Amr Bil Ma’roof Wa Nahi ‘Anil Munkar

امر بالمعروف و نہی عن المنکر

از ۔۔۔ ابو شہیر

شاعر نے کہا تھا ۔۔۔

مجھ کو تو  کوئی  ٹوکتا  بھی نہیں

یہی ہوتا ہے خاندان میں کیا ؟

شاعر کا شکوہ اپنی جگہ لیکن آج آ پ ذرا کسی کو ٹوک کے تو دیکھئے ! دانتوں پسینہ نہ آ جائے تو بات ہے !

جی ہاں ! ہمارا معاشرہ دہرے معیار یا تضادات کا شکار و شاہکار ہے ۔ مثلاًآپ کسی موٹر سائیکل سوار کو بتائیں کہ وہ سائیڈ اسٹینڈ اوپر کرنا بھول گیا ہے یا یہ کہ اس کے پیچھے بیٹھی خاتون کا دوپٹہ لٹک کر پہئے میں آ رہا ہے تو وہ آپ کے بڑے احسان مند ہو ں گے کہ آپ نے انہیں خطرے سے آگاہ کر دیا ۔ لیکن اگر اسی یا کسی  موٹر سائیکل سوار کو آپ کہیں یہ کہہ بیٹھتے ہیں کہ بھائی آپ نے جو  “چڈا “پہن رکھا ہے وہ ستر پوشی کے شرعی تقاضوں کے خلاف ہے کہ آپ کی رانیں اور گھٹنے برہنہ نظر آرہے ہیں ۔۔۔ یا یہ کہ اپنی خاتون کو پردہ کرائیے  ۔۔۔ تو “جاوَ میاں جاوَ اپنا کام کرو”سے لے کر “شٹ اپ “تک کچھ بھی سننے کو مل سکتا ہے بلکہ عین ممکن ہے کہ آپ کو “طالبان “کا خطاب بھی مل جائے ۔ یہ صرف ایک مثال ہے ۔ یقین جانئے ایسی بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔ عجیب رویے ہیں ہمارے معاشرے کے ۔ کہ دنیا کے نقصان سے آگاہ کر دو تو “تھینک یو “اور آخرت کے نقصان سے آگاہ کر دو تو “شٹ اپ “۔

یہ تو غیروں یا اجنبیوں کا تذکرہ ہو گیا ۔ اب آئیے اپنوں کی طرف ۔۔۔ خاندان کی طرف ۔۔۔ ہماری دانست میں رشتہ داری ایک دوسرے کی دلجوئی و غمگساری کا نام ہے ۔ لیکن آج خاندانی رشتوں پر نظر ڈالیں تو  دو حقائق بڑے واضح طور پر سامنے آتے ہیں ۔ ایک یہ کہ رشتہ داری تقریبات میں شرکت کا نام ہے مثلاً آپ کو مہندی کی تقریب میں بلایا جائے اور آپ اس کا بائیکاٹ کر دیں کہ جی یہ غیر اسلامی رسم ہے ، میں اس میں شریک نہیں ہو سکتا کہ مجھے اپنی اور  اپنے اہل خانہ کی عاقبت عزیز ہے ، تو بس پھر آپ خود بائیکاٹ کے  لئے تیار ہو جائیے ۔ دوسری بات یہ سامنے آتی ہے کہ رشتہ داری ایک دوسرے کے ہاں کھانے پینے کا نام ہے ۔ مثلاً آپ کو دعوت میں بلایا جائے اور آپ یہ کہہ کے معذرت کر لیں کہ بھائی آپ کا ذریعہ آمدنی حلال نہیں لہٰذا میں آپ کے ہاں کھانا نہیں کھا سکتا تو بس پھر۔۔۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ۔ کون سی رشتہ داری اور کہاں کی قرابت داری! اور سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جس کو کہا جائے صرف اسی کی طر ف سے دندان شکن رویہ سہنے کو نہیں ملے گا بلکہ الا ما شاء اللہ متعلقین کی توپوں کا رخ بھی آپ ہی کی طرف ہو گا ۔ آزمائش شرط ہے ۔

