Behaviors & Attitudes, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے

Suragh-e-Zindagi

سراغِ زندگی

از۔۔۔ ابو شہیر

پیش لفظ

ابتدا اور انتہا … یہ دو حدیں ہیں جن کے درمیان دنیا اور اس کی ہر چیز مقید ہے ۔ زمین اپنی تمام وسعتوں کے باوجود ، آسمان اپنی تمام بلندیوں کے باوجود ، سمندر اپنی تمام گہرائیوں کے باوجود ، پہاڑ اپنی تمام ہیبتوں کے باوجود ….. درختوں کے پتے ، ریت کے ذرے ، پانی کے قطرے ، آسمان کے ستارے ،ان گنت ہونے کے باوجود …. نہ تو لا محدود ہیں نہ ہی ابتدا و انتہا کی قید سے آزاد ہیں ۔ ایک دن آئے گا کہ یہ جہان رنگ و بو اپنی میعاد پوری کر کے ختم ہو جائے گا۔
صرف ایک ذات ہے جس کی نہ کوئی ابتدا ہے ، نہ کوئی انتہا … جو لا محدود ذات ہے …. جس کی وسعتیں لا محدود ، جس کی عقل و فہم لا محدود ، جس کے خزانے لا محدود ، جس کی حکومت لا محدود ، جس کی حکمت ، جس کی عظمت ، جس کی قدرت …. غرض تمام صفات لا محدود ہیں ۔ تو جب ہم اس عظیم اور لا محدود ذات کو اپنی انتہائی محدود عقل و فہم کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو پھر ہماری بے بسی و لاچاری دیدنی ہوتی ہے…. ہماری عقل وسمجھ ہمارا ساتھ چھوڑ جاتی ہے ….. ہماری فراست و ذکاوت ہانپنے لگ جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ اللہ کی ذات میں غور کرنے کی بجائے اس کی مخلوقات میں غور کیا جائے ۔

دنیا کے انسانوں نے جب جہاں مخلوقات الٰہی پر غور کیا …. اسرار و رموز کے نئے نئے در ان کے لئے وا ہو گئے ۔ طوالت سے بچنے کے لئے صرف ایک مثال نیوٹن کی لے لیتے ہیں ۔ نیوٹن سیب کے درخت کے نیچے بیٹھا ہے ۔ اچانک ایک سیب درخت سے ٹوٹ کر زمین پر گر جاتا ہے ۔ بظاہر معمول کا عمل ہے ۔ کوئی نئی بات تو نہیں ہے ۔ لیکن نیوٹن جب اس عمل کے بارے میں سوچنا شروع کرتا ہے ، غور و فکر کرنا شروع کرتا ہے…. کہ یہ سیب نیچے زمین ہی پر کیوں گرا ؟ اوپر کی جانب کیوں نہیں چلا گیا؟ … تو علم و آگہی کا ایک نیا باب رقم ہوتا ہے ۔ اور پھر نیوٹن نیوٹن بن جاتا ہے … !
سوال یہ ہے کہ کیا نیوٹن اس عمل کے پیچھے موجود عامل کو تلاش کر پایا …. ؟ جواب ہو گا کہ ہاں ۔ اچھا تو وہ عامل کیا ہے بھلا؟ جواب ہو گا کہ جی کشش ثقل ۔ لیکن …. کیا بات صرف اتنی ہی ہے ؟ اگر بات صر ف یہیں تک محدود کر دی جائے تو مادہ پرستی کا در کھلتا ہے جو کہ اس دنیا کا سب سے بڑا دجل و فریب ہے…. وہی مادہ پرستی …. جسے دجال اور اس کے چیلوں کا سب سے خوفناک ہتھیار بتایا جاتا ہے۔

ظاہر کی آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی

یہی غور و خوض ، تدبر و تفکر ایک قدم آگے بڑھ کر جذبۂ ایمانی کے تابع ہو جاتا ہے تو آگہی کا ایک نیا جہان کھل جاتا ہے جو کہ دیکھنے والوں کو متحیر کر کے رکھ دیتا ہے ۔ باطن کی آنکھ کھول کر دیکھا جائے تو ہمارے اطراف میں بکھری چھوٹی چھوٹی چیزیں ، ہماری روزمرہ زندگی کی غیر اہم اور معمولی باتیں…. ہمیں بڑے بڑے اسرار و رموز سے آگاہ کرتی چلی جاتی ہیں …. بتاتی چلی جاتی ہیں کہ ہر چیز کے پیچھے ، ہر ذرے کے اندر ایک نادیدہ طاقت متحرک ہے… جو کہ سب کچھ ہے…. اور پھر غور و فکر کی اسی پگڈنڈی پر چلتے جائیں تو منزل اپنا نشان دینے لگتی ہے … زندگی کا سراغ ملنے لگتا ہے…. اقبال نے بھی تو یہی کہا تھا….

 اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی

تو اگر میرا نہیں بنتا ، نہ بن …. اپنا تو بن

ابو شہیر

۱۲ ربیع الاول ۱۴۳۱ ہجری

بمطابق ۲۷ فروری ۲۰۱۰

suraghezindagi@yahoo.com

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

سراغ زندگی

دروازے کی گھنٹی بجی تو عروسہ احمد نے دروازہ کھولا ۔

احمد صاحب دفتر سے واپس آ چکے تھے ۔

عروسہ احمد کو دیکھتے ہی ان کا چہرہ کھل اٹھا ۔

عروسہ احمد معمول کے مطابق اپنے شوہر کے استقبال کے لئے تیار تھیں ۔ صاف ستھر ا لباس، بال سلیقے سے سنورے ہوئے، ہلکا سا میک اپ…. احمد صاحب کے لئے تو یہ سب کافی سے کچھ زیادہ ہی تھا ۔

“السلام علیکم۔”عروسہ احمد نے خوشدلی سے کہا ۔

“وعلیکم السلام ۔ کیا حال ہیں ؟ ” اپنے مخصوص انداز میں کہتے ہوئے احمد صاحب نے اپنے بیٹے عبداللہ کو ان کی گود سے اپنی گود میں لے لیا اور اس کے گال پر پیار کیا ۔

“الحمد للہ ۔ ” کہتے ہوئے انہوں نے اپنے شوہر کے ہاتھ سے گاڑی کی چابی اور لیپ ٹاپ لے لیا اور اسی دوران عبداللہ سے مخاطب ہو کر بولیں ۔

 “عبداللہ ! بابا کو چھام (سلام ) کریں …. “

ننھے عبد اللہ نے اپنے مخصوص انداز میں سر پر ہاتھ رکھ کر گویا سلام کیا اور اپنے بابا کی طرف ہاتھ بڑھا دیا ۔
” وعلیکم السلام ۔ میرا بیٹا کتنا پیارا ہے … ” کہتے ہوئے احمد صاحب نے اس کو بھینچ کر اس کے گال پر پیار کیا ۔

“کیسا گزرا آپ کادن ؟ ” معمول کے مطابق عروسہ احمد نے پوچھا ۔

“ہوں ! کافی مصروفیت رہی آج تو۔ ایک لمحہ کو فرصت نہ ملی ۔ ” احمد صاحب نے جواب دیا ۔

” اوہ ! پھر تو بہت تھکن ہو ر ہی ہو گی ۔ چائے بناؤں آپ کے لئے یا کھانا کھائیں گے پہلے ؟ “

عروسہ احمد نے فکرمند انداز سے پوچھا ۔

“چائے بنا دیں ۔ کھانا میں نماز کے بعد کھاؤں گا ۔ ” مغرب کی نماز میں پندرہ بیس منٹ ہی باقی تھے ۔

“ٹھیک ہے ۔میں چائے بنا رہی ہوں ۔ آپ اس دوران فریش ہو جائیں ۔”عروسہ احمد یہ کہتے ہوئے باورچی خانے کی جانب چل دیں۔ اور پھر جتنی دیر میں احمد صاحب وضو وغیر ہ سے فارغ ہو کے واپس آئے ، وہ چائے تیار کر چکی تھیں۔

“آپ سنائیں ۔ آپ کا دن کیسا گزرا ؟ کوئی نئی تازی ؟ ” احمد صاحب نے چائے کی پیالی ان کے ہاتھ سے لیتے ہوئے پوچھا ۔

” کچھ خاص نہیں ۔ معمول کے مطابق ہی گزرا ۔ گھر کی صفائی کی ۔ کچھ کپڑے دھوئے ۔ اور پھر کھانا پکانا۔ ساتھ میں عبداللہ بھی نخرے اٹھواتے رہے ۔ ” عروسہ احمد نے جواب دیا ۔

عبد اللہ کے ذکر پر احمد صاحب مسکرا دئیے ۔

پھر چائے کے دوران دونوں میاں بیوی اسی طرح کی ہلکی پھلکی باتیں کرتے رہے ۔
چائے پی کر احمد صاحب مسجد کو چل دئیے جبکہ عروسہ احمد چائے کے برتن بڑھانے میں مصروف ہو گئیں ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

“سنیں ! امی کا فون آیا تھا ” عروسہ احمد میز پر کھانے کے برتن رکھتے ہوئے بولیں ۔

“اچھا ! کیا کہہ رہی تھیں ؟” احمد صاحب نے گاجر کا ٹکڑا منہ میں رکھتے ہوئے پوچھا ۔

“وہ دراصل طیب بھی اب بر سر روزگار ہو گیا ہے ناں ۔ تو اس خوشی میں وہ ایک تقریب کرنا چاہ رہی تھیں ۔ “

عروسہ احمد نے سالن کا ڈونگا آگے بڑھاتے ہوئے کہا ۔

“اچھا ! کب ہے تقریب ؟ “

“انشاء اللہ جلد ہی ۔ ان کا ارادہ یہ ہے کہ تقریب میں کچھ دینی درس کا بھی انتظام ہو جائے ۔ اور انہوں نے اس سلسلے میں عفت باجی کو بھی کہہ دیا ہے …. ان کے جاننے والوں میں کوئی خاتون میلاد وغیرہ میں درس دیا کرتی ہیں ۔ “

“بھئی واہ ۱ بہت ہی نیک ارادہ معلوم ہوتا ہے ۔ “

“جی ارادہ تو یقیناًنیک ہے لیکن میری خواہش ہے کہ اس محفل میں درس آپ دیں ۔ “

“جی ! میں…..؟ “احمد صاحب اس اچانک حملے کے لئے گویا بالکل تیار نہ تھے ۔

“جی آپ ۔ پتہ نہیں آنے والی خاتون کیسی ہوں ؟ یہ میلاد پڑھنے والیاں بھی بس ایسی ہی ہوتی ہیں ۔ علم تو کم ہی ہوتا ہے ، زیادہ تر تو قصے کہانیاں ہی ہوتی ہیں ان کے پاس ۔ ” عروسہ احمد ناقدانہ انداز میں بولیں ۔

“وہ تو ٹھیک ہے مگر…. ! “

“مگر وگر کچھ نہیں ۔ بس میں چاہتی ہوں کہ یہ ذمہ داری آ پ ہی سنبھالیں ۔ “

“بھئی یہ بڑا ذمہ داری کا کام ہوتا ہے ۔ اب میں نہ کوئی مقرر ہوں نہ عالم دین۔ “

احمد صاحب نے پھر دامن بچانا چاہا ۔

” تو میں کب کہہ رہی ہوں کہ قرآن پاک کی تفسیر یا حدیث کی تشریح کرنے بیٹھ جائیں ۔ مجھے تو وقت بے وقت لیکچر دیتے رہتے ہیں ۔ اب جب لیکچر دینے کا وقت آیا ہے تو پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔ ” عروسہ احمد تو گویا پیچھے ہی پڑ گئی تھیں ۔

” ارے ے ے! لیکچر کون دیتا ہے ؟ حد ہو گئی بیگم ۔ بھئی علماء کی صحبت میں بیٹھ کر کچھ سیکھنے کو مل جاتا ہے تووہ آپ کو بھی بتا دیتے ہیں ہم ۔ آخر کو آپ ہماری عروسہ ہیں ۔ اور ہمیں آپ سے محبت ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہم جنت میں جائیں تو آپ وہاں بھی ہمارے ساتھ ہوں۔” احمد صاحب بڑی محبت سے بولے ۔

” تو اگر وہی باتیں سن کر کچھ اور لوگ بھی ہمارے ساتھ جنت میں چلے جائیں تو کوئی حرج ہے کیا ؟ لوگ تو مایوں مہندی کی تقریبات میں راگ الاپنے بیٹھ جاتے ہیں ، حالانکہ نہ سُر کا پتہ ہوتا ہے نہ تال کا …. وہ برائی کے کاموں میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں، آپ نیکی کے کام میں پیچھے ہٹ رہے ہیں ۔ ” عروسہ احمد کی دلیل میں خاصا وزن تھا ۔

“بھئی رشتہ کی نزاکت کا تو احساس کرو ۔ سسرال کا معاملہ ہے ۔ دیکھ بھال کے چلنا پڑتا ہے ۔ ” احمد صاحب نے آخری عذر آزمایا ۔

” پلیز نا! “

عروسہ احمد نے لجاجت سے اصرار کیا تو احمد صاحب بھی سوچ میں پڑ گئے ۔

” اچھا ! میں حسن صاحب سے مشورہ کرتا ہوں کہ کیا کرنا چاہئے ۔ ” احمد صاحب نے اپنے ایک دوست کا نام لیتے ہوئے کہا جن سے وہ اکثر مشاورت کیا کرتے تھے ۔

