Aik Jasarat

ایک جسارت

از۔۔۔ ابو شہیر

الیکشن سے دو دن قبل یعنی 9 مئی 2013 ؁ کو ہمارے ایک بزرگ ہمارے گھر تشریف لائے۔ ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں۔ دوران گفتگو والدہ نے سوال کیا کہ

ووٹ کس کو دیں گے؟”

انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا : “ایم کیو ایم۔ ۔۔بقا کا معاملہ ہے۔ “

ان کا جواب سن کر سخت حیرت ہوئی۔ جی میں تو آئی کہ ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائیں ، ان کو احساس دلائیں کہ آپ کا یہ عمل آپ کی آخرت کے اعتبار سے کس قدر خطرناک اور تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے ، لیکن پھر ساتھ ہی وہ تلخ رویے یاد آئے ،  ماضی میں اس قسم کی جسارتوں پر جن کا سامنا کرنا پڑا ۔ سو فوری طور پر کوئی جواب نہ بن پڑا۔

بزرگوار تو یہ کہہ کر کچھ دیر میں چلے گئے لیکن ہمیں ایک اضطراب ، ایک کرب میں مبتلا کر گئے۔ یقیناً آپ یہ جاننا چاہ رہے ہوں گے کہ بزرگوار کے جواب پر ہمارے اس درجہ مضطرب ہوجانے کی وجہ کیا تھی ؟ تو چلئے پہلے اس کا جواب دیئے دیتے ہیں۔

الحمد للہ ہم مسلمان ہیں۔ ہماری اصل شناخت ، اصل پہچان اسلام ہے ۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ہم سب سے پہلے مسلمان ہیں ، دیگر جو کچھ بھی ہیں اس کے بعد ہیں ۔ اس مسلمانی کے کچھ بنیادی تقاضے ہیں ، جن سے انحراف و روگردانی کرنے کی صورت میں خدانخواستہ دائرہ اسلام سے ہی باہر ہو سکتے ہیں۔ مثلاً عصبیت کے بارے میں حدیث رسول ﷺ ہے:

“لیس منا من دعا الی عصبیة ، ولیس منا من قاتل عصبیة ، ولیس منا من مات علی عصبیة”۔ (رواہ ابوداؤد‘ مشکوٰة:۴۱۸)

مفہوم: جس نے عصبیت کی طرف بلایا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جس نے عصبیت پر جان دی وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو عصبیت کی خاطر لڑا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔یعنی عصیبت کی طرف بلانے والے سے نبی اکرم نے اعلان بریت کیا ہے۔ پاکستان کی دیگر کئی سیاسی جماعتوں کی طرح ایم کیو ایم  بھی لسانیت کی بنیاد پر معرض وجود میں آئی ، اور لسانیت عصبیت ہی کی ایک شکل ہے۔

لسانیت سے صرف نظر کرتے ہوئے اگر ایم کیو ایم کے ابتدائی دور کا جائزہ لیا جائے تو بلاشبہ اس کا آغاز بہت عمدہ تھا اور واقعتاً یہ ایک تحریک بن کر ابھری۔ جماعت کی تنظیم کی اگر بات کی جائے تو وہ بھی مثالی تھی اور آج بھی دیگر جماعتوں کے مقابلے میں بہت بہتر ہے ۔ اس جماعت نے نوجوان طبقے کو بہت زیادہ متاثر کیا اور نوجوان قیادت کو ابھرنے کا موقع فراہم کیا ۔ عظیم احمد طارق جیسے جواں سال لیڈر کو بھلا کون فراموش کر سکتا ہے ۔ پھر یہ کہ نوجوان کارکن جس طرح اپنے قائد کے جانثار بنے ، جلسوں میں جو شاندار نظم و ضبط کے مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں ، جس طرح قائد کی ایک آواز پر جلسہ گاہ میں خاموشی طاری ہو جایا کرتی ہے ، وہ درحقیقت اس جماعت کا ایک امتیازی وصف ہے ۔ اسی جماعت کے پلیٹ فارم سے کراچی کو مصطفیٰ کمال جیسا نوجوان میئر نصیب ہوا جس نے اپنی انتھک محنت اور قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے محض چار برسوں میں اس شہر کی کایا پلٹ دی ۔ قائد تحریک الطاف حسین کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف نہ کرنا بھی زیادتی ہو گی ۔ جن کے ایک اشارے پر تنظیم کے کارکن کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔یہ الطاف حسین ہی کی بصیرت تھی جس نے مصطفیٰ کمال میں چھپی صلاحیتوں کو پہچانا ورنہ مصطفیٰ کمال کو کون جانتا تھا ؟

