The EARTH-GODS!

زمینی خدا

از۔۔۔ ابو شہیر

گید ڑ کی جب موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے ۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے پاکستان کا رخ کیا جہاں کئی مقدمات ان کے انتظار میں تھے ۔ گزشتہ دنوں پاکستان کی معزز عدالت نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران پرویز مشرف کی ضمانت قبل از گرفتاری کا حکم منسوخ کر کے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا جس پر سابق سپہ سالار افواج پاکستان کمرہ عدالت سے فرار ہو گئے ، بالکل اسی طرح جیسے ایک فون کال پر متوقع میدان جنگ سے فرار ہو گئے تھے اور نتیجتاً قوم و ملک پتھر کے دور میں پہنچ گئے۔یاد رہے  کہ  “حضرت ڈرتے ورتے کسی سے نہیں۔  “

مذکورہ عدالتی فیصلے کے اگلے روز ہم دفتر پہنچے تو یہی ہاٹ ٹاپک تھا ۔ بحث کے دوران ایک صاحب نے نہایت حیران کن قسم کا تبصرہ کیا:

“دیکھو یار ! عدالت نے پوری دنیا میں ہمیں تماشہ بنا دیا ۔ فیصلہ دینے سے پہلے یہ تو دیکھ لینا چاہئے تھا کہ وہ ملک کا سابق صدر ہے ۔ “

ہم نے انہیں یاد دلایا کہ بھائی ہمارے نبی ﷺ کا تو فرمان ہے کہ فاطمہ بنت محمد بھی اگر چوری کرے گی تو میں اس کے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دوں گا۔ لیکن موصوف نے جس انداز سے یہ بات سنی اس سے ہمیں یہی محسوس ہوا ….  گویا ہم نے کسی دوسرے مذہب کے ماننے والوں کا واقعہ سنا دیا ہو ۔

دفتر سے باہر نکلنے پر ایک جگہ سے گزر ہوا تو وہاں ایک پچپن ساٹھ سالہ بڑے میاں فٹ پاتھ پر جمی چوپال میں بیٹھے چیخ چیخ کر دعوے کر رہے تھے :

” میاں! میں بھی یہیں ہوں اور تم بھی یہیں ہو ۔ اگر مشرف کو سزا ہو گئی تو میرے منہ پر تھوک دینا ۔ “

ہاہ ! اللہ تعالیٰ نے زبان کے آگے بتیس چھوٹے چھوٹے دروازے لگائے ہیں اور پھر ان دروازوں کے آگے ہونٹوں کا مین گیٹ بھی نصب کیا ہے لیکن صاحب! کیا کیجئے کہ جب یہ زبان بے قابو ہوتی ہے … تو اتنی ساری رکاوٹوں کو بھی عبور کر کے لپک کر باہر آ جاتی ہے ۔ اللہ سب کو اس بات کا شعور عطا فرمائے ۔ لوگوں کی عمریں گزر جاتی ہیں لیکن یہی نہیں سیکھ پاتے کہ زبان سے کب کیا کہنا ہے ۔ اللہ سے ہمیشہ خیر طلب کرنی چاہئے… کیا خبر کون سا لمحہ قبولیت کا ہو!

پرویز مشرف پر ان گنت الزامات ہیں۔  اقتدار پر جبری قبضہ ۔ نتائج کی پرواہ کئے بغیر اپنی مرضی کے احکامات جاری کرنا  اور ان کو پوری قوم پر مسلط کرنا۔ صلیبی جنگ میں طاغوت کی قوتوں کا ساتھ دینا۔ بیرونی جنگ کو ملک کے اندر لے آنا ۔ یہ جو اس نے نعرہ لگایا تھا نا کہ سب سے پہلے پاکستان ۔۔۔ اس بارے میں ہماری رائے تو یہی ہے  کہ ابھی امریکہ اس شش و پنج میں تھا کہ ٹوئن ٹاورز کی تباہی کی آڑ میں کس ملک کو نشانہ بنایا جائے کہ پرویز مشرف نے ایک دم سے ہاتھ کھڑا کر کے کہا : سب سے پہلے پاکستان ۔۔۔ جیسے بچے کھیل کے دوران کہتے ہیں : پہل میری ۔