” کر لیں مشورہ ۔ دیکھ لیجئے گا وہ بھی یہی کہیں گے ۔ ” عروسہ احمد یہ کہہ کر کھانے کے برتن بڑھانے لگیں ۔

اسی اثنا ء میں عشاء کی اذان ہونے لگی تو احمد صاحب وضو کے لئے چل دئیے ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

” حسن بھائی ایک مشورہ کرنا تھا آپ سے ۔ “احمد صاحب عشاء کی نماز کے بعد اپنے دوست حسن صاحب سے ملنے چلے آئے تھے ۔

” جی فرمائیے !”حسن صاحب نے چائے کی پیالی ان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا ۔

احمد صاحب نے اپنی اہلیہ سے ہونے والی گفتگو کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے پوچھا ۔

“اب آ پ بتائیے کیا ایسا کرنا مناسب رہے گاْ ؟ “

حسن صاحب نے پوری بات توجہ سے سنی اور جواب دیا :

” بھئی میں تو بھابھی کی تائید کروں گا ۔ باہر سے مقرر اور وہ بھی خاتون کو بلانے سے کہیں زیادہ بہتر ہے کہ آپ ہی بات کریں ۔ “

“لیکن میں کیا بات کر سکتا ہوں بھلا ؟…. ! ” احمد صاحب نے دامن بچانا چاہا ۔

حسن صاحب مسکرا دئیے ۔

“یہ تو آپ کسر نفسی سے کام لے رہے ہیں ۔ ورنہ آ پ کو اللہ تعالیٰ نے بڑی صلاحیتوں سے نوازا ہے ۔ اور پھر یہ کہ کام تو اللہ تعالیٰ نے ہی کرانا ہے ۔ آپ نے تو بس ایک نیک کام میں استعمال ہوناہے …. تو ہو جائیے استعمال ۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہی کام کرانا ہے تو آپ کو فکرمند ہونے کی کیا ضرورت ہے ؟ ہاں دو کام کئے جا سکتے ہیں …. بلکہ کرنے چاہئیں ۔ نمبر ایک… اللہ سے مدد مانگی جائے ۔ اور نمبر دو … کچھ تیاری کر لی جائے ۔ تیاری بھی اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کو دکھانا ہے کہ دیکھ لیں …. میں تیاری کر رہا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوتے ہیں ۔ ”
حسن صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں گویا ان کی حوصلہ افزائی کی۔
“لیکن میں رشتہ کی نزاکت کے پیش نظر بھی کچھ محتاط ہوں۔ “

احمد صاحب گویا ابھی بھی آمادہ نہ تھے ۔

” میرے خیال میں تو ایسا کرنے میں کچھ قباحت نہیں ۔ بلکہ میں تو اصرار کروں گا کہ آپ ہی کو با ت کرنی چاہئے۔”
حسن صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا ۔

“اچھا ….! چلیں پھر یہ بھی بتا دیں کہ موضوع کیا ہونا چاہئے ؟ میرا خیال ہے کہ موقع کی مناسبت سے کسب حلال کا موضوع مناسب رہے گا۔ ” احمد صاحب نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔

” بھئی موجودہ دور کے حساب سے تو صرف ایک ہی موضوع پر بات ہونی چاہئے ۔ اللہ کی محبت ۔ لوگوں کو اللہ سے محبت کرنے پر مائل کیا جائے ۔ جیسا کہ میں سمجھتا ہوں کہ رسول اکرم ﷺ کے لائے ہوئے انقلاب کا مرکزی نقطہ ہی یہی تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا سکھایا ۔ اور اسی کا نتیجہ تھا کہ پورے معاشرے کی کایا ہی پلٹ گئی ۔ لوگ اللہ سے محبت کرنے لگے تو بس اللہ ہی کے ہو کر رہ گئے ۔ ساری برائیاں ختم ۔ سارے جھگڑے ختم ۔ جب اللہ سے محبت ہو جاتی ہے تو پھر ہر طرف محبت کی برسات ہونے لگتی ہے ۔ آپ اللہ کی محبت پر بات شروع کریں … لوگوں کو اللہ کی محبت کی طرف بلائیں …. آخر میں کسب حلال پر بھی کچھ بات کر لیں۔”

حسن صاحب نے بڑے مدلل انداز میں کہا ۔

“ٹھیک ہے ۔ میں سوچتا ہوں اس بارے میں ۔ “

احمد صاحب نے چائے کی آخری چسکی لے کر پیالی میز پر رکھتے ہوئے کہا اور اٹھ کھڑے ہوئے ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

“عبد اللہ سو گیا ؟ ” احمد صاحب واپس لوٹے تو اپنے ڈیڑھ سالہ بیٹے کے بارے میں سوال کیا ۔

“جی سو گیا ۔ ” عروسہ احمد نے جواب دیا ۔

“اچھا ! میں ذرا دیکھ لوں برخوردار کو ۔ “احمد صاحب نے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا ۔

”کہاں چلے گئے تھے آپ ؟ ” احمد صاحب عبد اللہ کو پیار کر کے واپس آئے تو عروسہ احمد نے پوچھا۔

” میں حسن صاحب کی طرف چلا گیا تھا ۔”احمد صاحب نے جواب دیا ۔

“پھر ؟ مشورہ کر لیا آپ نے ؟ کیا کہا انہوں نے؟ “عروسہ احمد نے دلچسپی سے پوچھا ۔

” جی ! وہ جو شاعر نے کہا ہے ناں کہ …. خیر چھوڑیں شاعر کو ۔ یوں سمجھیں کہ وہ بھی آپ ہی کے ہم خیال نکلے ۔ “

احمد صاحب نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔

“دیکھا ! میں نے کہا تھا نا کہ وہ بھی یہی جواب دیں گے ۔ ” عروسہ احمد نے فاتحانہ انداز میں کہا ۔

احمد صاحب بس مسکرا کر رہ گئے ۔

“اور کیا کہا انہوں نے ؟”

“کہنے لگے کہ آپ ہی کو بات کرنی چاہئے ۔ اور موضوع بھی بتا دیا کہ اللہ کی محبت پر بات ہونی چاہئے ۔ “

“پھر… اب کیا فیصلہ کیا ہے آپ نے ؟ “

“بھئی فیصلہ تو ہو گیا۔ ظاہر ہے اب تو ہمیں ہی بات کرنی پڑے گی ۔”

“باہر والوں کی بات فوراً سمجھ آ گئی آپ کو ۔ میری با ت کو کوئی اہمیت ہی نہیں دے رہے تھے آپ ۔”

عروسہ احمد گویا بجھ سی گئیں ۔

“ارے ! کیا کہہ رہی ہیں آپ ….. ؟ آپ کی بات کی اہمیت تھی ۔ جبھی تو مشورہ کیا ہم نے حسن صاحب سے ؟ “

احمد صاحب شوخی سے بولے ۔ عروسہ احمد بھی مسکرا دیں۔

“پھر میں امی سے کہہ دوں کہ آپ درس دیں گے ۔ “عروسہ احمد نے سوالیہ اندا ز سے پوچھا ۔

“جی کہہ دیجئے۔ لیکن مجھے تیاری کے لئے کچھ وقت درکار ہو گا ۔ ” احمد صاحب نے حامی بھری۔

“جی جی ! ابھی ہفتہ دس دن سے پہلے تو نہیں ہو گی تقریب ۔ اتنا وقت کافی رہے گا نا ں؟”

” جی جی ۔ انشاء اللہ “۔

“چلیں پھر آپ تیاری شروع کریں ۔ میں امی کو بتا دیتی ہوں ۔ ” عروسہ احمد نے موبائل فون کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا ۔

احمد صاحب نے اخبار ہاتھ میں اٹھا لیا ۔ پھر کچھ دیر بعد اٹھے اور کمپیوٹر پرا پنی ای میل دیکھنے میں مصروف ہو گئے ۔

رات کو بستر پر لیٹتے وقت بھی ان کے دماغ پر یہی سوچ حاوی رہی …..

” اللہ کی محبت ….. اللہ سے محبت ….. کیسے بات شروع کی جائے؟ …… کیا بات کی جائے ؟ ….. “

یہی سوچتے سوچتے وہ نیند کی وادی میں ڈوب گئے ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

“الصلوٰۃ خیر من النوم ” ….

قریبی مسجد سے فجر کی اذان کی آواز سنائی دے رہی تھی ۔

انہوں نے موبائل فون ہاتھ میں لے کر وقت دیکھا ۔

کچھ دیر کسمسانے کے بعد وہ بستر سے اٹھے اور وضو کر کے سنتیں ادا کیں۔ پھر عروسہ احمد کو نماز کے لئے جگایا اور خود مسجد کو چل دئیے ۔

نماز پڑھ کے وہ واپس آئے تو عبد اللہ اٹھ چکا تھا جبکہ عروسہ احمد بھی نماز سے فارغ ہو چکی تھیں ۔

“عبداللہ بیٹا ! جلدی سے بابا کو چھام (سلام ) کرو ۔ شاباش ۔ “

عروسہ احمد ان کو دیکھتے ہی عبد اللہ سے مخاطب ہوئیں ۔

لیکن عبد اللہ تو گویا اپنی ہی دھن میں مگن تھا ۔

عروسہ احمد نے پھر کہا :

” دیکھو بابا آگئے ۔ کیسے سلام کرتا ہے عبداللہ ! جلدی سے بتاؤ ۔ “

اب کی بار عبد اللہ نے اپنا ننھا سا ہاتھ سر پر رکھا اور پھر اپنے بابا کی طرف بڑھا دیا ۔

احمد صاحب نے ” میرا بیٹا ” کہتے ہوئے پہلے تو عبد اللہ کا بڑھا ہوا ہاتھ تھاما اور پھر اسے گود میں لے کر دونوں گالوں پر بوسہ دیا ۔

پھر عبد اللہ سے مخاطب ہو کر بولے : ” بابا کو صبح کا پیار تو کردیں ۔”

عبد اللہ نے اپنے ہونٹ آہستہ سے ان کے دائیں رخسار پر رکھ دئیے ۔

” اونہہ! ایسے نہیں ۔ صحیح سے ۔ “

اب کی بار عبد اللہ نے چٹاخ سے اپنے بابا کے گال پر پیار کیا ۔

“ہوں ! یہ بات ۔ اِدھر بھی ۔ “

احمد صاحب مسرور لہجے میں بولے اور ساتھ ہی دوسرا گال بھی آگے کر دیا ۔

عبدا للہ نے پھر چٹاخ سے دوسرے گال پر پیار کیا ۔

“اِدھر بھی ۔ ” انہوں نے پھر دایاں گال آگے کر دیا ۔

“شاباش ۔ ایک اور ۔ “

احمد صاحب کی نیت نہیں بھری تھی ابھی ۔

عبد اللہ نے ایک بار پھر پیار کیا ۔

جواباً احمد صاحب نے بھی عبد اللہ کو زور سے بھینچ کر اس کے دونوں گالوں اور پیشانی پر پیار کیا ۔

دفعتاً ایک خیال بجلی کی طرح ان کے دماغ میں کوندا ۔

انہوں نے سوچنا شروع کر دیا اور دماغ کی گرہیں گویا کھلنا شروع ہو گئیں ۔

وہ تھوڑی دیر تک اپنے بیٹے کے ساتھ کھیلتے رہے ۔

پھر دفتر جانے کا وقت ہو گیا تو وہ تیاری کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

تیار ہو کر وہ کمرے سے باہر آئے تو عروسہ احمد عبد اللہ کو بھی تیار کر کے باہر لاؤنج میں لا چکی تھیں جہاں وہ اپنے کھلونوں سے کھیل رہا تھا ۔ ساتھ ہی اپنی زبان میں جانے کیا کیا ہانک رہا تھا جسے شاید وہ خود ہی سمجھ سکتا تھا …. یا شاید نہیں ۔

اسی اثنا ء میں دروازے کی گھنٹی بجی ۔

“دودھ والا ہو گا۔ ” عروسہ احمد نے کہا ۔

احمد صاحب بلند آواز سے بولے : ” اچھا ! “

ننھا عبدا للہ سہم کے اپنے بابا کی ٹانگوں سے آ کر لپٹ گیا ۔

“ارے میرا بیٹا ڈر گیا….؟ “کہتے ہوئے احمد صاحب نے جلدی سے عبداللہ کو گود میں لیا اور پیار کیا ۔

پھر کسی سوچ میں گم ہو گئے ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

“جلدی جائیں نا ۔ کیا سوچنے لگے آ پ ؟ “

عروسہ احمد پھر بولیں تو وہ چونکے اور عبد اللہ کو گود سے اتار کر دروازے کی طرف بڑھ گئے ۔

پیچھے عبد اللہ نے رونا شروع کر دیا ۔ وہ سمجھا کہ بابا گھر سے باہر جا رہے ہیں ۔

جب تک احمد صاحب دودھ لے کر واپس لوٹے ، وہ چیخ چیخ کر رونے لگا تھا ۔

“عبد اللہ…. ! ” دودھ فرج میں رکھ کے انہوں نے عبداللہ کو ڈانٹا ۔

عبداللہ ایک لمحے کو چپ ہوا اور پھر ترنم بھرے لہجے میں بولا ۔

“بابااااا!”