جس جماعت کو ایسے جانثار اور مخلص کارکن میسر ہوں وہ کیا کچھ نہیں کر سکتی تھی !لیکن پھر نجانے کیا ہوا کہ یہ جماعت ان تاریک راہوں کی جانب چل نکلی جن پر سفر نے اسے آج اس مقام تک پہنچا دیا ہے کہ اپنے بھی خفا ہیں اور بیگانے بھی ناخوش ۔ ایم کیو ایم جاگیردارانہ نظام کے خلاف بغاوت کا علم لے کر کھڑی ہوئی تھی لیکن بد قسمتی سے آج خود ایک جاگیردار جماعت کا روپ دھار چکی ہے۔ فیوڈل ازم سے نفرت کرنے والی اس جماعت کے اطوار و افکار میں آج خود فیوڈل ازم واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ بات بے بات ہڑتالیں کرنے میں یہ جماعت اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ اردو بولنے والوں کے حقوق کے تحفظ کی علمبردار اس جماعت کے مختلف اقدامات سے آج اردو بولنے والوں ہی کا شدید استحصال ہو رہا ہے ۔ شہر کراچی کی آبادی کا بیشتر حصہ اردو بولنے والوں پر مشتمل ہے اور شہر کے بیشتر علاقے اردو بولنے والوں کا مسکن ہیں۔ ہم خود بھی اردو بولنے والے ہیں۔ ہم سوال کرتے ہیں کہ ایم کیو ایم کی ہڑتالوں کے سبب کاروبار زندگی معطل ہوجانے سے سب سے زیادہ نقصان کس کو ہوتا ہے ؟ اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لئے یقیناً کوئی راکٹ سائنس درکار نہیں۔صرف الیکشن سے قبل ماہ مئی کے ابتدائی ہفتے کا جائزہ لیں تو اس دوران تین مرتبہ شہر کراچی بند ہوا اور الیکشن کے بعد سے اب تک متعدد بار شہر بند کرایا جا چکا ہے ۔تاہم طریقہ واردات میں ایک تبدیلی یہ آئی ہے کہ لندن یا رابطہ کمیٹی کی جانب سے ایک یوم سوگ کا اعلان کیا جاتا ہے جس میں عوام سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر دوکانیں اور کاروبار بند رکھیں۔ اور اس رضاکارانہ یوم سوگ ، اور عوام کا ایم کیو ایم سے اظہار یک جہتی وغیرہ کی حقیقت بھی اب سب پر پوری طرح عیاں ہو چکی ہے۔ روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں سے پوچھئے کہ ان ہڑتالوں کے باعث ان پر اور ان کے اہل خانہ پر کیا گزرتی ہے ۔ کاروباری طبقے سے پوچھئے کہ ان ہڑتالوں سے ان کو کہاں کہاں کتنا کتنا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے ۔

اختلاف رائے اس جماعت کو برداشت نہیں ہے ۔ آپ اس کے قائد کی جانب انگلی اٹھا کے دیکھیں ، یہ آپ کا بازو کیا ، گردن مروڑنے پر اتر آئے گی ۔ ایم کیو ایم کی قیادت دینی طبقے سے بھی شدید بیزار معلوم ہوتی ہے ۔ خود اس جماعت کے کارندے کلاشنکوفیں لے کر دندناتے اور شہر بند کراتے پھرتے ہیں ، لیکن اگر کوئی اسلام پسند فحاشی کے اڈے بند کرانے کے لئے ڈنڈہ اٹھالے تو یہ پورے شہر میں “ڈنڈہ بردار کلاشنکوفی شریعت نامنظور “کے بینرز کی بھرمار کر دیتے ہیں۔ اس کھلی غنڈہ گردی کے باوجود بھی میڈیا ان کی طرف براہ راست نشاندہی کرنے سے عاجز ہے اور ساری فرد جرم “نا معلوم افراد “پر عائد کر دی جاتی ہے۔ اللہ اللہ خیر صلا! قربانی کی کھالوں کی چھینا جھپٹی اور زور زبردستی سے شروع ہونے والا سلسلہ آج یہاں تک دراز ہو چکا ہے کہ ووٹ بھی گن پوائنٹ پر لئے جا رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کی غنڈہ گردی کے ثبوت کے طور پر حالیہ الیکشن کے بعد کی چند ویڈیوز ہی دیکھ لیجئے ۔ الیکشن میں دھاندلی اور جعلی ووٹنگ کے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے جب یہ جماعت ایک بار پھر کراچی کی بیشتر نشستیں جیتنے میں کامیاب ہو گئی تو اگلے روز لندن سے ویڈیو خطاب میں جماعت کے قائد الطاف حسین نے دھمکی آمیز لہجے میں فرمایا کہ “اگر اسٹیبلشمنٹ کو کراچی کی عوام کا مینڈیٹ پسند نہیں ہے تو پھر کراچی کو پاکستان سے علیحدہ کر دیجئے “۔ اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان جب اس دھاندلی کے خلاف مظاہرے کے لئے تین تلوار چورنگی پر اکٹھے ہوئے تو ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ ” یہ تین تلوار پر جو لوگ مظاہرہ کر رہے ہیں، بہت شو بازی کر رہے ہیں ، میں لڑائی جھگڑا چاہتا نہیں ہوں ورنہ تو ابھی اپنے کارکنوں کو حکم دوں تو وہ تین تلواروں کو اصلی تلواروں کی شکل دے دیں گے” ۔ اسی طرح سے میڈیا کے مختلف اینکر پرسنز کو ٹھونک دینے والا بیان بھی سب کو یاد ہی ہو گا۔ اس شر انگیزی سے کہیں زیادہ تکلیف دہ بات یہ تھی کہ ایم کیو ایم کے مختلف ترجمان مثلا ً رضا ہارون وغیرہ اپنے قائد کے ان فرامین کی عجیب و غریب تاویلیں اور توجیہات بھی پیش کر رہے تھے ۔