خیر بات چل رہی تھی مشرف کے جرائم کی ۔ تو اکبر بگٹی کے قتل کا الزام بھی انہی پر ہے کہ ایک دفعہ بڑی رعونت سے حضرت نے بڑھک ماری تھی جو کہ آن ریکارڈ ہے : ہم تمہیں وہاں سے ہِٹ کریں گے کہ تم کو پتہ بھی نہیں چلے گا کہ کہاں سے ہِٹ کیا ہے ۔ بے نظیر بھٹو کا قتل بھی انہی کے دور میں ہوا ۔ سو اس بارے میں بھی وہ مسئول ہیں کہ محترمہ انہیں پیشگی “نامزد ” کر گئی تھیں۔ لال مسجد کی تباہی ، جامعہ حفصہ کی طالبات کا قتل عام بھی حضرت کے سیاہ کارناموں میں سے ایک ہے ۔ لیکن شاید سب سے بڑھ کر مجاہدین کو پکڑ پکڑ کر دشمنوں کے حوالے کرنا، انٹیلی جنس شیئرنگ کے نام پر ان کی مخبریاں کرنا ، ان کا خون بہانا یا اس میں مدد کرنا ، اس سب کے عیوض دام کھرے کرنا ۔ حد تو یہ کہ پاکستان میں تعینات افغانستان کے سفیر کو بھی پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر دیا ، حالانکہ سفیر کے ساتھ کبھی ایسا سلوک نہیں کیا جاتا ۔ لیکن نہ بیچنے والے نے یہ سب کچھ سوچا نہ خریدنے والے نے ۔  کسی کہنے والے نے خوب کہا کہ “اس شخص نے تو صدر پاکستان کو   ایک بردہ فروش کی سطح پر پہنچا دیا۔”

پرویز مشرف کے خلاف کچھ مقدمات عدالت میں زیر سماعت ہیں ۔ اور شاید ابھی مزید بہت سے قائم ہونے ہیں ۔ ان مقدمات کا کیا فیصلہ ہوتا ہے ….مشرف کو سزا ہوتی ہے یا بری کر دیا جاتا ہے … غداری کے جرم میں سزائے موت سنائی جاتی ہے یا کوئی اور …. آرمی اپنے سابق سپہ سالارکو نشان عبرت بنتے دیکھ پائے گی یا نہیں …. مشرف عدالت کے ہاتھ آتا ہے یااس کے اندرون و بیرون ملک دوست اسے یہاں سےریمنڈ ڈیوس کی طرح چپکے سے فرار کرا دیتے ہیں …. یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے…  البتہ حالات و واقعات سے ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ اس کی رسی کھنچنا شروع ہو گئی ہے ۔

ممکن ہے کہ مشرف سزا سے بچ جائے …. کہ نہ ہمارے اعمال ایسے کہ ہم اللہ سے رحم کی بھیک مانگ سکیں اور نہ ہی ہماری دعاؤں میں اتنی شدت و طاقت کہ اللہ کی بارگاہ سے اپنی خواہش کے مطابق احکامات اور فیصلے جاری کر وا سکیں …. ہو سکتا ہے کہ اکبر بگٹی کے قتل کا جرم اس پر ثابت نہ ہو سکے …. ہو سکتا ہے کہ ڈرون حملوں میں مارے جانے والے معصوم بچوں کا خون بھی رنگ نہ لا سکے …. اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ لال مسجد بوریہ نشینوں اور جامعہ حفصہ کی پردہ نشینوں کا خون بھی رنگ نہ لا سکے …. البتہ ایک امید ہے جو کہ بہت قوی ہے …. کہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں مجاہدین اسلام کا خون یقیناً اتنی وقعت ، اتنی قدر و قیمت ضرور رکھتا ہے کہ وہ مالک کون و مکاں اپنے اولیاء یعنی شہدا کے دشمن کو نشان عبرت بنا کر ہی چھوڑے گا ۔ ہم کتنی ہی دفعہ دیکھ چکے ہیں کہ ظالم حکمران کا جب برا وقت آتا ہے تو سب سے پہلے اس کی عقل اس کا ساتھ چھوڑتی ہے اور  اس کو مشورہ دینے والے اس کو ایک بند گلی میں پہنچا دیتے ہیں۔

مشرف یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستان میں حالات ان کے لئے انتہائی ناسازگار ہیں ، اور بےشمار مقدمات منہ کھولے کھڑے ہیں ، پاکستان آن پہنچے ۔ حالانکہ وہ زندگی کے بقیہ ایام ” عزت” سے بیرون ملک بھی گزار سکتے تھے۔ پاکستان آنے کے بعد چند ہی دنوں میں انہیں اپنی “مقبولیت ” کا بھی اندازہ ہو چکا ہے ۔ وہ سیاسی طور پر شدید تنہائی کا شکار ہو چکے ہیں۔ وہ الیکشن بھی نہیں لڑ سکتے کہ ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کئے جا چکے ہیں۔ ان کے خلاف بے شمار مقدمات منہ کھولے کھڑے ہیں۔ ان کی ضمانت قبل از گرفتاری منسوخ کی جا چکی ہے ۔ اور گرفتاری کا حکم جاری کیا جا چکا ہے ۔ جس کے بعد وہ فرار اور بعد ازاں گرفتار ہونے کے بعد پہلے ایک روز کے لئے پولیس لائن اور پھر اپنے ہی فارم ہاؤس میں مقید کئے جا چکے ہیں۔ انہیں اپنے ہی گھر میں دو کمروں کے علاوہ کہیں جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ انہیں ناشتے میں جیل مینوئل کے مطابق چائے ، جوس اور ڈبل روٹی پر ہی گزارا کرنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے دشمن بھی کم نہیں بنائے …. سو عدالت سے سزائے موت کے خوف کے علاوہ بھی ان کی جان کو بہت سے خطرات ہیں ، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آنجہانی سلمان تاثیر کی طرح ان کے اپنے محافظین میں سے ہی کوئی ان پر گولیوں کی بوچھار نہ کر دے۔ نظر تو یہی آرہا ہے کہ اس کی رسی تنگ ہورہی ہے۔ آگے آگے دیکھئے  ہوتا ہے کیا ۔

