Inaam ki raat

انعام کی رات

ابو شہیر

آج رمضان المبارک کا آخری روزہ تھا ۔ افطار کر لینے اور نماز مغرب کی ادائیگی کے فوراً بعد ہر طرف مبارک سلامت کا شور مچ گیا ۔ بالآخر وہ ساعتِ سعید آن پہنچی تھی کہ جس کا اک عالَم کو انتظار تھا ، یعنی چاند رات۔۔۔ معتکفین اپنا بوریا بستر لپیٹنے میں مشغول ہو گئے۔ عشاء کی نماز کے بعد آن کی آن میں مسجد سونی ہو گئی۔ آخر کو سب کو اپنے گھروں کو جانے کی جلدی تھی کہ عید الفطر کے استقبال کی تیاریاں بھی تو مکمل کرنی تھیں۔

لیکن مسجد کے ایک نسبتاً اندھیرے گوشے میں ایک بندہ اب بھی اپنے رب سے سرگوشیوں میں مشغول تھا:

یا اللہ! تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں رمضان المبارک عطا کیا ۔ یا اللہ ! تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں آج عید کا چاند بھی دکھا دیا۔ یا اللہ ! میں نے تیرے قرآن میں تیرے خلیل ابراہیم علیہ السلام کی ایک دعا پڑھی:

اے ہمارے پروردگار ! میں نے اپنی کچھ اولاد کو آپ کے حرمت والے گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں لا بسایا ہے جس میں کوئی کھیتی نہیں ہوتی ۔ ہمارے پروردگار ! ( یہ میں نے اس لئے کیا) تاکہ یہ نماز قائم کریں ، لہٰذا لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے کشش پیدا کر دیجئے ، اور ان کو پھلوں کا رزق عطا کر دیجئے ، تاکہ وہ شکر گزار بنیں ۔ (سورۃ ابراہیم ۔۔۔ 37 )

یا اللہ ! تیرے حبیب ﷺ کی ایک حدیث مجھ تک پہنچی ہے جس کا مفہوم ہے کہ “جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام آسمانوں پر لیلۃ الجائزہ یعنی انعام کی رات سے لیا جاتا ہے۔ “اے ہمارے پروردگار ! آج وہی عیدکی رات ہے ۔ آج وہی لیلۃ الجائزہ ہے ۔ آج وہی انعام کی رات ہے ۔ آج تیرا یہ بندہ تجھ سے تیرے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے انداز میں کچھ مانگنا چاہتا ہے ۔۔۔

پروردگار ! تو جانتا ہے کہ ماہ رجب کے آغاز سے ہی میں رمضان المبارک کے انتظار میں بے قرار ہو گیا تھا بلکہ اس کے لئے دعائیں کرنے لگ گیا تھا ۔ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی رَجَبَ وَ شَعْبَان ، وَ بَلِّغْنَا رَمَضَان۔۔۔ کہ یا اللہ ! ہمیں رجب اور شعبان میں برکت عطا کر اور ہمیں رمضان تک پہنچا دے ۔ اے پروردگار ! یہ میں نے اس لئے کیا کہ ایک روایت مجھ تک پہنچی کہ تیرے حبیب ﷺ کا یہی طریقہ تھا ۔

پروردگار ! تو جانتا ہے کہ ماہ صیام کے آغاز سے پہلے ہی سے میں نے عزم کیا تھا  کہ میں پورے روزے رکھوں گا ، میں نے عزم کیا تھا کہ پوری تراویح پڑھوں گا، میں نے عزم کیا تھا کہ متعدد بار قرآن پاک کی تکمیل کروں گا ، میں نے عزم کیا تھا کہ حفظ قرآن پر بھی توجہ دوں گا ، جو یا د ہے اس کو دوہرا کر پختہ کروں گا ، اور جو یاد نہیں ہے اس کو یاد کرنے کی کوشش کروں گا ۔ میں نے عزم کیا تھا کہ آخری عشرے کا سنت اعتکاف کروں گا ۔ پروردگار! یہ میں نے اس لئے کیا کہ مجھ تک تیرے نبی ﷺ کا فرمان پہنچا تھا کہ “اللہ کو اپنی نیکی دکھلاؤ ۔ اللہ اس ماہ مبارک میں تمہاری طرف متوجہ ہوتا ہے اور اپنی رحمت خاصہ نازل فرماتا ہے۔ خطاؤں کو معاف کرتا ہے اور دعاؤں کو قبول کرتا ہے ۔ تمہاری نیکیوں کی حرص کو دیکھتا ہے اور ملائکہ سے فخر فرماتا ہے ۔ “