یہ تمام حقائق اپنی جگہ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پھر ان معاشرتی رویوں کے خوف سے کلمہ خیر چھوڑ دیا جائے ؟ ہرگز نہیں جناب ! اس طرح تو معاشرہ اور خراب ہوتا چلا جائے گا ۔ بگاڑ بڑھتا ہی چلا جائے گا ۔ دیکھئے ! معاشرے کو برباد کرنے میں شر پسند عناصر سے کہیں زیادہ ان اچھے لوگوں کا ہاتھ ہے جو ان کے سامنے ڈٹنے کے بجائے خاموشی اور پسپائی اختیار کر گئے ۔ ذرا سوچئے ! “مٹی پاوَ” اور “سانوں کی ” جیسے رویوں کے سبب آج ہمارا معاشرہ کس نہج کو پہنچ چکا ہے؟ جبکہ بحیثیت مسلمان امر بالمعروف و نہی عن المنکر یعنی نیکی کی تلقین کرنا اور برائی سے روکنا ہماری بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔  قرآن پاک میں جگہ جگہ اس بات کا حکم صراحت کے ساتھ موجود ہے ۔

سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 104 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : اور تمہارے درمیان ایک ایسی جماعت ہونی چاہئے جس کے افراد {لوگوں کو } بھلائی کی طرف بلائیں ، نیکی کی تلقین کریں اور برائی سے روکیں ۔

اسی سورۃ کی آیت نمبر 109میں کہا جا رہا ہے : {مسلمانو !} تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لئے وجود میں لائی گئی ہے ۔ تم نیکی کی تلقین کرتے ہو ، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو ۔

یہاں اول تو ہمیں اپنے آپ سے سوال کرنا چاہئے کہ اگر ہم نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنے والا کام نہیں کر رہے تو کیا ہم بہترین امت کہلانے کے حقدار ہیں ؟ دوسری بات یہ کہ نیکی کی تلقین تو پھر بھی بہت سے لوگ کر رہے ہیں ۔۔۔اور شاید یہ نسبتاً آسان بھی ہے ۔۔۔لیکن برائی سے روکنے والا عمل آج کل ناپید ہوتا جا رہا ہے ۔ ذرا اپنے اطراف کا جائزہ تو لیجئے !کس قدر برائیاں پھیلی ہوئی ہیں جن پر ہم اور ہمارا معاشرہ سمجھوتہ کر چکے ہیں ۔۔۔ چلئے قتل و غارت ، چوری ڈکیتی اور دیگر جرائم کو روکنا تو حکومت وقت یا اس کے نمائندہ اداروں مثلاً پولیس وغیرہ کا کام ہے لیکن جھوٹ ، بے پردگی ، رشوت و سود خوری ، بد نظری ، بے حیائی ، ناشکری ، ناچ گانے کی محفلیں ، ناجائز ذرائع آمدنی ، غیبت ، تکبر ، شعائر اسلام کی تضحیک و توہین و تمسخر ، وغیرہ ایسے گناہوں سے تو ہم اپنے اطراف والوں کو روک سکتے ہیں  یا کم از کم بچنے کا تو کہہ سکتے ہیں۔۔۔ کیا اتنی بھی ایمانی جرات و طاقت نہیں رہی آج ہم میں ؟

آئیے یہاں قرآن پاک سے ایک قصہ کا جائزہ لیتے ہیں ۔  ترجمہ :اور آپ ان لوگوں (یہود ) سے اس گاوَں کا حال پوچھیں جو کہ لب دریا آباد تھا جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی )اس وقت کہ ہفتہ کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتے کا دن نہ ہوتا تو نہ آتیں ۔ اسی طرح ہم لوگوں کو ان کی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے ۔ اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہاکہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے تو انہوں نے کہا کہ اس لئے کہ تمہارے رب کے سامنے معذرت کر سکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیز گاری اختیار کر لیں ۔ جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کر دیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا کہ نافرمانی کئے جاتے تھے ۔ غرض جن اعمال (بد ) سے ان کو منع کیا گیا تھا جب وہ ان پر (اصرار اور ہمارے حکم سے ) گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ  ذلیل بندر ہو جاوَ ۔  (الاعراف 163-166)

ایک بڑی مشہور حدیث زبان زد عام ہے ۔ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے  ۔۔۔

“جو شخص تم میں سے کسی منکریعنی خلافِ شرع کام کو دیکھے تو اس کو اپنے ہاتھ سے مٹا دے، اگر اتنی طاقت نہ ہو تو زبان سے روکے اور اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو دل میں اس کو برا جانے اور اس سے بیزار ہو اور یہ ایمان کا سب سے کم تر درجہ ہے “۔  (صحیح مسلم )