اس زمین اور اس آسمان نے  اپنے سامنے  ان گنت ایسے ہی انسانوں کو بزعم خود خدائی کے دعوے کرتے دیکھا ہو گا۔  کبھی فرعون نے کہا تھا کہ ‘ کیا مصر کا ملک میرا نہیں’ اور یہ کہ ‘ میں تو اپنے علاوہ تمہارے کسی رب کو نہیں جانتا’۔ کبھی نمرود نے کہا تھا ‘جسے میں چاہوں مار دوں جسے چاہوں  زندہ رکھوں’۔ کبھی سکندر بھی آیا تھا، اور کبھی چنگیز اور ہلاکو بھی تھے۔ روس کا اسٹالن ہو یا  ویت نام میں فوجیں بھیجنے والا امریکہ کا جانسن۔ وہ چلی کا پنوشے ہو یا پاکستان کا جنرل یحییٰ ،  سب زمین کا  حصہ  ہو گئے۔ سب مٹی میں مل گئے۔ موت کسی کو نہیں بخشتی،  کسی کو نہیں چھوڑتی۔  پرویز مشرف نے اپنے دور اقتدار میں پاکستان میں بہت ترقیاتی کام کرائے ہونگے، لیکن جو آہیں اور بددعائیں انہوں نے کمائی ہیں  وہ اس سے  یقیناًکہیں زیادہ ہیں۔ وہ آج کل بڑے چاؤ سے اپنی ورزش کی تصویریں کھنچوا رہے ہیں  …جن میں وہ وزن اٹھاتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔  لیکن سوچنے والے یہی سوچ رہے ہیں کہ  کفار کے ساتھ مل کر اسلام کی جڑیں کاٹنے، اور دیگر کئی گناہوں کا بوجھ اٹھاتے ہوئے ان کے تاثرات کیا ہونگے۔ وہ کہتے ہیں وہ کسی سے نہیں ڈرتے!نہیں ڈرتے  ہونگے….  لیکن  ہمارا تو ایمان اس بات پر ہے کہ اللہ کا عذاب ہرگز ایسی چیز نہیں ہے کہ جس سے نہ ڈرا جائے۔

مقام حیرت ہے کہ لوگ اتنی ساری نشانیاں دیکھ کر بھی ایسے دعوے کر رہے ہیں کہ ” اگر مشرف کو سزا ہو گئی تو میرے منہ پر تھوک دینا” ۔ اور اگر مشرف فی الواقعی سزا سے بچ جاتے ہیں تو پھر اگلے مرحلے میں اس طرح کے دعوے بھی سننے کو مل سکتے ہیں: ” میاں ہم نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا”۔

اس نوعیت کے “خدائی دعووں ” سے کیا ایسا نہیں معلوم ہوتا کہ زمینی خدا صرف مطلق العنان حکمرانوں کی صف تک ہی محدود نہیں …. بلکہ عوام الناس میں بھی ایسے لوگ پائے جاتے ہیں۔ اقتدار و تکبر کے نشے میں چور ایک  شخص کا حال آپ دیکھ ہی رہے ہوں گے … اور زمین کے نیچے ایسے کتنے ہی لوگ  ہوں گے جو کبھی یہی کہتے ہونگے کہ’ جو میں نے کہہ دیا نا ویسا ہی ہوگا’…

اے کاش ! کہ ہم  بولنے سے پہلے سوچ لیا کریں، اپنے الفاظ کو تول لیا کریں۔

اللہ ہمیں  ہماری زبانوں کے شر سے محفوظ فرمائے ۔ آمین۔

Advertisements

2 thoughts on “The EARTH-GODS!

  1. ماشاءاللہ آپ نے کافی اچھا لکھا، پہلی دفہع اپ کو پڑھا، میں تو مشرف کا بیان سرچ کر رہا تھا کہ آپ تک آ پہنچا ، اپنے پارے میں بتائیں مجھے فیس بُک پر ایڈکیجئے fb.com/somukhtar انباکس کردیجئے گا اپنا قلمی نام

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s