Eman, Hajj Umrah, Islam, Love your Creator... اللہ سے محبت کیجئے, علم دین

Labbaik Allahumma Labbaik

(اس مضمون میں مناسک حج و عمرہ ایک نہایت منفرد انداز میں پیش کئے گئے ہیں۔ مختصر تمہید کے بعد اصل مضمون شروع ہوتا ہے۔ مکمل مضمون پڑھنے کے بعد آپ اپنے اندر ایک نیا ولولہ، ایک نئی تازگی محسوس کریں گے۔ ان شآء اللہ)

لبیک اللھم لبیک ۔۔۔۔ 

از۔۔۔ ابو شہیر 

حج اسلام کا پانچواں رکن ہے ۔ یہ مالی و بدنی عبادات کا مجموعہ ہے ۔ حج ہر اس شخص پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے جو مسلمان ، عاقل و بالغ ، تن درست اور مالدار ہو ۔ جیسا کہ درج ذیل آیت میں حکم ہے ۔

و للہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا و من کفر فان اللہ غنی عن العالمین o  {اٰل عمران ۔ ۹۷}

مفہوم : اور … لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو ، وہ اس کا حج کرے…. اور جو اس حکم کی تعمیل نہ کرے تو بھی وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں سے بے نیاز ہے ۔

سبحان اللہ ! اللہ رب العزت …. جس نے اپنی ذات کا خود تعارف کرتے ہوئے بتایا کہ وہ غنی ہے ، وہ صمد ہے ، وہ بے نیاز ہے ، وہ بے عیب ہے ، اس کی ذات کسی بھی قسم کی اثر پذیری سے پاک ہے ، ساری دنیا نافرمان ہو جائے تو بھی اسے کوئی فرق نہیں پڑتا اور ساری دنیا فرمانبردار بن جائے تو بھی اسے کوئی فرق نہیں پڑتا …. وہ جو داتا ہے ، جو عطا ہی عطا ہے ، جس کی صفت نوازنا ہی نوازنا ہے ، دینا ہی دینا ہے …. وہ اللہ رب العالمین کہہ رہا ہے کہ لوگوں پر میرا یہ حق ہے کہ جو میرے گھر یعنی بیت اللہ تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ میرے گھر کا حج کرے ۔
ذرا غور کیجئے ! اللہ تعالیٰ نے دنیا پہلے بنائی …. دنیا کو پہلے سجایا ، ہمیں بعد میں اس دنیا میں بھیجا ۔ بے شمار نعمتیں بن مانگے ہی عطا فرما دیں ۔ ایمان و صحت ، گاڑی ، بنگلہ ، نوکر چاکر ، بینک بیلنس ، بیوی بچے ، عیش و عشرت…. کیا کچھ عطا فرما دیا ۔ اس سب کو ذہن میں رکھتے ہوئے بندہ جب مذکورہ بالا آیت کا جائزہ لیتا ہے تو اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ آیت اس سے سوال کر رہی ہے کہ “اے  بندے ! تیرے رب نے تجھے اتنی ساری نعمتیں عطا کیں …. تو کیا اس رب کا اتنا بھی حق نہیں بنتا کہ تو اس کے  گھر کا حج کرے ؟ “

