Saadi

“سادی”

از ابو شہیر

نبیل ان دنوں بہت خوش تھا۔ اللہ اللہ کر کے وہ وقت آ گیا تھا کہ جب اس کی بہن ، مامون کی دلہن بن کر رخصت ہونے جا  رہی تھی ۔ اللہ کے فضل سے گھر میں کسی چیز کی کمی تھی نہ کوئی مالی پریشانی ۔ پھر بھی نبیل کی خواہش تھی کہ اس موقع پر سنت نبوی ﷺ کی پیروی میں سادگی کو حتی الامکان فوقیت دی جائے ۔ کوئی اور ہوتا تو نجانے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے! لیکن مامون چونکہ اس کا دوست تھا ، چنانچہ بہت آسانی ہو گئی تھی ۔ دونوں نے چونکہ “اسلام قبول کیا ہوا تھا “، چنانچہ کسی مہندی ، مایوں ، یا گانے باجے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔

چند ماہ قبل نکاح بھی اس طرح ہوا تھا کہ نہایت قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کو مدعو کر لیا گیا اور سنت کے مطابق مسجد میں نکاح منعقد ہوا ۔ اب رخصتی کا وقت آیا تو طے پایا کہ لڑکے کے گھر سے چند افراد آئیں گے ۔ تواضع کے نام پر سب کو محض چائے کی ایک پیالی پیش کی جائے گی۔ جس کے بعد لڑکی کو رخصت کر دیا جائے گا ۔ نبیل کے خاندان والوں کو پتہ چلا کہ شادی اتنی “سادی ” ہو گی تو کسی نے تبصرہ کیا : “آئے ہائے ! ان بیچاروں کو تو خوشیاں منانی بھی نہیں آتیں ۔ “

نبیل انہی خیالات میں گم آفس جا رہا تھا ۔ گاڑی میں سی ڈی پلیئر پر ایک معروف عالم دین کا اصلاحی بیان چل رہا تھا۔ دفعتاً مولانا کی آواز گونجی:

“فاطمہ ؓ  کی ڈولی کیسے اٹھی ۔۔۔؟ جنت کی عورتوں کی سردار ، شہزادی فاطمہ ؓ ، اللہ کے محبوب ﷺ کی محبوب ، جگر کا ٹکڑا ۔۔۔ دیکھو ! کیسے اس کی شادی ہوئی ؟ مسجد میں نکاح ہوا حضرت علی ؓاور حضرت فاطمہ ؓ کا ، ایک سادہ سی تقریب میں ۔ دو مہینے بعد رخصتی ہوئی ۔ رخصتی کیسے ہوئی ؟ حضرت علی ؓ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ ﷺ ! رخصتی ہو جائے ؟ مطلب یہ تھا کہ آپ کوئی وقت بتا دیں تو میں آ کے لے جاؤں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : بہت اچھا ! انشاء اللہ کر دیں گے ۔ یہ ظہر یا عصر کی بات ہے ۔ بہرحال جس دن یہ بات ہوئی اس دن مغرب کی نماز پڑھ کے آپ ﷺ گھر تشریف لائے اور کسی کو بھیجا کہ جاؤ ، ام ایمن ؓ     کو  بلا کے لاؤ ۔ ام ایمن کو آدمی بلانے چلا گیا ۔ حضرت فاطمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں گھر کا کام کر رہی تھی ، میرے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ ابھی کیا ہونے والا ہے ۔ اتنے میں ام ایمن آ گئیں ۔ حضرت فاطمہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں حیران رہ گئی جب اچانک میرے کان میں آواز پڑی کہ ام ایمن ! فاطمہ کو علی کے گھر چھوڑ کے آ جاؤ ۔

یہ دو جہاں کے سردار ﷺ کی بیٹی رخصت ہو رہی ہے ۔ یہ اس کی بارات جا رہی ہے ۔ نہ باجا نہ گاجا ، نہ میلہ نہ ٹھیلا ، نہ بھانڈ نہ مراثی ، نہ ناچنے والے نہ ناچنے والیاں ، کچھ بھی تو نہیں ۔ نہ کوئی مہندی ہوئی ۔۔۔ نہ کوئی ڈھول بجے۔۔۔ نہ کوئی ڈولی  ۔۔۔ گاڑیاں نہیں تھیں اس وقت تو چلو کوئی ڈولی ہی آ جاتی! نہ کوئی ڈولی نہ بارات ۔۔۔ نہ کوئی آگے نہ پیچھے ۔۔۔۔ دو جہان کے سردار کی بیٹی ۔۔۔ جنت کی عورتوں کی سردار بیٹی ۔۔۔ اپنے پاؤں پہ چل کے رخصت ہو کے جا رہی ہے ۔ کسی کو نہیں بلایا اللہ کے نبی ﷺ نے ۔ ایسا کیوں کیا ؟ بنی ہاشم کو لے کے نہیں جا سکتے تھے ؟ بنی ہاشم چھوڑو ، سارے صحابہ ؓ اکٹھے کر لئے جاتے کہ بھائی سب آ جاؤ! میری بیٹی رخصت ہونے والی ہے ۔ یہ سب نہیں ہو سکتا تھا ؟ کیوں نہیں کیا یہ سب ؟ تاکہ امت کی غریب بچیاں آسانی سے بیاہی جا سکیں ۔  “

