اجرت
اجرت
از ۔۔۔ ابو شہیر
پنکچر والے نے بڑی محنت سے پنکچر لگایا ۔ گاڑی والے صاحب نے معاوضہ دریافت کیا تو پنکچر والے نے کہا کہ صاحب ایک سو پچاس روپے ہو گئے ۔
“کیوں بھئی ایک سو پچاس روپے کیسے ہو گئے ؟ ” صاحب نے جارحانہ لہجے میں پوچھا ۔
“صاحب دو پنکچر تھے اور والو بھی دوسرا ڈالا ہے ۔ “
“ابے تو وہی تو پوچھ رہا ہوں کہ ایک سو پچاس روپے کیسے ہوگئے ؟ “
“صاحب پہلا پنکچر پچاس روپے کا ، دوسرا چالیس کا اور والو ساٹھ روپے ۔ آپ خود جوڑ لو کتنے ہو گئے !”
“ابے ۔۔۔ چالیس روپے کا پنکچر چل رہا ہے ۔ ۔۔۔۔تو کوئی آسمان سے اترا ہے جو پچاس کا پنکچر لگا رہا ہے ۔ ” صاحب کا میٹر شارٹ ہوگیا اور چنگاریاں نکلنی شروع ہو گئیں ۔
” صاحب اور جگہ تو ساٹھ روپے کا ریٹ چل رہا ہے ۔ میں تو پرانے ریٹ سے ہی لگا رہا ہوں ۔”
“چل تیری ۔۔۔۔ میں بھی اسی شہر میں رہتا ہوں ۔ ۔۔۔۔پنڈ سے نہیں آیا ہوں ۔۔۔۔ دماغ خراب ہو گیا ہے تیرا کیا ۔۔۔۔۔ ” صاحب کے منہ سے ناقابل اشاعت الفاظ کی برسات شروع ہو چکی تھی ۔
“صاحب آرام سے بات کرو ۔ آپ بتاوَ کیا دو گے ؟ “
“یہ پکڑ ایک سو بیس روپے “
” صاحب یہ تو بہت کم ہیں ۔ آپ ایک سو چالیس دے دو”
“چل چل یہ پکڑ ۔ بس یہ بہت ہیں “
کچھ دیر کی تکرار کےبعد پنکچر والے نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا :” چھوڑو صاحب آپ یہ بھی مت دو “
بس یہ سننا تھا کہ صاحب آپے سے باہر ہو گئے :
“سالے تیری ۔۔۔۔ میں کوئی ۔۔۔۔تیرے ساتھ ناجائز کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔ ” مغلظات کا ایک اور سیلاب ان کے منہ سے برآمد ہوا ۔
پنکچر والے نے غصہ سے ان کی طرف دیکھا اور ایک سو بیس روپے لیتے ہوئے کہا :
” صاحب آپ آئندہ کہیں اور سے پنکچر لگوا لینا۔ میری دوکان پر مت آنا “
یہ کہہ کر وہ کان بند کر کے میری بائیک کا ٹائر کھولنے میں مشغول ہو گیا ۔ صاحب بکتے جھکتے وہاں سے رخصت ہو گئے ۔
عجیب رویے ہو گئے ہیں ہمارے ۔ بات بے با ت آپے سے باہر ہو جاتے ہیں ۔ تلملا جاتے ہیں ۔ بھڑک اٹھتے ہیں ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے کی عزت اتار کر رکھ دیتے ہیں ۔ گالم گلوچ یہاں تک کہ ہاتھا پائی پر اتر آتے ہیں۔ مذکورہ واقعہ ہی کو دیکھ لیں ۔ بظاہر کوئی بڑی بات تو نہ تھی ۔ اور رقم بھی کتنی واجبی سی تھی ۔ پنکچر والا اپنی مزدوری طلب کر رہا تھا جو کہ اس کا حق تھا ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ زیادہ معاوضہ طلب کر رہا ہو لیکن یہ معاملہ افہام و تفہیم کے ساتھ بھی حل کیا جا سکتا تھا ۔ اول تو پہلے ہی معاوضہ طے کر لینا چاہئے تھا ۔ تاہم بعد میں بھی اگر نرمی سے بات کر لی جاتی تو بھی یقیناً وہ کچھ نہ کچھ رعایت کر ہی دیتا ۔ معاملہ سہولت سے طے پا جاتا اور دو مسلمان ہنستے مسکراتے ایک دوسرے سے رخصت ہو جاتے !
