Hajj Umrah

حج کا سبق

حج کا سبق

از۔۔۔ ابو شہیر

حج اسلام کا پانچواں رکن اور نہایت عظیم الشان عبادت ہے ۔ یہ عبادت کئی اعتبار سے منفرد ہے ۔ مثلاً نماز روزہ بدنی عبادات ہیں ۔ زکوٰۃ مالی عبادت ہے ۔ لیکن حج ایسی عبادت ہے جس میں مال بھی کھپانا پڑتا ہے اور جان بھی جوکھوں میں ڈالنی پڑتی ہے ۔ اسی طرح نماز روزہ زکوٰۃ تو مسلمان دنیا کے کسی بھی گوشے میں ادا کر سکتے ہیں لیکن حج {اور عمرہ } کی ادائیگی کرنی ہو تو لازم ہے کہ حجاز مقدس کا قصد کیا جائے ۔ مکہ مکرمہ پہنچ کر بیت اللہ کا طواف کیا جائے ، صفا و مروہ کے درمیان سعی کی جائے ۔ دیگر مناسک حج کی ادائیگی کے لئے مکہ مکرمہ کے پہلو میں واقع مختلف میدانوں یعنی منیٰ ، مزدلفہ اور عرفات کی خاک چھانی جائے ۔ ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ ایک ہی مقام پر انسانوں کی ایک نہایت کثیر تعداد بیک وقت یہ عبادت انجام دے رہی ہوتی ہے جیسا کہ آج کل دنیا بھر سے کم و بیش پچیس لاکھ فرزندان توحید ہر سال اس مقدس فریضہ کی ادائیگی کی غرض سے حجاز مقدس پہنچتے ہیں ، جن میں پاکستان کے ایک لاکھ اسی ہزار خوش نصیب بھی شامل ہیں ۔ اسی طرح اس عبادت کی ایک انفرادیت یہ بھی ہے کہ اس عبادت کی ادائیگی کے دوران عام زندگی میں لاگو ہونے والے بہت سے شرعی احکامات یا تو موقوف کر دیئے جاتے ہیں یا ان کے بالکل مخالف حکم سامنے آ جاتا ہے ۔

ان احکامات کا جائزہ لیا جائے تو ایک اہم اور غور طلب امر سامنے آتا ہے کہ مناسک حج کی ادئیگی سے آخر مقصود کیا ہے ؟ اس ساری جد و جہد کے دوران بندے کو کس بات کی تربیت دی جا رہی ہے یا اس کی کون سی ادا کو جانچا جا رہا ہے ؟ اختصار کے ساتھ چند امور کا جائزہ لیتے ہیں ۔ مناسک حج کے آغاز کو دیکھیں تو سب سے پہلے تو بندے کا لباس تبدیل کرا دیا جاتا ہے یعنی دو چادریں پہنا دی جاتی ہیں ۔ پھر جب وہ حج  {یا عمرہ} کی نیت سے احرام باندھ لیتا ہے تو اس پر چند حلال امور بھی حرام ہو جاتے ہیں ۔ مثلاً عام حالات میں تو اللہ  تعالیٰ بندے کے پاک صاف رہنے کو، خوشبو لگانے کو پسند فرماتے ہیں ۔ بال ناخن کاٹنے کو فطری امور قرار دیا گیا ہے ۔ چنانچہ ناخنوں یا جسم کے غیر ضروری بالوں کا ایک حد سے زیادہ بڑھ جانا اللہ تعالیٰ کے نزدیک نا پسندیدہ ہے ۔ لیکن یہ سارے امور جو کہ عام حالات میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ ہیں ، احرام کی حالت میں حرام قرار دے دیئے جاتے ہیں ۔ ازدواجی تعلقات عام حالات میں حلال ہیں لیکن حالت احرام میں ممنوع ہیں ۔

حج کے دن یعنی نو ذی الحج کو یہی احرام باندھ کر مسلمان جب عرفات کے میدان میں پہنچتے ہیں تو پہلا حکم یہ ہے کہ زوال آفتاب کے بعد ظہر اور عصر کی نماز ملا کر ادا  کرو ۔”ہیں جی ؟ ابھی تو عصر کی نماز کا وقت ہی نہیں ہوا ، ابھی سے عصر کی نماز ادا کر لیں ؟ “

“ہاں ۔ آج یہی حکم ہے ۔ “

{اس حکم کی فقہی تفصیلات کا اگرچہ یہ موقع تو نہیں ہے لیکن پھر بھی اس نیت سے عرض کر دی جاتی ہیں کہ خدا نخواستہ کسی حاجی کو کوئی غلط فہمی نہ ہو جائے ۔ علمائے کرام کے مطابق تفصیل اس حکم کی یہ ہے کہ وہ حجاج کرام جو کہ عرفات کی مسجد یعنی مسجد نمرہ میں اس کے امام کی اقتدا میں نماز ادا کر رہے ہیں ، صرف وہی حجاج کرام ظہر اور عصر کی نماز ملا کر پڑھ سکتے ہیں ۔ باقی وہ حجاج جوکہ مسجد نمرہ سے ہٹ کر اپنے خیموں میں نماز ادا کر رہے ہیں ان کے لئے حکم یہی ہے کہ ظہر کی نماز ظہر کے وقت پر اور عصر کی نماز عصر کے وقت پر ادا کریں }۔