” یہ دیکھو! عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ۔ ہاں ! یہ وہی عبدالرحمان بن عوف ؓ ہیں جن کا شمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا ہے ۔ انہیں حضور ﷺ نے دنیا ہی میں جنت کی بشارت سنا دی ۔ یہ وہی عبد الرحمٰن بن عوف ہیں جن جیسا تاجر دنیا نے نہیں دیکھا۔ دولت ان پر برستی تھی ۔ یہ اپنی زندگی میں چالیس چالیس ہزار ایک ایک وقت میں اللہ کی راہ میں لٹا دیتے تھے ۔ سامان جہاد کے لئے آواز لگائی جاتی تو پانچ پانچ سو گھوڑے اور اونٹ ہدیہ کر دیتے ۔ زندگی میں ہزاروں غلام اور کنیزیں آزاد کیں۔ جب فوت ہوئے تو پیچھے کثیر جائیداد کے علاوہ ١ ہزار اونٹ،٣ ہزار بکرياںاور سو گھوڑے چھوڑے۔ سونا اتنا تھا کہ اسے کلہاڑی سے کاٹا گيا اور کاٹنے والوں کے ہاتھوں ميں چھالے پڑ گئے۔ ان کی ٤ بيواؤں تھیں ، ہر ايک کو ٨٠ ہزار دينار ملے۔ ٥٠ ہزار ديناران کی وصيت کے مطابق مسافروں کو ديے گئے۔ جنگ بدر ميں حصہ لینے والے ہر صحابی کے ليے انھوں نے ٤٠٠ دينار کی وصيت کی تھی، جن کی تعداد ١٠٠ تھی۔ امہات المومنين کے ليے ایک باغ کی وصیت کی ، جو ٤ لاکھ درہم میں فروخت ہوا۔

یہ دیکھو میرے دوستو! یہ اس کروڑ پتی رئیس کی شادی ہو رہی ہے ۔ جس نے اپنی تمام دولت و ثروت کے باوجود نکاح کیا … تو اتنی سادگی سے  … کہ وقت کے نبی رسول اکرم ﷺ تک کو بھی مدعو نہیں کیا ۔ نکاح کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کے اوپر زرد رنگ کا نشان دیکھ کر آپ ﷺ نے پوچھا : کیا نکاح کر لیا ہے ؟ کہا: جی ہاں ۔ دریافت فرمایا: کس سے ؟ جواب دیا: ایک انصاری عورت سے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا : اسے مہر کتنا دیاہے ؟ انہوں نے کہا :ایک گٹھلی کے برابر سونا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کا ہو ۔

دیکھو بھائیو! کتنا آسان کر دیا تھا میرے نبی ﷺ نے شادی کو … آج ہم نے اس کو مشکل ترین چیز بنا دیا ہے ۔ سیرت پاک ﷺ کا مطالعہ کرو تو پتہ چلے کہ اس دور میں شادی کرنا کیسی عام سی بات تھی …. جیسے دفتر یا دوکان کو جانا ، گھریلو کام کاج کرنا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو زندگی میں ایک ہی بار ہو بلکہ معمول کے کاموں میں سے ایک کام تھا ۔ ولیمہ کے مشورے سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ اچھا شادی کر لی ، تو اب ولیمہ بھی کرو … یعنی یہ  فارمیلٹی پوری کر دو اور بس۔ میرے نبی ﷺ نے نکاح کو آسان بنایا اور زنا کو مشکل … آج ہماری فضول رسومات کے باعث نکاح دنیا کا مشکل ترین کام بن گیا ہے ۔

بتاؤ تو میرے بھائیو! کوئی کمی تھی کیا عبد الرحمٰن بن عوف ؓ  کو! کوئی تنگی تھی کیا عبد الرحمٰن بن عوف ؓ  کو! ایک ایک وقت میں چالیس چالیس ہزار دینار لٹانے والا… کیا چند لوگوں کو کھانا نہیں کھلا سکتا تھا وہ ؟ چند لوگ کیا … پورے مدینہ کو کھانا نہیں کھلا سکتا تھا کیا وہ ؟ کیا پورے مدینہ کو قمقموں اور جھنڈیوں سے نہیں سجا سکتا تھاوہ؟ کیا پورے مدینہ کو شادی کا پنڈال نہیں بنا سکتا تھا وہ ؟ آج ہے کوئی رئیس زادہ جو دولت میں اس کا مقابلہ کر سکے ؟ اتنی دولت کے بعد اس کی “سادی ” ہو رہی ہے ۔ غور کرو میرے بھائیو!  شادی نہیں سادی ہو رہی ہے ۔ کہ شریعت مصطفوی ﷺ میں یہی مقصود و مطلوب و محبوب ہے ۔ ہاں ! آج امراء کی شاہ خرچیوں نے غریب بچیوں کی شادیاں بھی مشکل بنا دی ہیں ۔  “

نبیل یہ سی ڈی بارہا سن چکا تھا ۔ لیکن آج ایک بار پھر یہ سب کچھ سنا تو ایک سوال اس کے ذہن میں ابھرا۔۔۔

“جانے کسی نے اللہ کے رسول ﷺ کو یا ان کے صحابہ ؓ   کو یوں کہا ہو گا :

آئے ہائے ! ان بیچاروں کو تو خوشیاں منانی بھی نہیں آتیں ۔”

Advertisements

3 thoughts on “Saadi

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s