Pani bhara matka

پانی بھرا مٹکا

از ابو شہیر

گئے وقتوں کی بات ہے ۔ کسی ملک پر ایک بادشاہ کی حکومت تھی ۔ بادشاہ نہایت رحمدل اور سخی تھا ۔ تحفہ تحائف لانے والوں کی بڑی قدر کیا کرتا تھا اور ان کو بدلے میں بڑھ چڑھ کر عطا کیا کرتا تھا ۔ سال کے سال بادشاہ کی طرف سے اعلان ہوتا کہ ہے کوئی جو بادشاہ کے لئے اپنے علاقے سے عمدہ تحفہ لائے ؟ چنانچہ اس کی سلطنت کے لوگ اس موقع کے انتظار میں رہا کرتے تھے کہ اس موقع پر بادشاہ کی خدمت میں کوئی ہدیہ لے کر جائیں ۔

اس ملک کے ایک دور دراز گوشے میں ایک شخص اپنے کنبے کے ساتھ رہا کرتا تھا ۔ ایک سال بادشاہ کی طرف سے جب تحفہ لانے کا اعلان ہوا تو اس شخص نے سوچا کہ اس مرتبہ میں بھی بادشاہ کی خدمت میں کوئی تحفہ لے کر جاوَں ۔ اس کے پاس ایک چھوٹا سا قطعہ اراضی تھا جو کہ اس کے کنبے کی گزر اوقات کا واحد ذریعہ تھا ۔ لیکن اس سال ان کے علاقے میں پانی کی اتنی شدید قلت رہی کہ پینے کے پانی کے لالے پڑ گئے ۔ بڑی دوڑ دھوپ کے بعد مٹکا دو مٹکا پانی حاصل ہو پاتا ۔ زراعت تو ممکن ہی نہ رہی تھی ۔ تو اب سوال یہ تھا کہ کیا تحفہ لے کر جایا جائے ؟

بہت غور کیا تو یہی سمجھ آیا کہ پانی سے بھرا ایک مٹکا ہی لے جاتا ہوں ۔ چنانچہ اس نے اپنے گھر میں موجود سب سے عمدہ اور خوبصورت مٹکا اٹھایا اور پانی کی تلاش میں نکل پڑا ۔ خاصی تگ و دو کے بعد وہ ایک مٹکا بھرپانی حاصل کر پایا ۔ اس نے مٹکا سر پر رکھا اور اپنے اہل و عیال کو خداحافظ کہہ کر بادشاہ کے محل کی طرف چل دیا ۔ راستے میں اور لوگ بھی ملتے رہے ۔ سب ہی کچھ نہ کچھ لے کر جا رہے تھے ۔ میلوں کا سفر تھا ۔ راستے کی مشکلات اپنی جگہ ۔ لیکن وہ شخص اپنی دھن میں مگن چلتا رہا ۔ بالآخر وہ شخص بادشاہ کے محل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ۔

اگلے دن ایک وسیع و عریض میدان میں بادشاہ  نے دربار عام لگایا ۔ لوگ اپنے اپنے تحفے بادشاہ کی خدمت میں پیش کرتے رہے اور بادشاہ خوش ہو کر سب کو انعام و اکرام سے نوازتا رہا ۔ اس شخص کی جب باری آئی تو بادشاہ نے پوچھا کہ تو کیا لایا ہے ؟ اس نے تھکے تھکے لہجے میں عرض کی کہ حضور کی خدمت میں پانی سے بھرا مٹکا لایا ہوں ۔ شرف قبولیت عطا فرمایئے ۔ درباری حیرت زدہ رہ گئے کہ یہ شخص بھلا کیا تحفہ لایا !

لیکن بادشاہ  بڑا ہی جہاندیدہ تھا ۔ اس نے درباریوں سے کہا : دیکھو میرا خیال ہے کہ یہ شخص کسی ایسے علاقے سے آیا ہے جہاں پانی کی شدید قلت ہے ۔ لیکن اس کے باوجود یہ پانی بھرا مٹکا لایا ہے حالانکہ پانی اس کی اس وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے ۔ سوچو!کیا  ہی عمدہ تحفہ لایا ہے ! اور دوسری بات یہ کہ کتنی عمدگی سے لایا ہے کہ میلوں کی مسافت طے کرنے کے دوران بھی اس نے مٹکے کو گرنے نہ دیا ۔ اب بتاوَ اس شخص کو کیا بدلہ دیا جائے ؟درباری بادشاہ کا تجزیہ دیکھ کر حیرت بھرے انداز سے بولے : جہاں پناہ ! کیا خوب پہچانا آپ نے ! ہم تو یہی کہیں گے کہ اس کو تو وہ سب کچھ عطا کیا جائے جو یہ مانگے۔

بادشاہ نے کہا : ہمیں تیرا تحفہ بہت پسند آیا ۔ مانگ کیا مانگتا ہے ؟

اس نے کہا : جہاں پناہ کا اقبال بلند ہو ۔ حضور کی خوشنودی کے بعد سائل کو کسی شے کی کوئی حاجت نہیں !