اس قدر پیار سے اس نے بابا کہا تھا کہ انہوں نے بے اختیار ہو کر اسے گود میں اٹھا یا اور لگے پیار کرنے ۔

“ناشتہ کر لیجئے ۔ ” عروسہ احمد نے آواز لگائی ۔

انہوں نے عبد اللہ کو گود سے اتارا اور ناشتہ کرنے میں مصروف ہو گئے ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

ناشتے سے فراغت کے بعد وہ ہاتھ دھو کر واپس آئے تو عبد اللہ زمین سے کوئی چیز اٹھا رہا تھا ۔ اگلے ہی لمحے اس کا ہاتھ منہ کی طرف بڑھ چکا تھا۔

احمد صاحب نے جلدی سے ٹوکا :

“ہوووووں ! گندی بات …. زمین سے چیز اٹھا کر نہیں کھاتے …. “

عبد اللہ سہم گیا اور فوراً وہ چیز پھینک دی ۔

احمد صاحب نے دیکھا تو روٹی کا چھوٹا سا ٹکڑا تھا جو یقیناً عبد اللہ ہی نے کسی وقت زمین پر گرا یا ہو گا ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

دفتر جانے کا وقت ہو چکا تھا ۔ انہوں نے چابی اور لیپ ٹاپ اٹھایا اور عروسہ احمد کو خدا حافظ کہتے ہوئے گھر سے باہر نکل گئے ۔

دفتر کے راستے پر گاڑی چلاتے ہوئے وہ مسلسل ایک خاص نکتے پر غور کرتے رہے اور خود کلامی کرتے رہے …

“یہی بات ہے ۔ بالکل یہی بات ہے ۔ یقیناًیہی بات ہے۔ اوہ…. کتنی سامنے کی بات تھی ۔ کتنی آسان سی بات تھی ۔ پہلے کیوں نہیں خیال آیا مجھے ….. !!؟؟ “

آج کا دن کچھ اور ہی انداز سے طلوع ہوا تھا ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

احمد صاحب دفتر سے گھر واپس لوٹے تو عروسہ احمد نے حسب عادت مسکراتے ہوئے ان کا استقبال کیا اور عبد اللہ کو ان کی گود میں دیتے ہوئے ان کے ہاتھ سے چابی اور لیپ ٹاپ لے لیا ۔

“سنیں ! امی کا فون آیا تھا۔”

عروسہ احمد نے بتایا ۔

“یہ امی کا فون روز ہی نہیں آنے لگا ؟”

احمد صاحب نے انہیں چھیڑا ۔

تو اوووو؟ آخر امی ہیں میری ۔ “

عروسہ احمد جانتی تھیں کہ احمد صاحب انہیں چھیڑ رہے ہیں پھر بھی وہ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی چڑ گئیں ۔

“اچھا کیا کہہ رہی تھیں ؟ “

احمد صاحب نے دریافت کیا ۔

“تقریب کا دن طے ہو گیا ہے ۔ آئندہ جمعہ ۔ آپ کے پاس پورے سات دن ہیں ۔ تیاری کر لیں اچھی طرح ۔ “

عروسہ احمد نے بتایا ۔

” تیاری …… تیاری تو ہو گئی بیگم ۔ “

احمد صاحب نے کھوئے کھوئے سے لہجے میں کہا ۔

“ہیں ؟ ہو گئی تیاری ؟ کل تک تو آپ کو بہت وقت چاہئے تھا تیاری کا ……… آج کہہ رہے ہیں تیاری ہو گئی ؟ “

عروسہ احمد حیرت زدہ لہجے میں بولیں ۔

“ہاں نا ! ہو گئی تیاری۔ “

“کیا تیاری کی آپ نے ؟ میں بھی تو ذرا دیکھوں ۔ “

عروسہ احمد نے بے یقینی سے کہا ۔

“بھئی ابھی تو مغرب کی نماز کا وقت ہو رہا ہے اور بھوک بھی لگ رہی ہے۔ ایسا ہے کہ میں نماز پڑھ کر آتا ہوں ۔ آپ بھی نماز پڑھ لیں ۔ کھانے کی میز پر بات کریں گے ۔ ” کہتے ہوئے احمد صاحب مسجد کو چل دئیے ۔

پیچھے عبد اللہ نے بابا … بابا کی گردان شروع کر دی ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

نماز پڑھ کے وہ واپس آئے تو اخبار لے کر بیٹھ گئے۔

سامنے عبد اللہ قالین پر بیٹھا اپنے کھلونوں سے کھیل رہا تھا ۔

“آ جائیں کھانا کھا لیں ۔ “

عروسہ احمد نے آواز لگائی ۔

“آتا ہوں ! ” کہہ کر احمد صاحب نے اخبار چھوڑ ا اور کھانے کی میز کی طرف چل دئیے ۔
“اب جلدی سے بتائیں کیا تیاری کی آپ نے ؟ “

عروسہ احمد نے بریانی احمد صاحب کی طرف بڑھاتے ہوئے بے تابی  سے پوچھا ۔

“بتاتا ہوں ۔” کہہ کر احمد صاحب نے دھیمے لہجے میں عروسہ احمد کو اپنی تیاری کے بارے میں بتانا شروع کیا تو وہ بھی حیرت زدہ رہ گئیں ۔ اور سحر زدہ سے اندازمیں سنتی رہیں ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

جمعۃ المبارک کا دن آن پہنچا تھا ۔

ہاشمی صاحب کے گھر بڑی گہما گہمی تھی۔ کافی لوگ مدعو تھے ۔ خواتین کے لئے پردے کا باقاعدہ انتظام کیا گیا تھا۔

عشاء کی نماز پڑھ کے سب لو گ گھر پہنچے تو ہاشمی صاحب مہمانوں سے مخاطب ہوئے:

“محترم مہمانانِ گرامی ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔

میں آپ سب کی آمد کا بے حد مشکور ہوں ۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ میرا بیٹا طیب اب برسر روزگار ہو گیا ہے جو کہ ظاہر ہے میرے لئے بہت خوشی کی بات ہے ۔ اسی خوشی میں آج کی تقریب منعقد کی جا رہی ہے ۔ ہماری خواہش پر ہمارے داماد جناب احمد صاحب ہماری اور آپ کی خیر خواہی میں کچھ باتیں کریں گے ۔ آئیے احمد بیٹا ۔ “

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

احمد صاحب پر وقار اندا ز میں چلتے ہوئے سامنے رکھی ہوئی نشست پر بیٹھے اور حاضرین سے مخاطب ہوئے…………

“السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔

حاضرین کرام !

تمام تعریفیں اور تمام شکر اس اللہ رب العزت کے لئے …. جو تمام جہانوں اور تمام مخلوقات کا بنانے اور پالنے والا ہے ۔ اور درود و سلام ہو ہمارے پیارے آقا جناب محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم  پر کہ جن کی بدولت آج ہم اپنے خالق و رازق کو جاننے اور پہچاننے کے قابل ہوئے۔ یہ میرے لئے بڑی سعادت کی بات ہے کہ مجھے اس تقریب میں کچھ گزارشات آپ سب کے سامنے پیش کرنے کا موقع عنایت کیا گیا ہے ۔ اس کے لئے میں آپ سب کا اور خصوصاً اپنے والد نسبتی کا بے حد شکر گزار ہوں ۔ میں انشاء اللہ کوشش کروں گا کہ آپ لوگوں کا زیادہ وقت نہ لوں۔ یہ وضاحت کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ بندہ نہ کوئی عالم دین ہے نہ مقرر ۔ نیز تقریر کرنا نہ مقصود ہے نہ مطلوب ۔ بس ایمان کے مذاکرے کے طور پر کچھ باتیں آپ کے گو ش گزار کرنی ہیں کہ ایمان کا مذاکرہ ایمان والوں کو نفع دیتا ہے۔ سو آپ سب سے درخواست ہے کہ توجہ سے بات سنیں۔ انشاء اللہ مجھے بھی نفع ہو گا اور آپ کو بھی ۔ “

اس تمہید کے بعد احمد صاحب نے کہنا شروع کیا …………

” حاضرین کرام ! اللہ تعالیٰ کو اپنے بندوں سے بہت محبت ہے ۔ اور ہم بلا مبالغہ ہزاروں مرتبہ یہ بات سن اور پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے یا ایک ماں سے ستر گنا یا اس سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی اللہ تعالیٰ کی محبت کو سمجھنے کی کوشش کی ؟ کبھی غور کیا کہ ہمارے رب کو ہم سے کتنی محبت ، کس قدر پیار ہے ………. ؟”

” اللہ تعالیٰ نے ہمیں بعد میں دنیا میں بھیجا ، پہلے دنیا کو ہمارے لئے تیار کیا ۔ ہمارے استقبال کے لئے سجایا ۔ زمین غلے اگل رہی ہے . … ہوائیں ٹھنڈی ہو کے چل رہی ہیں …. سورج اپنی کرنوں کو بکھیر رہا ہے …. چاند اپنی چاندنی لٹا رہا ہے …. ستارے آسمان میں جھلملا رہے ہیں…. چشمے ابل رہے ہیں …. آبشار پہاڑوں سے گر رہے ہیں …. دریا بہہ رہے ہیں…. سمندر ٹھاٹھیں مار رہے ہیں …. پہاڑ معدنیات ، سونا، چاندی، زمرد، یاقوت، مرجان اور دیگر قیمتی پتھر اگل رہے ہیں …. درخت، بیل بوٹے، گھاس سبزہ، پھول پودے زمین کے سینے پر بچھے ہوئے ہیں…. پوری کائنات گردش کر رہی ہے ….. یہ سب چیزیں پکار پکار کے بتار ہی ہیں کہ اللہ کو ہم سے کس قدر محبت ہے ۔

پیار بھرا  ہر  ایک  اشارہ                   پیا را  اس کا  ہر   نظارہ

جس نے زمیں پر پیار اتارا                 وہ خود ہو گا کتنا پیارا ؟

پیار کا اس کے نہیں شمار

اللہ ہے بس پیار ہی پیار

پھر جب ہم پیدا ہو ئے تو کس قدر بے بس و لاچار تھے ۔ منہ میں دانت نہیں تھا کاٹنے کے لئے …. ہاتھوں میں طاقت نہیں تھی پکڑنے کے لئے …. پیروں میں طاقت نہیں تھی چلنے کے لئے …. زبان میں طاقت نہیں تھی بولنے کے لئے …. ضرورت بتا نہیں سکتے تھے …. حاجت بتا نہیں سکتے تھے …. کسی کی سن سکتے تھے نہ اپنی سنا سکتے تھے …. ایسی بے بسی کے عالم میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں والدین کی نعمت عطا فرمائی اور یوں ہماری پرورش کا انتظام فرمایا۔ “

” اپنی تخلیق پر تو ذرا غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کن گندگیوں سے نکال کر یہ شکل دی ، یہ دولت دی ، یہ رزق دیا ، یہ جوانی دی ، یہ قوت دی ، یہ طاقت دی ،ہمارے اس مختصر سے جسم کے اندر کتنے بڑے بڑے کارخانے چلا دئیے۔ دیکھنے کا نظام عطا کیا ، سننے کا نظام عطا کیا ، بولنے کا نظام عطا کیا ، پکڑنے کا نظام عطا کیا، چلنے پھرنے کا نظام عطا کیا ، کھانے کا نظام عطا کیا ، اس کھانے کو ہضم کرنے کا نظام عطا کیا، سانس لینے کا نظام عطا کیا ، ایک ناک ہے، اس سے ہم سانس بھی لیتے ہیں ، خوشبو و بدبو کو بھی محسوس کرتے ہیں ، سوچنے سمجھنے کا نظام عطا کیا ، جسم سے فاضل مادوں اور نجاستوں کے نکلنے کا نظام عطا کیا ، جسم کو دماغ کے تابع کیا ، پورے جسم میں دماغ سے چلنے والے پیغامات کوپہنچانے کا نظام عطا کیا ، تولید کا نظام عطا کیا …… اتنی ساری نعمتیں بن مانگے ہی عطا کر دیں ….. “

“پھر ہماری ہدایت و رہنمائی کے لئے اپنے مقرب بندوں یعنی انبیائے کرا م علیہم السلام کو دنیا میں مبعوث فرمایا ۔ ہمارے ہی لئے انبیائے کرام علیہم السلام پر آزمائشیں آئیں ۔ اللہ کے مقرب ترین بندے ہونے کے باوجود ان کو مار کھانی پڑی ۔ دھکے کھانے پڑے ۔ لوگوں کی جلی کٹی سننے کو ملی ۔ جلا وطنی سہنی پڑی ۔ یہاں تک کہ کئی انبیاء علیہم السلام کو قتل بھی کیا گیا ۔ کس لئے ؟ آخر یہ سب کس لئے ہوا ؟ اس لئے کہ ہم اپنے رب کو پہچان سکیں ۔ یہ سب اللہ کی محبت کی کھلی نشانیاں ہی تو ہیں ۔ ہیں کہ نہیں ؟ “

حاضرین نے اثبات میں سر ہلا یا ۔ احمد صاحب نے بات جاری رکھی ۔

وہ بخشتا ہے گناہِ عظیم بھی ، لیکن

ہماری چھوٹی سی نیکی سنبھال رکھتا ہے

ہم اسے بھول جاتے ہیں روشنی میں

وہ تاریکی میں بھی ہمارا خیال رکھتا ہے

گھروں میں جن کے دیا بھی نہیں، ان کے لئے

فضا میں چاند ستارے اچھال رکھتا ہے

محبت اپنے بندوں سے کمال رکھتا ہے

وہ اک خدا ، جو ہمارا خیال رکھتا ہے

“کیا کمال کی محبت ہے ہمارے رب کو ہم سے ۔ کس کس طرح ہمارا خیال رکھتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اس سب کے بدلے میں اللہ تعالیٰ… ہمارا رب … ہم سے کیا چاہتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا … تقویٰ اختیار کرو…. یعنی اللہ سے ڈرو ۔ پرہیز گاری اختیار کرو۔ اطاعت و فرمانبرداری کرو۔ وغیرہ ۔ یہ بار بار فرمایا اللہ تعالیٰ نے ۔ تو جواب ملا کہ اللہ سے ڈرا جائے ۔ اللہ کا ڈر اور خوف بہت اچھی بات ہے۔ بہت بڑی نعمت ہے ۔ جس کے دل میں اپنے رب کا ڈر اور خوف پیدا ہو جائے ، وہ اپنی زندگی کا ہر لمحہ اپنے رب کی اطاعت و فرمانبرداری میں گزارنے کی کوشش کرتا ہے۔ “

“لیکن …. حاضرین کرام ! کچھ اور بھی ہے ….جو اس سے بھی سوا ہے …. اس سے بھی بڑھ کر ہے ۔ ایک اور نعمت ہے … جو اس سے بھی اعلیٰ و ارفع ہے۔ جس کو یہ نعمت مل گئی اس کو ایمان کی حلاوت نصیب ہو گئی ۔ وہ کیا ہے ؟ ایک جگہ پر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں…

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہ ….