میرے رب ! تو جانتا ہے کہ روزے رکھنا میرے لئے کس قدر دشوار تھا ۔ میرے رب ! تیرے حکم پر تیری حلال نعمتوں کو چھوڑ دیا ۔ بھوک لگی لیکن کھانا نہ کھایا ۔ میرے اللہ ! تو جانتا ہے کہ موسم کس قدر گرم تھا ۔ پیاس لگی لیکن پانی نہ پیا ۔ پروردگار! تو جانتا ہے کہ میں بیمار بھی تھا ۔ پروردگار! تو جانتا ہے کہ خالی پیٹ رہنا میرے لئے کس قدر مشکل تھا۔ اے میرے رب ! تو جانتا ہے کہ پورا دن میں کس قدر تکلیف میں مبتلا رہا کرتا تھا ۔ لیکن میں صبر کرتا رہا ۔ پروردگار ! یہ سب میں نے اس لئے کیا کہ مجھ تک تیرے نبی صادق ﷺ کا فرمان پہنچا تھا کہ “تو کہتا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا ۔ “

یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں اپنے روزے کی کس قدر حفاظت کیا کرتا تھا ۔ یا اللہ ! حتی المقدور کوشش کیا کرتا تھا کہ کوئی ایسا عمل سرزد نہ ہو نے پائے کہ جس سے روزے کی صحت یا روحانیت متاثر ہو ۔ پروردگار ! تو جانتا ہے کہ میں زبان کی ، کانوں کی ، نظروں کی حفاظت کرتا رہا ۔ پروردگار! یہ سب میں نے اس لئے کیا کہ مجھ تک تیرے حبیب ﷺ کا یہ فرمان پہنچا تھا کہ “جو شخص روزہ رکھنے کے بعد بھی بد اعمالیاں نہ چھوڑے تو تجھے اس کے بھوکا پیاسا رہنے کی کوئی حاجت نہیں ۔ “

یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ افطار کے وقت تیرے ہی فضل سے انواع و اقسام کی نعمتیں میرے دستر خوان پر موجود ہوا کرتی تھیں ۔ لیکن جب افطار کا وقت ہوتا تھا تو میں پوری طرح ان نعمتوں سے لطف اندوز نہیں ہو پاتا تھا ۔ بس جلدی جلدی تھوڑا بہت کھا پی کر مسجد کو بھاگا کرتا تھا کہ مغرب کی نماز با جماعت ادا کر سکوں۔ پروردگار ! تو جانتا ہے کہ ان نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کا بہترین وقت اگر کوئی ہو سکتا ہے تو وہ افطار کا ہی وقت ہے لیکن میں نے اس لذت پر نماز کو فوقیت دی ۔ پروردگار! یہ میں نے اس لئے کیا کہ تیری رضا حاصل کر سکوں ۔