بادشاہ نے کاغذ قلم منگوایا اور اپنے ہاتھ سے ایک شاہی فرمان تحریر کرایاجس میں لکھوایا کہ حامل رقعہ ہٰذا کو دریا کنارے وسیع جاگیر عطا کی جائے ۔پھر رقعہ اس شخص کے حوالے کرتے ہوئے کہا۔ : جاوَ فلاں علاقے کے گورنر کے پاس یہ فرمان لے جاوَ ۔

ساتھ ہی تاکید کی : دیکھو ! راستے میں ایک سرنگ آئے گی ۔ سرنگ سے پہلے کا راستہ بہت خطرناک ہے ۔ چور اچکے بہت ہیں ۔ اگر تم سرنگ تک بحفاظت پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تو آگے کا راستہ زیادہ دشوار نہیں ہے ۔ سرنگ تک اس فرمان شاہی کی خاص حفاظت کرنا ، کہیں یہ راستے میں ضائع نہ ہو جائے ، کوئی چور ڈاکو نہ اچک کے لے جائے !

محترم عازمین  حج !

تمام عالموں کے بادشاہ کی طرف سے ہر سال حج کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ اور لاکھوں خوش نصیب ہر سال یہ سعادت حاصل کرتے ہیں ۔ دور دراز کے علاقوں سے مکہ مکرمہ کا سفر اختیار کرتے ہیں جن میں اس بار آپ بھی شامل ہیں ۔ احکم الحاکمین جانتے ہیں کہ مال آپ کی کتنی بڑی ضرورت ہے اور آپ کو مال سے کس قدر محبت ہے ۔ پھر بھی آپ رب العالمین کی خوشنودی کی خاطر لاکھوں روپے خرچ کر کے اور اپنا گھر بار بیوی بچے چھوڑ کراس کے محل یعنی بیت اللہ تک پہنچنے پر کمر بستہ ہیں ۔

مذکورہ حکایت کے مطابق حج بیت اللہ آپ کا پانی کا مٹکا ہے جو آپ بادشاہ کی خدمت میں بطور تحفہ لے کر جا رہے ہیں ۔ اپنی نیت کو خالص رکھئے گا ۔ راستے کی مشقت ، مصائب و حوادث آپ کی توجہ مٹکے سے نہ ہٹا دیں ورنہ مٹکا ٹوٹ بھی سکتا ہے ۔ دیکھئے ! مٹکا ٹوٹنا تو بہت دور کی بات ہے، اتنے محتاط رہئے کہ پانی بھی نہ چھلکنے پائے ۔ اخلاص نیت اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بادشاہ کے دربار عام یعنی میدان عرفات تک پہنچ جانا آپ کی بہت بڑی کامیابی ہو گی ۔ یقین جانئے بادشاہ بہت قدر دان ، بہت مہربان ، بہت سخی ، بڑا جہاندیدہ ، سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہے ۔ جانتا ہے کہ آپ نے اس سب کچھ کے لئے کس قدر تگ و دو کی ہے ، کتنی مشقت و زحمت اٹھائی ہے ۔ محض رب العالمین کی خوشنودی کا حصول آپ کا مقصد ہونا چاہئے ۔ جب آپ اس جذبے کے ساتھ میدان عرفات میں پہنچ جائیں گے تو پھر حدیث مبارکہ کے مطابق بادشاہ اپنے درباریوں یعنی فرشتوں کے سامنے آپ کے جذبے کی تحسین فرمائے گا ۔ درباری حیرت سے یہ منظر دیکھ رہے ہوں گے

یہ کون سر سے کفن لپیٹے  چلا ہے  الفت کے راستے پر

فرشتے حیرت سے تک رہے ہیں ،یہ کون ذی احترام آیا

حدیث مبارکہ کے مطابق بادشاہ اپنے درباریوں سےکہے گا کہ اس شخص کی جزا کیا ہے ؟ درباری کہیں گے کہ جو مانگے عطا کر دیا جائے ۔

بادشاہ ایک پروانہ عطا فرمائے گا جس میں اپنی خوشنودی کےساتھ جنت میں دریا کنارے عظیم الشان محلات اور پھلوں سے لدے باغات پر مشتمل وسیع و عریض جاگیر کی بشارت بھی تحریر ہو گی ۔

بادشاہ کی طرف سے عطا کردہ پروانے کو لے کر سرنگ یعنی قبر تک بحفاظت پہنچ جانا اب آپ کی اگلی ذمہ داری ہے ۔دیکھیں چوکنا رہئے گا ۔ کہیں راستے میں چور ڈاکو یعنی شیطان اور اس کے چیلے یہ پروانہ آپ کے ہاتھ سے نہ لے اڑیں ۔

سرنگ سے آگے پھر انشاءاللہ کامیابی ہی کامیابی ہے ۔

اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین !

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s