لیکن “صاحب ” جو کہ اپنے چہرے مہرے سے تعلیم یافتہ اور مہذب گھرانے کے فرد معلوم ہو رہے تھے ، لباس بھی خاصا قیمتی پہنے ہوئے تھے اور گاڑی بھی لشکارے مار رہی تھی ۔۔۔ بارہ پندرہ لاکھ کی تو ہو گی ۔۔۔۔ لیزنگ پر بھی نکلوائی ہو گی تو چالیس پچاس ہزار روپے ماہانہ قسط تو جاتی ہی ہو گی ۔۔۔ ایسے رئیس زادے کا دس بیس روپے پہ لڑنا اور ایسی معمولی سی بات پر اپنی تعلیم و تربیت اور خاندانی شرافت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فحش کلامی کا مظاہرہ کرنا۔۔۔ کیا کہا جائے اس رویے کو ؟
ابھی کل ہی کے اخبار میں کراچی کے ایک مشہور و معروف ریستوران کا اشتہار دیکھا : ” بوفے ڈنر صرف ساڑھے نو سو روپے فی کس “۔ پھر پڑھئے ۔۔۔ صرف ساڑھے نو سو روپے فی کس ! جو کہ ٹیکس ملانے کے بعد ایک ہزار سے اوپر بن جاتے ہیں ۔ تو یہی “صاحب ” جب ایسے کسی ریستوران میں ڈنر کرنے جاتے ہیں (اوران کا اسٹیٹس بتا رہا تھا کہ جاتے ہی ہوں گے )تو بغیر کوئی چوں چرا کئے ساڑھے نو سو روپے فی کس علاوہ ٹیکس کے حساب سے ادائیگی کردیتے ہیں اور اس وقت نہ ان کے ماتھے پر شکن نمودار ہوتی ہے اور نہ ہی وہاں ان کی یہ والی حس بیدار ہوتی ہے کہ کاوَنٹر پر پوچھ سکیں کہ “ابے میں نے ایسا کیا کھایا ہے جو تو اتنے پیسے مانگ رہا ہے ؟ “ستم بالائے ستم سو دوسو روپے ٹپ بھی دے دی بیرے کو ۔ راستے میں کسی سگنل پر فقیر نے ہاتھ پھیلا دیا تو دس بیس روپے اس کو تھما دیئے ۔ کوئی سرکاری کام نکلوانا ہوا تو دس بیس ہزار روپے رشوت کی مد میں کسی سرکاری اہل کار کے ہاتھ پر رکھ دیئے ۔ دوکان پر “پرچی”آ گئی تو ہزاروں روپے دفع شر کی غرض سے دے ڈالے ۔ ڈاکٹر کو چار سو روپے فیس چپ چاپ دے دی جبکہ و ہ مریض کو چار سو روپے کے عوض چار منٹ بھی دینے کا روادار نہیں۔ واضح رہے کہ یہاں ہم ایک مجموعی رویے کی بات کر رہے ہیں۔ ممکن ہے کہ مذکورہ “صاحب “یہ سب کچھ نہ کر رہے ہوں لیکن ایسا بہت کچھ یا کچھ نہ کچھ تو کر تے ہی ہوں گے ۔
حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ محنت سے روزی کمانے والا اللہ کا دوست ہے ۔ دوبارہ پڑھئے : اللہ کا دوست ! ۔۔۔ اور ایک اور حدیث مبارکہ میں تاکید کی گئی ہے کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہو جانے سے پہلے ادا کر دو ۔ کتنی عام فہم اور واضح بات ہے ! یہ پنکچر والے ! یہ بہت بڑی نعمت ہیں اللہ تعالیٰ کی ۔ معاوضہ لینے کے باوجود یقین جانئے کہ یہ سروس پرووائیڈر ہوتے ہیں ، ہماری خدمت ہی کر رہے ہوتے ہیں۔ ورنہ ہم میں سے کتنے ہیں جو خود ٹائر کھول کر پنکچر لگا سکتے ہیں ؟ سوچئے تو سہی گاڑی پنکچر ہو جائے تو اسٹپنی لگانے میں کتنی مشقت ہوتی ہے ۔ تو پنکچر والا بھی تو کم و بیش اتنی ہی یا ویسی ہی مشقت کر رہا ہے ۔ اور ایک پنکچر بنانے پر اچھا خاصا وقت اور محنت بھی صرف کر رہا ہے ۔ اگر معاوضہ دس بیس روپے زیادہ بھی لگے تو فقیر وں اور بھکاریوں کو دینے سے کیا یہ بہتر نہیں کہ اس کو دے دیئے جائیں ؟ یہی سوچ لیا جائے کہ یہ بندہ محنت مزدوری کر رہا ہے ۔ بھیک تو نہیں مانگ رہا ناں !
