Anay walay dino ka aik khaka…

آنے والے دنوں کا ایک خاکہ

از۔۔۔ ابو شہیر

ایک بار پھررمضان المبارک کی آمد آمد ہے ۔

ایک بار پھر شہر میں تراویح کے شارٹ پیکیجز کے بینرز جا بجا سجا دیئے جائیں گے ۔

ایک بار پھر رویت ہلال پر فضیحتہ ہو گا ۔ پھر ملک کے ایک مخصوص گوشے کے باشندے باقیماندہ ملک سے ہٹ کر ایک دن قبل ہی روزوں کا آغاز کر کے قومی و ملی یک جہتی کو پارہ پارہ کر دیں گے۔

ایک بار پھر ٹی وی چینلز پر رویت ہلال کے حوالے سے طویل و لا حاصل مباحثے دیکھنے کو ملیں گے۔

ایک بار پھر رویت ہلال کے اعلان کے ساتھ ہی سارا شہر فائرنگ کی آوازوں سے گونج اٹھے گا۔

ایک بار پھر بہت سے اولو العزم افراد تین روزہ اور چھ روزہ تراویح پڑھ کر باقی مہینے کے لئے فارغ ہو جائیں گے ۔

ایک بار پھر اوقات سحر میں بعض مساجد سے اعلانات بلند ہوں گے کہ حضرات اس وقت اتنے بج کر اتنے منٹ ہو رہے ہیں۔ آپ حضرات جلد از جلد سحری کھا کر فارغ ہو جائیں۔ سحری کا انتہائی وقت اتنے بج کر اتنے منٹ ہے ۔

ایک بار پھر روزہ خوری انجوائے کرنے والے بصد اہتمام روزی خوری انجوائے کریں گے ۔ دفاتر اور جائے کاروبار میں اس مقصد کے لئے الیکٹرک کیٹل ، ٹی بیگز اور خشک دودھ کا اسٹاک کر لیا جائے گا۔ چھوٹے کو حلوائی کی دوکان پر بھیج کر سموسے منگوا لئے جائیں گے جہاں صبح گیارہ بجے سے ہی سموسے تلنے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہو گا ۔ یہ نہ بھی ہوا تو بیکریاں زندہ باد۔ سگریٹ پان بھی خاطر خواہ مقدار میں رات کو ہی جمع کر لئے جائیں گے تاکہ دن کے اوقات میں پریشانی نہ ہو ۔

ایک بار پھر پھلوں اور سبزیوں کے نرخ بڑھا دیئے جائیں گے ۔ بد تر سے بد تر کوالٹی کے پھل کی قیمت بھی آسمان سے باتیں کر رہی ہو گی ، لیکن خریدار پھر بھی خرید رہے ہوں گے ۔ تاہم ساتھ ساتھ ریڑھی والے کو بے بھاؤ کی بھی سنا رہے ہوں گے ۔

ایک بار پھر بے صبری کے مناظر اپنے عروج پر ہوں گے ۔ بالخصوص شام کے اوقات میں دفتر اور کاروبار سے لوٹنے والوں کی کیفیت وہی ہو گی کہ بس میں نکل جاؤں، دنیا جائے بھاڑ میں۔ اس طرز عمل کے نتیجے میں پھر ٹریفک جام کے مناظر نظر آئیں گے ۔پھر سڑکوں پر ٹریفک درہم برہم نظر آئے گا ۔

ایک بار پھر سڑکوں پر لوگ لڑائی جھگڑا ، ہاتھا پائی اور گالی گلوچ کرتے نظر آئیں گے ۔

ایک بار پھر موسیقی کے دلدادہ لوگ جو سارا سال ہندوستانی فلمی گانوں سے  لطف اندوز ہوتے رہے ، رمضان کے احترام میں قوالیوں سے اپنے ذوق موسیقی کی تسکین کرتے نظر آئیں گے۔

ایک بار پھر رمضان عمرہ سیزن کے نام پر ٹریول ایجنٹ عازمین عمرہ کی جیبوں پر ہاتھ صاف کرتے نظر آئیں گے۔