جس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ ایمان والے اللہ سے بہت شدید محبت کرتے ہیں ۔ جی حاضرین کرام ! جیسے اللہ تعالیٰ ہم سے محبت کرتے ہیں ، اسی طرح ہمیں بھی چاہئے کہ ہم اپنے رب سے محبت کریں… شدید محبت کریں ۔عشق مجازی میں مبتلا ہونے کے بجائے عشق حقیقی میں ڈوب جائیں ۔ اللہ کی محبت میں وہ سب کچھ چھوڑ دینے کا جذبہ ہمارے اندر پیدا ہوجائے جو ہمارے اللہ کو ناپسند ہے ۔ اور وہ سب اختیار کرنے کا شوق اور دھن ہمارے اندر پیدا ہو جائے جو ہمارے اللہ کو پسند ہے ۔ یہ ایمان والوں کی صفت بتائی ہے اللہ تعالیٰ نے کہ وہ اللہ سے شدید محبت کرتے ہیں۔ اسی بات کو شاعر نے کیا خوبصورت اندا ز میں بیان کیا ہے …. دریا کو کوزے میں بند کر دیا ہے ….

محبت کیا ہے ؟ دل کا درد سے معمور ہو جانا

متاعِ جاں کسی کو سونپ کر مجبور ہو جانا

جی حاضرین کرام ! اللہ تعالیٰ کی محبت سے دل لبریز ہو جائے ۔ دل معمور ہوجائے ۔روشن ہو جائے ۔ اللہ سے ایسی محبت ، ایسا عشق ہوجائے کہ پھر بندہ خود کو اپنے رب کی مرضی کے سپرد کر دے ، تابع کر دے ۔ ہر عمل سے پہلے وہ دل میں ایک مرتبہ یہ ضرور سوچ لے کہ میں جو عمل کرنے جا رہا ہوں ، کیا وہ میرے اللہ کو پسند ہے؟ اللہ رب العزت سے ایسا عشق ہو جائے ، ایسی محبت ہو جائے …. کہ پھر بندہ کو اس محبت پر بھی پیار آنے لگے اور وہ بے ساختہ کہہ اٹھے :

MY GOD!I LOVE YOU….I LOVE TO LOVE YOU!

یا اللہ ! مجھے آپ سے محبت ہے ……….. مجھے آپ سے محبت کرنے کا عمل بھی بہت محبوب ہے ۔ “

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

یہاں تک کہہ کر احمد صاحب نے کچھ توقف کیا ۔ پھر طیب سے مخاطب ہو کر بولے :

” ذرا عبد اللہ کو تو لے کے آئیے ۔”

طیب میاں عبد اللہ کو لے کے آئے تو وہ دوبارہ گویا ہوئے :

“حاضرین کرام ! یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بچے اپنے بڑوں سے سیکھتے ہیں ۔ لیکن گزشتہ ہفتے اس خاکسار پر ایک عجیب حقیقت کا انکشاف ہوا ۔ بڑے بھی بچوں سے سیکھتے ہیں …. یا سیکھ سکتے ہیں ، اگر وہ چاہیں تو ۔ کس طرح ؟ میں آپ کے سامنے ایک عملی نمونہ پیش کرتا ہوں ۔ شاید بات واضح ہو سکے۔ ”
یہ کہہ کر احمد صاحب نے عبد اللہ کو گود میں لیا اور اس سے مخاطب ہو کر بولے :

” بابا کو چھام (سلام ) کریں ۔ شاباش ۔ “

لیکن عبد اللہ کی توجہ اپنے بابا کی جیب پر لگے قلم کی جانب تھی ۔

احمد صاحب نے پھر کہا : ” کیسے سلام کرتا ہے عبداللہ ؟ جلدی سے بتائیں … “

اب کی بار عبد اللہ نے اپنے مخصوص انداز میں اپنا ننھا سا ہاتھ سر پر رکھا اور پھر اپنے بابا کی طرف بڑھا دیا ۔
احمد صاحب نے ” شاباش ” کہتے ہوئے پہلے تو عبد اللہ کا بڑھا ہوا ہاتھ تھاما اور پھر اس کے دونوں گالوں پر بوسہ دیا۔

حاضرین حیرت و دلچسپی کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ یہ منظر دیکھ رہے تھے ۔

احمد صاحب پھر بولے :

“اچھا ! بابا کو رات کا پیار تو کردیں ۔”

عبد اللہ نے اپنے ہونٹ آہستہ سے ان کے دائیں رخسار پر رکھ دئیے ۔

حاضرین کے چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئی ۔

” اونہہ! ایسے نہیں ۔ صحیح سے ۔ صحیح سے ۔ “

اب کی بار عبد اللہ نے چٹاخ سے اپنے بابا کے گال پر پیار کیا ۔

“ہوں ! یہ بات ۔ اِدھر بھی ۔ “

احمد صاحب مسرور لہجے میں بولے اور ساتھ ہی دوسرا گال بھی آگے کر دیا ۔

عبدا للہ نے پھر چٹاخ سے دوسرے گال پر پیار کیا ۔

“اِدھر بھی ۔ ” انہوں نے پھر دایاں گال آگے کر دیا ۔

“شاباش ۔ ایک اور ۔ “

عبد اللہ نے ایک بار پھر پیار کیا ۔

جواباً احمد صاحب نے بھی عبد اللہ کے دونوں گالوں اور پیشانی پر پیار کیا ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

پھر عبد اللہ کو واپس طیب کی گود میں دے کر بولے :

” حاضرین کرام ! اللہ تعالیٰ سے محبت کے اظہار کے مختلف طریقے ہو سکتے ہیں ۔ جو احکامات اور فرائض اللہ تعالیٰ نے ہم پر عائد کئے ہیں ، ان پر غور کرنے سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ شاید اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ ان عبادات کے ذریعے اس سے محبت کا اظہار کیا جائے ۔ ان فرائض میں سب سے بہترین ، اعلیٰ و ارفع اوربلند درجہ نماز کا ہے ۔ نماز کا تحفہ کہاں ملا ؟ جب محبوب خدا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ رب العزت نے معراج پر بلایا۔ معراج کیا ہے ؟ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عظیم معجزہ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے قریب ترین مقام تک پہنچ گئے …

ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی o پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے … کتنا قریب ہوئے ؟

فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی o …. … دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم ۔

ایک حدیث مبارکہ کا بھی مفہوم ہے کہ نماز میں سجدے کی حالت میں بندہ اپنے رب کے انتہائی قریب ہوتا ہے ۔ اب ذرا اس بات پر غور کریں کہ نماز مومن کی معراج ہے ….. تو سمجھ آیا کہ بندہ جب نماز کے لئے اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے تو و ہ اپنے رب سے قربت کی گویا انتہاؤں تک پہنچ جاتا ہے۔ “

“حاضرین کرام ! اب آتے ہیں اس عمل کی طرف جو ابھی آپ کے سامنے میں نے اپنے بیٹے کے ساتھ کیا ۔ اس عمل کے ذریعے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اللہ کی محبت کو سمجھنا ہو تو اولاد اور والدین کی آپس کی محبت پر غور کریں ۔ آئیے اس عمل کی جزئیات کا مرحلہ وار جائزہ لیں اور اس تعلق کو سمجھنے کی کوشش کریں جو ہمارے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ہے …. اور جو تعلق ہونا چاہئے ۔ میں نے آپ کے سامنے اپنے بیٹے عبد اللہ کو گود میں لیا اور سلام کرنے کے لئے کہا۔ لیکن عبد اللہ اپنے شغل میں مگن تھا ۔ سنی ان سنی کر دی ۔ اگر عبد اللہ میرے کہنے پر پہلی مرتبہ میں ہی سلام کر لیتا تو مجھے زیادہ خوشی ہوتی ۔ لیکن اس نے دوسری بار کہنے پر سلام کیا ۔ تو مجھے اس عمل پر بھی پیار آیا اور جواب میں میں نے کیا کیا ؟ اس کو متعد د بار بوسہ دیا۔ “

” اسی طرح آپ نے دیکھا کہ میں نے عبد اللہ سے کہا کہ رات کا پیار تو کر دیں ۔ یہ عمل ہم دن میں کئی مرتبہ کرتے ہیں عبد اللہ کے ساتھ ۔ عبداللہ! صبح کا پیار تو کر دیں ۔ دوپہر والا پیار تو کیا ہی نہیں؟ شام والا پیار کیا تھا ؟ وغیرہ ۔ پھر جب عبد اللہ نے پیار کیا تو صحیح سے نہیں کیا …. میری پسندکے مطابق نہیں کیا …. تو میں نے کہا کہ صحیح سے پیار کریں ۔ پھر اس نے میری منشاء کے مطابق پیار کر کے دکھایا ۔ پھر میں نے اس سے بار بار پیار کر نے کو کہا تو اس نے بار بار پیار کیا۔ جب تک میری نیت نہیں بھری میں نے اس سے بار بار پیار کروایا …. “

احمد صاحب کے لہجے سے مٹھاس ٹپک رہی تھی ۔

“حاضرین کرام ! آمدم بر سر مطلب ۔ ابھی میں نے آپ کے سامنے عرض کیا کہ گزشتہ ہفتے مجھ پر ایک عجیب و غریب انکشاف ہوا ۔ اور میں نے جتنا اس پر غور کیا اتنا ہی یہ سوچ دل و دماغ میں راسخ ہوتی چلی گئی ۔ میں صبح فجر کی نماز پڑھ کے گھر آیا تو بیگم نے معمول کے مطابق عبد اللہ سے کہا کہ بابا کو سلام کرو ۔ اور پھر کم و بیش وہی صورتحال پیش آئی جس کا ابھی آپ نے مشاہدہ کیا …… “

“دفعتاً میرے ذہن میں خیال آیا کہ میرا اللہ بھی تو مجھ سے یہی چاہتا ہے کہ جب میں اپنے بندے سے پیار مانگوں تو میرا بندہ فوراً مجھے پیار کرے ۔ میرا اللہ بھی تو مجھ سے یہی چاہتا ہے کہ جب نماز کے لئے بلایا جائے تو میں اپنے سارے کام کاج چھوڑ کر ، ساری مصروفیات کو ترک کر کے فوراً اس کے دربار میں پہنچ جاؤں۔ میرا اللہ مجھ سے کہے کہ میرے بندے ! صبح کا پیار کر دو تو میں اپنا آرام ترک کر کے …. نرم گرم بستر کو خیر باد کہہ کے …. فجر کی نماز کے لئے کھڑا ہو جاؤں ۔ میرا اللہ مجھ سے کہے کہ دوپہر کا پیار کیا ؟ تو میں گرمی دھوپ سے بے نیاز ہو کر فوراً ظہر کی نماز کے لئے اس کی بارگاہ میں سر جھکا دوں ۔ میر ا اللہ مجھ سے شام کا پیار طلب کرے تو میں اس کی خدمت میں دست بستہ حاضر ہو جاؤں ۔ میرا اللہ مجھ سے کہے کہ رات کا پیار تو کر دو تو میں اسکی محبت میں سرشار ہو کر سجدے میں گر جاؤں اور اس کے قدموں کو بوسہ دوں …… “

احمد صاحب اب ایک جذب کی کیفیت میں بول رہے تھے اور مجمع سانس روکے انہیں سن رہا تھا ۔

” اور حاضرین کرام ! جب میرا اللہ مجھ سے کہے کہ صحیح سے پیار کرو تو میں صحیح سے پیار کروں ۔ اور اس کے لئے نماز اور دیگر فرائض کا علم حاصل کر وں تاکہ میں ان فرائض کی ادائیگی منشائے الٰہی کے مطابق کر سکوں۔ یہ نہیں کہ اسی بے تکے طریقے سے نماز پڑھتا رہوں جیسا کہ بچپن میں سیکھی تھی ، یا دوران نماز گائے بھینسوں کی مانند ڈکاریں لیتا رہوں ، کپڑے درست کرتا رہوں ، کھجلی کھجاتا رہوں ، جھولے جھولتا رہوں ، اپنے ایک دو منٹ بچانے کے چکر میں جلدی جلدی نماز پڑھوں ، نہیں نہیں نہیں …. بلکہ مجھے تو کسی مستند عالم سے نماز کی ادائیگی کا مسنون طریقہ سیکھنا چاہئے … مجھے تو نماز کے فرائض و واجبات کا ، مکروہات و مفسدات کا پتہ ہونا چاہئے …. قیام ، رکوع و سجود ، قومہ و جلسہ کی اہمیت کا علم ہونا چاہئے …. قرات و تجوید کی اہمیت کا علم ہونا چاہئے…. اور اس سے پہلے طہارت و پاکیزگی کا علم حاصل کرنا چاہئے …. وضو اور غسل کے فرائض پتہ ہونے چاہئیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ میری نمازیں برباد ہو جائیں ….. “