اے میرے رب ! پھر کچھ ہی دیر میں نماز عشاء اور تراویح کا وقت ہو جاتا تھا ۔ یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ افطار کے بعد میرا جسم نڈھال ہوا پڑا ہوتا تھا ۔ لیکن میں اپنے اس شکستہ وجود کو گھسیٹ کر مسجد تک لے جایا کرتا تھا اور نماز میں کھڑا ہو جایا کرتا تھا ۔ یا اللہ ! تو جانتا ہے ۔۔۔ تو جانتا ہے کہ تراویح میں میری کیا حالت ہوا کرتی تھی ؟ طویل قیام سے میری ٹانگیں شل ہو جایا کرتی تھیں ۔ کمر چٹخنے لگ جایا کرتی تھی ۔ پیر دکھنے لگ جایا کرتے تھے ۔ تلوے جلنے لگ جایا کرتے تھے ۔ میں تھک جایا کرتا تھا ۔ یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ بسا اوقات نیند کا بھی اس قدر شدید غلبہ ہوتا تھا کہ آنکھیں کھولنا محال ہو جایا کرتا تھا ۔ دل کرتا تھا کہ گھر جا کر بستر پر لیٹ جاؤں لیکن ایسے میں ، میں اگلی صفوں میں کھڑے سفید ریش بزرگ دکھا کر اپنے دل کو ، اپنے نفس کو غیرت دلایا کرتا تھا ۔  یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں حتی المقدور کان لگا کر تراویح میں پڑھا جانے والا تیرا قرآن سنا کرتا تھا ۔ تیرے قرآن کی آیات میں غور و تدبر کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا ۔ پروردگار ! یہ سب میں نے اس لئے کیا کہ مجھ تک تیرے حبیب ﷺ کی حدیث پہنچی کہ “جو شخص رمضان المبارک میں ایمان و احتساب کے ساتھ قیام کرتا ہے ، اللہ اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیتا ہے ۔ “

یا اللہ ! تو یہ بھی جانتا ہے کہ میں نے تلاوت کلام پاک کو بھی اپنا معمول بنائے رکھا ۔ یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں نے کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے اور راہ چلتے قرآن پڑھا۔ یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں حتی المقدور اس بات کی کوشش کرتا تھا کہ تجوید و ترتیل و ترنم کے ساتھ قرآن کی تلاوت کروں ۔ یا اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں نے حتی الوسع تیرے قرآن کو حفظ کرنے کی بھی کوشش جاری رکھی ۔ یا اللہ! تو جانتا ہے کہ قرآن پڑھتے پڑھتے بسا اوقات میری زبان لڑکھڑانے لگ جاتی تھی ۔ میرے حلق میں خراش ہو جانے لگتی تھی۔ گلا دکھنے لگ جاتا تھا۔ پروردگار! یہ میں نے اس لئے کیا کہ مجھ تک تیرے حبیب ﷺ کی یہ حدیث پہنچی کہ “قیامت کے دن روزہ اور قرآن دونوں بندے کے لئے شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا : اے میرے رب! میں نے اس شخص کو دن کے وقت کھانے (پینے) اور (دوسری) نفسانی خواہشات سے روکے رکھا پس تو اس شخص کے متعلق میری شفاعت قبول فرما۔ قرآن کہے گا : اے میرے رب! میں نے اس شخص کو رات کے وقت جگائے رکھا پس اس کے متعلق میری شفاعت قبول فرما۔ تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔”

یا اللہ ! پھر رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوا تو میں اک آس ، اک امید لے کر تیری چوکھٹ پر بیٹھ گیا۔ گھر بار ، ملازمت کاروبار چھوڑ کر ، بیوی بچوں سے ناتا توڑ کر اعتکاف کی نیت سے مسجد میں آن بیٹھا ۔ لیلۃ القدر کے حصول میں لگا رہا ۔ پروردگار ! یہ میں نے اس لئے کیا کہ مجھ تک تیرے حبیب ﷺ کی یہ حدیث پہنچی کہ “جو شخص ایک دن کا اعتکا ف بھی اللہ کے واسطے کرتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے اور جہنم کے درمیان تین خندقیں آڑ فرما دیتے ہیں جن کی مسافت آسمان و زمین کی درمیانی مسافت سے بھی زیادہ چوڑی ہے ۔”