پنکچر والے ! سارا دن گندے غلیظ ٹائر کھولنا اور ان کی مرمت کرنا ان کا کام ہے ۔ آٹو مکینک ہماری بیش قیمت گاڑیوں کی مرمت کرتے ہیں ۔ ان کو دوبارہ چلنے کے قابل بناتے ہیں ۔ ہماری گاڑیوں کے نیچے لیٹ جاتے ہیں ۔ اپنے ہاتھ اور لباس کالے کر لیتے ہیں ۔ انجن کی گرمی سے بعض اوقات ہاتھ جلا بیٹھتے ہیں ۔ یہ محنت کش لوگ ! یہ پنکچر والے ! یہ آٹو مکینک! یہ سبزی پھل فروش ! یہ نائی ! یہ موچی وغیرہ۔۔۔۔ یہ بڑے نرم دل لوگ ہوتے ہیں ۔ ان سے ذرا ہنس کے بات کر لیں ، ذرا سی ان کو عزت دے دیں، تو یہ بہت خوش ہو جاتے ہیں ۔ آپ کے آگے بچھ جاتے ہیں ۔ آپ کی عزت کرنے لگ جاتے ہیں ۔ بھاگ بھاگ کے آپ کی خدمت کرتے ہیں ۔ ان کی عزت کیجئے ۔ ان سے محبت اور احترام سے پیش آئیے ۔ ان کو جھڑکئے نہیں ۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ آپ کا نازیبا رویہ ان کو بھی بدکلامی پر مجبور کر دے۔ اور یہ بھی آپ کی ماں بہن تک پہنچ جائیں ۔ مزدوری کام کرانے سے پہلے طے کر لیجئے تاکہ بعد میں بد مزگی نہ ہو۔ ان کی مزدوری نہ روکئے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھی محنت مزدوری چھوڑ کر بھیک مانگنے لگ جائیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھی چور ڈاکو بن جائیں ۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھی دہشت گرد بن جائیں ۔ ۔۔اور کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھی خودکش بمبار بن جائیں ۔ ۔۔کہ جب لوگوں کو ان کا جائز حق نہیں دیا جاتا تو پھر وہ اپنا حق چھیننے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔چاہے اس کوشش میں کسی اور کا استحصال کر بیٹھیں ۔ ۔۔تنگ آمد بجنگ آمد !
اگر حساب ہو گیا تو ۔۔۔!؟
اگر حساب ہو گیا تو ۔۔۔!؟
از ۔۔۔ ابو شہیر
ہم ایک آزاد قوم ہیں ۔ چنانچہ ایسا معلوم ہوتا ہے ہم میں سے ہر شخص کو کچھ بھی کرنے کی آزادی ہے ۔ حکمرانوں اور اشرافیہ کا تو ذکر ہی کیا ، ہم عوام بھی قدم قدم پر قواعد و ضوابط اور اخلاقیات کی دھجیاں اڑا رہے ہوتے ہیں اور احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم سے کس قدر غلط عمل سر زد ہو گیا ، ہماری ذات سے کس کس کو کتنی کتنی تکلیف یا اذیت پہنچی، کس کس نے ہمیں برا بھلا کہا، اور کون کون خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَاعْبُدُوا اللَّـهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖوَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا۔
اور خدا ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار ہمسائیوں اور اجنبی ہمسائیوں اور رفقائے پہلو (یعنی پاس بیٹھنے والوں) اور مسافروں اور جو لوگ تمہارے قبضے میں ہوں سب کے ساتھ احسان کرو کہ خدا (احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے اور) تکبر کرنے والے بڑائی مارنے والے کو دوست نہیں رکھتا ۔ (النسا۔ 36)
ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے : “مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ “اسی طرح ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مفہوم) “اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ۔ اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ۔ اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ۔” دریافت کیا گیا : “یا رسول اللہ ! کون؟” فرمایا : “وہ شخص جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہیں ۔ “