” حاضرین کرام ! آپ نے دیکھا کہ میں نے اپنے بیٹے سے کبھی ایک گال پر پیار کرنے کو کہا ، کبھی دوسرے گال پر ۔ کیا اس سے عبد اللہ کو تھکانا یا چڑانا مقصود تھا ؟ ہرگز نہیں ۔ بس میرا جی چاہتا ہے کہ عبد اللہ مجھے پیار کرے۔ بار بار پیار کرے ۔ کیوں ؟ کیونکہ مجھے اس سے بہت محبت ہے۔ اور پھر اس کے اس طرح پیار کرنے پر مجھے اور پیار آتا ہے ۔ اور محبت بڑھتی ہے ۔ میرے اللہ کو بھلا کیا ضرورت ہے کہ میں اس کی عبادت کروں؟ مجھے نمازوں میں تھکا کر اس رب کائنات کے ملک میں کوئی اضافہ ہو گا نہ میرے نماز نہ پڑھنے سے اس کا ملک کم ہو جائے گا ، گھٹ جائے گا ۔ تو پھر یہ نماز کا حکم کیوں…..؟کس لئے؟….. “

” اوہ ہ ہ ! کیا میرا اللہ بھی مجھ سے یہی چاہتا ہے کہ میں اسے بار بار پیار کروں ؟ ؟؟ ہاں …. شاید یہی با ت ہے ۔بلکہ یقیناًیہی با ت ہے ۔ مجھے لگا کہ فجر کی نماز کی دو رکعات فرض ہونے کا مطلب ہے کہ میرا اللہ مجھ سے چاہتا ہے کہ دو مرتبہ پیار کروں۔ ظہر ، عصر کی نمازوں کے چار چار فرضوں کا مطلب مجھے یہی سمجھ آیا کہ میرا اللہ مجھ سے چار چار مرتبہ پیار کروانا چاہتا ہے ۔ مغرب کی تین رکعات سے ایسا معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ میں تین مرتبہ بوسہ دوں ۔ عشاء کی چار رکعات فرض اور تین واجب وتروں سے یو ں محسوس ہوا گویا اللہ تعالیٰ نے سات مرتبہ کبھی اپنا ایک رخسار اور کبھی دوسرا رخسار میرے آگے کیا ہے کہ میں بار بار بوسہ دئیے جاؤں ….اور حاضرین کرام! جب میں اپنے اللہ کو اس کی منشاء کے مطابق بوسے دے دیتا ہوں تو …. ” احمد صاحب کی آواز گھٹنے لگی اور آنکھوں میں نمی آ گئی …..

ایک لمحہ توقف کے بعد وہ رندھی ہوئی آواز میں رک رک کر بولے :

” تو …. پھر جس طرح میں ….. عبداللہ سے بار بار پیار کروانے کے بعد اسے …. بے اختیار ہو کر بھینچ لیتا ہوں …. اسے چومنے لگتا ہوں…. مجھے لگتا ہے کہ جیسے …. میرا اللہ بھی …. جواباً …. مجھے اسی طرح …. محبت سے بھینچ کر …. متعدد مرتبہ بوسہ دیتا ہو گا …. کبھی میرے اس گال پر ۔ کبھی میرے اس گال پر ۔ کبھی میری پیشانی پر …. مجھے تو اپنی محبت محدود ہونے کے باوجود عبد اللہ پر اس قدر پیار آتا ہے….. میرے اللہ کو …. میرے رب کو …. مجھ پر کس قدر پیار آتا ہو گا…. “

اور پھر جیسے ہی ان کا جملہ مکمل ہو ا تو وہ خود پر قابو نہ رکھ سکے اور بے اختیار روپڑے ۔
حاضرین میں سے بھی کچھ سسکیاں بلند ہونے لگیں ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

کچھ دیر بعد جب ان کی طبیعت کو قرار آیا تو انہوں نے پھر بولنا شروع کیا ….
“حاضرین کرام ! والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کی معصوم سی حرکتیں ، پیاری پیاری حرکتیں اپنے احباب کو بتائیں ۔ میرا بیٹا یوں کرتا ہے۔ میرا بیٹا یوں کرتا ہے ۔ اور اکثر والدین اس بات کی دانستہ اور شعوری کوشش کرتے ہیں کہ ان کا بچہ مہمانوں کے سامنے بھی وہ معصوم سی ، پیاری پیاری حرکتیں کر کے دکھائے جو وہ تنہائی میں اپنے والدین کے ساتھ کرتا ہے ۔ بالکل اسی طرح جس طرح ابھی آپ کے سامنے میں نے اپنے بیٹے کی کچھ معصوم سی ادائیں دکھائیں ….. ”
“میرا اللہ بھی تو مجھ سے یہی چاہتا ہے ۔ اور جب میں کوئی نیکی کا کام کرتا ہوں ، نماز پڑھتا ہوں ، روزہ رکھتا ہوں … تو وہ فرشتوں کو بڑے فخر سے دکھاتا ہے کہ دیکھو میرا بندہ مجھ سے کس قدر پیار کرتا ہے ۔ میں نے کہا تھا نا کہ میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔ تم تو کہتے تھے کہ یہ دنیا میں فساد کرے گا، کشت و خون کرتا پھرے گا ۔ دیکھو ! اس نے مجھے دیکھا بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی مجھ سے اندھی محبت کرتا ہے۔ مجھ ہی پر ایمان رکھتا ہے ۔ مجھ ہی سے دعائیں مانگتا ہے ۔ میرے ہی آگے سر جھکاتا ہے …. “

” کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں باہر سے گھر میں آؤں تو عبد اللہ مجھے دیکھتے ہی خود سے سلام کر تا ہے ۔ یا کبھی کسی وقت موڈ میں ہوتا ہے تو آ کے خود سے میرے گال پر پیار کر دیتا ہے ۔ اس وقت مجھے اس پر کس قدر پیار آتا ہے …. یقیناً محتاجِ بیان نہیں ۔ میرا اللہ بھی تو یہی چاہتا ہے کہ میرا بندہ کبھی خود سے بھی میری طرف آئے اور مجھے پیار کرے ۔ کبھی آدھی رات کو میری محبت میں بے قرار ہو کر اٹھے اور آ کر میری قدم بوسی کرے۔ کبھی نفلی روزے رکھے۔ کبھی صدقہ خیرات کرے ۔ یا ایسی ہی کوئی اور عبادت کرے جو کہ قرآن و سنت سے ثابت ہے … ہائے ! اس وقت میرے ر ب کی محبت کا عالم کیا ہوتا ہو گا ….. ؟ “

“کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ عبداللہ کے سامنے بلند آواز سے بات کی جائے تو وہ اسے ڈانٹ سمجھ کر ڈر جاتا ہے ۔ ابھی چند روز پہلے ہی کی بات ہے کہ دروازے پر دودھ والا آیا ۔ میں نے گھر کے اندر ہی سے بلند آواز سے کہا …. اچھا ! …. تو عبداللہ ڈر گیا اور آکر میری ٹانگوں سے لپٹ گیا ۔ میرا اللہ بھی تو یہی چاہتا ہے کہ دنیا میں کہیں کوئی قدرتی آفت آئے … دنیا کے کسی گوشے میں اللہ کے عذاب کی کوئی شکل نظر آئے…. ہیٹی میں زلزلہ آئے یا پاکستان کے شمالی علاقوں میں …. امریکا میں سمندری طوفان آئے یا سونامی …. تو میں اپنے رب کے غصے سے ڈر کر اس کی طرف متوجہ ہو جاؤں ۔ اس سے جا کے لپٹ جاؤں …. ! “

“کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں عبد اللہ کو کسی غلط عمل پر ڈانٹ دیتا ہوں تو وہ بڑی محبت ، بڑے ترنم سے پکارتا ہے …. باباااا! یقین جانئے اس کے اس طرح بابا کہنے پر سارا غصہ کافور ہو جاتا ہے ۔ میرا اللہ بھی تو مجھ سے یہی چاہتا ہے کہ مجھ سے اگر کوئی لغزش ہو جائے …. کوئی گناہ سر زد ہو جائے …. تو میں فوراً اسی کی طرف متوجہ ہو جاؤں اور محبت سے اس کو پکاروں …. اور جب میں اس کو پیار سے پکاروں…. ربنا…. ربنا…. تو یقیناًمیرے رب کی ناراضگی بھی دور ہو جاتی ہو گی ۔ اس کا غصہ ٹھنڈا ہو جاتا ہو گا ۔ “

احمد صاحب کا چہرہ جذبات کی شد ت سے تمتما نے لگا تھا ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

” حاضرین کرام ! میرے رب کا مجھ پر بے پایاں فضل اور انعام ہے کہ اس نے میرے ڈیڑھ سالہ بچے کی وساطت سے مجھے وہ سبق دیا ہے…. وہ درس دیا ہے …. وہ بات سمجھائی ہے جس سے میں اب تک ناآشنا تھا ۔ بے شک میرا رب جسے چاہے ہدایت دے دے …. جیسے چاہے ہدایت عطا کر دے …. جب چاہے ہدایت دے دے …. وہ چاہے تو ایک بے زبان بچے کے صرف ایک معصوم سے عمل کے ذریعے اپنی محبت ، اپنی معرفت کا سراغ عطا کر دے ۔ ورنہ تو بڑے بڑے مقررین کی تقاریر ، بڑے بڑے مصنفین کی کتابیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں ۔ یہ بھی ثابت ہوا کہ ایک ٹن وزن کے برابر باتوں کے مقابلے میں عمل کی صرف ایک چھٹانک کا وزن زیادہ ہوتا ہے ۔ “

” حاضرین کرام ! گزشتہ ایک ہفتے کے دوران میری تو کیفیت ہی بدل گئی ہے ۔ اب تک تو اللہ تعالیٰ کے بارے میں میرے ذہن میں ایک ڈر او ر خوف کا تصور تھا ۔ گویا اللہ تعالیٰ ہاتھ میں کوڑا پکڑے کھڑے ہیں کہ ادھر میں نے کوئی خطا کی ، ادھر ایک کوڑا آ کے پڑے گا … شڑاپ ۔ ہائے…. میرا اللہ …. میرا رب کریم … جو رحمٰن و رحیم ہے ، جو مجھ سے بے پناہ محبت کرتا ہے … میں اپنے اس مہربان ، محبت کرنے والے رب کے بارے میں یہ کیسا تصور قائم کئے بیٹھا تھا ! میں نے تو اپنے رب کی محبت کو کبھی محسوس ہی نہیں کیا ۔ مجھے تو نماز ایک ناگوار سا عمل لگتی تھی جسے میں اب تک بس ایک معمول کا فرض سمجھ کر ادا کر رہا تھا ۔ میں تو زکوٰۃ بھی بڑی بے دلی سے دیتا تھا ۔ اور روزے بھی مجھے مصیبت ہی لگتے تھے ۔ اور حج تو میں نے آخر عمر کے لئے چھوڑ رکھا تھا کہ ابھی سے گناہ تو نہیں چھوڑے جا سکتے تھے نا۔ میں نے تو کبھی اس حدیث پر غور ہی نہیں کیا کہ جس کا مفہوم ہے کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہے …. نہ ہی میں نے کبھی اس حدیث پر غور کیا جس کا مفہوم ہے کہ نماز اس طرح پڑھو گویا کہ تم اپنے رب کو دیکھ رہے ہو ۔ اگر تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو وہ تو تمہیں دیکھتا ہی ہے ۔ “

احمد صاحب کے لہجے میں کرب اور احساس ندامت نمایاں تھا ۔

“ہائے …. میں ان لوگوں سے کیا گلہ کروں جو نماز نہیں پڑھ رہے ۔ پہلے تو میں اپنا جائزہ لوں کہ میں کیسی نمازیں پڑھ رہا تھا ۔ میں نے تو سجدے میں گر کر بھی کبھی اپنے رب کی موجودگی کو ، اس کی قربت کو محسوس ہی نہیں کیا ۔ میں دبیز مصلوں کی نرماہٹ کو تو محسوس کر لیا کرتا تھا لیکن میں نے کبھی اپنے رب کی محبت کی نرماہٹ کو …. اس کے لطیف وجود کی لطافت کو …. اس کے پاکیزہ وجود کی پاکیزگی کو …. محسوس کرنے کی کوشش ہی نہیں کی ۔ ہائے …. میں کس قدر غفلت کا شکار تھا ….. اے میرے رب ذو الجلال ! مجھ سے تیرا گلہ بالکل بجا ہے ….

وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہ …. میرے بندے ! تو نے میری قدر ہی نہیں کی …. “

احمد صاحب ایک مرتبہ پھر رو پڑے ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

” حاضرین کرام ! اللہ تعالیٰ مجھے بلکہ ہم سب کو خود نمائی سے بچائے ۔ غرور و تکبر سے بچائے ۔ اب میری کیا کیفیت ہے ، تحدیث بالنعمۃ یعنی نعمت کے اظہار کے طور پر یہ بھی سن لیں ۔

تمہیں کچھ خبر ہے کہ کیا پا رہا ہوں ؟                         محبت کا ان کی مزہ پا رہا ہوں

گزشتہ ایک ہفتہ سے نمازوں میں ایک عجیب لطف آنے لگا ہے ۔ اب میں نماز کے لئے جاتا ہوں تو دل میں یہی خیال ہوتا ہے کہ میرے رب نے مجھ سے اس وقت پیار مانگا ہے اور میں اپنے رب کو پیار کرنے جا رہا ہوں۔ نماز میں کھڑا ہوتا ہوں تو یہ تصور قائم کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ میں اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوا ہوں …. میں اپنے رب کو دیکھ رہا ہوں …. میرا رب محبت بھری نگاہوں سے مجھے دیکھ رہا ہے …. میرا رب میری طرف متوجہ ہے …. میرا رب فرشتوں کے سامنے مجھ پر فخر کر رہا ہے ۔ جب سجدے میں جھکتا ہوں تو کوشش کرتا ہوں کہ اپنے رب کی موجودگی کو محسوس کروں کہ وہ تو میری شہہ رگ سے بھی زیادہ میرے قریب ہے ۔ اسکی محبت کی نرماہٹ کو ، اسکے وجود کی پاکیزگی و لطافت کو محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ اور پھر …نماز کے اختتام پر …. جب میں دائیں طرف سلام پھیرتا ہوں… تو یوں لگتا ہے گویا میرا رب مجھ سے کہہ رہا ہو کہ میرے بندے ! ذرا اپنا بایاں رخسار تو آگے لا کہ اب میں تجھے پیار کروں …. اور جب میں بائیں طرف سلام پھیرتا ہوں …تو گویا میرا رب مجھ سے کہہ رہا ہوکہ لا اب میں تیرے دائیں گال کو چوم لوں … اور اسی دوران … دائیں بائیں موجود کراماً کاتبین بھی … موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے میرے گالوں کو چوم لیتے ہیں …. ! “

احمد صاحب گلوگیر لہجے میں بول رہے تھے اور سامنے بیٹھا مجمع مبہوت انداز میں ان کی باتیں سن رہا تھا ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

کچھ دیر توقف کے بعد وہ پھر بولے ۔

“حاضرین کرام ! اکثر ایسا ہوتا ہے کہ عبد اللہ نا سمجھی میں زمین سے کوئی بھی چیز اٹھا کر منہ میں رکھ لیتا ہے ۔ تو ہم اسے روکتے ہیں ، منع کرتے ہیں کہ زمین سے کوئی چیز اٹھا کر منہ میں نہیں رکھتے ۔ میرا اللہ بھی تو مجھ سے یہی چاہتا ہے کہ میں کوئی ایسی ویسی چیز نہ کھاؤں ۔ ہر اس چیز سے بچوں جو اس نے میرے لئے حرام کی ہے ۔ یہاں تک کہ اس راستے سے بھی بچوں جو کہ اس نے میرے لئے ممنوع قرار دیا ہے ….. “

“اوہ ! میں نے اس بات کو کتنا غیر اہم جانا ؟ میں نے رزق حرام سے بچنے کی اتنی شدت سے کوشش ہی نہیں کی جیسا کہ بچنے کا حکم تھا ؟ مجھے تو امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم دیا گیا تھا ۔ مجھے چاہئے تھا کہ میں نہ صرف یہ کہ خود رزق حرام سے بچنے کی کوشش کرتا بلکہ ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی تلقین کرتا ۔ نیز ایسے احباب کو بھی سمجھاتا ، روکتا جو مال کی دوڑ میں ایسے مگن ہیں کہ حلال حرام کی تمیز ہی کھو بیٹھے ہیں ۔ مجھے تو یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ برائی کے کاموں میں تعاون نہ کرو … تو کم از کم درجہ میں میں یہی کہہ دیتا کہ مجھے آپ کے ہاں کھانا پینا قبول نہیں …. لیکن میں …. میں تو ان لوگوں کی دعوتوں میں بھی بڑے شوق سے شرکت کرتا تھا ، جن کے بارے میں مجھے واضح طور پر علم تھا کہ ان کا ذریعہ آمدنی حرام ہے ۔ میرا بچہ زمین سے کوئی چیز اٹھا کر کھانے لگے تو میں اپنی محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اسے روکتا ہوں ۔ کہ کوئی ایسی ویسی چیز کھا لی تو کہیں اس کی طبیعت خراب نہ ہو جائے ۔ اس کی طبیعت خراب ہو گی یا نہیں ؟ ہو گی تو کس قدر ہو گی ؟… اس بارے میں مجھے حتمی طور پر علم نہیں ہوتا ۔ صرف ایک اندیشے کی بنا پر میں اپنے بچے کو روکتا ہوں ۔ تو میرا اللہ …. میرا رب … جو علیم و خبیر ذات ہے ، ہر بات کا کامل اور یقینی علم رکھنے والی ذات ہے …. جو میرے بارے میں سب کچھ جانتا ہے …. جو مجھے مجھ سے زیادہ جانتا ہے … اس نے جو مجھے روکا ہے رزق حرام سے …. تو میری محبت میں ہی تو روکا ہے …. کہ وہ جانتا ہے کہ ایسے آلودہ رزق سے مجھے سخت نقصان پہنچے گا۔”

احمد صاحب کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو آ گئے تھے ۔

” حاضرین کرام ! آج ہم دین سے دور ہو کر دنیا میں مشغو ل ہو چکے ہیں ۔ اللہ کی محبت کو فراموش کر کے …. اللہ کے نبی ﷺ کی محبت سے بیگانہ ہو کر… . دنیا اور اس کی رنگینیوں کی محبت میں ڈوب چکے ہیں ۔ آج ہماری تمام محنتوں کا محور پانچ چیزیں ہیں جن کے حصول کے لئے ہر جائز و ناجائز راستہ اپنا رہے ہیں …. میرا گھر اچھا ہو جائے… میرا لباس اچھا ہو جائے …. میری غذا اچھی ہو جائے …. میری سواری اچھی ہو جائے …. میری شادی اچھی جگہ ہو جائے ۔ غور کیجئے اور بتائیے … کیا ہم انہی پانچ چیزوں کے گرد گھوم رہے ہیں یا نہیں …. ؟ “

“حاضرین کرام ! اللہ تعالیٰ رازق بھی ہے ، رزاق بھی ہے ۔ اس نے ہمارا رزق پہلے سے طے کر دیا ہے ۔ لکھ دیا ہے ۔ جو کہ ہمیں مل کر رہے گا ۔ بس ہماری کوشش اور دعا رزق حلال کی ہی ہونی چاہئے ۔ ابھی جن پانچ چیزوں کا میں نے آپ کے سامنے تذکرہ کیا ، بتائیے یہ تمام چیزیں رزق ہی میں شامل ہیں کہ نہیں ؟ یہ چیزیں ہمیں مل کر رہیں گی ۔ اللہ سب کو رزق دے گا، یہ اس کا وعدہ ہے …. لیکن وہ سب کو بخش دے گا ، یہ اس نے وعدہ نہیں کیا ۔ پھر لوگ کیوں رزق کے لئے پریشان ہیں اور مغفرت سے بے پرواہ…. ؟!”

پھر احمد صاحب نے سامنے رکھا قرآن پاک کا نسخہ کھولا اور بولے ….

” حاضرین کرام ! سورہ کہف کی آیات ۳۲ تا ۴۵کا ترجمہ ہے …. فرمایا رب ذو الجلال نے ….

اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کرو جن میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ (عنایت )کئے تھے اور ان کے گردا گرد کھجوروں کے درخت لگادئیے تھے اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کر دی تھی ۔ دونوں باغ (کثرت سے )پھل لاتے اور اس ( کی پیداوار ) میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی ۔ اور (اس طرح ) اس ( شخص ) کو (ان کی ) پیداوار (ملتی رہتی ) تھی تو (ایک دن) جب کہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال و دولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے ( اور جماعت ) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں ۔ اور (ایسی شیخیوں )سے اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا ۔ کہنے لگا میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہو ۔ اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو ۔ اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو ( وہاں ) اس سے اچھی جگہ پاؤں گا ۔ تو اس کا دوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا کہ کیا تم اس ( خدا ) سے کفر کرتے ہو جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں پورا مرد بنایا ۔ مگر میں تو یہ کہتا ہوں کہ خدا ہی میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ۔ اور (بھلا ) جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے ما شا ء اللہ لا قوۃ الا باللہ کیوں نہ کہا ۔ اگر تم مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کمتر دیکھتے ہو تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور اس ( تمہارے باغ ) پر آسمان سے آفت بھیج دے تو وہ صاف میدان ہوجائے۔ یا اس ( کی نہر ) کا پانی گہرا ہو جائے تو پھر تم اسے نہ لا سکو ۔ اور اس کے میووں کو عذاب نے آ گھیرا اور وہ اپنی چھتریوں پر گر کر رہ گیا ۔ تو جو مال اس نے اس پر خرچ کیا تھا اس پر ( حسرت سے ) ہاتھ ملنے لگا اور کہنے لگا کہ کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ۔ ( اس وقت) خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوئی اور نہ وہ بدلہ لے سکا ۔ یہاں ( سے یہ ثابت ہوا کہ ) حکومت سب خدائے برحق ہی کی ہے ۔ اسی کا صلہ بہتر اور ( اسی کا ) بدلہ اچھا ہے ۔ اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کر دو (وہ ایسی ہے ) جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا ۔تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی ۔ پھر وہ چورا چورا ہو گئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں ۔ اور خدا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے …. “

احمد صاحب نے قرآن پاک کو بند کر کے چوما اور سامنے رکھتے ہوئے بولے :

” غور فرمائیے حاضرین کرام ! اللہ پاک گویا ہماری ہی حالت بیان کر رہے ہیں ۔ کہ ہم دنیا اور اس کی چیزوں میں ڈوب چکے ہیں اور اپنے رب کو …. آخرت کو یکسر فراموش کئے بیٹھے ہیں ۔ مادہ پرستی کا اس شدت سے شکار ہیں کہ ہم ہر چیز کے بارے میں یہی گمان کرتے ہیں کہ میرے کرنے سے یہ ہوا ہے ۔ اور اس پر خوب شیخیاں بھی بگھارتے ہیں کہ ارے میں نے یہ یہ کیا تب جا کے یہاں تک پہنچا ہوں…. فلاں فلاں تو بے وقوف ہے…. اسے تو کچھ آتا جاتا ہی نہیں ہے …. مجھے سب کچھ آتا ہے …. مجھے سب پتہ ہے …. میں چاہوں تو یہ کرلوں اور وہ کرلوں …. میں نے اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ بنا لیا ہے …. اگر میں ایسا نہیں کرتا تو کیا ایسا ہوتا ؟ مجھے تو پہلے ہی پتہ تھا…. میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا …. وغیرہ وغیرہ ۔ شاذ و نادر ہی کوئی یہ کہتا ہے کہ بھائی یہ سب تو میرے اللہ کا فضل ہے … ورنہ مجھے تو کچھ نہیں آتا جاتا … میں تو کسی قابل نہیں ہوں ۔ “

” جی حاضرین کرام! میری صلاحیتیں ، میری منصوبہ بندی ، میری حکمت عملی ، میری تجزیہ کاری ، میری دولت ، میرا منصب ، میری تدبیر ، میرا تدبر ، میرا علم ، میرا فن ، میری ڈگریاں …. یہ سب کسی کام کی نہیں جب تک میرا اللہ نہ چاہے ۔ آج مارکیٹنگ marketing کی کتابوں کی بدولت ، ہم یہ سمجھنے لگے ہیں بلکہ تسلیم کر بیٹھے ہیں کہ کامیابی اور ناکامی کے حصول کے کچھ مخصوص فارمولے ہیں …جن پر عمل پیرا ہو کر کامیابیاں قدم چومتی ہیں ۔ مسلمان ہونے کے باوجود ہم نے اللہ تعالیٰ کی قدرت ، اس کی حکمت کو فراموش یا نظر انداز کر دیا ہے … دوسرے لفظوں میں گویا انکار کر دیا ہے ۔ ہمارا ایمان یہی بن چکا ہے کہ ہماری کیلکولیشنز calculations ، ہماری پلاننگ planning، ہماری اسٹریٹجی strategy اور ہماری اینالیسسanalysis کی بدولت ہمیں کامیابیاں مل رہی ہیں ۔ اور جب ہمیں اس سب کے باوجود ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو پھر ہم اپنی ہی خامیاں تلاش کرتے رہ جاتے ہیں ۔ “

“حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مشہور و معروف قول ہے جس کا مفہوم ہے کہ میں نے اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے اپنے رب کو پہچانا ہے ۔ ہم تو ایک لمحہ کو بھی یہ نہیں سوچتے کہ ایسا اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہی ہوا ہے …اور ہو سکتا ہے کہ یہ چیز ہمارے حق میں بہتر نہ ہو ۔ یہ مادہ پرستی ہے حاضرین کرام… اور یہی دنیا کا سب سے بڑا دھوکہ اور دجالی طاقتوں کا سب سے خوفناک ہتھیار ہے۔ سوچئے … آخر کیوں حضور ﷺ نے آخر زمانے والوں کو جمعہ کے دن سورہ کہف کی تلاوت کی خاص طور پر تلقین فرمائی ؟ کیونکہ سورہ کہف میں خصوصیت کے ساتھ مادہ پرستی کی نشانیاں وضاحت سے بیان کی گئی ہیں ۔ چنانچہ یہ تلقین ہمیں چوکنا کرنے کے لئے کی گئی کہ جب ایسا ہوتا ہوا دیکھیں تو سمجھ لیں کہ دجالی فتنہ ہمارے خلاف متحرک ہو چکا ہے اور ہم فوراً سورہ کہف کی تلاوت کی طرف متوجہ ہو جائیں تاکہ اس فتنے سے محفوظ رہیں ۔ “