پس ! جن لوگوں کو یہ بات سمجھ آ جاتی ہے وہ پکار اٹھتے ہیں …. لبیک اللہم لبیک ۔۔۔۔لبیک لا شریک لک لبیک ۔۔۔۔ ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک ۔۔۔میں حاضر ہوں ! میرے اللہ ! میں حاضر ہوں ۔ تیرا کوئی شریک نہیں ۔ میں حاضر ہوں ۔ سب تعریفیں تیرے ہی لئے ہیں اور ملک بھی تیرا ہی ہے ۔ تیرا کوئی شریک نہیں ۔ مبارک ہیں وہ عشاق ، جنہوں نے اپنے رب کی پکار پر لبیک کہا ۔ جی ہاں ! یہ مبارک کلمات یعنی …. لبیک اللہم لبیک …. یہ حج کا ترانہ ہیں ۔
لیکن اے رحمان کے معزز مہمانو! ان کلمات پر غور بھی کر لینا کہ یہ کلمات دراصل کیا ہیں ؟ ان الفاظ کی ادائیگی سے کون سی ادا ظاہر ہونی چاہئے ؟ کسی فلسفے میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ بس آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ یہ ایک دیوانگی کا اظہار ہے جو بندہ اپنے رب کی محبت کے اظہار کے طور پر پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اب میں قدم قدم پہ اپنے نفس کی ، اپنی خواہشات کی ، اپنی پسند نا پسند کی نفی کرنے کو تیار ہوں ۔
اللہ کہے : میرے بندے ! حج کی ادائیگی کے لئے تیار ہے ؟ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : یہ بڑا اونچا عمل ہے ۔ اس کی ادائیگی کے لئے مال بھی پاکیزہ (حلال ) ہونا چاہئے ، نیت بھی پاکیزہ (خالص ) ہونی چاہئے ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! مجھے پتہ ہے کہ تجھے مال سے محبت ہے ۔ دیکھ لے ! بڑا خرچہ ہو جائے گا تیرا ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : دیکھ لے تجھے اپنا گھر بار اور بیوی بچے بھی بہت عزیز ہیں ۔ میری خاطر یہ سب چھوڑنے کو تیار ہو ؟ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : آگے بڑی مشقت ہے ۔ آرام نہیں ملے گا ۔ پیدل بہت چلنا پڑے گا ۔ توتھک جائے گا ۔ برداشت کر لے گا یہ سب ؟ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : گرد و غبار بھی سہنا پڑے گا ۔ گرمی بھی بہت ہو گی ۔ بندہ کہے : میرے اللہ ! قیامت کی گرمی سے بچا لینا ۔ جہنم کی آگ سے بچا لینا ۔ میں حاضر …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : اچھا ! چل بھئی پھر اب احرام باندھ لے ۔ اپنے کپڑے اتار کر دو چادریں باندھ لے ۔ (عمرہ کی نیت کر لے ) ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے !میری بندی ! اب بال اور ناخن نہیں کاٹنا ۔ وہ کہیں …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! میری بندی ! اب خوشبو نہیں لگانا ۔ وہ کہیں …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! اب سر کو مت ڈھانپنا ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! اب بند جوتا نہیں پہننا ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! میری بندی ! چہرے کو کپڑا مت لگانا ۔ وہ کہیں …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! میری بندی ! اب آپس میں میاں بیوی والا تعلق قائم نہ کرنا ۔

وہ کہیں …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : بلکہ اب تو اس قسم کی (یعنی شہوت والی ) کوئی بات بھی نہ کرنا ، الفاظ بھی منہ سے نہ نکالنا ، ایک دوسرے کو اس نیت سے چھونا بھی نہیں ۔ وہ کہیں : …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : دیکھو !اب کوئی گناہ کا کام نہ ہونے پائے ۔ بندے بندیاں جواب دیں : …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : دیکھو !لڑائی جھگڑا مت کرنا ۔ بندے بندیاں کہیں : …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : دیکھو ! یہ میرے حرم کی حدود ہیں ۔ ان کی حرمت کا خیال رکھنا ۔ گھاس پتے نہ توڑنا ۔ جوں ٹڈی نہ مارنا۔ شکار نہ کرنا نہ شکار کی طرف رہنمائی کرنا ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! اضطباع کر لے یعنی اپنا دایاں کندھا کھول لے ۔ اور طواف کی نیت کر لے۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک …. 1
اللہ کہے : حجر اسود کا استلام کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….میرے اللہ !تیر ے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم  نے اس پتھر کا بوسہ لیا ۔ میں تیرے حکم اور تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم  کی اتباع میں اس پتھر کا بوسہ لیتا ہوں ۔ بلکہ تیرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم  کے بوسے کا بھی بوسہ لیتا ہوں ۔{  تیرےبوسے کو بوسہ دیتے ہیں سنگ اسود پر       وگرنہ ہم مسلمانوں کا کیا رکھا ہے پتھر میں}