لفظ پڑوسی معنویت کے اعتبار سے بڑا وسیع لفظ ہے ۔ عرف عام میں تو اس سے مراد ایسے لوگ ہیں جن کے گھر آپ کے گھر سے متصل یا اطراف میں ہوتے ہیں ۔ تاہم وسیع تر معنوں میں پڑوسی اور پڑوس کا اطلاق ہر اس جگہ پر کیا جاتا ہے جہاں جہاں آپ کا وجود ہوتا ہے۔ مثلاً کاروبار کی جگہ ، دفتر ، دوکان ، کارخانہ ، بازار ، سفر ، مسجد ، درسگاہ وغیرہ۔ پھر اس سے آگے ایک گاؤں دوسرے گاؤں کا ، ایک شہر دوسرے شہر کا اور ایک ملک دوسرے ملک کا پڑوسی کہلائے گا ۔اس تفصیل کو مد نظر رکھتے ہوئے مذکورہ بالا آیت قرآنی اور احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں آئیے اپنا محاسبہ کرتے ہیں اور ان افعال و اعمال کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ دوسرے انسانوں کو تکلیف پہنچانے والے اعمال و افعال ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے میں بڑے دھڑلے سے کئے جا رہے ہیں ۔
اولین المیہ تو شاید یہ ہے کہ نظم و ضبط نامی شے ہماری لغت میں ہی نہیں ہے۔ ٹریفک ہی کو دیکھ لیجئے ۔ کس قدر بے ہنگم طریقے سے گاڑیاں چلائی جاتی ہیں ۔ ٹریفک اصولوں اور قوانین کے پرخچے اڑائے جا رہے ہوتے ہیں ۔ سگنل توڑنا ہم اپنی شان سمجھتے ہیں ۔ رانگ سائیڈ ڈرائیونگ میں بھی کوئی عار نہیں سمجھتے ۔ کراچی میں کسی بھی جگہ یہ منظر دیکھا جا سکتا ہے لیکن شاید سب سے زیادہ تکلیف دہ مناظر جامعہ کراچی کے اطراف میں رہائش پزیر لوگوں کو دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ روزانہ دن کے مختلف اوقات میں ٹریفک جام ہو جاتا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آئی بی اے / جامعہ کراچی کے طلبا ، اساتذہ اور رہائش پزیر لوگ اپنی گاڑیاں آگے یو ٹرن سے گھمانے کی بجائے رانگ سائیڈ موڑ لیتے ہیں جس کی وجہ سے اطراف سےآنے والی گاڑیاں الجھ کر رہ جاتی ہیں ۔ سوچئے ! یہ مادر علمی کے اعلیٰ تعلیم یافتہ (مہذب یا باشعور لکھنے کو جی نہیں مانتا)اساتذہ و طلبا کے نظم و ضبط کی تکلیف دہ صورت حال ہے۔اسی طرح غلط سمت (رانگ سائیڈ )سے یو ٹرن میں داخل ہو جانا اور اس پر ڈھٹائی کا مظاہرہ بھی کرنا ہماری روایت بنتی جا رہی ہے ۔ دو رویہ سڑک پر اپنی لین میں ٹریفک جام ہو جانے کے بعد دوسری لین میں گھس جانا اور سامنے سے آنے والی گاڑیوں کا راستہ بند کردینا بھی معمول کی بات ہے ۔
قطار انتظار کے تو ہم قائل ہی نہیں ۔ یوٹیلیٹی بل جمع کرانا ہو یا یوٹیلیٹی اسٹور کے باہر سستے داموں چینی حاصل کرنی ہو ، کسی اسٹیڈیم کے باہر میچ کا ٹکٹ لینا ہو یا خدانخواستہ کسی قدرتی آفت کا شکار ہونے کے بعد امدادی کیمپ سے امدادی سامان کا حصول ہو ، حرم مکی میں بیت اللہ شریف کی چوکھٹ یعنی “ملتزم” سے لپٹ کر دعا کرنے کی آرزو پوری کرنی ہو یا “حجر اسود “کا بوسہ لینا ہو ، اور یا مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں “ریاض الجنۃ “اور “اصحاب صفہ کے چبوترے “جیسے بابرکت مقامات پر نوافل ادا کرنے اور دعائیں مانگنے کی خواہش پوری کرنی ہو، ہر ہر مقام اور موقع پر الا ما شااللہ ہمارا “نظم و ضبط “قابل دید ہوتا ہے ۔