معاشرے کی اکثریت اس بات پر خاصی مطمئن ہے کہ بھائی میں دل میں تو برا سمجھ رہا ہوں ناں ! بے شک حدیث بالا کی روشنی میں آپ بھی اچھا عمل کر رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا آپ ایمان کے کم ترین درجہ پر مطمئن ہیں ؟اور کیا آپ کو بس اسی پر اکتفا کر لینا چاہئے ؟ مزید برآں کیا آپ کو یہ پتہ ہے کہ کسی قول یا فعل کو دل سے برا جاننے کا کیا مطلب ہے ؟ دیکھئے کسی بات یا چیز کو دل سے برا جاننے کا مطلب یہ ہے کہ جب اس کا ذکر ہو تو اس سے شدید نفرت محسوس ہو۔ مثلاً کوئی شخص کسی کے ماں باپ کو گالی دے تو پہلی صورت تو یہ ہے کہ اس کا منہ توڑ دے۔۔۔دوسرا یہ کہ زبان سے اس کی ایسی تیسی کر کے رکھ دے ۔۔۔تیسرا یہ کہ کم از کم اس کمرے سے تو واک آوَٹ کر جائے جہاں وہ شخص موجود ہو ۔۔۔ کجا یہ کہ اس کے گھر کھانا کھائے اور اس سے ہنسی مذاق کرے اوراپنی بیٹی اس کے نکاح میں دے دے ۔

تو معلوم یہ ہوا کہ اگر کسی برائی کو روکنا ایک شخص کے دائرہ اختیار میں ہے اور اس کے پاس مطلوبہ طاقت بھی ہے تو وہ اسے طاقت سے روکنے کا مکلف ہے ۔ جیسا کہ ایک اور حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ تم میں سے ہر کوئی حاکم ہے اور اس سے اس کے ماتحتوں سے متعلق سوال ہو گا ۔ تو باپ کو اپنے دائرہ اختیار میں روکنا چاہئے ، ادارے کے سربراہ کو اپنے دائرہ اختیار میں ، او ر پھر حکومت کو اپنے دائرہ اختیار میں ۔ اگلی بات یہ کہ دیگر احادیث مبارکہ کی تعلیمات پر بھی تو ایک نگاہ ڈال لیجئے کہ ان میں کیا کہا جا رہا ہے ؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک فرمان کا مفہوم ہے کہ “تم ضرور اچھائی کا حکم کرتے رہو اور بُرائی سے روکو ، ورنہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی تم پر اپنی طرف سے عذاب بھیج دے۔ پھر تم اس کو پکارو گے (لیکن) وہ تمہاری دعا قبول نہیں کرے گا۔(صحیح مسلم )

ایک اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا مفہوم ہے کہ “یقیناً اللہ تعالی خاص لوگوں کے عمل (گناہوں) کی وجہ سے عام لوگوں کو عذاب نہیں دیتا، یہاں تک کہ جب عام لوگوں کا یہ حال ہوجائے کہ وہ برائی اپنے درمیان ہوتے دیکھیں اور وہ اس پر نکیر کرنے پر قادر بھی ہوں لیکن وہ اس سے نہ روکیں، جب ایسا ہونے لگے تو اللہ کا عذاب عام اور خاص سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے”۔( مسند الامام احمد )

اور قربان جائیے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی فصاحت و بلاغت کے کہ کس قدر عام فہم انداز میں ایک تمثیل کے ذریعے امت کو بتایا کہ امر بالمعروف و  نہی عن المنکر معاشرے کی بقا کے لئے کتنا ضروری عمل ہے ۔ فرمایا : “اللہ کی حدوں میں مداہنت ( نرمی و درگزر ) کرنے والوں اور حدوں کے توڑنے والوں کی مثال اس قوم کی سی ہے جنہوں نے ایک (دو منزلہ )کشتی میں سفر کرنے کے لئے قرعہ اندازی کی ، بعض کے حصے میں بالائی منزل اور بعض کے حصے میں نچلی منزل آئی، نچلی منزل والے پانی لینے کیلئے بالائی منزل پر آتے اور بالا نشینوں کے پاس سے گزرتے تو وہ تکلیف محسوس کرتے، چنانچہ نچلی منزل والوں نے کلہاڑا پکڑ کر کشتی میں سوراخ کرنا شروع کردیا تاکہ نیچے سے ہی پانی لے لیں اور اوپر جانے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ سوراخ کرنے کی آواز سن کر اوپر والے آئے اور پوچھا: “تم یہ کیا کررہے ہو؟” انہوں نے کہا “ہم پانی لینے اوپر جاتے ہیں تو تم ناگواری محسوس کرتے ہو، چنانچہ ہم نیچے ہی سوراخ کرنے لگے ہیں، کیونکہ پانی کے بغیر تو چارہ نہیں” (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اگر وہ (اوپر کی منزل والے) اسی وقت ان کا ہاتھ پکڑ لیں اور سوراخ سے روک دیں تو وہ سوراخ کرنے والوں کو بھی بچالیں گے اور خود کو بھی بچالیں گے اور اگر وہ ان کو اپنے حال ہی پر چھوڑ دیں گے تو ان کو بھی ہلاک کردیں گے اور خود کو بھی ہلاک کرلیں گے”۔  (صحیح البخاری )
یہ بات بھی تجربہ سے ثابت ہے کہ جب معاشرہ برائیوں کا عادی ہو جائے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر چھوڑ دیا جائے تو اچھائیاں مٹتی چلی جاتی ہیں اور برائیاں عام ہوتی چلی جاتی ہیں یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آ جاتا ہے کہ برائی نہ صرف یہ کہ برائی محسوس نہیں ہوتی بلکہ انسانی فکر اس حد تک مسخ ہو جاتی ہے کہ برائی کو اچھائی سمجھا جانے لگتا ہے جیسا کہ آج کل مغربی معاشرے کا حال ہے  کہ مرد کی مرد سے شادی کو آئینی و قانونی تحفظ دے دیا گیا ہے اور جسم فروشی جیسا قبیح دھندہ کرنے والی عورتوں کو باقاعدہ لائسنس جاری کئے جاتے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ ایسی حیا باختہ عورتوں کو جنہیں ان کے ہاں پہلے prostitute یعنی طوائف کہا جاتا تھا ، اب sex workers کا نام دے دیا گیا ہے ۔ استغفراللہ!

