر کر پاتال میں پہنچ چکا تھا۔ اس کے سر پر موت کے سائے منڈلا رہے تھے۔لیکن قسمت نے ابھی بھی اس کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا۔ سو یہ خطرہ بھی کسی نہ کسی طور ٹلا اور عالمی دباؤ کے نتیجے میں آمر وقت نے اسے جلا وطن کرنے کا حکم دیا ۔ وہ سرزمین حجاز مقدس جا پہنچا جہاں وہ شاہی مہمان کی حیثیت سے جدہ کے ایک عالیشان محل میں قیام پزیر رہا ۔

پھر کسی نہ کسی طرح وہ وطن واپس آنے میں کامیاب ہوا ۔ اور آج وہ ایک بار پھر ملک کا وزیر اعظم بن چکا ہے۔ آج پھر پارلیمنٹ میں اسے عددی اکثریت حاصل ہے۔ آج ایک بار پھر اس کے پاس موقع ہے کہ وہ چاہے تو بہت کچھ کر سکتا ہے۔ اسے کسی بھی آئینی ترمیم کے لئے کسی دوسری پارٹی کی حمایت درکار نہیں۔ اس کی سب سے بڑی سیاسی حریف ماری جا چکی ہے جبکہ اس کی حریف سیاسی جماعت آخری ہچکیاں لیتی نظر آ رہی ہے۔ وہ الیکشن سے پہلے بڑے بڑے دعوے کر رہا تھا کہ ہم اقتدار میں آ کر یہ کریں گے ، اور وہ کریں گے۔ اسے ملک کی سسکتی بلکتی عوام نے نجات دہندہ سمجھ کر بھاری اکثریت سے منتخب کیا لیکن آج اس کی حکومت کے ابتدائی فیصلے دیکھ کر واضح طور پر محسوس ہوتا ہے کہ اس نے ماضی کے نشیب و فراز سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

اس نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے سابقہ ادوار حکومت کی طرح سرکاری ملازمتوں پر پابندی کا حکم صادر کر دیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ بھی خارج از امکان قرار دیا جا چکا ہے۔ ملکی معیشت کی بحالی کے لئے لٹیروں کا بے لاگ احتساب کر کے لوٹی ہوئی قومی دولت کو واپس لانے کے بجائے آئی ایم ایف سے مزید سودی قرضے لینے کو ناگزیر قرار دیا جا چکا ہے ۔ بے چہرہ جنگ اور ڈرون حملوں سے متعلق حکومتی پالیسیز بھی کمزوری اور بودہ پن کا شکار نظر آ رہی ہیں۔

مہنگائی اور افراط زر کی ماری عوام بجا طور پر کسی ریلیف کی آس لئے اس کی طرف دیکھ رہی تھی لیکن اس کے وزیر خزانہ کے پیش کردہ بجٹ کے نتیجے میں غریب آدمی کے تن پر موجود آخری چیتھڑہ اور منہ سے آخری نوالہ بھی چھین لیا گیا ہے۔ سابقہ حکومت کے دور میں کھربوں روپے کی کرپشن ہوئی ۔ 82 ارب روپے کا کلیم تو اکیلے توقیر صادق پر ہی نکلتا ہے۔ ایسے کتنے ہی توقیر صادق ملکی خزانے پر ہاتھ صاف کرتے رہے ۔ لیکن انہیں پکڑ کر ان سے غبن کردہ ملکی دولت وصول کرنے کی بجائے وہ ایک بار پھر عوام ہی سے قربانی کا طلبگار ہے۔ جنرل سیلز ٹیکس سولہ فیصد سے بڑھا کر سترہ فیصد کر دیا گیا ہے ۔ موبائل فون پر ٹیکسز میں اس قدر اضافہ کر دیا گیا ہے کہ آج موبائل فون صارفین کو 100 روپے کے کارڈ پر 41.50 روپے ٹیکس دینا ہو گا گویا 41.50 فیصد ٹیکس۔ دنیا میں شاید ہی کسی ملک میں اس شرح سے ٹیکس نافذ کیا گیا ہو۔ سی این جی کی قیمتوں میں بھی رمضان المبارک کے بعد ہوشربا اضافہ کی شنید ہے جو کہ ذرائع کے مطابق 80 فیصد تک ہو سکتا ہے ۔ یہ بھی یقیناً ایک عالمی ریکارڈ ہی ہو گا ۔ حد تو یہ ہے کہ عازمین حج پر بھی فی کس پانچ ہزار روپے ٹیکس لگا دیا ہے ۔ کہا یہ جا رہا ہے کہ یہ ٹیکس حجاج کرام پر نہیں بلکہ حج ٹور آپریٹر پر لگایا گیا ہے ، لیکن ظاہر ہے ٹور آپریٹر وصول تو حاجیوں سے ہی کرے گا ، اپنے پاس سے تو دینے سے رہا۔ کاش کبھی کوئی غیر جانبدار ادارہ اس بات کا جائزہ لے اور بتائے کہ پاکستان کی عوام بالخصوص ملازمت پیشہ طبقہ (جن کی تنخواہوں سے انکم ٹیکس پیشگی ہی وصول کر لیا جاتا ہے) انکم ٹیکس، جی ایس ٹی ، ایکسائز ڈیوٹی ، پراپرٹی ٹیکس ، موٹر وہیکل ٹیکس ، ود ہولڈنگ ٹیکس وغیرہ کی مدات میں اپنی آمدنی کا کل کتنا فیصد حصہ بطور ٹیکس ادا کر رہا ہے؟

ملک کی اسلام پسند عوام اور دینی حلقے اس سے بجا طور پر توقع کر رہے ہیں کہ وہ ملکی معیشت کو سودی نظام سے پاک کرنے کے لئے اقدامات کرے… ملک میں اسلامی نظام عدل رائج کرے … اسلامی شریعت کے نفاذ کی عملی کوشش کرے … ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی سعی کرے… لیکن ایسی “خرافات ” اس کی ترجیحات میں شامل کہاں؟

اتنے مواقع جس شخص کو ملیں اسے مقدر کا سکندر کہا جاتا ہے ۔۔۔  معلوم نہیں کہ اتنے مواقع ملنے کے بعد بھی ملک و قوم کے لئے کچھ نہ کر پانے والے شخص کو کیا کہا جائے گا؟90 کی دہائی میں جب وہ پاکستان کا وزیر اعظم تھا تو ملائیشیا میں مہاتیر محمد اس کا ہم عصر تھا۔ آج ترکی کا رجب طیب اردگان اس کے معاصرین میں شامل ہے۔ دونوں نے اپنے اپنے وطن کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔ دونوں نے ملکی و عالمی سطح پر کتنی نیک نامی کمائی ۔

آہ ارضِ وطن …. تیرا مقدر !

واہ سکندر… تیرا مقدر!

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s