ایک بار پھر گلی محلوں میں رمضان ٹیپ بال کرکٹ ٹورنامنٹ اور نائٹ کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کرائے جائیں گے۔

ایک بار پھر خواتین پورا پورا دن ٹی وی چینلز کے  کوکنگ پروگرامز  دیکھتی، ان میں بتائی جانے والی نت نئے پکوانوں کی تراکیب ذہن نشین کرتی اور شام کو کچن میں ان پر عملدرآمد کرتی نظر آئیں گی۔

ایک بار پھر افطاری میں خوش خوراکی کے مناظر نظر آئیں گے ۔ لذت کام و دہن کی اشیاء حلق تک بھر لینے کے بعد لوگ تراویح میں ڈکاریں مارتے نظر آئیں گے۔ اسی طرح بہت سے نمازی دوران نماز جھولے جھولتے نظر آئیں گے ۔

ایک بار پھر دوران تراویح  بہت سے نمازی امام صاحب کے رکوع میں جانے کے انتظار میں بیٹھے نظر آئیں گے اور جونہی امام صاحب رکوع میں جائیں گے یہ جلدی سے نیت باندھ کر رکوع میں شامل ہو جائیں گے ۔ اور یوں ایک ٹکٹ میں دو مزے ہو جائیں گے یعنی تراویح کی تراویح  اور آرام کا آرام۔

ایک بار پھر ایام کے گزرنے کے ساتھ ساتھ تراویح میں نمازیوں کی تعداد کم ہوتی چلی جائے گی ۔ لیکن ختم قرآن والی شب ایک بار پھر نمازیوں کی ایک بھرپور تعداد نظر آئے گی۔

ایک بار پھر اعتکاف میں معتکفین اپنا پورا پورا بیڈروم اٹھا کر مسجد میں ڈیرہ ڈال لیں گے ۔

ایک بار پھر معتکفین مسجد کے واش روم میں جا جا کر سگریٹ نوشی سے لطف اندوز ہوا کریں گے ۔

ایک بار پھر عید کے چاند کی رویت پر فضیحتہ ہو گا ۔ اور پھر ملک کے اسی مخصوص گوشے کے باشندے باقیماندہ ملک سے ہٹ کر ایک دن قبل ہی عید منا کر ایک بار پھر قومی و ملی یکجہتی کو پرزے پرزے کر دیں گے ۔

ایک بار پھر میڈیا پر رویت ہلال کے مسئلے پر طویل و لا حاصل مباحثے گرم ہو جائیں گے۔

ایک بار پھر مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اعلان کے ساتھ ہی سارا شہر فائرنگ کی آوازوں سے گونج اٹھے گا۔

ایک بار پھر لیلۃ الجائزہ یعنی انعام کی رات المعروف “چاند رات ” کو نوجوان لڑکے بازاروں میں اپنی نظروں کی تسکین کا سامان کرنے پہنچ جائیں گے ۔

ایک بار پھر اسی انعام کی رات میں خواتین ہاتھوں پر مہندی لگوانے کے لئے یا چوڑیاں پہننے کے لئے غیر مردوں کے ہاتھوں میں ہاتھ دیئے بیٹھی ہوں گی ۔

ایک بار پھر مساجد ویران ہو جائیں گی۔

اور ایک بار پھر سال بھر کے دوران نمازوں میں نمازیوں کی وہی گنی چنی تعداد نظر آیا کرے گی جو کہ جمعۃ المبارک کے علاوہ نظر آیا کرتی ہے۔

قارئین کرام!

غیب کا علم تو صرف اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ۔ تاہم گزشتہ برسوں میں ہم نے وطن عزیز میں رمضان المبارک کے دوران جس قسم کے مناظر دیکھے ہیں ، ان کی روشنی میں ہم نے آئندہ رمضان المبارک کا ایک خاکہ آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔

اللہ سے دعا ہے کہ ماہ مبارک میں یہ سب کچھ یا ایسا بہت کچھ نہ ہو۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s