درج بالا تمام عوامل کو بالفرض نظر انداز کر بھی دیا جائے تو ایک نہایت سنگین مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس جماعت کے قائد الطاف حسین قادیانیوں کے بارے میں بھی نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ کبھی وہ مرزا طاہر کی موت پر افسردہ و رنجیدہ نظر آتے ہیں تو کبھی مرزا مسرور کی ماں کی موت پر تعزیتی پیغام جاری فرماتے اور دعائے مغفرت فرماتے ہیں۔ قادیانیوں کے بارے میں انہوں نے مبشر لقمان کو انٹرویو دیتے ہوئے جن خیالا ت کا اظہار فرمایا ، وہ آج بھی یو ٹیوب پر دیکھا جا سکتا ہے ۔

ایسی جماعت کو ووٹ دینا ، اس کو سپورٹ کرنا ، اس کے بارے میں نرم گوشہ رکھنا ، مظلوموں کی آہیں لینے کا ساتھ ساتھ ہماری دانست میں ایمان کے بنیادی تقاضوں کی بھی خلاف ورزی ہے جو اخروی خسارے کا بھی باعث بن سکتی ہے ۔ ووٹ کی شرعی حیثیت کے بارے میں مفتی محمد شفیع صاحبؒ نے تفصیل سے بحث کی ہے جس کے آخر میں مفتی صاحب فرماتے ہیں :

“خلاصہ یہ ہے کہ ہمارا ووٹ تین حیثیتیں رکھتا ہے ۔ ایک شہادت، دوسرے سفارش، تیسرے حقوق مشترکہ میں وکالت ۔ تینوں حیثیتوں میں جس طرح نیک، صالح، قابل آدمی کو ووٹ دینا موجب ثواب عظیم ہے ، اور اس کے ثمرات اس کو ملنے والے ہیں، اس طرح نا اہل یا غیر متدین شخص کو ووٹ دینا جھوٹی شہادت بھی ہے اور بری سفارش بھی اور ناجائز وکالت بھی ، اور اس کے تباہ کن ثمرا ت بھی اس کے نامہ اعمال میں لکھے جائیں گے۔ “

تو قارئین ! یہ تھیں ہمارے کرب و اضطراب کی وجوہات۔ ہمارے وہ بزرگ ہم سے اور ہم ان سے محبت کے دعوے دار ہیں، اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی شخص سے محبت کا حقیقی اظہار یہ ہے کہ اسے نقصان سے بچایا جائے ، اور سب سے بڑا اور حقیقی نقصان تو آخرت کا ہے ۔ انہیں شاید اس بات کا ادراک نہیں تھا کہ ایم کیو ایم کو ووٹ دے کر وہ درحقیقت ایم کیو ایم کے متوقع جرائم میں شریک ہو جائیں گے جس پر آخرت میں جوابدہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ چنانچہ دماغ مسلسل اسی ادھیڑ بن میں لگا رہا کہ ان تک پیغام کس طرح اور کن الفاظ میں پہنچایا جائے ۔ اندیشہ تھا کہ کہیں وہ ہماری اس جسارت کو گستاخی پر محمول نہ کر لیں، کہیں وہ برا نہ مان جائیں، کہیں ناراض نہ ہو جائیں ۔ پھر ساتھ ہی یہ بھی خیال آیا کہ صرف بزرگوار ہی پر کیا موقوف، اور بھی نجانے کتنے لوگ اپنا اپنا ووٹ ایسی ہی کسی جماعت کو دینے کا سوچے بیٹھے ہوں ۔ تو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے دینی فریضے کو مد نظر رکھتے ہوئے کافی غور و خوض کے بعد موبائل فون پر ایک پیغام ترتیب دیا اور بزرگوار کے ساتھ ساتھ فون کونٹیکٹس میں محفوظ دیگر نمبرز پر بھی ارسال کر دیا ۔  

