Uncategorized

Hum! Saya-daar Payr

ہم! سایہ دار پیڑ۔۔۔ 

از۔۔۔ ابو شہیر 

درخت دیکھ کر پہلا خیال ذہن میں کیا آتا ہے ؟ خوبصورتی، شادابی، ٹھنڈک، سبزہ، چھاوَں وغیرہ۔ ان میں سے کوئی ایک ، یا یہ سب۔ چلچلاتی دھوپ میں درخت کے سائے میں بیٹھ کر کیسی راحت ملتی ہے ، اس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ باغ ہو یا راہ گزر۔۔۔شجر سایہ دار بلا تخصیص ہر کسی کو ٹھنڈک اور سایہ فراہم کر رہا ہوتا ہے ، چاہے وہ جانور ہوں یا انسان ، مقیم ہوں یا مسافر۔ مسافر اپنی سواری اور دیگر ساز وسامان کے ساتھ چلچلاتی دھوپ میں درخت کے نیچے پہنچتا ہے ۔ سواری کے جانور کو درخت کے تنے سے باندھتا ہے ۔ درخت کے سائے میں چادر بچھا کر لیٹتا ہے تو اس کی نگاہ درخت کے پتوں پر پڑتی ہے جو کہ اسے سرسبز و شاداب، ہرے بھرے نظر آتے ہیں ۔ لیکن اس وقت اس کو درخت کا وہ حصہ نظر نہیں آ رہا ہوتا جو اس کو راحت پہنچانے کی غرض سے سورج کی ساری تمازت اپنے وجود پر برداشت کر رہا ہوتا ہے اور اس کو پوری تندہی و جانفشانی سے نیچے لیٹے مسافر تک پہنچنے سے روک رہا ہوتا ہے ۔ درخت خود کو مسافر کے سامنے ہشاش بشاش اور مطمئن ظاہر کر رہا ہوتا ہے جبکہ درحقیقت وہ ایک شدید کرب کی کیفیت سے گزر رہا ہوتا ہے ۔۔۔!

تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد مسافر تازہ دم ہو کر اٹھتا ہے تو پھر وہ اپنے جانور کے لئے پتے جھاڑنے کی غرض سے چھڑی یا لاٹھی ہاتھ میں لے کر درخت کی شاخوں پر مارنا شروع کر دیتا ہے ۔ درخت ان شدید ضربوں کو خاموشی سے اپنے وجودپر سہہ لیتا ہے اور جواب میں اپنے پتے ۔۔۔ جی ہاں پتے ۔۔۔ جو کہ درخت کی زندگی ہیں ۔۔۔ اس کی رگ جاں ہیں ۔۔۔ اس کے سانس لینے کا ذریعہ ہیں ۔۔۔ مسافر کے اوپر نچھاور کر دیتا ہے ۔ کوئی پتھر تاک کر نشانہ مارتا ہے ۔۔۔ تو ہر چند کہ درخت کو درد تو بہت ہوتا ہے ۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ پتھر کے جواب میں اپنے پھل پتھر مارنے والے پر نچھاور کر دیتا ہے ۔۔۔۔ وہ پھل جن کو تیار کرنے میں درخت اپنی غذا کا بہترین حصہ مختص کرتا ہے ۔۔۔ یا بالفاظ دیگر جن کو اپنا خون جگر پلاتا ہے ۔۔۔!

مسافر کو بھوک لگتی ہے تو اس کو کھانا بنانے کا خیال آتا ہے ۔ کھانا کیسے بنے ؟ اس کے لئے تو آگ درکار ہوتی ہے ۔ اور آگ کے لئے لکڑی ۔ اس کی نگاہ پھر درخت پر پڑتی ہے ۔ مسافر کلہاڑی ہاتھ میں لےکر درخت کی شاخوں  پر برسانا شروع کر دیتاہے ۔ درخت  لہو لہان ہو جاتا ہے ۔۔۔ لیکن کلہاڑی مارنے والے کو اپنے بازو کاٹ کر پیش کر دیتا ہے کہ لو ! ان کو جلا کر اس پر اپنا کھانا پکا لو ۔۔۔!

پھر کچھ اور مسافر آ جاتے ہیں ۔  درخت اپنی چھاوَں ان کے لئے بھی وا کر دیتا ہے ۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد اسے ایک اور حیرت انگیز اور کرب ناک منظر کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔ مسافر درخت کی چھاوَں پر جھگڑنا شروع کر  دیتے ہیں ۔۔۔ گویا کہ وہ درخت یا اس کی چھاوَں کے مالک ہوں۔ ان کی آپس کی اس لڑائی کا منظر درخت کے لئے ناقابل برداشت درد کا باعث  ہوتا ہے۔۔۔ لیکن وہ پھر بھی اپنی چھاوَں نہیں سمیٹتا ۔۔۔  تم آپس میں لڑتے ہو تو لڑتے رہو۔۔۔ لیکن میں اپنی چھاوَں پھر بھی نہیں کھینچوں گا ۔