میرے رب ! تو نے کرم کیا اور ہمیں ایک بار پھر ماہ رمضان المبارک عطا کیا ۔ میرے رب ! پھر تو نے ہی توفیق دی تو میں نے روزے رکھے ۔ تیری ہی عطا کردہ توفیق سے میں نے تراویح پڑھی۔ تو نے توفیق دی تو میں نے اعتکاف کیا۔ غرض جو بھی کوئی نیک عمل میں نے کیا ، تیری ہی توفیق اور تیرے ہی فضل سے ممکن ہوا۔

اے اللہ! اے میرے رب! اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کی مغفرت فرما ۔ ۔۔اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت پر رحم فرما ۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کی نصرت و مدد فرما ۔۔۔ اے محمدﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کو غالب فرما اور عالم کفر کو مغلوب فرما ۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کے مظلوموں کی داد رسی فرما۔۔۔اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کے بیماروں کو شفا عطا فرما ۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب! محمد ﷺ کی امت کے پریشان حالوں کی پریشانی کو دور فرما ۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کے بے اولادوں کو نیک فرمانبردار اولاد عطا فرما ۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کے جوان بچوں اور بچیوں کے لئے اچھے رشتے عطا فرما۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کے مرحومین کو ، بالخصوص ہمارے والدین کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرما۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ کی امت کے مجاہدین کی ، مبلغین کی مدداور رہنمائی فرما۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ سے وابستہ شہروں یعنی بلاد حرمین شریفین کی حفاظت فرما۔۔۔ اے محمد ﷺ کے رب ! محمد ﷺ نے جو خیر اپنے لئے اپنی امت کے لئے مانگی وہ ہمیں بھی عطا فرما اور جن شرور سے پناہ مانگی ان سے پناہ عطا فرما۔

اے محمد ﷺ کے رب ! آج لیلۃ الجائزہ ہے ۔ آج انعام کی رات ہے ۔ میرے رب ! تو جانتا ہے کہ تیرے بندوں کی ایک بہت بڑی تعداد بازاروں میں پہنچ چکی ہے۔ ایک افراتفری کا عالم ہے ۔ ہر طرف ایک ہاؤ ہو ہے ۔ ایک شور ہنگامہ ہے ۔ گانوں باجوں کی گونج ہے ۔ بازاروں میں خوب رونق ہے ۔ مرد اپنی نظروں کی پیاس بجھانے کے لئے بازاروں میں گھوم رہے ہیں اور ان کی تسکین طبع کا سامان بھی وافر مقدار میں بازاروں میں پہنچ چکا ہے ۔ عورتیں اور لڑکیاں خوب بن ٹھن کر بازاروں میں پہنچی ہوئی ہیں ۔۔۔ اور ساری شرم و حیا کو بالائے طاق ر رکھتے ہوئے اپنے ہاتھ چوڑیاں پہنانے کے لئے ، مہندی لگوانے کے لئے غیر مردوں کے ہاتھوں میں دئیے بیٹھی ہیں۔ اور ان کے ساتھ موجود مردوں کو بھی کوئی ہوش نہیں ہے، کوئی احساس نہیں ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے ؟ یا اللہ ! لوگ آج کی رات کی اہمیت سے بے خبر اپنے اشغال میں مصروف ہیں۔ان کو احساس ہی نہیں ہے کہ پورے مہینے نیکیوں کے جس پودے کو شب و روز محنت سے سینچا، اب جب اس کے ثمربار ہونے کا وقت آیا ہے تو اپنے ہی ہاتھوں میں کلہاڑا لے کر اس کو کاٹنے کے درپے ہیں ۔ پروردگار! تو سب کو ہدایت و شعورعطا فرما۔