ووٹ دیتے وقت یہ یاد رکھئے گا کہ …

-شرعی طور پر ووٹ کی حیثیت شہادت یعنی گواہی کی ہے …. تو دیکھ لیجئے گا کہ آپ کا ووٹ کسی فاسق و فاجر شخص / جماعت کے حق میں گواہی تو نہیں بن رہا ؟

پاکستان ایک وعدے کے تحت حاصل کیا گیا تھا کہ اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام … تو دیکھ لیجئے گا کہ آپ جس کو ووٹ دے رہے ہیں وہ شخص / جماعت اس عہد کے برخلاف نظریات کی حامل تو نہیں ۔

-یہ مت بھولئے گا کہ اصل مسئلہ دنیا کا نہیں آخرت کا ہے کہ اللہ کے سامنے اپنے اس ووٹ کا کیا جواز پیش کریں گے؟

اگلے روز ان کا جواب موصول ہوا کہ … تمہارا پیغام بہت پر اثر تھا ، جس نے مجھے اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور کر دیا ۔

اللہ اکبر ! ہمیں ایک قلبی سکون و طمانیت محسوس ہوئی کہ ہمارے ان بزرگ نے ہمارے پیغام کو اہمیت دی اور اپنے فیصلے پر نظر ثانی فرمائی ۔ درحقیقت یہ ان کا بڑا پن ہے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہ ناراض ہوئے نہ برہم ۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ ہمارے دل میں ان کی عزت و تکریم مزید بڑھ گئی۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس کار خیر کی توفیق ، فہم ، جرات اور حوصلہ عطا فرمایا ۔

جو افراد بھی ایم کیو ایم (یا ایسی ہی کسی اور جماعت )سے وابستگی یا اس کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں ان کی خدمت میں بصد ادب عرض ہے کہ وہ بھی ہماری درج بالا گزارشات پر غور فرمائیں اور ایک بار مسلمان بن کر ضرور سوچیں ۔۔۔ یا تو تنظیم کی اعلیٰ قیادت کی توجہ اس جانب مبذول کرانے کی کوشش کریں کہ وہ اپنے باطل نظریات پر نظر ثانی کرے یا پھر اس تنظیم سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ کہیں بہت دیر نہ ہو جائے ۔

کراچی کی عوام کو بھی سوچنا چاہئے کہ وہ کب تک اس جماعت کے ہاتھوں یرغمال بنی رہے گی، کب تک ہڑتالوں اور یوم سوگ کے نام پر کاروبار اور دوکانیں بند کرتی رہے گی؟ کراچی کی عوام کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ آیا وہ مظلوم ہے ظالم ؟ کہ ظالم کو ظلم سے نہ روکنے والا یا ظلم میں ہاتھ بٹانے والا بھی ظالم ہے۔

آخر میں ہم یہ کہتے چلیں کہ ہمیں اس امر کا بھی اندازہ ہے کہ ہم نے یہاں اصلاح احوال کی جو کوشش کی ہے ، اس کو غلط معنوں میں لئے جانے یعنی ہماری اس جسارت کو گستاخی سمجھے جانے کا خاصا امکان ہے ، جس کے بعد ہمیں بھی کڑے رد عمل اور تنقید کا سامنا کر نا پڑ سکتا ہے ، بلکہ ہو سکتا ہے کہ کوئی ٹھونک دینے پر اتر آئے … لیکن کیا کیجئے …. مجھے ہے حکم اذاں لا الٰہ الا اللہ !

اللھم ارنا الحق حقاً وارزقنا اتباعہ ، و ارنا الباطل باطلاً وارزقنا اجتنابہ

حوالہ جات:

کراچی کو الگ کر دیجئے  ، اور پاکستان تحریک انصاف کے مظاہرین کو دھمکی

http://www.youtube.com/watch?v=1nHwERmyTrM

اینکر پرسنز کو دھمکی

http://www.youtube.com/watch?v=9mSENwP4EMo

ووٹ کی شرعی حیثیت

http://urdulook.info/forum/showthread.php?6986-%D9%88%D9%88%D9%B9-%DA%A9%DB%8C-%D8%B4%D8%B1%D8%B9%DB%8C-%D8%AD%DB%8C%D8%AB%DB%8C%D8%AA!

Advertisements

One thought on “Aik Jasarat

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s