آتے جاتے پریمی جوڑے درخت کی چھاوَں میں بیٹھ کر آپس میں عہد و پیماں کرتے ہیں ۔ راز و نیاز کی باتیں کرتے ہیں ۔ اور پھر جاتے جاتے انہیں خیال آتا ہے کہ کیوں نہ درخت کے بدن پر اپنے پیار کی نشانی۔۔۔ ملن کی اس جگہ کی یادگار کے طور پر لکھتے جائیں ۔ سو وہ چھری کی نوک درخت کے مہربان وجود میں اتاردیتے ہیں ۔ تکلیف کی شدت سے درخت کے آنسو رواں ہو جاتے ہیں ۔۔۔ جنہیں وہ گوند سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ درخت ان پیار کرنے والوں کو کرب و حیرت سے دیکھتا چلا جاتا ہے کہ ۔۔۔ “کیسے پیار کرنے والے ہو۔۔۔!؟”

غرض یہ کہ درخت تو ہر آنے جانے والے کے ساتھ مہربانی سے پیش آتا ہے لیکن جواب میں اسے کم وبیش اسی قسم کی بد سلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ درخت یہ سارے صدمات سہتے سہتے اندر سے سخت ہوتا چلا جاتا ہے۔ اور پھر ایک طرف یہ ناقابل برداشت صدمات۔۔۔ اور دوسری طرف گردش دوراں، موسموں کی شدتیں۔۔۔ یہ عوامل ا س کے وجود پر اثر انداز ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔  درخت کے پتے گرنے لگ جاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ بالکل تہی داماں ہو جاتا ہے ۔۔۔ اور اس کی رگ جاں ٹوٹنے لگ جاتی ہے ۔۔۔!

ادھر حکومت وقت کو خیال آتا ہے کہ اس جگہ تو مسافروں کی سہولت کے لئے سڑک بنانی چاہئے ۔ تو پھر یہی درخت ان کو کھَلنے لگتا ہے ۔ حکم نامہ جاری ہوتا ہے کہ کاٹ دو ! راستے سے ہٹا دو ! اور پھر درخت کو کاٹ دیا جاتا ہے ۔ اس  مہربان وجود کا لاشہ ایک دھماکے سے زمین پر آن گرتاہے ۔ پھر اس کے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جاتے ہیں ۔ اسے آروں سے چیر دیا جاتا ہے ۔ رندوں سے اس کے مہربان وجود کے چیتھڑے اڑا دئیے جاتے ہیں ۔ اس کے بدن کے اندر میخیں اور کیلیں ٹھونک دی جاتی ہیں ۔ اور پھر کہیں میزیں اور کرسیاں بنا دی جاتی ہیں ، کوئی مسہری اور الماریاں بنا لیتا ہے ، کوئی دروازے اور کھڑکیاں بنا رہا ہے ، کہیں عمارتی لکڑی کے طور پر اس کے وجود کو فی الواقع کیلوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے کہ وہ لکڑی بھی ناقابل استعمال ہو جاتی ہے ۔ ردی ہو جاتی ہے ۔ پھر اس کو کہیں کھانا پکانے کے لئے اور کہیں سردی سے بچاوَ کے لئے جلانے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ درخت جل کر راکھ ہو جاتا ہے ۔ پھر اس راکھ کو برتن مانجھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔۔۔!

وہ سراپا ایثار وجود ہر حال میں یہی کہتا ہے : “تم چاہے میرے ساتھ کچھ بھی سلوک کرو۔۔۔ میں ہر حال میں تمہیں راحت ہی پہنچاوَں گا ، تمہارے کام ہی آوَں گا ۔”

معروف شاعر منور رانا ؔنے درخت کے ایثار و کرب کی اس ساری داستان کو نہایت خوبصورتی اور اختصار کے ساتھ فقط ایک شعر میں بیان کر دیا ہے ۔۔۔

؎                 ہم ، سایہ دار پیڑ ! زمانے کے کام آئے

                    جب سوکھنے لگے تو جلانے کے کام آئے

سوال یہ ہے کہ ہم تو اشرف المخلوقات بھی ہیں اور مسلمان بھی۔۔۔ ہم میں کوئی ہے درخت جیسا ؟

اور اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ ۔۔۔ درخت کیسے بنا جائے؟

ایک حدیث مبارکہ یاد آ رہی ہے  : المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده۔۔۔ (البخاری)

جس کا مفہوم ہے : “مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ ” 

اور ایک اور حدیث مبارکہ ہے:  أنا زعيم ببيت في ربض الجنة لمن ترک المرا وإن کان محقا ۔۔۔ او کما قال علیہ الصلوٰۃ والسلام ( ابوداؤد )

“میں جنت کے اطراف میں ایک گھر کا ضامن ہوں جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے ۔”

ذرا دیکھئے گا! کہیں شجر سایہ دار بننے کا فارمولا تو بیان نہیں کیا گیا ان احادیث مبارکہ میں ؟

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s