شور شرابا بھی ہمیں بہت پسند ہے ۔ موٹر سائیکل ہے تو اس کا اچھا بھلا سائیلنسر نکلوا کر اس کی جگہ پائپ فٹ کروا دیا ۔۔۔ گاڑیوں میں woofer پر دھما دھم ہو رہی ہے ۔ گھروں میں اونچی آواز میں ٹیپ ریکارڈ ۔۔۔ سوری ڈیجیٹل سی ڈی پلیئرز (ٹیپ ریکارڈ تو بہت فرسودہ سی چیز ہو چکی ہے) پر موسیقی ، نعتیں یا نوحے بج رہے ہیں ۔۔۔ کسی کے کان کے پردے پھٹتے ہیں یا اعصاب متاثر ہوتے ہیں تو ہوتے رہیں ، who cares۔ بائیک میں ٹرین یا بس کا ہارن لگوا لیا اور پھر ہارن پر ہاتھ رکھ کر بھول گئے ۔ اب عوام الناس کی سماعتوں پرگراں گزر رہا ہو تو گزرتا رہے ۔ کہیں میوزیکل نائیٹ کے نام پر لوگوں کی راتوں کی نیند حرام کی جا رہی ہے تو کہیں “میلاد ” پورے محلے پر “مسلط”کیا جارہا ہے ۔
اسی طرح راہیں مسدود کرنا ، جگہ جگہ اسپیڈ بریکر بنانا اور بیریئر لگانا بھی ہمارا محبوب مشغلہ ہے خواہ آنے جانے والوں کو کتنی ہی تکلیف کیوں نہ ہو ۔ قبرستانوں کا حال یہ ہے کہ راستوں میں قبریں بنا دی جاتی ہیں یہاں تک کہ چلنے کی جگہ بھی نہیں بچتی جس کے باعث میت کو اس کی آخری آرام گاہ تک پہنچانا حد درجہ دشوار ہو جاتا ہے ۔ اہم شاہراہوں اور پر ہجوم بازاروں کی گلیوں اور فٹ پاتھ پر لگے پتھارے بھی یہی بتاتے ہیں کہ ہمیں کسی کی تکلیف و پریشانی سے کوئی غرض ہی نہیں ہے ۔ مسجد میں ہم exit کے پاس بیٹھتے ہیں کیونکہ واپس بھی تو جانا ہوتا ہے ! بعد میں آنے والوں کو مشکل ہو تو یہ ان کا مسئلہ ہے ، ہمارا نہیں ۔ حرمین شریفین اپنی بے پناہ وسعت اور کشادگی کے باوجود تنگ پڑ جاتے ہیں اور اس کی سب سے اہم اور بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ حجاج کرام مساجد کے اندرونی حصوں کی جانب بڑھنے کی بجائے راستوں میں ہی بیٹھ جاتے ہیں۔ چنانچہ باہر کے صحن ، اندرونی راستے اور سیڑھیاں پہلے بھر جاتے ہیں اور بعد میں آنے والوں کو اندر جانے کا راستہ ہی نہیں مل پاتا ۔ نتیجتاً ان بے چاروں کو یا تو نماز ہی نہیں مل پاتی یا پھر سڑک یا فٹ پاتھ پر نماز پڑھنی پڑتی ہے جبکہ مسجد کے اندر بہت سے گوشے خالی پڑے ہوتے ہیں ۔
اور وہ منظر بھی نہایت قابل دید ہوتا ہے جب شادی ولیمہ کی تقریبات میں کھانا کھُلتا ہے ۔ اچھے خاصے متمول احباب بھی کھانے پر یوں ٹوٹتے ہیں جیسے کئی دن فاقے کے بعد کھانا ملا ہو یا یہ آخری کھانا ہے اور اس کے بعد کھانا نہیں ملے گا ۔ ایک ایک شخص کئی کئی بندوں کا کھانا پلیٹ میں جمع کرنا شروع کر دیتا ہے اور پھر کھانے کے بعد کا منظر یہ ہوتا ہے کہ ایک ایک میز پر کئی کئی افراد کا کھانا بچا ہوا ہوتا ہے بلکہ بہت سی پلیٹوں کو دیکھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتاہے کہ ان کو تو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق آج کل تقریبات میں کھانا کم از کم دو سو روپے فی کس کے حساب سے تیار ہوتا ہے ۔ اب ایک آدمی کے دو چار پانچ افراد کا کھانا پلیٹ میں نکالنے کا مطلب ہزار پانچ سو روپے کا کھانا برباد کرنا ہے کیونکہ کھائے گا تو وہ اپنی گنجائش کے ہی مطابق ۔ یوں یہ صورتحال صرف رزق کی بربادی ہی کا سبب نہیں بنتی بلکہ بہت سے مہمان کھانے سے محروم بھی رہ جاتے ہیں ۔ نیز اس صورتحال سے کھانا کم پڑ جانے کا بھی تاثر پیدا ہوتا ہے جو کہ میزبان کی سبکی اور بے عزتی پر منتج ہوتا ہے ۔ سوچئے ! اک ذرا سی ہوس سے کتنے لوگوں کے ساتھ کیا کیا زیادتیاں ہو گئیں!