آگے چلئے ۔ عرفات میں قیام کیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا ۔ مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا ۔ اب حکم یہ ہے کہ “خبر دار۔ کو ئی مغرب کی نماز میدان عرفات میں ادا نہ کرے ۔ بغیر نماز مغرب ادا کئے مزدلفہ کی جانب چلو “۔

“اچھا جی ۔ چلو راستے میں کہیں رک کر پڑھ لیں گے”

. “ہر گز نہیں ۔ کوئی راستے میں بھی نہ پڑھے “۔

 “چلو بھئی جلدی جلدی مزدلفہ کو بھاگو مغرب کی نماز وہیں پڑھنی ہے اور نماز کا وقت نکلا جا رہا ہے “

“نہ نہ نہ ۔ مزدلفہ میں بھی اس وقت تک نہیں پڑھنا جب تک کہ عشاء کا وقت نہ ہو جائے “۔

” ہیں جی ۔ نماز کا وقت نکل جانے کے بعد نماز ادا کریں ؟ یہ کیسا حکم ہے ۔ ساری زندگی تو یہی سنا پڑھا کہ نماز کے وقت پر نماز ادا کرو ورنہ نماز قضا ہو جائے گی ۔ آج تو عجیب عجیب سے احکامات آ رہے ہیں  ۔ ایک نماز کا وقت ہی نہیں ہوا اور کہا جا رہا ہے کہ ادا کر لو ۔ دوسری کا وقت ہو چکا ہے تو کہا جا رہا ہے کہ اس کا وقت نکل جانے دو ، پھر ادا کرنا یہ نماز ” ۔

آگے بڑھے ۔ دس ذی الحج کا دن شروع ہو گیا ۔ اب شیطان کو کنکر مارنے ہیں ۔ لیکن شیطان تو کہیں نظر ہی نہیں آ رہا ۔ وہ تو بس کچھ ستون بنے ہوئے ہیں {جن پر اب بڑی بڑی دیواریں بنا دی گئی ہیں } ان ستونوں کو شیطان کی علامت بتا کر پتھر لگوائے جا رہے ہیں ۔ چلئے صاحب یہ بھی کر لیا ۔ اس کے بعد قربانی کر کے بال کاٹ لو اور احرام سے آزاد ہو گئے ۔ اب احرام کی پابندیاں ختم ۔ اب چادریں اتار کر عام لباس پہن سکتے ہو ۔ بال ناخن کاٹ سکتے ہو ۔ خوشبو لگا سکتے ہو ۔ لیکن حج کے طواف {طواف  زیارت جو کہ حج کا فرض ہے } سے قبل ازدواجی تعلقات قائم نہ کرنا ۔

لیجئے جناب ۔ کچھ سمجھ آیا ؟ کبھی ایک چار دیواری کو اپنا گھر بتا کراس کے گرد چکر لگوائے جا رہے ہیں ۔ کبھی دو پہاڑیوں {صفا و مروہ } کو اپنی نشانی بتا کر ان کے درمیان دوڑیں لگوائی جا رہی ہیں ۔ کہیں ایک پتھر {حجر اسود} کا بوسہ دلوایا جا رہا ہے یا استلام کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے تو کہیں ایک پتھر {مقام ابراہیم }کو اپنی نشانی بتا کر اس کے پیچھے دو رکعت نماز {واجب الطواف } ادا کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے ۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے ؟ یہ کس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے ؟ کون سی ادا جانچی جا رہی ہے ؟ کس بات کی تربیت دی  جا رہی ہے ؟

سوچئے ۔ خوب سو چئے ۔

ایک ہی جواب ہے ۔

“اطاعت “

جی ہاں ۔ اس سارے سفر میں ، اس ساری جد و جہد کے دوران یہی  ادا جانچی جا رہی ہے یا دوسرے الفاظ میں اسی ادا کی تربیت کی جا رہی ہے ۔ کہ بندہ “اطاعت ” اختیار کر لے ۔ چوں چرا چھوڑ دے ۔ کسی حکم پر “کیا ؟ کیوں؟” نہ پوچھے ۔

بلکہ صرف یہی کہے : “سمعنا  و  اطعنا ” ۔  { سن لیا ۔ مان لیا }

یہی “اطاعت” ہی درحقیقت حج کی اصل ” عبادت ” ہے ۔

تو محترم جناب حاجی صاحب۔ سفر حج کے دوران بھی یہی کرنا ہے اور واپسی کے بعد باقی ماندہ زندگی میں بھی یہی کہنا ہے : “سمعنا  و  اطعنا ” ۔

یعنی ۔۔۔سر تسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے  !

Advertisements

2 thoughts on “حج کا سبق”

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s