تو جناب حاصل کلام یہ ہے کہ نیکی کی تلقین کے ساتھ ساتھ برائی سے روکنے والا عمل بھی حکمت بصیرت کے ساتھ جاری رکھئے خواہ کسی کو کتنا ہی ناگوار گزرے ۔ دیکھئے اول تو یہ بات ذہن میں رہنی  چاہئے کہ سورۃ تحریم آیت نمبر6 میں بڑی واضح ہدایت موجود ہے کہ (ترجمہ )”مومنو  ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آتش (جہنم ) سے بچاوَ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔۔۔الخ  “۔ تو سب سے پہلے اپنی ذات اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے اہل و عیال کی نگہبانی ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے ۔ پھر یہ حلقہ بڑھتے بڑھتے خاندان ، دوست احباب ، پڑوسی ، اور پھر پورا معاشرہ یہاں تک کہ پھر پوری دنیا کو محیط ہے ۔ سب کو اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ لوگو مرنے کے بعد حساب کتاب بھی ہونا ہے جس کے بعد یا جنت ہے یا جہنم ہے ۔ “جس نے ذرہ بھر بھی نیکی کی ہو گی تو وہ اس کو دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر بھی برائی کی ہو گی تو وہ اس کو دیکھ لے گا ” ۔ (سورۃ الزلزلہ ۔ آیۃ 7-8)

ثانیاً یہ کہ بڑی پرانی مثال ہے کہ کوئلے کی دوکان پر نہ چاہتے ہوئے بھی کالک لگ سکتی ہے اور عطر کی دوکان پر نہ چاہتے ہوئے بھی خوشبو آ جاتی ہے  ۔ تو وہ لوگ جو یا تو اپنا اچھا برا نہیں سمجھتے ، یا سمجھنا نہیں چاہتے ، سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی ان کے ساتھ جڑے رہنے سے اپنے اندر بھی کمزوری آتی ہے ۔ کہنے سننے کا حوصلہ کمزور پڑتا ہے ۔ اس لئے بہتر ہے کہ صالحین یعنی نیک لوگوں کو تلاش کر کے ان کے ساتھ جڑا جائے کہ ان کے ساتھ رہ کر ڈھارس بندھتی ہے، اپنا عمل اور ہمت و حوصلہ مضبوط ہوتا ہے ، جرات و اعتماد میں بھی اضافہ ہوتا ہے ، ایک دوسرے سے نیکی کی ترغیب بھی ملتی ہے اور  تحریک میں بھی زور پکڑتی ہے ۔

اور آخری بات یہ کہ لوگوں کی لعنت ملامت ، دشنام طرازی اور ناگوار رویہ وغیرہ کی پرواہ چھوڑئیے جناب !جب انبیائے کرام علیہم السلام کو برا بھلا کہا گیا ،گالیاں دی گئیں ، جھڑکیاں سننے کو ملیں ، پاگل دیوانہ جادوگر وغیرہ کہا گیا (العیاذ باللہ)، تو ہم کس گنتی میں ہیں ؟ اپنے نفس کو یہ کہہ کر اطمینان دلائیے ، پھر دیکھئے اس کام میں کیسی لذت،کیسا سرور ملتا ہے ۔

Advertisements

One thought on “Amr Bil Ma’roof Wa Nahi ‘Anil Munkar

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s