ایسی اور بھی بہت سی تکلیف دہ مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں مثلاً گاڑی کے پیچھے گاڑی پارک کر دینا ، واٹر ٹینکرز کے نلکوں سے بہنے والے پانی کے نتیجے میں سڑکوں پر کھنچتی ہوئی موت کی لکیریں ، بسوں میں خواتین کے لئے مخصوص حصوں پر مردوں کا قبضہ ، وغیرہ لیکن۔۔۔
کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں
ہزاروں ہی قصے ہیں کیا کیا بتاؤں
مختصر یہ کہ قدم قدم پر مسلمانوں کے جائز حقوق پامال یا سلب کئے جا رہے ہیں ۔ مسلمانوں کو ستایا جا رہا ہے ۔ مسلمانوں کو اذیت پہنچائی جا رہی ہے۔ کہیں حکومت اس کی ذمہ دار ہے ، کہیں معاشرہ ۔ کہیں عوام اور کہیں فردِ واحد ۔ یہ جو معاشرہ بالخصوص مسلمان خواتین مردوں کو دوسری شادی سے روکتی ہیں ، کیا یہ ایک مسلمان مرد کے اس بنیادی حق کی نفی نہیں ہے جو کہ اس کو “اللہ رب العالمین “نے دیا ہے ؟ صرف اس ایک “حق تلفی “سے معاشرے میں کتنا بگاڑ آ رہا ہے ، کتنی بے راہ روی بڑھ رہی ہے ، کتنے گھر اجڑ رہے ہیں یا کتنی بچیاں گھر بیٹھی ہیں ، اس کا اندازہ لگانا ہرگز مشکل نہیں ۔
ہم مسلمان ہیں ۔ موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر ، یوم آخرت اور حساب کتاب پر ، نظامِ جزا و سزا اور جنت دوزخ پر ایمان رکھتے ہیں ۔ سورۃ الزلزلۃ کی آخری دو آیات سے واضح ہے کہ کس قدر کڑا حساب کتاب ہونے والا ہے ۔
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ﴿٧﴾ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ﴿٨﴾
تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا (7) اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا (8)
اللہ تعالیٰ محفوظ فرمائے ۔ اللہ تعالیٰ حساب کتاب کو آسان فرمائے بلکہ بغیر حساب کتاب کے ہی بخش دے ۔ آمین ۔ لیکن ہمیں اپنا محاسبہ کرنا چاہئے کہ ہم سے کہیں کوئی کوتاہی کوئی چوک تو نہیں ہو رہی ۔ دیکھ لینا چاہئے کہ ہم سے کہیں مذکورہ بالا یا ان جیسے دیگر “مظالم” میں سے کوئی ظلم تو سرزد نہیں ہو رہا۔ اگر ہو رہا ہے تو ہمیں خود سے یہ سوال کرنا چاہئے کہ “اگر میرے اس عمل کا حساب ہو گیا تو۔۔۔!؟”
اور یہ بھی واضح رہے کہ حساب کتاب تو مسلمانوں کا ہی ہو گا ۔ کافر تو بغیر حساب کتاب کے ہی جہنم میں ڈال دیئے جائیں گے ۔ تو ہم جو قدم قدم پر مسلمانوں کو ایذا پہنچا رہے ہوتے ہیں اور ان کی حق تلفی کر رہے ہوتے ہیں ، اس کے بعد ہمیں اگلا سوال خود سے یہ کرنا چاہئے کہ کیا ہم مسلمان باقی رہ گئے ہیں ؟کیا ہمارا ایمان برقرار ہے ؟کہ نبیِ صادق صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار قسم اٹھا کر فرمایا:
“اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ۔ اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ۔ اللہ کی قسم وہ مسلمان نہیں ۔ جس کی شرارتوں سے اس کا پڑوسی محفوظ نہیں ۔ “
لفظ پڑوسی کی تعریف اوپر درج ہے ۔ ازاراہ کرم ایک بار پھر دیکھ لیجئے ۔
ہم سایہ دار پیڑ۔۔۔
ہم سایہ دار پیڑ۔۔۔
از۔۔۔ ابو شہیر