اللہ کہے : اب میرے گھر کے گرد پروانہ وار (سات )چکر لگاؤ ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! شروع کے تین چکروں میں پہلوانوں کی طرح اکڑ اکڑ کر چلو (رمل کرو ) اور آخر کے چار چکر عام انداز سے چل کے پورے کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : کندھا دوبارہ ڈھانپ لو اور میرے گھر کی چوکھٹ (ملتزم ) پر آؤ ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : مقام ابراہیم کے پیچھے جاکر دو رکعت نماز (واجب الطواف ) ادا کرو ۔ ( ایسی جگہ ادا کرو کہ طواف کرنے والوں کے ہجوم کی وجہ سے تمہیں بھی نماز کی ادائیگی میں تکلیف نہ ہو اورتمہارے نماز پڑھنے سے طواف کرنے والوں کو بھی تکلیف نہ ہو۔ پوری مسجد مقام ابراہیم کے پیچھے ہے ) بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : زم زم پانی پیو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : اب صفا مروہ کے درمیان سعی کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! سبز ستونوں کے درمیان دوڑو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : سر کے بالوں کی قربانی دو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : اب چادریں اتار کر اپنے کپڑے پہن لو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : جاؤ اب میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضر ہو کر درود وسلام کا نذرانہ پیش کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : لا ترفعو اصواتکم فوق صوت النبی …. دیکھو میرے نبی  صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار کے آداب کا خاص خیال رکھنا ۔ آواز پست رکھنا ۔ زور زور سے نہ بولنا ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : چلو اب واپس مکہ آکر عمرہ ادا کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
پھر آٹھ ذی الحج کا دن آن پہنچے اور اللہ کہے : (حج کی نیت سے ) دوبارہ احرام باندھ لو اور (ظہر سے قبل )منیٰ میں پہنچ جاؤ ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : نو ذی الحج کو (زوال آفتاب سے قبل )عرفات کے میدان میں آ جاؤ ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : ظہر عصر کی نماز ملا کر پڑھو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : غروب آفتاب کے بعد اب مزدلفہ کے میدان کو چلو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : دیکھو ابھی مغرب کی نماز مت پڑھنا ( ہر چند کہ مغرب کا وقت ہو چکا ہے ) ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک….
اللہ کہے : مزدلفہ کے میدان میں پہنچ کر (عشاء کا وقت ہو جانے کے بعد )مغرب اور عشاء کی نماز ملا کر پڑھو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : رات کھلے آسمان کے نیچے بسر کرنی ہے ۔ سردی بھی لگے گی ۔ گر دو غبار بھی سہنا پڑے گا ۔ نیند بھی قربان کرنی پڑے گی۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : شیطان کو مارنے کے لئے مزدلفہ کے میدان سے کنکریاں چن لو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : دس ذی الحج کی صبح فجر کی نماز کے بعد تھوڑی دیر مزدلفہ میں ٹھہر کر وقوف مزدلفہ ادا کرو ۔ بندہ کہے…. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : چلو اب واپس منیٰ کو لوٹ جاؤ ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : اب جا کے صرف بڑے شیطان کو سات کنکریاں مارو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک …. 2
اللہ کہے : چلو اب دم شکرانہ (ذبیحہ ) ادا کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : چلو اب بال کٹوا لو ۔ بندہ کہے …. میرے اللہ ! تو بال کٹوانے کو کہہ رہا ہے ۔ آج تو میں تیری خاطر سر کٹوانے کو بھی تیا ر ہوں …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : چلو اب چادریں اتار کر عام لباس پہن لو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندو! دیکھو ! احرام سے تو باہر آ چکے ہو لیکن طواف زیارت سے قبل ازدواجی تعلقات قائم مت کرنا ۔ بندے بندیاں کہیں …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : چلو اب طواف زیارت ادا کرو ۔ صفا مروہ کے درمیان سعی بھی کرو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے: گیارہ ذی الحج کو تینوں جمرات کی رمی کرو یعنی سات سات کنکریاں مارو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : بارہ ذی الحج کو تینوں جمرات کی رمی کرو یعنی سات سات کنکریاں مارو ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! تو نے یہ سب کچھ کر دیا ۔ اب میری باری ہے ! جا میں نے تیرے سارے (صغیرہ و کبیرہ) گناہ معاف کر دئیے ۔بلکہ ان کو نیکیوں سے تبدیل کر دیا۔ بندہ خوشی سے جھومتے ہوئے نعرہ مارے …. ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! دیکھ اب میں نے تجھے پاک صاف کر دیا ۔ اب میری نافرمانی نہ کرنا ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : چلو اب آخری کام ۔ طواف وداع ادا کرو ۔ بندہ کی کراہ نکل جائے … کہ اب بیت اللہ سے رخصت کا وقت آن پہنچا ۔ اس کربناک کیفیت میں بھی بندہ یہی کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! میں تیرے دل کی کیفیت سے بخوبی آگاہ ہوں ۔ تو میرے گھر سے جدائی کا رنج نہ کر ۔ میں ہر جگہ تیرے ساتھ ہوں ناں ۔ بندہ کہے …. لبیک اللہم لبیک ….
اللہ کہے : میرے بندے ! غم نہ کر ! میں نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم  کی زبانی تجھے ضمانت دی تھی ناں کہ حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں ۔ بس مجھ پر ، میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم  کے وعدے پر یقین کر لے کہ جنت تیری منتظر ہے ۔ تو عنقریب اس میں داخل ہو نے والا ہے ۔ بندہ کہے :…. لبیک اللہم لبیک ….
اور پھر ایک دن جب بندے کی سانسیں رک جائیں ……. تو اللہ کہے : …. یا ایتھا النفس المطمئنۃ o ارجعی الیٰ ربک راضیۃ مرضیۃ o فادخلی فی عبادی o وادخلی جنتی o ….
اے اطمینان پانے والی روح ! اپنے رب کی طرف لوٹ چل ، تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی ۔ تو میرے (ممتاز) بندوں میں شامل ہو جا ۔ اور میری بہشت میں داخل ہو جا ۔ {الفجر 27-30 }
اور جنت میں داخلے کا پروانہ ملنے کی خوشی میں بندہ نعرہ مارے:…. لبیک اللہم لبیک ….لبیک لا شریک لک لبیک۔۔۔۔ ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک ۔۔۔