” اس دھوکے سے بچئے حاضرین کرام …. اس دھوکے سے بچئے ۔ آیات مذکورہ میں اللہ تعالیٰ نے ایسی شیخیاں بگھارنے کو ، اپنے آپ پر ، اپنی سمجھ پر زعم اور گھمنڈ کرنے کو کفر سے تعبیر کیا ہے اور ڈرایا بھی ہے کہ کسی بھی وقت اللہ کا عذاب ہمیں گھیر سکتا ہے۔ پھر دنیا کی حقیقت بھی بیان کر دی کہ دنیا کی زندگی تو بس ایسے ہی ہے جیسے آسمان سے پانی گرا ، زمین سے کچھ اگ گیا ، پھر وہ سوکھ گیا، پھر سوکھ کر چورا چورا ہو گیا یہاں تک کہ ہواؤں نے اسے اڑا دیا اور زمین واپس ویسے ہی صاف ہو گئی کہ جیسے کبھی کچھ اگا ہی نہ تھا …. ! “

” حاضرین کرام ! انسان بھی کتنا عجیب ہے ! مال بنانے کے چکر میں پہلے تو صحت گنوا بیٹھتا ہے … پھر اپنی صحت کی بحالی کے چکر میں مال گنوا بیٹھتا ہے ۔ مستقبل کی فکر میں حال کو بھلا بیٹھتا ہے یہاں تک کہ اسی فکر میں حال اور مستقبل دونوں کو کھو بیٹھتا ہے ۔ یوں جیتا ہے گویا اس نے مرنا نہیں ہے ، اور پھر ایک دن ایسے مر جاتا ہے جیسے کبھی زندہ ہی نہ تھا ۔ ایسے فراموش کر دیا جاتا ہے جیسے کبھی اس دنیا میں آیا ہی نہ تھا …. “

احمد صاحب بڑی دقیق گتھیاں سہولت کے ساتھ سلجھاتے چلے جا رہے تھے ۔

“حاضرین کرام ! آج دنیابنانے کے چکر میں ہم آخرت کو بھلا بیٹھے ہیں ۔ یہ دنیا اور اس کی ہر چیز ایک دن فنا ہو جائے گی ۔ ہم بھی فنا ہو جائیں گے ۔ لیکن بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ اس جہان کے بعد بھی ایک دوسرا جہان ہے ۔ جو جزا سزا کا جہان ہے ۔ جو ہمیشہ ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے ۔ کبھی نہ ختم ہونے والی جگہ ہے ۔ یہ دنیا دار العمل ہے ، دارالحساب نہیں ہے ۔ آخرت دار الحساب ہے ، دار العمل نہیں ۔ دنیا آخرت کی کھیتی ہے ۔ یہاں ہم جو بوئیں گے ، وہی آخرت میں کاٹیں گے ۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے چاہنے نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا … اللہ کے حکم ، اس کی چاہت ، اس کے ارادے سے ہی سب کچھ ہوتا ہے ۔ وہ جسے چاہے عطا کرے ، جیسے چاہے عطا کرے ، جہاں سے چاہے عطا کرے ، جو چاہے عطا کرے ، جس سے چاہے چھین لے ، جب چاہے چھین لے ، کوئی اس کو روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے ، نہ ہی وہ کسی کو جوابدہ ہے ۔ “

“حاضرین کرام ! ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ قیامت میں انسان کے قدم اس وقت تک اپنی جگہ سے نہیں ہٹ سکتے جب تک اس سے یہ سوالات نہ کر لئے جائیں …. زندگی کہاں گزاری ؟ جوانی کہاں گزاری؟ مال کیسے کمایا اور کیسے خرچ کیا ؟ اپنے علم پر کیا عمل کیا ؟ …. غور کیجئے اس حدیث پر …. مال کے بارے میں دو سوال کئے جا ئیں گے …. کیسے کمایا ؟ …. کیسے خرچ کیا ؟ کہاں خرچ کیا ؟ گویا آمدن اور خرچ دونوں کا جواب دینا ہو گا۔ “

” حاضرین کرام ! ہمارا رزق لکھا جا چکا ہے ۔ متعین کیا جا چکا ہے ۔ ملے گا تو وہی جو مقدر میں لکھ دیا گیا ہے ۔ اب یہ ہماری نیتوں پر ہے کہ ہم اپنے نصیب کے رزق کے حصو ل کے لئے جائز طریقہ اختیار کرتے ہیں یا ناجائز ۔ ہمارا مذہب اس بات کی بہت سختی سے تاکید کرتا ہے کہ ہم حصول رزق کے لئے جائز اور حلال طریقے استعمال کریں ۔ ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ محنت سے حلال روزی کمانے والا اللہ کا دوست بن جاتا ہے ۔ ایک اور حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جو بندہ اللہ کے دئیے ہوئے تھوڑے رزق پر راضی ہو جاتا ہے ، اللہ اس کے تھوڑے عمل پر راضی ہو جاتا ہے ۔ “

” تو سب سے پہلے تو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ حصول رزق کا جو بھی ذریعہ ہم اپنائیں ، وہ جائز اور حلال ہو ۔ آج بہت سے ایسے ادارے وجود میں آ چکے ہیں ، بہت سے ایسے کاروبار وجود میں آ چکے ہیں، جو سود ، جوئے ، سٹہ بازی وغیرہ پر مشتمل یا ان کے مماثل ہیں ۔ علماء کی تحقیق و فتاویٰ کے مطابق ایسے اداروں میں کام کرنا اور وہاں سے حاصل ہونے والی آمدنی حرا م اور ناجائز ہے ۔ بد قسمتی سے ہم مسلمان ہونے کے باوجود شعوری یا غیر شعوری طور پر ایسے اداروں سے منسلک ہو جاتے ہیں اور پھر اپنی روزی حرام کر بیٹھتے ہیں ۔ نہایت ضروری ہے کہ کسی بھی ادارے میں ملازمت اختیار کرنے سے قبل …. کسی بھی کاروبار سے منسلک ہونے سے قبل علمائے دین کی رہنمائی حاصل کی جائے کہ فلاں ادارے میں ملازمت کرنا جائز ہے ؟ فلاں کاروبار کرنا جائز ہے؟…. اور اگر کوئی نا دانستگی میں ایسے کسی ادارے سے منسلک ہو گیا ہے تو اسے چاہئے کہ فوری طور پر اس کا جائز اور حلال متبادل تلاش کرے …. اور ایسے ادارے کو فی الفور خیر باد کہہ دے …. چاہے کتنی ہی پرکشش تنخواہ و مراعات مل رہی ہوں ۔ ایسا کرنا ہرگز مشکل نہیں …. اگر اس بات پر ایمان ہو کہ ملے گا تو اتنا ہی جتنا مقدر میں لکھا ہے ۔ “

” حضور اکرم ﷺ کے بارے میں آتا ہے کہ ایک رات بہت بے چین رہے ۔ وجہ پوچھی گئی تو فرمانے لگے کہ رات ایک کھجور کھا لی تھی ۔ اب خیال آ رہا ہے کہ کہیں صدقہ کی نہ ہو ۔ ہائیں …. کھجور حرام تو نہیں ہے ۔ پھر اس بے قراری کی وجہ کیا ہے ؟ وجہ یہ ہے کہ صدقہ کا مال کھانا آپ ﷺ کے لئے جائز نہ تھا ۔ دیکھیں صرف ایک اندیشہ نے کس قدر بے چین کر رکھا ہے اللہ کے محبوب ﷺ کو …. ! “

” آج اسی محبوب ﷺ کے امتی کھلے عام حرام کھا بھی رہے ہیں ، اور اس پر ندامت کے بجائے فخر کرنے لگے ہیں ۔ اسی پیسے سے ہر سال حج عمرہ کو بھی چلے جاتے ہیں …. کیا ایسے لوگوں نے کبھی یہ سوچا کہ کفار مکہ نے بیت اللہ شریف کی تعمیر نو کے وقت نہ صرف اس بات کا عہد کیا بلکہ اس عہد کو نبھایا بھی کہ بیت اللہ کی تعمیر میں حرام آمدنی کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کریں گے ۔آج لوگ حرام آمدنی سے بڑی بڑی دعوتیں کر رہے ہیں…. اور اگر کوئی جرأت کر کے ان کی دی گئی دعوت کو رد کر دے … صرف اس سبب سے کہ آپ کا ذریعہ آمدنی جائز نہیں …. تو پھر بجائے اس کے کہ یہ اپنے ذریعہ آمدنی کا جائزہ لیں …. الٹا اس شخص ہی سے ناراض ہو جاتے ہیں ! نیز دیگر احباب بھی ایسی جرات ایمانی کا مظاہرہ کرنے والے شخص کو ہی مورد الزام ٹھہراتے ہیں ۔ آج الٹا ایسے لوگوں کو طعنے دئیے جا نے لگے ہیں جو رزق حلال کما نے کھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس تگ و دو میں ضروریات زندگی بھی بمشکل ہی پوری کر پارہے ہیں ۔ “

دکھ احمد صاحب کے چہرے سے عیاں تھا ۔

“حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ ایک دن بہت بھوکے تھے ۔ غلام نے کھانا آگے کیا تو بغیر تحقیق کئے کھا لیا ۔ بعد میں پتہ چلا کہ جو کھانا پیش کیا گیا وہ غلام نے حرام طریقے سے حاصل کیا تھا تو حلق میں انگلی ڈال ڈا ل کر قے کرتے رہے یہاں تک کہ شکم خالی ہونے کا اطمینان ہو گیا ۔ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور واقعہ ہے ۔ شہر میں ایک بکری چوری ہونے کی خبر ملی ۔ تو یہ تحقیق کرنے لگے کہ بکری کی زیادہ سے زیادہ عمر کتنی ہوتی ہے ؟ پتہ چلا کہ آٹھ سال ۔ تو آٹھ سال تک بکری کا گوشت بازار سے خرید کر نہ کھایا کہ کہیں اس چوری کی بکری کا گوشت بازار میں بک رہا ہو اور میں حرام کھا بیٹھوں ….. سوال یہ ہے کہ رزق حرام سے اس قدر نفرت کیوں؟ اس قدر احتیاط کیوں ؟ اس لئے کہ یہ لوگ اللہ کے نبی ﷺ کے اس فرمان عالیشان پر غیر متزلزل ایمان رکھتے تھے جس میں لقمہ حرام پر پلنے والے جسم کے لئے جہنم کی اور لقمہ حرام سے نہ بچنے والے شخص کے لئے عبادات اور دعاؤں کے قبول نہ ہونے کی وعید سنائی گئی ہے ۔ ہم اپنا جائزہ لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ….؟ اپنے اطراف کے لوگوں پر غور کریں …. موازنہ کریں حلال و حرام روزی کمانے والوں کے درمیان …. اور خود ہی فیصلہ کریں کہ بیماریاں، پریشانیاں ، ریشہ دوانیاں ، معذوریاں ، ڈکیتیاں ، اولاد کی نافرمانیاں کن کے گھروں کا رخ زیادہ کرتی ہیں ! “

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

پانی کا ایک گھونٹ لے کر وہ پھر بولے :

“حاضرین کرام ! سورہ النساء آیت 147 میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے …. اللہ تمہیں سزا دے کر کیا کرے گا اگر تم شکر گزار بنو اور ایمان لے آؤ اور اللہ قدر دان جاننے والا ہے ۔ شکر گزاری یہ ہے کہ ہر معاملے میں اللہ کی اطاعت کی جائے ۔ ہم کمائیں بھی حلال طریقے سے اور خرچ بھی جائز کاموں میں اور جائز طریقے سے کریں ۔ واضح رہے کہ مال و دولت فی نفسہ بری چیز نہیں ۔ اللہ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے ۔ لیکن اس کے حصول کے لئے ناجائز راستے اختیار کرنا یا مالدار ہو جانے پر گھمنڈ کرنا، یا اس کو فضولیات میں اڑانا …. یہ نا پسندیدہ اور قابل گرفت عمل ہے ۔ اگر کسی کو اللہ نے اپنے فضل سے مال و دولت کی کثرت عطا کی ہے تو اس پر شکر ادا کرے ۔ اسے اللہ کی رضا کے لئے خرچ کرے۔ جائز کاموں میں خرچ کرے ۔ جیسا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت عبدالرحمٰن ابن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ یہ دونوں صحابہ انتہائی مال دار تھے۔ اس زمانے کے کروڑ پتی لوگ تھے ۔ لیکن مال خرچ کہاں ہو رہا ہے ؟ اللہ کی راہ میں ۔ مسلمانوں کے لئے کنواں خریدنے کی ضرورت پڑی تو اپنا مال حاضر کر دیا ۔ جہاد کے لئے ساز و سامان کی ضرورت پڑی تو اپنا مال لے کر پہنچ گئے ۔ اونٹ ، گھوڑے اور دیگر سامان جہاد خرید کر دے دیا ۔ ہم بھی خرچ کریں تو دیکھ بھال کر ۔ جائز اور حلال صورتوں میں ۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جو تم نے کھا لیا وہ تمہارا ہے… جو پہن لیا وہ تمہارا ہے …. جو اللہ کی راہ میں دے دیا ، وہ تمہارا ہے….. باقی سب پرایا ہے …. ورثاء کا ہے ۔ “