درخت دیکھ کر پہلا خیال ذہن میں کیا آتا ہے ؟ خوبصورتی، شادابی، ٹھنڈک، سبزہ، چھاوَں وغیرہ۔ ان میں سے کوئی ایک یا یہ سب۔ چلچلاتی دھوپ میں درخت کے سائے میں بیٹھ کر کیسی راحت ملتی ہے ، اس کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ باغ ہو یا راہ گزر۔۔۔درخت بلا تخصیص ہر کسی کو ٹھنڈک اور سایہ فراہم کر رہا ہوتا ہے ، چاہے وہ جانور ہوں یا انسان ، مقیم ہوں یا مسافر۔ مسافر اپنی سواری اور دیگر ساز وسامان کے ساتھ چلچلاتی دھوپ میں درخت کے نیچے پہنچتا ہے ۔ سواری کو درخت کے تنے سے باندھتا ہے ۔ درخت کے سائے میں بستر بچھا کر لیٹتا ہے تو اس کی نگاہ درخت کے پتوں پر پڑتی ہے جو کہ اسے سرسبز و شاداب، ہرے بھرے نظر آتے ہیں ۔ لیکن اس وقت اس کو درخت کا وہ حصہ نظر نہیں آ رہا ہوتا جو اس کو راحت پہنچانے کی غرض سے سورج کی ساری تمازت اپنے وجود پر برداشت کر رہا ہوتا ہے اور اس کو پوری تندہی و جانفشانی سے نیچے لیٹے مسافر تک پہنچنے سے روک رہا ہوتا ہے ۔ درخت خود کو مسافر کے سامنے ہشاش بشاش اور مطمئن ظاہر کر رہا ہوتا ہے جبکہ درحقیقت وہ ایک شدید کرب کی کیفیت سے گزر رہا ہوتا ہے ۔
تھوڑی دیر آرام کرنے کے بعد مسافر تازہ دم ہو کر اٹھتا ہے تو پھر وہ اپنے جانور کے لئے پتے جھاڑنے کی غرض سے چھڑی یا لاٹھی ہاتھ میں لے کر درخت کی شاخوں پر مارنا شروع کر دیتا ہے ۔ درخت ان شدید ضربوں کو خاموشی سے اپنے وجودپر سہہ لیتا ہے اور جواب میں اپنے پتے ۔۔۔ جی ہاں پتے ۔۔۔ جو کہ درخت کی زندگی ہیں ۔۔۔ اس کی رگ جاں ہیں ۔۔۔ اس کے سانس لینے کا ذریعہ ہیں ۔۔۔ اس کے اوپر نچھاور کر دیتا ہے ۔ کوئی پتھر تاک کر نشانہ مارتا ہے تو ہر چند کہ درخت کو درد تو بہت ہوتا ہے ۔۔۔ لیکن پھر بھی وہ پتھر کے جواب میں اپنے پھل پتھر مارنے والے پر نچھاور کر دیتا ہے ۔۔۔۔ وہ پھل جن کو بنانے کے لئے درخت اپنی غذا کا بہترین حصہ مختص کرتا ہے ۔۔۔ یا بالفاظ دیگر جن کو اپنا لہو پلاتا ہے ۔
مسافر کو بھوک لگتی ہے تو اس کو کھانا بنانے کا خیال آتا ہے ۔ کھانا کیسے بنے ؟ اس کے لئے تو آگ درکار ہوتی ہے ۔ اور آگ کے لئے لکڑی ۔ اس کی نگاہ پھر درخت پر پڑتی ہے ۔ مسافر کلہاڑی ہاتھ میں لےکر درخت کی شاخوں پر برسانا شروع کر دیتاہے ۔ درخت اندر سے لہو لہان ہو جاتا ہے لیکن کلہاڑی مارنے والے کو اپنے بازو کاٹ کر پیش کر دیتا ہے کہ لو ! ان کو جلا کر اس پر اپنا کھانا پکا لو ۔
پھر کچھ اور مسافر آ جاتے ہیں ۔ درخت کی چھاوَں ان کے لئے بھی وا ہو جاتی ہے ۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد اسے ایک اور حیرت انگیز اور کرب ناک منظر کا سامنا کرنا پڑتاہے ۔ مسافر درخت کی چھاوَں پر جھگڑنا شروع کر دیتے ہیں گویا کہ وہ درخت یا اس کی چھاوَں کے مالک ہوں۔ ان کی آپس کی اس لڑائی کا منظر گو کہ درخت کے لئے ناقابل برداشت ہوتا ہے لیکن وہ پھر بھی اپنی چھاوَں نہیں سمیٹتا ۔۔۔ “تم آپس میں لڑتے ہو تو لڑتے رہو۔۔۔ لیکن میں اپنی چھاوَں پھر بھی نہیں کھینچوں گا ۔”
