Behaviors & Attitudes, Marriage in Islam

Hunh! Hamen to kisi nay poocha hi nahi…

ہونہہ! ہمیں تو کسی نے پوچھا ہی نہیں …

از۔۔۔ ابو شہیر

حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا ہے ۔ یعنی وہ دس صحابہ ؓ، جن کو دنیا ہی میں زبان رسالت ﷺ سے جنت کی بشارت عطا ہوئی ۔ان  کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے اوپر زرد رنگ کا نشان تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا نکاح کر لیا ہے ؟

کہا: جی ہاں ۔

دریافت فرمایا: کس سے ؟

جواب دیا: ایک انصاری عورت سے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : اسے مہر کتنا دیاہے ؟

انہوں نے کہا :ایک گٹھلی کے برابر سونا ۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کا ہو ۔

حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار چوٹی کے مالدار صحابہ ؓ میں ہوتا تھا۔ دولت ان پر برستی تھی ۔ مکے سے خالی ہاتھ آئے تھے لیکن جب ان کے انصاری بھائی حضرت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ نے اپنا نصف مال ان کو پیش کیا تو انہوں نے ان کی اس پیشکش کو قبول کرنے سے معذرت کر لی اور دعا دیتے ہوئے کہا کہ مجھے بازار کا راستہ بتا دیجئے ۔ یوں انہوں نے مدینہ منورہ میں تجارت کا آغاز کیا جو کہ بعد ازاں اتنی وسعت اختیار کر گئی کہ ان کا تجارتی مال سینکڑوں اونٹوں پر لد کر باہر جاتا اور اسی طرح باہر سے آتا ۔ تجارت کے علاوہ زراعت بھی وسیع پیمانے پر کیا کرتے تھے ۔ حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ دولت کے ساتھ ساتھ دل کے بھی غنی تھے۔ اپنی دولت راہ خدا میں بے دریغ خرچ فرمایا کرتے تھے ۔ ابن اثیر کے مطابق حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دو بار چالیس چالیس ہزار دینار راہ خدا میں وقف کئے ۔ ایک مرتبہ جہاد کے موقع پر پانچ سو گھوڑے اور پانچ سو اونٹ حاضر کئے ۔ سورۃ برأۃ کے نزول کے موقع پر چار ہزار درہم پیش کئے ۔ ایک مرتبہ اپنی ایک زمین چالیس ہزار دینا ر میں فروخت کی اور یہ ساری رقم فقراء ، اہل حاجت اور امہات المؤمنین میں تقسیم کر دی ۔ ایک مرتبہ شام سے تجارتی قافلہ لوٹنے پر رسول اکرم ﷺ کا یہ قول سنا کہ عبد الرحمٰن ابن عوف ؓ جنت میں گھسٹتے ہوئے داخل ہوں گےتو پورا قافلہ راہ خدا میں وقف کر دیا ۔ ابن سعدؒ کے مطابق ایک مرتبہ حضرت عبد الرحمٰن ابن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی ایک زمین چالیس ہزار دینار میں فروخت کر کے ساری رقم امہات المؤمنین میں تقسیم کر دی ۔ ایک اور موقع پر ایک زمین چالیس ہزار دینار میں حضرت عثمان غنی ؓ کو فروخت کر کے وہ رقم بھی راہ خدا میں وقف کر دی ۔ اس کے علاوہ اپنی زندگی میں ہزاروں غلام اور لونڈیاں آزاد کیں ۔

وفات کے وقت جو ترکہ پیچھے چھوڑا اس میں کثیر جائیداد کے علاوہ ١ ہزار اونٹ،٣ ہزار بکرياںاور سو گھوڑے چھوڑے ۔ ٢٠ اونٹ ان کی جرف کی زمينيں سيراب کرتے تھے۔ سونا اتنا تھا کہ اسے کلہاڑی سے کاٹا گيا اور کاٹنے والوں کے ہاتھوں ميں آبلے پڑ گئے۔ عبدالرحمان کی ٤ بيواؤں ميں سے ہر ايک کو ٨٠ ہزار دينار ملے۔ ٥٠ ہزار ديناران کی وصيت کے مطابق مسافروں کو ديے گئے۔ جنگ بدر ميں حصہ لینے والے ہر صحابی کے ليے انھوں نے ٤٠٠ دينار کی وصيت کی تھی ، جن کی تعداد ١٠٠ تھی ۔ امہات المومنين کے ليے ایک باغ کی وصیت کی جو ٤ لاکھ درہم میں فروخت ہوا۔ اپنے غلاموں ميں سے بيشتر کو انھوں نے آزاد کر ديا تھا۔ یہ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف ؓ    کی دولت کا مختصر سا جائزہ ہے ، جس سے بخوبی ظاہر ہے کہ وہ اپنے وقت کے کروڑ پتی آدمی تھے ۔ اتنے بڑے رئیس نے اپنی تمام دولت و ثروت کے باوجود نکاح کیا … تو اتنی سادگی سے  … کہ وقت کے نبی رسول اکرم ﷺ تک کو بھی مدعو نہیں کیا ۔

صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو رسول پاک ﷺ سے کس قدر محبت تھی ، یہ جاننے کے لئے سیرت مبارکہ کے دو واقعات دیکھ لیتے ہیں۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر عروہ بن مسعود ثقفی کفار کے نمائندے بن کر آئے تو یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ؓ آپ ؐ کے وضو کا پانی تک زمین پر گرنے نہیں دیتے اور لے لے کر ہاتھوں اور چہروں پر مل لیتے ۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ حضرت ام سلیم ؓ کے گھر میں آرام فرما رہے تھے ۔ گرمی کے باعث آپؐ کے جسم اطہر سے پسینہ ٹپک رہا تھا ۔ حضرت ام سلیم ؓ نے وہ پسینہ ایک بوتل نیچے رکھ دی اور پسینہ اس میں جمع ہونے لگا۔ حضور ﷺ کی آنکھ کھلی تو پوچھا کہ ام سلیم کیا کر رہی ہو۔ کہا آپ کا پسینہ مبارک جمع کر رہی ہوں۔ بعد میں جب اس پسینے کو چھڑکتیں تو پورا گھر مہک اٹھتا کہ حضور ﷺ کا پسینہ مبارک بھی معطر اور خوشبودار ہوتا تھا۔

تو رسول اللہ ﷺ سے تمام تر محبت کے باوجود حضرت عبد الرحمٰن بن عوف نے نکاح میں آپ ﷺ کو دعوت نہ دی ۔ بعد ازاں جب رسول اللہ ﷺ نے زرد رنگ کے نشانات دیکھے تو استفسار فرمایا کہ کیا نکاح کر لیا ہے ؟ جس کے بعد دونوں حضرات کے مابین درج بالا مکالمہ ہوا ۔ اس واقعہ سے صاف ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مدعو نہ کئے جانے پر کسی قسم کی کوئی شکایت نہ کی ۔

بڑے دعوے کرتے ہیں ہم رشتہ داروں سے محبت کے ۔ لیکن جب ہمارا کوئی رشتہ دار ہمیں کسی وجہ سے اپنے ہاں کی تقریب میں مدعو نہ کرے تو ہمارا رویہ کیا ہوتا ہے ؟ منہ بسور کر بیٹھ جاتے ہیں۔ ناراض ہو جاتے ہیں۔ لڑ پڑتے ہیں۔ حد تو یہ کہ قطع تعلق کر بیٹھتے ہیں۔

“ہونہہ ! ہمیں تو کسی نے بلایا ہی نہیں۔ ہمیں تو کسی نے پوچھا ہی نہیں۔ ہمیں تو کسی نے اس قابل ہی نہیں سمجھا ۔ناک کٹ گئی ہماری ۔ لعنت ہو ایسی رشتہ داری پر۔  دفعہ کرو ایسے رشتہ داروں کو ۔ “

سوال یہ ہے کہ ہم اپنے رشتہ داروں سے جس قدر شدید محبت کے دعوے کیا کرتے ہیں …کیاہماری محبت اس محبت سے زیادہ … یا اس کے برابر ہے …یا ہو سکتی ہے … جو  صحابہ کرام ؓ اور رسول اللہ ﷺ نے درمیان تھی ؟ سوال یہ بھی ہے کہ ہم صحابہ کرام ؓ اور رسول اللہ ﷺ سے محبت کے جتنے بلند و بانگ دعوے کیا کرتے ہیں … کیا ہمارے گھروں کی شادیاں اتنی سادگی اور اتنی خاموشی سے ہو سکتی ہیں ؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر ہمارا کوئی رشتہ دار سنت کی پیروی میں شادی ایسی “سادی “کر لے تو … کیا ہمارے لئے اس کا یہ عمل قابل قبول یا قابل برداشت ہوتا ہے ؟ سوال یہ بھی ہے کہ اگر وہ اپنی کسی مجبوری کے تحت ہمیں مدعو نہ کرے  تو …  کیا ہمارا رد عمل سنت نبوی ﷺ سے مطابقت یا مشابہت رکھتا ہے ؟

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s