“اس محفل میں خواتین بھی موجود ہیں ۔ تو ان سے متعلق بھی ایک بات یاد دہانی کے طور پر عرض کر دوں ۔ خواتین کو شاپنگ کا ، بننے سنورنے کا بڑا شوق ہوتا ہے ۔ بننا سنورنا ان کا فطری حق ہے ۔ لیکن ان کا اس طرح بن ٹھن کے بازاروں میں یا غیر محرم مردوں کے سامنے بے پردہ جانا اللہ کو ناپسند ہے ۔ اسی اللہ کو جو ہم سے بے حد محبت کرتا ہے ۔ اگر یہی خواتین بناؤ سنگھار اس نیت سے کریں … فیشن ایبل لباس اس نیت سے بنوائیں…. کہ مجھے بنا سنورا دیکھ کر میرے خاوند کو راحت ہو گی …. تو یہ عمل نہ صرف خاوند کی خوشنودی کا سبب بنے گا بلکہ یقیناًاللہ کی رضا کا بھی سبب بنے گا ۔ “

” حاضرین کرام ! اللہ سے محبت کریں ۔ ہر ضرورت میں صرف اللہ کو پکاریں ۔اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیں ۔ میں پھر بچوں کی مثال دوں گا کہ بچوں کو دیکھیں ، جب بھوک لگتی ہے ، پیاس لگتی ہے، یا کوئی بھی ضرورت ہوتی ہے ، تو وہ اپنے والدین کی طرف دیکھتے ہیں ۔ اس یقین کے ساتھ کہ یہی میری ضرورت پوری کرتے ہیں ، یہی میری ضرورت پوری کریں گے ۔ “

“اللہ ہی ہمارا پیدا کرنے والا ہے ۔ پالنے والا ہے ۔ ہم بھی اپنے بچوں کی طرح رز ق کے معاملے میں بے فکر ہو جائیں ۔ اسی طرح بچوں میں ایک اور اچھی عادت یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ مل گیا صبر شکر سے کھا لیا …. اور جو مل گیا ، اسی وقت کھا لیا …. اگلے وقت کے لئے بچا کر نہیں رکھتے۔ ذخیرہ اندوزی نہیں کرتے ۔ فضا میں اڑنے والے پرندے بھی یہی سبق دے رہے ہیں اشرف المخلوقات کو ….

ویکھ اسمان تے اُڑدے پنچھی !
نہ او کر دے رزق ذخیرہ
نہ او بُکھے مرَ دے نے !
بندے ای کردے رزق ذخیرہ
بندے ای بُکھے مرَ دے نے !

( آسمان پر اڑنے والے پرندو کو دیکھو ۔ وہ رزق جمع نہیں کرتے ، پھر بھی بھوکے نہیں مرتے ۔ بندے ذخیرہ اندوزی کرتے ہیں ، پھر بھی بھوکے مرتے ہیں ۔ )

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

” حاضرین کرام ! اللہ یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے نبی ﷺ سے بھی محبت کی جائے ۔ بحیثیت مسلمان ہم پر ہمارے نبی ﷺ کا بہت حق ہے ۔ آپﷺ کے ہم پر بے پناہ احسانات ہیں ۔ ہمارے والدین سے کہیں زیادہ حق ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہم پر ۔ ہمارے نبیﷺ رات رات بھر جاگتے اور رو رو کر ہمارے لئے دعائیں مانگا کرتے تھے ۔ اس محبت کا تقاضا ہے کہ ہم بھی اپنے نبی ﷺ کی محبت کا جواب محبت سے دیں ۔ اس محبت کا اظہار کس طرح سے ہو گا ؟ آپ ﷺ کی مبارک سنتوں کو اپنا کر ۔آپ ﷺ کے نورانی طریقوں پر عمل پیرا ہو کر ۔ “

” لیکن حاضرین کرام ! سنتوں پر عمل تو بعدکی بات ہے ۔ آج ہم اپنے نبی ﷺ سے اس قدر بیگانہ ہو چکے ہیں کہ …. ہم تو درود بھیجنے کو بھی تیار نہیں۔ یا دکیجئے اپنے نبی ﷺ کا وہ فرمان جس پر جبریل امین علیہ السلام جیسے جلیل القدر فرشتے نے آمین کہا ۔ جس کا مفہوم ہے کہ ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے ۔ آج بہت سوں کو تو یہ بات ہی معلوم نہیں۔ کچھ کو پتہ ہے تو بھی وہ اس کا اہتمام نہیں کرتے ۔ اللہ سب کو ہدایت عطا فرمائے …. “

” لیکن میرا گلہ ایسے لوگوں سے ہے …. جو اس بات کا تو اہتمام کرتے ہیں کہ جب ذکر نبی ﷺ آئے تو زبان پر درود شریف آ جائے …لیکن جب درود پڑھتے ہیں تو ….بخل سے کام لیتے ہیں ۔ کس طرح….. ؟ صلَّ سلَّم…. صلَّ سلَّم …. ادھر حضور پاک ﷺ کا ذکر خیر آیا… ادھر ان کی زبان سے نکلا …. صلَّ سلَّم ۔ بدقسمتی سے بہت سے دین دار لوگوں کو بھی ایسا ہی کرتے دیکھا …. یہاں تک کہ کچھ علمائے کرام کو بھی ….. “

احمد صاحب بڑے دکھ بھرے لہجے میں بولے تھے ۔

“حاضرین کرام ! کسی کی برائی مقصود نہیں ۔ بس ایک کوتاہی کی نشاندہی اور اصلاح کرنا چاہتا ہوں ۔ آپ سے در خواست ہے …. التجا ہے…. فریاد ہے …. کہ آج اس بات کو ذہن نشین کر کے اٹھیں کہ جب نبی پاک ﷺ کا نام مبارک کانوں میں پڑے ، تو ادب کے ساتھ ، محبت کے ساتھ ،عشق کے ساتھ ، اہتمام کے ساتھ اپنے نبی ﷺ کی ذات پاک کی خدمت میں درود پاک کا نذرانہ بھیجیں ۔ صرف جلدی سے صلَّ سلَّم کہہہ کر جان چھڑانے کے بجائے …. رک رک کر ، ٹھہر ٹھہر کر صلی اللّٰہ علیہ وسلم کہیں ۔ “

“جی حاضرین کرام ! جب ہمارے سامنے ہمارے نبی پاک ﷺ کا ذکر خیر آئے تو ہمیں وہ محبت یاد آ جائے جو ہمارے نبی ﷺ نے ہم سے کی … وہ مشقت ، وہ تھکن محسوس ہو نے لگے جو ہمارے نبی ﷺ نے راتوں کو جاگ جاگ کر …. پاؤں سُجا سُجا کر …. آنسو بہا بہا کر … ہماری مغفرت کی دعائیں کرنے میں اٹھائی ۔ اور پھر ایک جذب کے ساتھ…. محبت کے ساتھ…. اخلاص کے ساتھ …. سرشاری کے ساتھ ہماری زبانوں پر …. صلی اللّٰہ علیہ وسلم …. صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا ورد جاری ہو جائے ۔ “

احمد صاحب کا لہجہ ایک بار پھر گلوگیر ہو چکا تھا ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

احمد صاحب نے ایک لمبا سانس لیا اور پھر بولے ۔

” حاضرین کرام ! بات کچھ لمبی ہو گئی ۔ بات چلی تھی اللہ کی محبت سے ۔ تو اپنی گفتگو کو سمیٹتے ہوئے آخر میں پھر یاد دہانی کرتا چلوں کہ اللہ ہم سے بے حد محبت کرتا ہے ۔ جبھی تو اس نے ہمیں اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلمﷺ کی امت میں پیدا فرمایا۔ ہمارے پیارے نبی ﷺصلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے محبوب بھی ہیں اور حبیب بھی ۔ آپ ﷺصلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے خود بھی محبت کی اور لوگوں پر ایسی محنت کی کہ وہ اپنے اللہ سے محبت کرنا سیکھ گئے ۔ آپ ﷺصلی اللہ علیہ وسلم نے جو دین کی محنت کی ، اس محنت کا لب لباب ، اس کا مرکزی نقطہ ، اس کا خلاصہ یہی ہے کہ آپ ﷺ نے لوگوں کو اللہ سے محبت کرنا سکھا دیا ۔ “

“پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلمﷺ نے جو پیاری پیاری دعائیں بتائیں ، ان میں سے ایک دعا ہے …
اَللّٰھُمَّ اِنِّی اَسْءَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَ الْعَمَلَ الَّذِیْ یُبَلِّغُنِیْ حُبَّکَ….
اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ حُبَّکَ اَحَبَّ اِلَیَّ مِنْ نَّفْسِیْ وَ اَھْلِیْ وَ مِنَ الْمآءِ الْبَارِد … (حصن حصین )

اس دعا کا مفہوم ہے کہ اے اللہ ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں آپ کی محبت کا ، اور آپ سے محبت کرنے والے کی محبت کا ، اور ایسے عمل کا جو مجھ کو پہنچادے آپ کی محبت تک۔ اے اللہ ! اپنی محبت کو میرے لئے میری جان سے ، اہل و عیال سے اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا دے ۔ “

” تو معلوم ہوا کہ لوگوں کو اللہ سے محبت کرنے کی ترغیب بھی دی جا رہی ہے اور اس کے لئے دعا بھی بتا ئی جا رہی ہے ۔ سو جب لوگ اللہ سے محبت میں گرفتار ہوئے تو پورے معاشرے کی کایا ہی پلٹ گئی ۔ لوگ اللہ سے محبت کرنا سیکھ گئے تو بس اللہ ہی کے ہو کر رہ گئے ۔ ساری برائیاں ختم ۔ سارے جھگڑے ختم ۔ اللہ کے لئے لڑنے مرنے پر آمادہ ۔ جان دینے پر آمادہ ۔ جی حاضرین کرام۱ جب اللہ سے محبت ہو جاتی ہے تو پھر ہر طرف محبت کی برسات ہونے لگتی ہے ۔ “

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

ذکر خدا ہے دل کا قرار                   پیارے بندے ! رب کو پکار
رب کو پکار ، اب رب کو پکار            ہو جا نثار ! اب ہو جا نثار
پیار کا اس کے نہیں شمار
اللہ ہے بس پیار ہی پیار

“حاضرین کرام ! آئیے اللہ تعالیٰ سے اس کی محبت کا سوال کریں …. اللہ سے دعا کریں کہ ہمیں بھی اپنی محبت کا کوئی ذرہ عنایت فرما دے…. اے اللہ ! ہم آپ سے سوال کرتے ہیں آپ کی محبت کا ، اور آپ سے محبت کرنے والوں کی محبت کا ، اور ایسے عمل کا جو ہم کو پہنچادے آپ کی محبت تک۔ اے اللہ ! اپنی محبت کو ہمارے لئے ہماری جان سے ، مال سے ، اہل و عیال سے اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ محبوب بنا دے ۔ آئیے دعا کریں ….

اپنی محبت ہم کو سکھا دے ، راہ نبی ﷺ پر ہم کو چلا دے
اے پیارے مولا ! انگلی پکڑ کر ، اللہ اکبر اللہ اکبر

آئیے دعا کریں کہ اے اللہ ! اے میرے رب ! ….

۱؂ اپنی “رحمت” کے سمندر میں اتر جانے دے
تیرا مجرم ہوں مجھے ڈوب کے مر جانے دے

” آئیے حاضرین کرام ! اپنے رب سے محبت کرنا سیکھ جائیں …. اس سے ویسی ہی محبت کرنے لگیں جیسی کہ اس کے نیک بندوں نے اس سے کی …. یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ آج ہمیں بھی معاشرتی استحکام حاصل ہو جائے گا ۔ ہم بھی باہم اسی طرح شیر و شکر ہو جائیں گے جس طرح عرب کے خونخوار انسان صحابہ کرام بن جانے کے بعد باہم شیر و شکر ہو گئے تھے ۔ ہمارے درمیان بھی اسی طرح مواخات قائم ہو جائے گی جو مہاجرین مکہ اور انصار مدینہ کے مابین قائم ہو گئی تھی ۔ آئیے اللہ سے محبت کرنے کا عہد کر کے یہاں سے اٹھیں …… اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے …. اپنی صلاحیتوں کی نفی کرتے ہوئے …. متاع جاں کو اپنے رب کے سپرد کر دیں ….. تاکہ ہم پر بھی محبتوں کی برسات ہونے لگے ۔ “

احمد صاحب نے اپنی بات مکمل کی ہی تھی کہ ہوا کے ایک تیز جھونکے کے ساتھ بارش کے کچھ قطرے آئے اور ان کے چہرے کو بھگو گئے ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

دفعتاً ان کی آنکھ کھل گئی ۔

دیکھا تو عبد اللہ اپنی دودھ کی بوتل کو زور زور سے ہلا رہے تھے اور اس میں موجود دودھ کے چھینٹے نکل نکل کر ادھر ادھر جا رہے تھے ۔ چہرے پر پڑنے والے انہی چھینٹوں کی نمی سے احمد صاحب کی آنکھ کھل گئی تھی ۔

” اوہ ! کتنا طویل خواب دیکھا ہے میں نے ….. ” خود کلامی کے انداز میں انہوں سے کہا ۔

اسی وقت قریبی مسجد سے آواز آئی ….

“الصلوٰۃ خیر من النوم ” ….

احمد صاحب بستر سے اٹھے اور وضو کر کے مسجد کی طرف چل پڑے……… اپنے رب کو پیار کرنے کے لئے ……. !!!

صبح نو کا آغاز ہو چکا تھا ۔

سراغ زندگی مل چکا تھا ۔

—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-xxxx—-

۱؂  شاعر سے معذرت کے ساتھ

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s