پروردگار! لیکن تیرا یہ بندہ اس وقت بھی تیرا در پکڑے بیٹھا ہے ۔ تیرے آگے جھولی پھیلائے بیٹھا ہے ۔ ہاتھ اٹھائے بیٹھا ہے ۔ بڑی امید لگائے بیٹھا ہے ۔ مزدوری ملنے کی آس لگائے بیٹھا ہے ۔ پروردگار! اس عاجز و عاصی کا ہرگز کوئی استحقاق نہیں ہے ۔۔۔ بس تیرے فضل سے ، تیرے کرم سے ، تیری رحمت سے ، تیری عطا سے بڑی بلند و بالا امیدیں ہیں ، بڑی بلند و بالا توقعات ہیں۔ پروردگار! تو غنی ہے ۔ تو صمد ہے ۔ تجھے میری عبادات کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ میرے صیام و قیام کو قبول فرما لے۔ پروردگار! دیگر تمام عبادات کو قبول فرما لے ۔

پروردگار ! مجھے اعتراف ہے کہ تیری شان کے مطابق کوئی عمل میں کر بھی نہ سکا ۔ رمضان المبارک کی صحیح معنوں میں قدر نہ کر سکا ۔ اس ماہ مبارک کا حق ادا نہ کر سکا ۔ روزے کی صحیح معنوں میں حفاظت نہ کر سکا ۔ بڑی کوتاہیاں ہوئی ہیں ۔ پروردگار! تو معاف کرنے والا ہے ۔ معاف کرنے کو پسند کرتا ہے  ۔ پس مجھے معاف فرما دے ۔

پروردگار! تیرے جبریل امین کے الفاظ مجھ تک پہنچے جس پر تیرے صادق و امین ﷺ نے آمین کہا تھا کہ “ہلاک ہو جائے وہ شخص جو ماہ رمضان کریم کو پائے اور پھر بھی اپنی مغفرت نہ کرا سکے ۔ “پروردگار! آج اس وعید سے بچا لے ۔ پروردگار! آج بڑی امید سے ہاتھ اٹھائے ہیں۔پروردگار! آج تیرے عفو و کرم سے بڑی آس اور توقع ہے ۔ پروردگار! آج  ان اٹھے ہوئے ہاتھوں کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! ان ٹوٹے پھوٹے الفاظ کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! روزے کی حالت میں برداشت کی جانے والی بھوک پیاس کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! حلال نعمتوں کو اپنے اوپر حرام کر لینے کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! روزے کی حالت میں کھنچنے والے کلیجے کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار!تراویح میں اٹھائی جانے والی مشقت کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! ٹانگوں کے شل ہو جانے کی لاج رکھ لے۔ پروردگار! پیروں کی دکھن کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! تلووں کی جلن کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! کمر کے چٹخنے کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! تو جانتا ہے کہ بارہا ایسا ہوا کہ کوئی آیت سنی اور اس کے مفہوم پر غور کرنے پر آنکھیں نم ہو گئیں۔پروردگار ! ان آنسوؤں کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار! تلاوت کی کثرت سے حلق میں پڑنے والی خراشوں کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار!آج کی رات بھی اپنے اس بندے کے اپنے گھر میں موجود ہونے کی لاج رکھ لے ۔ پروردگار ! کیا میری شامت اعمال کے سبب روزوں کے بدلے میں صرف بھوک پیاس ہی ہاتھ آئے گی؟ کیا راتوں کے قیام کے عیوض صرف بے آرامی ہی ہاتھ آئے گی ؟ نہیں یا اللہ نہیں ! آج تو محروم نہ فرما۔پروردگار ! آج مزدور کو مزدوری عطا فرما دے۔ آج مغفرت کے فیصلے فرما دے ۔

پروردگار! تیرے محبوب ﷺ کی حدیث مجھ تک پہنچی کہ “روزہ دار کے لئے دو فرحتیں ہیں ۔ ایک افطار کے وقت یعنی روزہ کھولنے کی فرحت اور دوسری اپنے رب سے ملاقات کے وقت کی فرحت  ۔ “پروردگار ! ایک فرحت تو نے عطا کی ، بار بار عطا کی ، روزانہ افطار کے وقت عطا کی ۔۔۔ پروردگار! دوسری فرحت کا انتظار ہے ۔۔۔ دوسری فرحت کا انتظار ہے ۔۔۔ دوسری فرحت کا انتطار ہے ۔ ۔۔!

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s