1۔ فقہی حکم یہ ہے کہ عمرہ کے طواف کی نیت کے بعد تلبیہہ پڑھنا بند کر دی جائے۔۔۔ اس سے اگلے مراحل میں ہم نے جو لبیک اللہم لبیک کی تکرار کی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ حاجی کی قلبی کیفیت اور جذبہ وہی رہے ۔۔۔ یعنی خود سپردگی  اور تسلیم و رضا۔

2۔ اسی طرح فقہی حکم کے مطابق دس ذی الحج کو رمی جمار سے قبل تلبیہہ پڑھنا بند کر دی جائے گی۔۔۔ اس سے اگلے مراحل میں ہم نے جو لبیک اللہم لبیک کی تکرار کی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ حاجی کی قلبی کیفیت اور جذبہ وہی رہے ۔۔۔ یعنی خود سپردگی اور تسلیم و رضا۔

Advertisements

3 thoughts on “Labbaik Allahumma Labbaik”

  1. لبیک اللہم لبیک ..لبیک لا شریک لک لبیک۔۔۔۔ ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک ۔۔۔

  2. MASHA ALLAH nice post! Labbaik Allahumma Labbaik. Labbaik, La Shareek Laka, Labbaik. Innal Hamdah, Wan Nematah, Laka wal Mulk, La Shareek Laka Labbaik.
    Here I am at Thy service O Lord, here I am. Here I am at Thy service and Thou hast no partners. Thine alone is All Praise and All Bounty, and Thine alone is The Sovereignty. Thou hast no partners, here I am.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s