آتے جاتے پریمی جوڑے درخت کی چھاوَں میں بیٹھ کر آپس میں عہد و پیماں کرتے ہیں ۔ راز و نیاز کی باتیں کرتے ہیں ۔ اور پھر جاتے جاتے انہیں خیال آتا ہے کہ کیوں نہ درخت کے بدن پر اپنے پیار کی نشانی۔۔۔ ملن کی اس جگہ کی یادگار کے طور پر لکھتے جائیں ۔ وہ چھری کی نوک درخت کے مہربان وجود میں اتاردیتے ہیں ۔ تکلیف کی شدت سے درخت کے آنسو رواں ہو جاتے ہیں جنہیں وہ گوند سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ درخت ان پیار کرنے والوں کو کرب و حیرت سے دیکھتا چلا جاتا ہے کہ ۔۔۔ “کیسے پیار کرنے والے ہو!؟”
غرض یہ کہ درخت تو ہر آنے جانے والے کے ساتھ مہربانی سے پیش آتا ہے لیکن جواب میں اسے کم وبیش اسی قسم کی بد سلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ درخت یہ سارے صدمات سہتے سہتے اندر سے سخت ہوتا چلا جاتا ہے۔ اور پھر ایک طرف یہ ناقابل برداشت صدمات۔۔۔ اور دوسری طرف گردش دوراں۔۔۔ یہ عوامل ا س کے وجود پر اثر انداز ہونا شروع ہو جاتے ہیں ۔ درخت کے پتے گرنے لگ جاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ وہ بالکل تہی داماں ہو جاتا ہے ۔ اور اس کی رگ جاں ٹوٹنے لگ جاتی ہے ۔
ادھر حکومت وقت کو خیال آتا ہے کہ اس جگہ تو مسافروں کی سہولت کے لئے سڑک بنانی چاہئے ۔ تو پھر یہی درخت ان کو کھلنے لگتا ہے ۔ حکم نامہ جاری ہوتا ہے کہ کاٹ دو ۔ راستے سے ہٹا دو ۔ اور پھر درخت کو کاٹ دیا جاتا ہے ۔ اس سراپا ایثار مہربان وجود کا لاشہ زمین پر آن گرتاہے ۔ پھر اسے کے وجود کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے جاتے ہیں ۔ اس کو آروں سے چیر دیا جاتا ہے ۔ رندوں سے اس کے مہربان وجود کے چیتھڑے اڑا دئیے جاتے ہیں ۔ اس کے بدن کے اندر میخیں اور کیلیں ٹھونک دی جاتی ہیں ۔ اور پھر کہیں میزیں اور کرسیاں بنا دی جاتی ہیں ، کوئی مسہری اور الماریاں بنا لیتا ہے ، کوئی دروازے اور کھڑکیاں بنا رہا ہے ، کہیں عمارتی لکڑی کے طور پر اس کے وجود کو فی الواقع کیلوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ ایک وقت آتا ہے کہ وہ لکڑی بھی ناقابل استعمال ہو جاتی ہے ۔ ردی ہو جاتی ہے ۔ پھر اس کو کہیں کھانا پکانے کے لئے اور کہیں سردی سے بچاوَ کے لئے جلانے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ درخت جل کر راکھ ہو جاتا ہے ۔ پھر اس راکھ کو برتن مانجھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے ۔
وہ سراپا ایثار وجود ہر حال میں یہی کہتا ہے : “تم چاہے میرے ساتھ کچھ بھی سلوک کرو۔۔۔ میں ہر حال میں تمہیں راحت ہی پہنچاوَں گا ، تمہارے کام آوَں گا ۔”
منور رانا ؔنے درخت کے ایثار و کرب کی اس ساری داستان کو نہایت خوبصورتی اور اختصار کے ساتھ فقط ایک شعر میں بیان کر دیا ہے ۔۔۔
؎ ہم ، سایہ دار پیڑ ! زمانے کے کام آئے
جب سوکھنے لگے تو جلانے کے کام آئے
سوال یہ ہے کہ ہم تو اشرف المخلوقات بھی ہیں اور مسلمان بھی۔۔۔ ہم میں کوئی ہے درخت جیسا ؟
اور اس سے اگلا سوال یہ ہے کہ ۔۔۔ درخت کیسے بنا جائے؟
ایک حدیث مبارکہ یاد آ رہی ہے : المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده۔۔۔
جس کا مفہوم ہے : “مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ۔ “
ذرا دیکھئے گا! کہیں سایہ دار درخت بننے کا فارمولا تو بیان نہیں کیا گیا اس حدیث مبارکہ میں ؟
(ماخوذ)